علم کا سفر

علم کا سفر IT, SCIENCE & GENERAL KNOWLEDGE PLATFORM

شاؤمی کے بانی لی جن جنہیں چین کا اسٹیو جابز بھی کہا جاتا ہے 15 سال میں کمپنی کو زیرو سے دنیا کا تیسرا بڑا اسمارٹ فون برا...
17/08/2026

شاؤمی کے بانی لی جن جنہیں چین کا اسٹیو جابز بھی کہا جاتا ہے 15 سال میں کمپنی کو زیرو سے دنیا کا تیسرا بڑا اسمارٹ فون برانڈ بنایا
لی جن کا آج شاؤمی کی 15 ویں اینورسری پر پیغام
"شاؤمی کا سفر ٹیکنالوجی کے شوقین افراد کے لیے شروع ہوا تھا اور آج مقصد یہ ہے کہ دینا کے ہر شخص کو ٹیکنالوجی کے ساتھ بہتر زندگی انجوائے کرنے کا موقع دیا جائے شاؤمی نے ابتدا میں ایپلی کیشنز بنانے سے آغاز کیا پھر ہارڈوئیر اور بنیادی ٹیکنالوجیز میں لیڈ کرنے کی کوشش کی چین سے نکل کر کمپنی پوری دنیا میں پھیلی اور اب مستقبل میں ہم آرٹیفیشل انٹیلیجینس کو مکمل طور پر اپنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں کئی سالوں تک ہمیں سپورٹ کرنے پر تمام شاؤمی فینز کا شکریہ"

16/08/2026
16/08/2026

۔eSim پرمانینٹ استعمال کر سکتے ہیں یا معینہ وقت تک ؟
آپ eSIM کو ہمیشہ کے لیے یعنی پرمانینٹ (Permanent) استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کی کوئی تاریخِ تنسیخ (Expiry Date) نہیں ہوتی۔ یہ بالکل آپ کی عام پلاسٹک والی سم کی طرح ہی کام کرتی ہے، جب تک آپ خود اسے اپنے فون سے ڈیلیٹ نہ کریں یا نیٹ ورک بند نہ کروائیں، یہ ہمیشہ چلتی رہے گی۔

پاکستان کے کسی نیٹ ورک (جاز، زونگ، یو فون، ٹیلینور) کی ای سم لیتا ہے، تو وہ بالکل پرمانینٹ ہوتی ہے۔ وہ جب تک چاہیں اسے اپنے فون میں رکھ سکتے ہیں اور مہینے کا پیکیج یا لوڈ کروا سکتے ہیں۔

جو سمز باہر ملک سفر کے دوران انٹرنیٹ کے لیے لی جاتی ہیں، صرف وہ معینہ وقت (جیسے 7 دن یا 30 دن) کے لیے ہوتی ہیں، کیونکہ ان کا پیکیج عارضی ہوتا ہے۔ لیکن جو ہماری اپنی لوکل سمز ہیں، وہ لائف ٹائم ہوتی ہیں۔

16/08/2026

ای سم (Esim) کیا ہے؟ فائدے بھی جان لیں اور مسائل بھی

آج کل آئی فون، گوگل پکسل اور موٹورولا کے بہت سے ماڈلز میں eSIM کی سہولت موجود ہوتی ہے۔ اکثر حضرات پوچھتے ہیں کہ آخر یہ eSIM کیا چیز ہے؟
سادہ الفاظ میں، eSIM بھی سم ہی ہوتی ہے، لیکن یہ عام پلاسٹک والی سم کی طرح الگ سے موبائل میں نہیں ڈالی جاتی۔ یہ فون کے اندر پہلے سے موجود ہوتی ہے اور اسے QR Code کے ذریعے ایکٹیویٹ کیا جاتا ہے۔
کال، میسج اور انٹرنیٹ کے معاملے میں یہ بالکل عام سم کی طرح کام کرتی ہے۔
جی eSIM کے فائدے بہت ہیں
سب سے بڑا فائدہ بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کو ہوتا ہے۔ آپ سفر سے پہلے ہی دوسرے ملک کا eSIM پیکج خرید سکتے ہیں اور وہاں پہنچتے ہی انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کر سکتے ہیں۔
دوسرا فائدہ یہ ہے کہ فون میں سے سم نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
تیسرا اور ہمارے حالات کے مطابق اہم فائدہ یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ فون چوری ہو جائے تو چور سم نکال کر پھینک نہیں سکتا، کیونکہ eSIM فون کے اندر ہی موجود ہوتی ہے۔
بعض فونز میں آپ ایک فزیکل سم کے ساتھ eSIM بھی استعمال کر سکتے ہیں، یعنی ایک ہی وقت میں دو نمبرز استعمال کرنے کی سہولت مل جاتی ہے۔
البتہ eSIM کے کچھ مسائل بھی جان لیں۔
اگر آپ بار بار موبائل تبدیل کرتے ہیں تو eSIM آپ کے لیے تھوڑی مشکل پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ اسے ایک فون سے دوسرے فون میں منتقل کرنا عام سم جتنا آسان نہیں ہوتا۔
اسی طرح اگر غلطی سے eSIM ڈیلیٹ ہو جائے تو اکثر دوبارہ QR Code حاصل کرنے کے لیے فرنچائز یا کسٹمر سروس سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔

لہذا اگر آپ ایک ہی موبائل کافی عرصے تک استعمال کرتے ہیں، سفر کرتے ہیں یا اضافی نمبر رکھنا چاہتے ہیں تو eSIM ایک بہترین سہولت ہے۔
لیکن اگر آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو ہر چند ماہ بعد موبائل تبدیل کر لیتے ہیں تو عام نینو سم (Physical SIM) آپ کے لیے زیادہ آسان رہے گی۔
تحریر عبدالغنی بن محمد عظیم

16/08/2026

ایزی پیسہ کی نئی چارجز پالیسی کی تفصیلات کے مطابق اب بینک اکاؤنٹ سے ایزی پیسہ اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے پر 2٪ چارجز لاگو ہوں گے اس کے علاوہ بجلی بل کی ادائیگی پر بھی 20 روپے چارج کرنے لگے اس کے علاوہ مختلف قسم کی رقم منتقلی پر بھی فیس بٹوری جانے لگی۔

ایزی پیسہ صارفین کو مختلف مالی اور ڈیجیٹل خدمات استعمال کرنے پر ٹرانزیکشن کی نوعیت اور رقم کے حساب سے سروس چارجز ادا کرنا ہوں گے۔
ایزی پیسہ کے مطابق Raast کے ذریعے بینک اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے پر فیس مقرر کی گئی ہے:

1 سے 1,000 روپے: 35 روپے
1,001 سے 2,500 روپے: 50 روپے
2,501 سے 4,000 روپے: 65 روپے
4,001 سے 6,000 روپے: 80 روپے
6,001 سے 8,000 روپے: 100 روپے
8,001 سے 10,000 روپے: 150 روپے
10,001 سے 13,000 روپے: 200 روپے
13,001 سے 16,000 روپے: 250 روپے
16,001 سے 20,000 روپے: 300 روپے
20,001 سے 25,000 روپے: 350 روپے
25,001 سے 30,000 روپے: 400 روپے
30,001 سے 40,000 روپے: 450 روپے
40,001 سے 50,000 روپے: 500 روپے
کمپنی کے مطابق مذکورہ چارجز ٹیکسز سمیت ہیں۔

پاکستان میں موبائل ڈیٹا کی اوسط قیمت تقریباً 29 روپے فی جی بی ہے، جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کی فی صارف ماہانہ آمدن صرف تقریب...
14/08/2026

پاکستان میں موبائل ڈیٹا کی اوسط قیمت تقریباً 29 روپے فی جی بی ہے، جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کی فی صارف ماہانہ آمدن صرف تقریباً ایک امریکی ڈالر کے قریب ہے۔ حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد کمپنیوں کو مجموعی طور پر کم از کم 510 ملین ڈالر ادا کرنا ہوں گے، جبکہ فائیو جی کی تیاری اور نیٹ ورک کی گنجائش بڑھانے کے لیے ہر کمپنی کو سالانہ ایک ہزار سے زائد موبائل سائٹس اپ گریڈ کرنا پڑ سکتی ہیں۔ توانائی، درآمدی آلات، فریٹ، بیمہ اور دیگر اخراجات میں اضافے نے نیٹ ورک چلانے کی لاگت مزید بڑھا دی ہے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ صارفین کے لیے موبائل ڈیٹا سستا بھی رہے اور ٹیلی کام شعبہ مستقبل کی نیٹ ورک توسیع، بہتر سروس اور فائیو جی سرمایہ کاری کے لیے مالی طور پر پائیدار بھی رہ سکے۔

علم کی تعریف درجہ بندی اور نظریہ ارتقاء بطور مطالعاتی مثال۔تحریر:- ڈاکٹر محمد رحمان قسط نمبر 2یہ جاننے کے بعد کہ علم کے ...
06/08/2026

علم کی تعریف درجہ بندی اور نظریہ ارتقاء بطور مطالعاتی مثال۔

تحریر:- ڈاکٹر محمد رحمان
قسط نمبر 2
یہ جاننے کے بعد کہ علم کے درجات کیا ہیں، اگر ہم یہ دیکھنا چاہیں کہ ان کا سب سے اوپری درجہ (مطلق یقین) یا سب سے نیچے والا درجہ (مطلق انکار) کہاں اور کیسے حاصل ہوتا ہے، تو اس کی بہترین مثال قانونِ تضاد (Law of Non-Contradiction) ہے۔
یہ قانون بیان کرتا ہے کہ ایک ہی وقت اور ایک ہی نسبت سے، کوئی شے بیک وقت موجود بھی ہو اور معدوم بھی، یہ منطقی طور پر ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر، اگر ریاضیاتی یا استخراجی (deductive) طور پر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک قضیہ A درست ہے، تو مکمل اور مطلق یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی نفی لازماً غلط ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اگر دو چیزوں کو بیک وقت درست ماننے سے تضاد لازم آئے اور ایک کے بارے میں ہم جانتے ہوں کہ وہ درست ہے، تو دوسری چیز کے بارے میں مطلق یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ غلط ہے۔
یہاں یقین کی بنیاد کسی تجربی مشاہدے پر نہیں، بلکہ منطقی ضرورت (logical necessity) پر ہوتی ہے، جہاں کسی متبادل امکان کی گنجائش ہی ختم ہو جاتی ہے۔ منطقی قوانین کی ایسی اور بھی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ ان منطقی قوانین کی حدود پر فلسفے میں مباحث جاری ہیں اور کوانٹم فزکس یا جدید منطق میں ان کی تعدیل یا ترمیم کی باتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن چونکہ ہماری گفتگو کا اصل مقصد ان کی باریکیوں پر بحث نہیں، اس لیے اس موضوع کو یہیں چھوڑتے ہیں۔
دوسری طرف، اگر ہم سائنس یا روزمرہ زندگی میں کسی چیز کو سو فیصد یقین کے ساتھ غلط یا صحیح کہنا چاہیں، تو ہم صرف استخراجی منطق اور فکر کے کلاسیکی قوانین کے فریم ورک کے اندر رہ کر ہی کہہ سکتے ہیں۔ جہاں کہیں استقرائی منطق (Induction) یا تجربی مشاہدہ (Empirical Observation) آئے گا، وہاں "احتمال" (Probability) لازماً داخل ہو جائے گا۔
سائنس کا بنیادی انحصار چونکہ استقراء، تجربی مشاہدات اور بالواسطہ شواہد پر ہوتا ہے، اس لیے سائنسی نظریات میں مطلق یقین کے بجائے احتمال اور جواز کے درجات شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی سائنسی نظریہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، وہ چشولم کی درجہ بندی میں زیادہ سے زیادہ Beyond Reasonable Doubt کے درجے پر تو پہنچ سکتا ہے، لیکن مطلق منطقی یا ریاضیاتی یقین حاصل نہیں کر سکتا۔
اگر ہم سائنسی نظریات کے لیے Chisholm جیسی درجہ بندی تلاش کریں تو اس کے سب سے قریب کام تھیالوجی اینڈ سائنس جرنل میں شائع ہونے والے پیپر Epistemic Status of Evolution کے مصنفین نے کیا ہے، جہاں وہ سائنس میں بھی نظریات کی قبولیت کے مختلف درجات بیان کرتے ہیں۔
جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا ہے کہ سائنس میں عمومی طور پر مطلق یقین کا دعویٰ نہیں کیا جاتا، اس لیے ان کی درجہ بندی کا سب سے اوپر والا مرحلہ Beyond Reasonable Doubt ہے، یعنی ایسا اطمینان جس میں کوئی معقول اور سنجیدہ شک باقی نہ رہے۔ سب سے نچلا مرحلہ یہ ہے کہ نظریہ مسترد کیے جانے کے قابل، یعنی ناقابل قبول ہے۔

اگرچہ فلسفہ سائنس میں ہمیں ایسے معیار ملتے ہیں جن کی بنیاد پر ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کوئی نظریہ Beyond Reasonable Doubt کی سطح تک پہنچ چکا ہے یا نہیں، اور اسی طرح یہ بھی کہ آیا وہ نظریہ مسترد کیے جانے کے قابل ہے یا نہیں، لیکن عملی طور پر زیادہ تر سائنسی نظریات اس قدر پیچیدہ ہو چکے ہیں کہ انہیں ان دو انتہاؤں (extreme categories) میں رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔
مثال کے طور پر، کارل پوپر کا falsification criterion ہمیں یہ معیار فراہم کرتا ہے کہ ہم کسی سائنسی نظریے کو اس وقت مسترد کر سکیں جب کوئی ایسا مشاہدہ یا تجربہ سامنے آئے جو اس نظریے کے خلاف ہو۔ لیکن عملی طور پر ہوتا یہ ہے کہ جب بھی کوئی نظریہ کسی ایک پہلو سے falsify ہوتا ہے تو اس نظریے کے حامی نئے مفروضوں اور نئی وضاحتوں کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح نظریہ اپنی ابتدائی شکل میں falsify ہونے کے باوجود، تبدیلیوں اور اضافی وضاحتوں کے ساتھ مسترد ہونے سے بچ جاتا ہے۔
دوسری طرف، کسی نظریے کے بارے میں ایسا اطمینان حاصل کرنا کہ اس پر کوئی معقول شک باقی نہ رہے، اس کے لیے جو معیار درکار ہے وہ سائنس کے زیادہ تر شعبوں میں عملی طور پر حاصل کرنا مشکل ہے۔ حتیٰ کہ فزکس جیسے شعبے میں، جہاں نظریات انتہائی مضبوط ریاضیاتی بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں، پیچیدگی میں اضافے کے ساتھ ایسے معیار پر مکمل طور پر پورا اترنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
چنانچہ عملی طور پر ہم زیادہ تر سائنسی نظریات کو انہی دو انتہاؤں کے درمیان مختلف درجات پر دیکھتے ہیں نہ کہ مطلق درست اور مکمل طور پر غلط جیسی سطح پر ۔
(جاری ہے)

کوانٹم میکینکس کی وضاحت!!تحریر: غلام نبی سولنگی(حصہ اول)کوانٹم میکینکس فزکس کا وہ مضمون ہے جس کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہ...
06/08/2026

کوانٹم میکینکس کی وضاحت!!

تحریر: غلام نبی سولنگی
(حصہ اول)

کوانٹم میکینکس فزکس کا وہ مضمون ہے جس کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ چھوٹے ذرے کیسے حرکت کرتے ہیں
ایٹم کے اندر کیا ہے،اور اس کی ساخت کیسی ہے،اور ایٹم کے مرکز میں کیا ہے اور اس کے اندر جو ذرات ہیں وہ کیسے حرکت کرتے ہیں۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جس کی اہمیت بہت بہت زیادہ ہے،اگر ہم کوانٹم میکینکس کو نہیں سمجھ پاتے تو ہم کبھی بھی ٹرانزسٹر نہیں بنا پاتے،اور آج ہمارے پاس کمپیوٹرز بھی نہیں ہوتے اور نا ہی موبائل فونز وغیرہ اگر ہمیں کوانٹم میکینکس کی سمجھ نہیں ہوتی تو آج ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ سورج سے روشنی اور گرمی کیسے نکلتی ہے۔

کوانٹم میکینکس ایک ایسا مضمون ہے جو فزکس کے ہر شعبے میں استعمال ہوتا ہے اور یہ فزکس کی بنیاد ہے،لیکن بعض اوقات اس کو سمجھنے میں کئی اسٹوڈنٹس کو مشکل ہوتی ہے کیونکہ کوانٹم میکینکس کے بعض پہلوؤں کو ہم اپنی روزمرہ زندگی میں نہیں دیکھتے،مثال کے طور پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ایک کرکٹ بال ہے جو ایک جگہ پر ہے یا وہ حرکت کر رہا ہے اس کو ہم بخوبی جانتے ہیں،لیکن ایک ایٹم کے اندر الیکٹران کے بارے میں ہم یہ نہیں جان سکتے کہ گویا وہ الیکٹران کس جگہ پر ہے اور کس جگہ پر نہیں،اب الیکٹران کی حتمی جگہ ہم یقین سے نہیں بتا سکتے کہ وہ ابھی کس جگہ پر ہے۔

اب اس چیز کو ہم آسان الفاظ میں سمجتے ہیں،دیکھیں آپ ایک درخت کو کیسے دیکھتے ہیں؟یا اس کے جو پتے ہیں وہ ہم کیسے دیکھتے ہیں؟ظاہر ہے کہ سورج کی روشنی جب ان درخت کے پتوں پر لگتی ہے اور واپس آکر وہی روشنی آپ کی آنکھوں سے ٹکراتی ہے تب آپ کسی بھی چیز یا درخت اور اس کے پتوں کو دیکھ سکتے ہیں،اس طرح ہم روشنی کی مدد سے اس دنیا میں موجود ہر چیز اور کائنات کو دیکھتے ہیں،لیکن ذرا ٹھرے اور سانس لیں،پر ہم تو یھاں الیکٹران کی بات کر رہے تھے،اب دیکھیں جب روشنی کسی بھی پتے سے ٹکراتی ہے تو وہ پتا بھاری ہے روشنی کے ٹکرانے سے وہ پتا اپنی جگہ سے نہیں ہلتا ایسا ہے کہ نہیں۔

اب اس پتے کی جگہ آپ ایک چھوٹے سے ذرے الیکٹران کو تصور کریں،اب جب الیکٹران پر روشنی لگتی ہے تو وہ اپنی جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے،الیکٹران مناسب روشنی کو جذب کرکہ کم توانائی والی حالت سے نکل کر زیادہ توانائی والی حالت میں منتقل ہوجاتا ہے۔لحاظہ اس دیکھنے کے عمل نے الیکٹران کو مجبور کردیا ہے کہ اپنی رفتار کو بدل دے،اور یہ ایک عجیب کیفیت ہے کہ جب بھی آپ کسی چیز کو دیکھنا چاہتے ہوں تو اس کی کوئی نہ کوئی صفت بدل جاتی ہے۔

اب اس عمل کو سائنسی دان ٹرانزیشن،پوزیشن،موومینٹم،،،،
اینرجی انسرٹینٹلی پرنسیپل کہتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،،یا ہائزنبرگ انسرٹینٹلی پرنسیپل کہتے ہیں پر ایک اور بھی غیریقینی کا اصول ہے،اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی تو اس اصول پر بھی لکھے گے یہ آپ پر منحصر کرتا ہے کہ آپ کوانٹم میکینکس کو سمجھنا چاہتے ہیں یا نہیں

جاری ہے

غلام نبی سولنگی

سپیس ایکس (SpaceX) کا راکٹ مشن مکمل کرنے کے بعد چاند سے جا ٹکرایا!کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ زمین سے لاکھوں میل دور خلا ...
06/08/2026

سپیس ایکس (SpaceX) کا راکٹ مشن مکمل کرنے کے بعد چاند سے جا ٹکرایا!
کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ زمین سے لاکھوں میل دور خلا میں 5,000 میل فی گھنٹہ سے زائد کی بے قابو رفتار سے سفر کرتا ایک راکٹ چاند سے ٹکرا جائے؟ حال ہی میں سائنس کی دنیا میں ایک ایسا ہی حیران کن واقعہ پیش آیا ہے۔
جنوری 2025 میں خلا میں بھیجے گئے 'سپیس ایکس فالکن 9' (SpaceX Falcon 9) راکٹ کا دوسرا حصہ مشن مکمل ہونے کے بعد خلائی کشش اور سورج کی سرگرمیوں کے باعث اپنے راستے سے ہٹ کر بدھ کی صبح چاند کے 'آئنسٹائن کریٹر' (Einstein Crater) سے جا ٹکرایا۔
چلی میں واقع یورپی جنوبی آبزرویٹری (ESO) کے طاقتور ٹیلی سکوپ نے اس ٹکراؤ اور اس کے بعد فضا میں اٹھنے والے سوڈیم اور لیتھیم گیس کے مرغولوں کی تصدیق کی ہے۔
اس سے کیا نقصان ہوگا اور سائنسدانوں کو اِس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا؟
زمین پر موجود انسانوں کے لیے اس ٹکراؤ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن ماہرین کے مطابق:
* چاند کی سطح پر تقریباً 65 سے 90 فٹ بڑا گڑھا (Crater) بننے کا امکان ہے۔
* ٹکراؤ سے نکلنے والے چھوٹے پتھر اور ملبہ 500 میل دور تک پھیل سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے لیے فائدے کی بات:
چونکہ چاند پر ہوا یا حفاظتی کرہ ہوائی نہیں ہے، اس لیے وہاں خلائی کچرا ٹکرانے کے عمل کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ سائنسدان اس نایاب واقعے سے حاصل ہونے والی معلومات کو آئندہ چاند پر بھیجے جانے والے خلابازوں اور انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے استعمال کریں گے۔
Image Credit: SpaceX

کوانٹم زینو ایفیکٹتحریر : محمد سلیمفرض کریں ایک تابکار ایٹم موجود ہے جو کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے۔ عام حالات میں کچھ دیر ...
06/08/2026

کوانٹم زینو ایفیکٹ
تحریر : محمد سلیم

فرض کریں ایک تابکار ایٹم موجود ہے جو کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا ہے۔ عام حالات میں کچھ دیر بعد اس کے ٹوٹنے کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔ لیکن اب تصور کریں کہ آپ ہر لمحے اس ایٹم کی حالت جانچتے رہیں۔ کوانٹم فزکس کے مطابق اگر پیمائش مسلسل اور بہت تیزی سے کی جائے تو ایٹم کے ٹوٹنے کا عمل سست ہو سکتا ہے، بلکہ مخصوص حالات میں تقریباً رک بھی سکتا ہے۔ کیا صرف دیکھتے رہنے سے کسی جسم کا رویہ بدل سکتا ہے؟ یہی عجیب مظہر کوانٹم زینو ایفیکٹ کہلاتا ہے۔

اس کا نام قدیم یونانی "فلسفی زینو اف ایلیا" کے مشہور زینو پراڈوکس سے لیا گیا ہے، جہاں حرکت کے بارے میں عجیب سوالات اٹھائے گئے تھے۔ کوانٹم زینو ایفیکٹ میں بھی بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلسل مشاہدہ کسی عمل کو آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے، اسی لیے اسے یہ نام دیا گیا۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنا ضروری ہے۔ کوانٹم فزکس میں "دیکھنے" سے مراد انسانی آنکھ سے دیکھنا نہیں، بلکہ پیمائش کرنا ہے۔ جب کسی کوانٹم نظام کی پیمائش کی جاتی ہے تو اس کی حالت بدل سکتی ہے۔ یہی خصوصیت کلاسیکل فزکس اور کوانٹم فزکس کے درمیان سب سے بڑا فرق ہے۔

عام طور پر ایک غیر مستحکم ایٹم وقت گزرنے کے ساتھ ٹوٹ جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کی حالت بار بار ناپی جائے تو ہر پیمائش کے بعد اس کا کوانٹم ویو فنکشن دوبارہ اپنی ابتدائی حالت کے قریب آ جاتا ہے۔ نتیجتاً اس کے ٹوٹنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ یوں ایسا لگتا ہے جیسے مسلسل پیمائش نے اس کے قدرتی ارتقا کو سست کر دیا ہو۔

یہ خیال کئی برس تک صرف ایک نظریاتی پیش گوئی سمجھا جاتا رہا، لیکن بعد میں مختلف تجربات نے اس کی تصدیق کی۔ سائنس دانوں نے ایٹموں، آئنز، اور دیگر کوانٹم نظاموں پر تجربات کیے، جہاں بار بار پیمائش کرنے سے واقعی ان کے ارتقا کی رفتار متاثر ہوئی۔ اس طرح کوانٹم زینو ایفیکٹ ایک حقیقی اور قابلِ مشاہدہ مظہر ثابت ہوا۔

اس کا ایک الٹا اثر بھی موجود ہے، جسے اینٹی زینو ایفیکٹ کہا جاتا ہے۔ بعض حالات میں مسلسل پیمائش کسی عمل کو روکنے کے بجائے مزید تیز کر دیتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوانٹم دنیا میں پیمائش کا اثر ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ اس کا انحصار نظام اور پیمائش کے طریقے پر ہوتا ہے۔

کوانٹم زینو ایفیکٹ صرف ایک نظریاتی تجسس نہیں رہا۔ کوانٹم کمپیوٹنگ، کوانٹم کمیونیکیشن، اور انتہائی حساس کوانٹم تجربات میں اس کا استعمال زیرِ تحقیق ہے۔ سائنس دان امید رکھتے ہیں کہ اس اثر کی مدد سے مستقبل میں کوانٹم معلومات کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکے گا۔

#پیمائش #سائنس

Address

Faisalabad District
Faisalabad
38000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علم کا سفر posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share