22/02/2024
قادیا ۔۔۔نیت کا مقدمہ جب انسانی اور مذہبی آزادی کے " ریپر " میں لپیٹ کر پیش کیا جاتا ہے تو ہمارے بہت اچھے اور معقول سے دوست بھی دھوکے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
میں ذاتی طور پر ایک سے زیادہ بار یہ بات لکھ چکا ہوں کہ اس فاسق گروہ کے جھوٹے پیشوا کو بھی گالی نہیں دینی چاہیے کہ اس طرح آپ تبلیغ کا راستہ بند کر لیتے ہیں ۔۔۔لیکن تبلیغ کا حق دینا اس لیے ممکن نہیں اور نہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے کہ یہ گروہ کوئی مسلک یا مذہب نہیں ہے ، یہ سیدھا سیدھا ایک جعل سازی ہے جس کو ہمارے " روشن خیال " دوست انسانی ہمدردی کے چکر میں لیگلائز کرنا چاہ رہے ہیں ۔
یہ بات آپ کو آسانی سے سمجھ نہیں آئے گی ، اس کو اس مثال سے سمجھیے کہ کسی بھی کاروباری ادارے یا فلاحی ادارے کے دفتر کے عین سامنے اسی نام سے دوسرے کو اپنا دفتر قائم کرنے کا حق دیا جا سکتا ہے ؟
کیا کوکا کولا کی فیکٹری کے سامنے ایک شخص اپنی فیکٹری لگا لیتا ہے اور اپنے برانڈ کا نام بھی کوکا کولا رکھتا ہے تو انسانی حقوق کے تحت اس کو اس کی اجازت دی جائے گی ؟
ایدھی فاؤنڈیشن کے دفتر کے سامنے کوئی دوسرا شخص اپنا فلاحی دفتر بنا لیتا ہے اور نام "ایدھی فاؤنڈیشن" ہی رکھتا ہے تو کیا معاشرے کا اخلاق اور قانون اس عمل کو درست سمجھیں گے یا دھوکہ دہی اور جعل سازی سمجھیں گے ؟؟
بات اتنی آسان نہیں جتنی ہمارے دوست بنا کر پیش کرتے ہیں ۔ اس گروہ کو اسلامی فرقوں پر قیاس کر کے خلط مبحث کیا جاتا ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کے جتنے بھی فرقے ہیں ان میں دو امور قدر مشترک ہیں ، بھلے تاویلات کے نام پر ان میں جتنی بھی ملاوٹ کر دی گئی ہو لیکن بنیادی عقیدہ سمجھ کر ان کو " لاک " کر دیا گیا ہے
ایک یہ کہ دنیا کا خالق اور مالک صرف اور صرف اللہ ہے ، اسے توحید کہتے ہیں ۔
اور دوسرا یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد جو شخص بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ کذاب ہوگا اور ایسے گروہ کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوگا
اب اگر کوئی شخص ان میں سے کسی ایک عقیدے کا صریحاً انکار کرتا ہے تو اس کو مسلمان سمجھا اور کہا نہیں جا سکتا اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اس کو یہ کہلانے کا حق بھی نہیں دیا جا سکتا۔
یہ سمجھنا کہ وہ [ بے چارے ] پھر اب خود کو خود کیا سمجھیں ، یہ ہمارا نہیں ان کا اپنا درد سر ہے کہ جب انہوں نے مسلمانوں سے الگ ایک راستہ اختیار کیا اور اسلام کے بنیادی طے شدہ عقیدے سے بغاوت کی تو اپنے لیے الگ شناخت بھی خود طے کرتے ۔
حیرت انگیز کہ جعل ساز اس کے باوجود چاہتے ہیں کہ انہیں مسلمان سمجھا جائے یا خود کو مسلمان کہلانے کا حق دیا جائے اگر اس بات کو تسلیم کر لیا جائے تو ہمارے ان دوستوں کو کہ جو انسانیت کے نام نہاد اصولوں کے خمار میں مبتلا ہے اوپر دی گئی مثالوں کی بنیاد پر کوکا کولا کی فیکٹری کے سامنے کوکا کولا کے برانڈ کے نام کے ساتھ فیکٹری کو کام کی اجازت دینا چاہیے۔لیکن حیرت انگیز طور پر اس کو وہ جعل سازی کہتے ہیں اور اس خانہ ساز نبوت کے حامل مذہب کو اجازت دینا چاہتے ہیں کہ وہ خود کو مسلمان کہیں اور بطور مسلمان خود کو متعارف کروا سکیں۔
اس سارے مقدمے کو ایک اور مثال سے سمجھیے کہ ایک شخص عیسائیت جیسا عقیدہ تثلیث اختیار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ایک خدا آسمان پر ہے ایک خدا روح القدس ہے اور ایک خدا عیسیٰ ہے یوں اس کائنات میں تین خدا ہیں اور اس کے بعد وہ یہ کہتا ہے کہ " میں مسلمان ہوں اور میرے گروہ کے لوگوں کو مسلمان سمجھا جائے" تو کیا اس پر بھی ہمارے دوست اس نئے انے والے گروہ کو کچھ دن بعد یہ حق دینے کی " تاکید " کریں گے ؟؟
جہاں تک تبلیغ کے حق کا تعلق ہے تو جو گروہ باقاعدہ جعل سازی پر مبنی ایک فرقہ ہے اس کو کیسے تبلیغ کا حق دیا جا سکتا ہے ؟
تبلیغ کا حق دینے کا اولین مطلب یہ نکلتا ہے کہ آپ نے اس گروہ کو اس کی جعل سازی سمیت اس کی حیثیت میں قبول کر لیا ہے ۔
میں نہیں کہتا کہ آپ نے اس کے عقائد سے اتفاق کیا ہے لیکن آپ نے اس کو ایک مستقل گروہ کے طور قبول کر لیا ہے ۔ میں پھر وہی اوپر والی مثال دوں گا کہ کوکا کولا کی فیکٹری کے سامنے جعلی بوتلوں کی فیکٹری کو اپنے مارکیٹنگ کا حق دے دیا ہے
اب میرا سوال یہ ہے کہ اصلی فیکٹری کے حقوق کی پامالی کیا کوئی اخلاقی اور انسانی مسئلہ نہیں ہے؟؟؟
اور جعلی پروڈکٹ کو حقوقِ مارکیٹنگ دئے جا سکتے ہیں ؟
اور کیا کسی مہذب معاشرے میں اس کا تصور بھی کیا جا سکتا ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔Abubakr Quddusiابوبکر قدوسی