Gc uni ver sity, faisalabad

Gc uni ver sity, faisalabad

Share

come and join us

16/09/2025

آج کل وطن عزیز میں نئی ویکسین کا شور ہے، جو 9 سے 14 سال کی لڑکیوں کو لگائی جا رہی ہے، تاکہ وہ ایچ پی وی یعنی
Human Papilloma Virus
سے بچ سکیں،جو بچہ دانی کے دہانےکےسرطان یعنی
Cervical Cancer
کا باعث بن سکتا ہے۔۔
حسب معمول مخالفین کا ایک طبقہ تواینٹی ویکسرز کاہےجو ہرقسم کی ویکسین کے مخالف ہیں۔ یہ ہمارے مخاطب نہیں۔۔
دوسرا طبقہ 22 ویں گریڈ کے ان"دانش گردوں" کا ہے جنکا کام ہر چیز،خصوصاً ویکسین کےپیچھے سازشی تھیوری تلاش کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔یہ بھی ہمارے مخاطب نہیں۔۔
تیسرا طبقہ وہ سنجیدہ لوگ ہیں جو واقعی اس بارے میں جاننا چاہتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوائیں تو کیوں اور نہ لگوائیں تو کیوں۔۔؟یہی ہمارے مخاطب ہیں۔۔
بات حقیقت میں یہ ہے کہ یہ دراصل مغربی معاشرت کا مسئلہ ہے۔ یعنی بہت سے سیکشوؤل پارٹنرز کا ہونا اور بلوغت کے ساتھ ہی جنسی تعلقات۔۔۔۔کا حصہ بننا اس وائرس سے انفیکشن۔۔۔۔۔اور پھر بعد میں اس سے ہونے والے سرطان کے امکانات کو بہت زیادہ بڑھا دیتا ہے۔۔
تو اگرآپ پاکستان میں رہتےہوئےبھی مغربی معاشرت کا حصہ ہیں اورآپ کےگھر کی لڑکیوں کو بوائے فرینڈ اور ریلیشن شپس کی آزادی ہے۔۔۔۔تو یقیناً یہ ویکسین ان کیلیے انتہائی ضروری ہے۔۔
لیکن اگر آپ کے گھرکی لڑکیاں ایسی نہیں تو پھر اس ویکسین کی بھی کوئی ضرورت نہیں،لیکن۔۔اگر تو آپ ان کی شادی کرتےہوئےدیندار لڑکےکا انتخاب کرتے ہیں جس کا کردار بتاتا ہے کہ یہ حرام کاری میں نہ ملوث رہا ہے اور نہ شادی کے بعد ملوث ہو گا، ان شاءاللہ۔۔۔۔تو بھی آپ کی بچیوں کو اس ویکسین کی ضرورت نہیں۔۔
البتہ اگر شادی کیلیے مال اور سٹیٹس آپ کی ترجیح ہے اور کردار سے آپ کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔۔۔ لڑکا پہلےبھی کئی افئیرزچلاچکا ہےاور ممکن ہے آئندہ بھی باز نہ آئے۔۔۔۔تو ضرور احتیاطاً اپنی بچیوں کو یہ ویکسین لگوا لیں، کیونکہ ایک بدکار مرد کسی بازاری عورت سے یہ وائرس "کیری" کرکے اپنی پاک باز بیوی تک پہنچا سکتا ہے۔۔
لیکن اس صورت میں ضروری نہیں کہ ابھی9 سے 14 سال کی عمر میں ہی لگوائیں۔شادی سےفوراً پہلےبھی لگوا سکتے ہیں۔۔
یہ تھے کچھ دوٹوک قسم کےمشورےجو شایدہم سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع بھی فراہم کریں۔باقی پہلےدو طبقات کی ہفوات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال باہر کریں۔۔
اور ہاں ایک بات اور:
اگر کسی لڑکی کے جسم میں یہ وائرس داخل ہو چکا ہو تو تمباکو نوشی سےاس کوسرطان میں تبدیل ہونے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔تو فیمنسٹ بہنوں کی خدمت میں عرض ہےکہ سگریٹ پینے والی لڑکیوں کا کریکٹر ڈھیلا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔اگر انہیں یہ والا سرطان تشخیص ہو جائے۔۔
✍️copied

22/09/2024

چائینہ میں تعلیم کےلیے جانے والی خانپور کی فرحانہ مشتاق طبعیت ناساز ہونے کے باعث وفات پا گئیں

اب چائینہ میں پاکستان کا سفارت خانہ فیملی سے 32 لاکھ روپےڈیڈ باڈی کے لانے اور دیگر اخراجات کی مد میں مانگ رہا ہے وزرات خارجہ حکام سے اپیل ہے کہ انسانی ہمداری کی بنیاد پر بچی کی ڈیڈ باڈی فی الفور واپس لانے کےلیے اقدامات کیے جائیں

مرحومہ بچی کی فیملی مالی طور پر سکت نہیں رکھتی اور جوان بیٹی کے مرنے کا غم تو ایک طرف دوسری جانب سفارت خانہ کا سفاکانہ رویہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے copied

10/08/2024

میں نے باجے کی بجائے پودا خرید کر لگایا🌱

اور وہ بکری کھا گئی۔
میں پاں سے بھی گیا اور چھاں سے بھی۔۔

28/07/2024

Plz... share, may we help to someone.

21/07/2024

شکر الحمدللہ۔۔۔۔🙏❤️
ہم میں سے 95 فیصد لوگ گزرے کل سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ آپ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ اپنے والد سے بہتر زندگی نہیں گزار رہے؟“
ہر شخص ہاں میں سر ہلاتا ہے!!
آپ کسی روز اپنے بچپن اور اپنے بچوں کے بچپن کا موازنہ بھی کر لیں

آپ کو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ملے گا‘
آپ کے گھر میں بچپن میں ایک پنکھا ہوتا تھا اور پورا خاندان ”اوئے پکھا ادھر کرئیں“ کی آوازیں لگاتا رہتا تھا!
سارا گھر ایک روپے کی برف خرید کر لاتا تھا
لوگ دوسروں کے گھروں سے بھی برف مانگتے تھے!
ہمسایوں سے سالن مانگنا‘ شادی بیاہ کے لیے کپڑے اور جوتے ادھار لینا بھی عام تھا!
بچے پرانی کتابیں پڑھ کر امتحان دیتے تھے!
لوگوں نے باہر اور گھرکے لیے جوتے اور کپڑے الگ رکھے ہوتے تھے

دستر خوان پر دوسرا سالن عیاشی ہوتا تھا!
سویٹ ڈش میں صرف میٹھے چاول اور کھیر بنتی تھی!مرغی صرف بیماری کی حالت میں پکائی جاتی تھی اور بیمار بے چارے کو اس کا بھی صرف شوربہ ملتا تھا!

پورے محلے میں ایک فون ہوتا تھا اور سب لوگوں نے اپنے رشتے داروں کو وہی نمبر دے رکھا ہوتا تھا
ٹیلی ویژن بھی اجتماعی دعا کی طرح دیکھا جاتا تھا
بچوں کو نئے کپڑے اور نئے جوتے عید پر ملتے تھے۔
سائیکل خوش حالی کی علامت تھا!
اور موٹر سائیکل کے مالک کو امیر سمجھا جاتا تھا!
گاڑی صرف کرائے پر لی جاتی تھی‘ بس اور ٹرین کے اندر داخل ہونے کے لیے باقاعدہ دھینگا مشتی ہوتی تھی
اور کھنے سیک دیے جاتے تھے اور کپڑے پھٹ جاتےگھر کا ایک بچہ ٹی وی کا انٹینا ٹھیک کرنے کے لیے وقف ہوتا تھا!
وہ آدھی رات تک ”اوئے حمزے “ کی آواز پر دوڑ کر چھت پر چڑھ جاتا تھا اور انٹینے کو آہستہ آہستہ دائیں سے بائیں گھماتا رہتا تھا اور اس وقت تک گھماتا رہتا تھا جب تک نیچے سے پورا خاندان ”اوئے بس“ کی آواز نہیں لگا دیتا تھا
پورے گھر میں ایک غسل خانہ اور ایک ہی ٹوائلٹ ہوتا تھا اور اس کا دروازہ ہر وقت باہر سے بجتا رہتا تھا
سارا بازار مسجدوں کے استنجا خانے استعمال کرتا تھا‘ نہانے کے لیے مسجد کے غسل خانے کے سامنے قطارلگتی تھی!
نائی غسل خانے بھی چلاتے تھے‘ یہ سردیوں میں حمام کے نیچے لکڑیاں جلاتے رہتے تھے اور لوگ غسل خانوں کے اندر گرم پانی کے نیچے کھڑے رہتے تھے اور نائی جب ان سے کہتا تھا ”باﺅ جی بس کردیو پانی ختم ہو گیا جے
اور لوگ کپڑے کے ”پونے“ میں روٹی باندھ کر دفتر لے جاتے تھے!
بچوں کو بھی روٹی یا پراٹھے پر اچار کی پھانگ رکھ کر سکول بھجوا دیا جاتا تھا اور ”لنچ بریک“ کے دوران یہ لنچ پھڑکا کر نلکے کا پانی پی لیتے تھے
اور یہ وہ زمانہ تھا جس میں کھانا‘ کھانا نہیں ہوتا تھا روٹی ہوتا تھا!
امیر ترین اور غریب ترین شخص بھی ڈنر یا لنچ کو روٹی ہی کہتا تھا‘ لوگ لوگوں کو کھانے کی نہیں روٹی کی دعوت دیتے تھے اور یہ زیادہ پرانی بات نہیں‘ چالیس اور پچاس سال کے درمیان موجود اس ملک کا ہر شخص اس دور سے گزر کر یہاں پہنچا ہے
آپ کسی سے پوچھ لیں آپ کو ہر ادھیڑ عمر پاکستانی کی ٹانگ پر سائیکل سے گرنے کا نشان بھی ملے گا
اور اس کے دماغ میں انٹینا کی یادیں بھی ہوں گی اور کوئلے کی انگیٹھی اور فرشی پنکھے کی گرم ہوا بھی!

ہم سب نے یہاں سے زندگی شروع کی تھی
اللہ کا کتنا کرم ہے اس نے ہمیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا!
آپ یقین کریں قدرت ایک نسل بعد اتنی بڑی تبدیلی کا تحفہ بہت کم لوگوں کو دیتی ہے
آج اگر یورپ کا کوئی بابا قبر سے اٹھ کر آ جائے تو اسے بجلی‘ ٹرین اور گاڑیوں کے علاوہ یورپ کے لائف سٹائل میں زیادہ فرق نہیں ملے گا
جب کہ ہم اگر صرف تیس سال پیچھے چلے جائیں تو ہم کسی اور ہی دنیا میں جا گریں گے۔
لیکن سوال یہ ہے اتنی ترقی‘ اتنی خوش حالی اور لائف سٹائل میں اتنی تبدیلی کے باوجود ہم لوگ خوش کیوں نہیں ہیں
میں جب بھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں تو میرے ذہن میں صرف ایک ہی جواب آتا ہے
ناشکری!
ہماری زندگی میں بنیادی طور پر شکر کی کمی ہے‘ ہم ناشکرے ہیں‘ آپ نے انگریزی کا لفظ ڈس سیٹس فیکشن سنا ہوگا‘ یہ صرف ایک لفظ نہیں ‘ یہ ایک خوف ناک نفسیاتی بیماری ہے
اور اس بیماری میں مبتلا لوگ تسکین کی نعمت سے محروم ہو جاتے ہیں
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا لوگ پانی پیتے ہیں لیکن پانی پینے کے باوجود ان کی پیاس نہیں بجھتی
‘ یہ برف تک گھول کر پی جائیں گے لیکن اس کے باوجود ان کی زبان باہر لٹک رہی ہوتی ہے
ہم میں سے کچھ لوگ ”آل دی ٹائم“ بھوکے بھی ہوتے ہیں‘ یہ کھا کھا کر بے ہوش ہو جاتے ہیں لیکن ان کی بھوک ختم نہیں ہوتی اور ہم میں سے کچھ لوگ اربوں کھربوں روپے کمانے کے باوجود امیر نہیں ہوتے‘ کیوں؟
آپ نے کبھی سوچا!
کیوں کہ یہ لوگ بیمار ہوتے ہیں اور ان کی بیماری کا نام ”ڈس سیٹس فیکشن“ ہے۔

ان کے پیٹ‘ ان کے معدے اور ان کی حرص کے صندوق مرنے تک خالی رہتے ہیں اور ہم من حیث القوم کسی نہ کسی حد تک ڈس سیٹس فیکشن کی بیماری کا شکار ہیں
اور اس بیماری کی واحد وجہ وٹامن
شکر
کی کمی ہے‘ شکر ہمارے اللہ کا وہ واحد تحفہ ہے جو ہماری خوش حالی میں خوشی‘ ہماری اچیو منٹ میں منٹ اور ہماری کام یابی کو کام بناتا ہے!
انسان جب شکر چھوڑ دیتا ہے تو پھر یہ ڈس سیٹس فیکشن میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہ بیماری پھر مریض کا وہی حشر کرتی ہے جو اس وقت ہم سب کا ہو رہا ہے۔
ہم سب اپنے والدین اور اپنے بچپن سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں‘ ہم پانچ سو روپے سے پچاس پچاس کروڑ روپے تک پہنچ چکے ہیں‘ ہم چالیس پچاس لاکھ روپے سے لے کر دو‘ تین‘ چار کروڑ روپے کی گاڑی سے اتریں گے اور ساتھ ہی کہیں گے ”بیڑہ ہی غرق ہو گیا ہے“
چناں چہ میری آپ سے درخواست ہے آپ ایک لمحے کے لیے اپنا بچپن یاد کریں‘ اپنے آج کے اثاثے اور زندگی کی نعمتیں شمار کریں اور پھر اللہ کا شکر ادا کریں🌹

آپ کو نتائج حیران کر دیں گے‘ یقین کریں آپ کا شکر آپ کی زندگی سنوار دے گا 🌹 ورنہ آپ کتنے ہی اچھے یا بڑے کیوں نہ ہو جائیں آپ ایک ادھوری‘ غیر مطمئن اور تسکین سے محروم زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے.

الجواب
ہم اپنے باپ سے ہی نہیں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی اچھی زندگی گزار رہے ہیں.
ہم ظہیر الدین بابر اور اکبر بادشاہ سے اچھی زندگی گزار رہے ہیں. ہم فرعون اور نمرود سے بھی اچھی زندگی گزار رہے ہیں.

خدا کے بندے آپ نے زندگی گزارنے کے لیے معیار کیا مقرر کیا ہے؟؟
رسول اللہ کے پاس ٹوتھ برش نہیں تھا، صحابہ کرام کے پاس واش روم نہیں تھا. امہات المومنین بھی ٹٹی کرنے گھر سے باہر جاتی تھیں.
فرعون کے پاس مہران بھی نہیں تھی آپ کے پاس بی ایم ڈبلیو ہے، سکندر اعظم کبھی ٹرین میں نہیں بیٹھا آپ کے پاس ہوائی جہاز ہے. قارون کے پاس دنیا جہان کی دولت تھی لیکن پنکھا نہیں تھا.

مومن اپنے زمانے سے ہم آہنگ ہوتا ہے، رسول اللہ نے گدھے کی سواری کی تھی آپ بھی سنت پر عمل کریں گدھے پر سوار ہو کر روزانہ آفس جایا کریں. صحابہ کرام کبھی ہسپتال نہیں گئے آپ بھی بیمار ہوں تو پیناڈول مت کھایا کریں.

قناعت اچھی چیز ہے لیکن شکر گزار بندہ بننے کا مطلب یہ کیسے ہو گیا کہ زندگی کے لوازمات ترک کر دئیے جائیں. ٹھیک ٹھاک گھر چھوڑ کر جھونپڑی میں رہنے لگیں، گاڑی چھوڑ کر گدھے کی سواری شروع کر دیں.
یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی ہوائی جہاز چھوڑ کر آج بھی پیدل حج کرنے نکل پڑتا ہے. میں پیدل حج عمرہ کرنے والوں کو بھی گدھا ہی سمجھتا ہوں. ہوائی جہاز میں کم ثواب اور پیدل میں زیادہ ثواب نہیں ہے. اللہ نے کب کہا کہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے رکھو؟ سردیوں میں گرم پانی دستیاب ہونے کے باوجود ٹھنڈے پانی سے وضو کرتے رہو. سایہ دستیاب ہو تب بھی دھوپ میں نماز پڑھو.
یہ تو ہندوانہ سوچ ہے جو خود پر ظلم کر کے بھگوان کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں.
قمر نقیب خان

18/07/2024

Plz

14/07/2024

صاحبزادہ سلطان محمد علی باہو .....

موصوف کا نام صاحبزادہ سلطان محمد علی باہو ہے، موصوف مشہور صوفی بزرگ حضرت سلطان باہو کی نسل میں سے ہیں،

موصوف کے کام ماڈلنگ، جیپ ریس، گھوڑا ریس، مہنگے کھیل اور شاہانہ لائف اسٹائل ہے،

مہینے میں ایک آدھ بار یہ پگڑی پہن کر پیرانہ گیٹ اپ کے ساتھ دربار میں بیٹھتے ہیں، غریب مریدوں سے نذرانے وصول کرتے ہیں اور پھر اپنے شوق پورے کرنے نکل جاتے ہیں،

یہ واحد پیر ہیں جس کا باقاعدہ ٹک ٹاک پر اکاونٹ بھی ہے یہ وہاں اپنی “اداکاری” کے جوہر دکھاتے ہیں،

ان کے مرید انہیں “ولگیاں دا بادشاہ تے پیراں دا پیر سونا سلطان محمد علی بدر منیر” جیسے القابات سے پکارتے ہیں،

ضلع جھنگ میں سلطان باہو کا مزار موصوف کی اِنکم کا واحد اور سب سے تگڑا ذریعہ ہے،

اسلام اور بزرگوں کے نام پر دکان چلانے والے یہ ڈبا پیر کھیل کود اور عیاشی کے ہر مقام پر نظر آئینگے لیکن اسلام کےلیے یہ کہیں کھڑے ہوتے نظر نہیں آئینگے،

پیری مریدی کی ان فیکٹریوں میں غریبوں کا پیسہ ہی ضائع نہیں ہو رہا ان کا ایمان اور عقیدہ بھی تباہ ہو رہا ہے،
لازم ہے کہ ان کو بے نقاب کیا جائے ..

06/07/2024

ڈنمارک کے ایک ایسے جزیرے میں جہاں کوئی ایک مسلمان بھی نہیں، کالج کی 3 لڑکیوں نے ایک ساتھ اسلام قبول کرلیا اور ان کی زندگی میں کبھی کسی مسلمان سے ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی۔
یہ ہیں: يوليا اور اس کی بہن اور سہیلی۔
کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد اگلے روز جب یہ حجاب پہن کر کلاس پہنچیں تو پرنسپل نے انہیں بلا کر پوچھا کہ تم کو کس نے ورغلایا؟ انہوں نے کہا کہ آج تک ہماری کسی مسلمان سے ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ تو پھر تمہاری کایا کیسے پلٹی؟ یولیا نے جواب میں کہا کہ جب ہم نے میڈیا میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈا سنا تو تینوں نے فیصلہ کیا کہ اسلام پر تحقیق کرتے ہیں۔ اگر آپ بھی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر تحقیق کریں گے تو اس دین کی حقانیت اور قدر وقیمت کا اندازہ ہوجائے گا۔ یہ سن کر پرنسپل صاحب خاموش ہوگئے۔
یولیا کی عمر 20 برس ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں، میری بہن اور سہیلی نے ایک ساتھ کلمہ پڑھا۔ یہ ہماری زندگی کا سب سے مبارک دن تھا۔ ہماری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ کلمہ پڑھ کر ہمیں روحانی طمانیت اور سکون ملا، اسے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی۔ اب تک کسی عالم دین تو دور کی بات، عام مسلمان سے بھی ہماری ملاقات نہیں ہوئی تھی۔
حق کو تلاش کرنے والے کو اللہ ہدایت دیتا ہے۔
پلیز سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کریں۔اپنی دنیا اور اخرت بنائیں۔

24/06/2024
24/06/2024

آفس جتنا بھی سیریس ہو کر جاؤ شام میں ریزائن کرنے کا دل کر ہی جاتا ہے۔۔🫤🥱

20/06/2024

آج بیگم بڑی موڈ میں تھی کہنے لگی کہ آپکی کوئی گرل فرینڈ ہے ۔
میں نے کہا نہیں
کہنے لگی کسی کو آفس میں پسند کرتے ہوں ۔ میں نےکہا نہیں ۔
پھر پوچھا شادی سے پہلے کوئی افئیر ۔
میں نے کہا نہیں ۔
کہنے لگی ۔اتنے ہینڈ سم تو ہیں ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے۔
میں نےکہا کہ لڑکیاں پیسہ چاہتی ہیں اور وہ میں کسی غیر پہ خرچنا نیہں چاہتا تھا۔ اس لیے کسی سے دوستی نہیں کی۔
پھر پوچھا کوئی تو کبھی جوانی میں پسند آئی ہو گی ۔ میں نے کہا نہیں ۔
منہ بنا کر بولی ۔ اسکا مطلب کہ میں ہی پہلی ہوں۔ جو آپ جیسے کو پسند کرتی ہوں ۔

کوئی فلمی ایکٹر تو پسند ہو گی۔
میں نے کہا نہیں ۔
ہاں البتہ بچپن میں ڈنٹونک کی مشہوری میں ایک لڑکی نیلما آتی تھی۔ وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ میں اس وقت 6 سال کا تھا ۔
اسکے بعد وہ ٹی وی پہ نیہں ائی۔

اسکے بعد بیگم کا پارہ چڑھ گیا اور بولی کہ 35 سال پرانی لڑکی نہیں بھولی۔
اب بھی دماغ میں ہے وہ چڑیل ۔
تم سارے مرد ایک جیسے ہو۔ اس لیے اپ نے بچپن کی ساری چیزیں سمبھال کر رکھی ہیں
۔اور راشن میں بھی ڈنٹونک ہمیشہ لاتے ہیں ۔ صبح شام بچوں کو دانت صاف کرنے کا کہتے ہیں ۔
اس کلموئی کی یاد تازہ کرتے رہتے ہیں۔ اور اکثر سوچوں میں گم رہتے ہیں۔سب سمجھتی ہوں ۔
یقینا نیٹ پہ بھی اسی کو سرچ کرتے ہوں گے۔
اسی لیے 24 گھنٹے موبائل میں کھبے رہتے ہیں۔
مجھے پہلے شک تھا ہو نہ ہو کوئی پرانی عاشقی پال رکھی ہے۔
سب سمجھتی ہوں۔ مجھے اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔
اور یہ کہ کر ڈنٹونک اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ 🥺🫢

13/06/2024

*ﻧﮉﺭ ﺗﮭﺎ،*
*ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺗﮭﺎ، ﺗﺎﺟر ﺗﮭﺎ، ﮔﻮﺭﻧﺮ ﺗﮭﺎ،*
ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﮔﯿﺎ،
*ﻣﺴﺠﺪ ﻧﺒﻮﯼ ﷺ* ﻣﯿﮟ ﺳﺘﻮﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ

*،ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ* ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ،، ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﭼﮩﺮﮦ، ﻟﻤﺒﺎ ﻗﺪ، ﺗﻮﺍﻧﺎ ﺟﺴﻢ، ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺳﯿﻨﮧ، ﺍﮐﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮔﺮﺩﻥ، ﺍﭨﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ، ایک حسین جوان ہے …

ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻋﯿﺐ ﮨﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ،

ﺳرکار دوعالم ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﮯ، فرمایا :ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮ؟

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺑﻮﻻ :
ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﻮﭼﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﻮﮞ؟۔

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
: ﮐﻮﺋﯽ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﭘﮩﻨﭽﯽ ﮨﻮ؟

ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻭﺍﮦ، ﻧﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺭﺍﺣﺖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺪﺷﮧ، ﺟﻮ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺮ ﻟﻮ،

ﺭﺳﻮﻝ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ نے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺑﮍﺍ ﺗﯿﺰ ﻣﺰﺍﺝ ﺁﺩﻣﯽ ﮨﮯ،
ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﭘﻮﭼﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮐﮫ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ؟

ﻋﺮﺽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
*ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ*
! ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺩﮐﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ،

آپ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺛﻤﺎﻣﮧ ﺫﺭﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺁﻧﮑﮫ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ صحیح،

ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ :
ﮐﯿﺎ ﻧﻈﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ، ﺟﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ،۔

*حضرت ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ( رضی اللّٰہ* ) ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﺳﻠﻮﭨﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ،
ﺗﻠﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﮍﭘﻨﮯ ﻟﮕﺎ،
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﺍﺑﺮﻭ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮨﻮ،
حضرت ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮨﻮﮞ،
ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ؟

ﻟﯿﮑﻦ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﮐﮯ ﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮨﮯ، ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ،
ﺟﺘﻨﺎ ﻏﺼﮧ ﮨﮯ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﻮ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ …

ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ،

ﻟﻮﮔﻮ !
ﯾﮧ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ صلی اللہ علیہ وسلم ﺟنﮐﮯ ﻧﻘﺶ ﻗﺪﻡ ﭘﺮ ہم ﻧﮯ ﭼﻠﻨﺎ ﮨﮯ،
تب۔۔۔۔۔۔ تھا، ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﮐﮭﺎﺋﯽ، ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈﺍﻟﯽ،

ﺁﺝ ﺗﺎﺟﺪﺍﺭ ہیں ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯽ ﺳنتے ہیں ﻟﯿﮑﻦ ﭘﯿﺸﺎﻧﯽ ﭘﺮ ﺷﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮈالتے ہیں …ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ، ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﻮ،

ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ :
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺭﻭﻡ ﻭ ﯾﻮﻧﺎﻥ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﻭ ﻣﺼﺮ ﮐﯽ ﺑﺴﺘﯿﺎﮞ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ)
ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ؟

ﺭﺣﻤۃ ﻟﻠﻌﺎﻟﻤﯿﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ فرمایا :
ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ،
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﻥ ﺁﺋﮯ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺟﻮﺍﺏ،

ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﷺ ﺁﺋﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﮨﻢ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ، ﺫﺭﺍ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻮ ﻟﻮ،۔
ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ : ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ، ﺍﺏ؟

ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﭘﺎﮎ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﻣﺴﮑﺮﺍ کر ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺎﺅ ! ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﭼﻠﮯ ﺟﺎﺅ، ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍسے ﺭﮨﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ،
ﮨﻢ ﺗﺠﮭﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﮯ،

ﺟﺎﺅ …ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭﯾﮟ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮯ ﺗﺎﺏ ﺗﮭﯿﮟ،

ﺍن سے فرمایا :
ﺑﮍﺍ ﺁﺩﻣﯽ ہے ﻋﺰﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺳﮯ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﺮ ﺩﻭ،
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﭘﻠﭩﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ،
ﺑﮍﮮ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ،
ﻣﺤﮑﻮﻡ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ، ﺟﺮﻧﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

مگر
ﺍﺗﻨﺎ ﺣﻮﺻﻠﮧ ﻭﺍﻻ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ،
ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ …”
ﺑﺲ ﺍﮎ ﻧﮕﺎﮦ ﭘﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺩﻝ ﮐﺎ “

ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺮﭘﭧ ﺑﮭﺎﮔﺎ، ﺩﮌﮐﯽ ﻟﮕﺎ ﺩﯼ، ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ….. !

ثمامہ کہتے ہی
کہ :” ﻗﺪﻡ ﺁﮔﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺩﻝ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ “
ﺩﻭ ﻣﯿﻞ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺘﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺩﮔﻨﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺳﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﭘﻠﭧ ﺁﯾﺎ

،ﻭﮦ ﻣﺎﮦ ﺗﻤﺎﻡ صلی اللہ علیہ وسلم ﻧﻨﮕﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ کرام ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﯿﭩھے ہوئے تھے

….ﺻﺤﻦ ﻣﺴﺠﺪ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ….
*ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ صلی اللہ علیہ وسلم* ﻧﮯ ﻧﮕﺎﮦ ﮈﺍﻟﯽ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺛﻤﺎﻣﮧ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﮯ،

ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﺁ ﮔﺌﮯ

؟ﮐﮩﺎ،
*ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ، ”*
*ﮐﯿﺎ ﺍﺳﯿﺮﯼ ﮨﮯ اور ﮐﯿﺎ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﮨﮯ”*

*ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺗﺐ ﺗﮭﺎ*
*ﺟﺐ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ،*
*ﺍﺏ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ،*
*ﺍﺏ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﭖ ﮐا* *ﻏﻼﻡ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ سبحان اللّہ*

*تیری صورت تیری سیرت زمانے سے نرالی ہے*
*تیری ہر ہر ادا پیارے دلیلِ بے مثالی ہے*
.
ایک آخری بات عرض کرتا چلوں اگر یہ تحریر اچھی لگے تو مطالعہ

اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ،

اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو.....
منقول

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Goverment College University Faisalabad
Faisalabad
9200