Department of Islamic Studies, RIUF

Department of Islamic Studies, RIUF

Share

The Official Page of Department of Islamic Studies, Riphah International University Faisalabad.

06/06/2026

Admission Fall 2026

06/06/2026

شعبہ علوم اسلامیہ کی ایک سابق طالبہ کا اپنے اساتذہ سے اظہار عقیدت حرف سے ہنر تک
شعبہ علومِ اسلامیہ، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی فیصل آباد کیمپس
آخر شعبہ علومِ اسلامیہ والے "آرام" کیوں نہیں کر سکتے؟
کسی زمانے میں ہم بھی یہ سمجھتے تھے کہ یونیورسٹی کی زندگی بڑی آزاد، پُرسکون اور رنگین ہوگی۔ کلاس میں جائیں گے، دوستوں سے گپ شپ کریں گے، کیفے ٹیریا کے چکر لگائیں گے، اور اگر کبھی اسائنمنٹ لیٹ بھی ہو گئی تو کون سا آسمان ٹوٹ پڑے گا؟
مگر پھر ہمارا داخلہ شعبہ علومِ اسلامیہ میں ہو گیا۔
اور یوں محسوس ہوا کہ ہم کسی عام شعبے میں نہیں بلکہ ایک ایسے تربیتی مرکز میں آگئے ہیں جہاں وقت کی پابندی، تعلیمی معیار اور ذمہ داری صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی حقیقت ہیں۔
شروع شروع میں ہمیں لگتا تھا کہ شاید کبھی کبھار کلاس سے پانچ دس منٹ لیٹ پہنچنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
مگر پھر ہماری ملاقات ڈاکٹر خالد محمود عارف صاحب سے ہوئی۔
اس کے بعد وقت کی اہمیت پر لکھی گئی تمام کتابیں غیر ضروری محسوس ہونے لگیں۔
ہماری ایک دوست بڑے اعتماد سے کہا کرتی تھی:
"یار! آج پہلی کلاس چھوڑ دیتے ہیں، بعد میں نوٹس لے لیں گے۔"
ہم بھی ان کی دانشمندی سے متاثر ہو جاتے تھے۔
لیکن چند منٹوں بعد پتا چلتا کہ ڈاکٹر صاحب کو نہ صرف ہماری غیر حاضری کا علم ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہے کہ ہم اس وقت کہاں اور کیوں موجود تھے۔
تب ہمیں احساس ہوا کہ شعبہ علومِ اسلامیہ میں بعض معلومات رسمی ذرائع سے پہلے ہی متعلقہ افراد تک پہنچ جاتی ہیں۔
اگر سائنس دان کبھی "اکیڈمک ایکٹیویشن سپیڈ" ناپنے لگیں تو شعبہ علومِ اسلامیہ کے طلبہ یقیناً عالمی ریکارڈ قائم کر دیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ہمیں احساس ہوا کہ یہاں اصل مقابلہ لباس، انداز یا ظاہری چیزوں کا نہیں بلکہ علم، تحقیق، مطالعہ اور کردار کا ہے۔
یہاں کسی کو اس بات سے زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی کہ آپ نے کون سا برانڈ استعمال کیا ہے، البتہ یہ ضرور پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کون سی کتاب پڑھی ہے، کون سا مقالہ لکھا ہے اور آپ کی تحقیق کہاں تک پہنچی ہے۔
اس وقت تو ہمیں کبھی کبھی یہ سختی محسوس ہوتی تھی، لیکن آج جب عملی زندگی میں مختلف ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہی نظم، وہی نگرانی اور وہی مسلسل رہنمائی ہمارے لیے سرمایہ بن گئی۔
بطور سربراہِ شعبہ ان کا ایک اور وصف بھی قابلِ ذکر تھا۔ طلبہ کے مسائل کو وہ محض طلبہ کے مسائل نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنا مسئلہ تصور کرتے تھے۔ داخلوں سے لے کر کورس ورک، مقالے، سپروائزری معاملات، مالی مشکلات یا انتظامی پیچیدگیوں تک، ہر معاملے میں ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو۔
اور سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ بعض اوقات ہم نوجوانی کے جوش میں اپنی شکایات، اعتراضات اور کبھی کبھار غصے سے بھرپور گفتگو بھی کر جاتے تھے، مگر ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر تحمل، مسکراہٹ اور سنجیدگی کا توازن ش*ذ ہی بگڑتا تھا۔ آج سوچتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ شاید انتظامی عہدے سے زیادہ مشکل کام مختلف مزاج رکھنے والے طلبہ کے جذبات کو سنبھالنا ہوتا ہے، اور یہ ہنر ڈاکٹر خالد محمود عارف صاحب کو بخوبی آتا تھا۔
اسی طرح اگر ڈاکٹر عبدالرحمن مدثر صاحب کا ذکر نہ کیا جائے تو شعبے کی یادیں مکمل نہیں ہوتیں۔
عصری مسائل، جدید فکری چیلنجز، تہذیبی تغیرات اور موجودہ دور کے پیچیدہ سوالات کو وہ جس انداز سے بیان کرتے تھے، بعض اوقات ہمیں یوں محسوس ہوتا تھا کہ ہم صرف کلاس روم میں نہیں بیٹھے بلکہ کسی وسیع تر فکری دنیا کے دروازے ہمارے سامنے کھل رہے ہیں۔
ان کے لیکچرز کے بعد اکثر احساس ہوتا تھا کہ دنیا کو دیکھنے کا ہمارا زاویہ چند گھنٹے پہلے والا نہیں رہا۔ وہ روزمرہ کے مسائل میں ایسے فکری پہلو تلاش کر لیتے تھے جن پر ہم نے شاید کبھی غور ہی نہ کیا ہو۔ کئی مرتبہ تو کلاس ختم ہونے کے بعد بھی ذہن گھنٹوں انہی مباحث میں الجھا رہتا تھا اور ہم سوچتے تھے کہ واقعی علم صرف معلومات کا نام نہیں بلکہ زاویۂ نظر تبدیل کرنے کا بھی نام ہے۔
شعبے میں بعض اوقات عجیب مناظر دیکھنے کو ملتے تھے۔
راہداریوں میں طلبہ بڑی سنجیدگی سے گفتگو کر رہے ہوتے، تحقیقی منصوبے بن رہے ہوتے، اور کچھ لوگ آئندہ ہفتے سے محنت شروع کرنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہوتے۔
پھر اچانک خبر آتی:
"ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب آ رہے ہیں۔"
اور بس!
جو طلبہ چند لمحے پہلے دنیا بھر کے مسائل پر گفتگو کر رہے ہوتے، وہ فوراً اپنی فائلیں کھول لیتے، لیپ ٹاپ آن ہو جاتے، کتابیں میز پر آ جاتیں اور علمی ماحول چند سیکنڈ میں اپنی مکمل شکل اختیار کر لیتا۔
پھر ایک مرحلہ آیا جب ہماری ملاقات ڈاکٹر محمد رضوان محمود صاحب سے ہوئی۔
اب عام اساتذہ طالب علموں سے مقالہ یا اسائنمنٹ مانگتے ہیں، لیکن ڈاکٹر رضوان محمود صاحب تحقیق میں ایسی باریکیاں دریافت کر لیتے ہیں جن کا خود مصنف کو بھی اندازہ نہیں ہوتا۔
اگر آپ نے حوالہ جات میں ایک صفحہ نمبر بھی غلط لکھ دیا ہو تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تحقیقی کائنات نے فوراً اطلاع پہنچا دی ہو۔
بعض طلبہ کا خیال ہے کہ Turnitin، AI Detectors اور ریسرچ سوفٹ ویئر اپنی جگہ، لیکن ڈاکٹر رضوان محمود صاحب کی تحقیقی بصیرت اپنی جگہ۔
اسی طرح محمد اشفاق نواز صاحب کا معاملہ بھی منفرد ہے۔
وہ بظاہر نہایت پرسکون انداز میں گفتگو کرتے ہیں، مگر ان کی ایک مختصر سی نصیحت بعض اوقات پورے سیمسٹر کے لیکچر سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔
ان کے سامنے جب کوئی طالب علم یہ وضاحت دینے کی کوشش کرتا ہے کہ:
"سر! اصل میں اسائنمنٹ تقریباً مکمل تھی..."
تو جملہ مکمل ہونے سے پہلے ہی اسے احساس ہو جاتا ہے کہ سچ بول دینا زیادہ مناسب ہوگا۔
اور پھر بات آتی ہے ڈاکٹر فیضان حسن صاحب کی۔
فقہ پڑھانے والے اساتذہ تو بہت دیکھے اور سنے تھے، مگر ڈاکٹر فیضان حسن صاحب کے ہاں فقہ صرف مسائل کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ، متحرک اور منطقی نظام محسوس ہوتی تھی۔
شروع شروع میں ہم سمجھتے تھے کہ فقہ شاید چند احکام اور فتاویٰ یاد کرنے کا نام ہے، لیکن ان کی کلاسوں میں جا کر اندازہ ہوا کہ فقہ تو دراصل سوچنے، سمجھنے اور دلائل کو پرکھنے کا فن بھی ہے۔
کبھی کبھی وہ ایک مسئلے پر اتنے مختلف زاویے اور آراء سامنے لے آتے کہ ہمیں اپنے نوٹس سے زیادہ اپنی سوچ کو ترتیب دینے کی ضرورت محسوس ہونے لگتی۔
بعض طلبہ کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ ڈاکٹر فیضان حسن صاحب کے سامنے کسی فقہی مسئلے پر رائے دینا ایسا ہی ہے جیسے کسی شطرنج کے ماہر کے سامنے پہلی بار مہرے اٹھانا، کیونکہ آپ ابھی دلیل مکمل بھی نہیں کرتے اور وہ اس کے ممکنہ سوالات، حدود اور نتائج کی نشاندہی کر چکے ہوتے ہیں۔
اور اگر ذکر ڈاکٹر عمر راحیل صاحب کا نہ کیا جائے تو Islam & Modern Western Thought کے طلبہ یقیناً احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔
ان کی کلاس میں داخل ہوتے ہی احساس ہو جاتا تھا کہ آج صرف سبق نہیں بلکہ ایک فکری سفر شروع ہونے والا ہے۔
مغربی فلسفہ، جدید نظریات، سیکولرزم، لبرلزم، پوسٹ ماڈرنزم اور معاصر فکری مباحث کو وہ جس انداز میں بیان کرتے تھے، اس کے بعد ہمیں احساس ہوتا تھا کہ دنیا صرف وہ نہیں جو ہم روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں بلکہ نظریات اور افکار کی ایک پوری کائنات ہمارے اردگرد موجود ہے۔
کئی مرتبہ کلاس سے نکلتے ہوئے ذہن میں اتنے سوالات گردش کر رہے ہوتے کہ دوستوں کے ساتھ چائے کا کپ بھی ایک غیر رسمی سیمینار کی شکل اختیار کر لیتا تھا۔
بعض اوقات تو ہمیں یوں لگتا تھا کہ ڈاکٹر عمر راحیل صاحب صرف " Islam & Modern Western Thought " نہیں پڑھا رہے بلکہ ہمارے ذہنوں میں ایسے دریچے کھول رہے ہیں جن سے ہم اپنے معاشرے، دنیا اور خود اپنے افکار کو نئے زاویوں سے دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
البتہ ایک سوال اب بھی تحقیق طلب ہے۔
آخر شعبے کے اساتذہ کو یہ کیسے معلوم ہو جاتا تھا کہ کون سا طالب علم واقعی مصروف ہے اور کون صرف مصروف نظر آنے کی کوشش کر رہا ہے؟
یہ راز شاید آنے والے محققین کے لیے چھوڑ دینا چاہیے۔
تحریر نگار:
شعبہ علومِ اسلامیہ کی ایک تاحال زیرِ نگرانی سابق طالبہ 😄

19/05/2026

Public Announcement HEC (HAT- GENERAL FOR MS/M. PHIL & HAT-SUBJECT FOR PHD ADMISSIONS-FALL 2026)

19/05/2026

Free Preparation for HAT-3 & HAT-GENERAL

04/03/2026

ایک شام اہل علم کے نام

18/11/2025

Riphah International University Faisalabad Campus, in partnership with Alkhidmat Foundation Pakistan, is organizing the 5th Annual Fun Gala, a vibrant event curated for 1000+ needy children.
The day will feature engaging activities, recreational segments, learning experiences, and meaningful interaction focused on nurturing joy and confidence. 🎈

Join us on 6th December, 9:00 am to 4:00 pm, as we come together to create a positive impact and celebrate the spirit of giving.

06/11/2025

شرکاء علماء سیمینار

04/11/2025

Allama Iqbal & Syed Maudadi International Conference 8th & 9th November 2025

04/11/2025

An evening with scholars ✨
Join us for “عالمِ اسلام اور دنیا کی تشکیلِ نو”, a thought-provoking session at Riphah International University, Faisalabad Campus.
🗓️ 8th November 2025 | 🕓 5:30 pm - 7:30 pm

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Riphah International University Faisalabad, Satyana Road
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 08:15 - 17:00
Tuesday 08:15 - 17:00
Wednesday 08:15 - 17:00
Thursday 08:15 - 17:00
Friday 08:15 - 17:00
Saturday 08:15 - 18:00
Sunday 08:15 - 17:00