Lyallpur Officers Academy

Lyallpur Officers Academy

Share

Lyallpur Officers Academy is a ray of hope for aspirants of css and pms in the Faisalabad. Faculty

11/06/2023

ایک سٹیج ڈرامے میں افتخار ٹھاکر اپنی ساتھی اداکارہ سے پوچھتا ہے کہ تمہارے ابا جی کیا کرتے ہیں؟ تو وہ کہتی ہے کہ ابا جی کی چھت والا پنکھا اوپر گرنے سے ڈیتھ ہو گئی ہے۔ تو افتخار ٹھاکر بڑی لاپرواہی سے کہتا ہے چلو شکر اے کدھرے لت بانھ (ٹانگ اور بازو) نئیں ٹٹ گئی۔ یہی حال پڈمیوں کا ہے ملکی معیشت کو تباہ کرنے کے بعد بڑی بےشرمی سے کہہ رہے ہیں کہ"شکر ہے ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا لیا۔"

02/05/2023

قاری حنیف ڈار کی علامہ اقبال کے خلاف ایک پوسٹ نظر سے گزری ہے جسے پڑھ کر افسوس ضرور ہوا مگر ملا کی جو تصویر میرے ذہن میں ہے قاری حنیف ڈار اس پہ مکمل طور پہ پورا اترتے ہیں اس لیے زیادہ حیرت بھی نہیں ہوئی انھوں نے علامہ اقبال کے نواب بھوپال سے وظیفہ لینے کی جو بات کی ہے اس حوالے سے ایک آرٹیکل چند سال قبل لکھا تھا وہی پیش خدمت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقبال کو پیش کردہ وظائف کی حقیقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز)

ہر آئے روز اقبال کے کچھ مخالف برائے مخالف ان پر وظیفہ خواری کا الزام لگاتے رہتے ہیں اور انھیں دولت دنیا کا طلب گار ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اقبال کوئی پیغمبر یا فرشتہ نہ تھے کہ انھیں معصوم عن الخطا ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جائے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ہر وقت الزامات ہی کا ہدف بنایا جائے۔واضح رہے اقبال کی تمام تر عظمت ان کے فرشتہ ہونے میں نہیں بلکہ بشر ہونے ہی میں ہے۔ اقبال نے عمر کے آخری حصے میں جو وظائف قبول کیے ان کی اصل حقیقت کیا ہے ؟؟ کیا اقبال ایک جاہ طلب شخص تھے اور ان کی تلقین غزالی فقط دوسروں کے لیے تھی اور وہ خود بڑے ٹھاٹھ کی زندگی بسر کرتے تھے یعنی وہ دو قطبیت (bipolarity) کا شکار تھے ؟؟؟ پہلا سوال تو یہ ہے کہ اقبال ساری زندگی وظائف کے سہارے ہی زیست کرتے رہے ؟ اور دوسرا یہ کہ اقبال نے انگریز حکومت سے کوئی وظیفہ لیا؟۔ حقیقت یہ کہ اقبال نے تعلیم حاصل تو اپنے بڑے بھائی کے مالی تعاون کی وجہ سے۔ مگر حصول تعلئم کے بعد اپنے معاش کا خود بندوبست کیا۔ پہلے وہ اورینٹل کالج میں میکلوڈ عربک ریڈر مقرر ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھاتے رہے۔ یورپ سے واپسی پر وکالت کرنے لگے۔ اس دوران انھوں نے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے، اپنی قومی خدمات کا کسی سے صلہ طلب نہیں کیا۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ قوم کی نابغہ روزگار شخصیات، شاعروں اور ادیبوں کو ویسے ہی فکر معاش سے آزاد کر دینا چاہیے تاکہ وہ پوری یک سوئی سے خدمات انجام دے سکیں۔ غالب کو پنشن کے حصول کے لیے کیا کیا پاپڑ نہ بیلنے پڑے۔ اقبال ایک خوددار انسان تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور نہ کسی کو کبھی وظیفے کے لیے درخواست گزار ہوئے۔ ان کو بہت سے معاشی مسائل سے گزرنا پڑا مگر انھوں نے یہ مسائل خود ہی جھیلے، کسی سے ذکر تک نہ کیا۔ ان کے خاص دوستوں کو ان کی اس صورت حال کا علم تھا۔ زندگی کے آخری چار سال اقبال کا زیادہ تر وقت مختلف بیماریوں میں بسر ہوا۔ وکالت کا سلسلہ تقریباً مفقود ہو کر رہ گیا۔ کوئی اور ذریعہ معاش بھی نہ تھا۔ سر علی امام نے اقبال سے کہا کہ وہ انھیں مہا راجہ الور سے وظیفہ دلا دیتے ہیں۔ اقبال نے صاف انکا ر کر دیا کہ وہ بغیر کام کیے وظیفہ نہ لینا چاہتے تھے۔ سر علی امام نے اقبال کو راضی کر کے مہاراجہ الور سے ان کی ملاقات کا اہتمام کیا تا کہ ملازمت کے لیے بات ہو جائے۔ چناں چہ اقبال الور چلے گئے۔ وظیفے کے لیے نہیں بلکہ ملازمت کے لیے۔ اقبال کی ملاقات مہا راجہ سے ہوئی، مہا راجہ نے انھیں اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے لیے آفر کی۔ مگر اقبال اس ملازمت کے لیے راضی نہ ہوئے۔ اس کی ایک وجہ تو اقبال کے نزدیک یہ تھی کہ مہاراجہ کی باتوں سے انھیں یہ تاثر ملا کہ وہ اقبال پر کوئی احسان کر رہے ہیں۔ اقبال کی طبیعت مہا راجہ کی باتوں سے مکدر ہو گئی۔ دوسرے یہ کہ تنخواہ اقبال کی توقع سے کم تھی۔ اقبال کے بقول:ـ ’’اگرچہ جو رقم پیش کی گئی وہ میری ذاتی ضروریات سے زیادہ ہے تا ہم میرے ذمے اوروں کی ضروریات کو پورا کرنا بھی ہے۔ اس واسطے اِ دھر اُ دھر کی دوڑ دھوپ کرنے کی ضرورت لاحق ہوتی ہے۔ گھر بھر کا خرچ میرے ذمے ہے۔ بڑے بھائی جان جنھوں نے اپنی ملازمت کا اندوختہ میری تعلیم پر خرچ کر دیا اب پنشن پا گئے ہیں، ان کے اور ان کی اولاد کے اخراجات بھی میرے ذمے ہیں اور ہونے بھی چاہئیں۔‘‘
حیدر آباد دکن کے وزیر اعظم سر کشن پرشاد نے اقبال سے کہا کہ: ’’میں سمجھتا ہوں کہ آپ ایسے آدمی کو فکر معاش سے آزاد ہونا چاہیے۔ اگر آپ منظور کریں تو ایک معقول وظیفے کا اہتمام ہو سکتا ہے۔‘‘ علامہ کا جواب آب زر سے لکھے جانے کا مستحق ہے۔ انھوں نے فرمایا:ـ ’’آپ کی فیاضی کہ زمان و مکاں کی قیود سے آشنا نہیں مجھ کو ہر شے سے مستغنی کر سکتا ہے مگر یہ بات میری مروت اور دیانت سے دور ہے کہ اقبال آپ سے ایک پیش قرار تنخواہ پائے اور اس کے عوض میں کوئی ایسی خدمت نہ کرے جس کی اہمیت اس مشاہرے کے بقدر ہو۔‘‘
یہ جنوری1938 ء کی بات ہے جب اقبال بہت بیمار تھے۔ ان کی آنکھیں جواب دے چکی تھیں۔ سید نذیر نیازی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ نے انھیں دیکھتے ہی کہا کہ کچھ اشعار ہوئے ہیں۔ انھیں بیاض میں نقل کر دیجیے۔ علامہ انھیں اشعار لکھوانے لگے ۔ آخری شعر یہ تھا:
غیرت فقر مگر کر نہ سکی ا س کو قبول
جب کہا اس نے یہ ہے میری خدائی کی زکات
نیازی صاحب نے پوچھا کہ ان اشعار کی شان نزول کیا ہے؟ تو علامہ نے جواب میں کہا کہ ’’سر اکبر حیدری صدر اعظم حیدر آباد دکن نے یوم اقبال کے موقع پر مجھے ایک ہزار روپے کا چیک بھیجا تھا جس کے سرنامے کے الفاظ یہ تھے: ’’یوم اقبال کے موقع پہ حضور نظام کے توشہ خانہ سے جو صدر اعظم کے ماتحت ہے۔‘‘ مگر میری غیرت نے گوارا نہ کیا کہ اسے قبول کروں اس لیے چیک واپس کر دیا، یہ اشعار اسی تاثر کا نتیجہ ہیں۔
ْٓؓٓاقبال کی عمر عزیز کے اسی آخری دور کی بات ہے کہ سر راس مسعود نے اقبال کو آگاہ کیے بغیر بھوپال کے نواب حمید اللہ خان سے ان کے وظیفے کی بات کی۔ نواب حمیداللہ جو اقبال سے بہت عقیدت رکھتے تھے ان سے درخواست کی کہ وہ یہ وظیفہ قبول کر لیں۔ علامہ نے وظیفہ لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اگر آپ خدمت کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس کے بدلے میں ان سے کوئی کام لے لیں۔ چناں چہ ان کو قرآن پاک کی تفسیر کا کام سونپا گیا جس پر اقبال ماہوار پانچ سو روپے قبول کرنے پر راضی ہوئے۔ جب یہ وظیفہ آنے لگا تو سر راس مسعود نے سر آغا خاں سے بھی ایک اور وظیفے کی بات شروع کی تا کہ اقبال کی مزید معاونت ہو سکے تو اقبال نے انھیں سختی سے منع فرما دیا اور کہا کہ ’’میں کوئی امیرانہ زندگی کا عادی نہیں، بہترین مسلمانوں نے سادہ اور درویشانہ زندگی بسر کی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کی ہوس کرنا روپے کا لالچ ہے جو کسی طرح بھی مسلمان کے لیے شایان شان نہیں۔‘‘ اسی طرح ریاست بہاولپور سے جو وظیفہ اقبال کے آخری ایام میں ان کو ملتا تھا تو نواب صاحب علامہ کے بہت اچھے دوست تھے۔ اقبال ان کی دین داری اور تعلیمی خدمات کو بہت پسند کرتے تھے اور یہ ایک دوست کی دوسرے دوست کو مدد تھی۔ پھر بھی اقبال اس کے جواب میں کوئی نہ کوئی علمی خدمت انجام دینا چاہتے تھے مگر ان کی زندگی نے ان سے وفا نہ کی۔
اقبال کا ساری زندگی یہ طریق رہا کہ وہ اتنا ہی کماتے جتنا ان کے محدود اخراجات کے لیے ناگزیر ہوتا۔ جب وکالت کرتے تھے تو ماہانہ ایک آدھ کیس سے زیادہ نہ لیتے یعنی اتنے جن میں ان کا مہینہ گزر جاتا۔ اس سے زیادہ کا ان میں لالچ نہ تھا۔ وہ فطری طور پر ایک مستغنی شخص واقع ہوئے تھے۔ آخری سالوں میں انھوں نے چند ایک کپڑے کے جوڑوں میں بسر کردی۔ ان کی ذاتی ضروریات بے حد محدود تھیں۔ ارتکاز دولت کی طرف ان کی طبیعت کبھی مائل نہ رہی۔

09/11/2022

Another Achievement
Congratulations to Our Student Mr. Suneel
Flying Officer in PAF

08/11/2022

Iqbal Day | 09 November, 2022.
Dr. Allama Iqbal was undoubtly one of the greatest poet, thinker, philospher & seers of humanity of all times. His outstanding contribution to the literature will live forever in the hearts of our youth.
Let's pay tribute to the man who inspired the whole nation with his dreams & ideas.

27/10/2022

Alhamdulillah, today
Our 7 more students have been selected as Sub Inspector in Punjab Police.

25/10/2022

Alhamdulillah
Our 2 students Firdous Fatima & Muhammad Hamid Ikram have been selected as Lecturer Arabic (BS-17) by PPSC.

18/08/2022

Want to make yourself ready for the PPSC / FPSC Exams...?

Join Lyallpur Officers Academy (the only specialized institute in Faisalabad for Competitive Exams)

LOA is bringing the opportunity for aspirants to make their dreams come true under the supervision of PPSC / FPSC Qualified and experienced Faculty.

60+ students of our institute serving in different Govt. departments and private institutes including Police, FIA, NAB, ASF, ANF, IB, AG Office and many more are ready to serve. start your journey with us and be a part of our success stories.

The new coaching session of One Paper MCQs
is going to start from
🗓 August 29, 2022 (Monday)
⌚ 06:00 PM - 08:00 PM

Prepare yourself for following Exams
> MPT - CSS
> PMS - GK
> Sub Inspector (FIA)
> Assistant Sub Inspector (FIA)
> Assistant (FIA)
> Constable (FIA)
> Lecturer - GK
> Junior Clerk - PPSC

Enroll Now...!!!

👉For More Information:
📞 +92 335 6757746
📞 +92 306 9512821

📍 Office Address:
Lyallpur Officers Academy
1st Floor, The Summit College,
Link Road Jinnah Colony, FSD

17/08/2022

New Batch for CSS / PMS
Regular Classes starting From
🗓 August 18, 2022 (Thursday)
⌚️ 05:30 PM - 08:30 PM

Registration is open for the new batch....!!!

👉For More Information:
📞 +92 335 6757746
📞 +92 306 9512821

📍 Office Address:
Lyallpur Officers Academy
Opposite GC University Gate No. 03 Faisalabad.
Google Map: https://goo.gl/maps/7rTYN6ch9FBFEfij6

14/08/2022

“It is not life that matters, but the courage, fortitude and determination you bring to it.” - M. A. Jinnah

On this day, 75 years ago, one man’s iron-will and the support of hundreds and millions of Muslims resulted in the creation of Pakistan. It is a new milestone in the history of the country!

Happy Independence Day ✨🇵🇰

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Opposite To GC University Gate # 3, Near Sufi Auto Honda Showroom
Faisalabad
38000

Opening Hours

Monday 09:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 21:00
Wednesday 09:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 21:00
Friday 09:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 21:00