24/01/2025
دنیا میں بالوں کا سفید ہونا کب شروع ہوا؟؟؟
ایسی معلومات آپ تک پہنچتی رہیں گی
پیج کو لائیک اور فالو کیجئے
join us for Learning Quran
Education for everyone
24/01/2025
دنیا میں بالوں کا سفید ہونا کب شروع ہوا؟؟؟
ایسی معلومات آپ تک پہنچتی رہیں گی
پیج کو لائیک اور فالو کیجئے
04/10/2024
بے شک میرا پروردگار بہت رحیم و کریم ہے
04/10/2024
Let's join us for Quranic Education
04/10/2024
حسبی اللہ و نعم الوکیل
29/09/2024
اللہ پاک ہم سب کی جھولیوں کو اپنی رحمت سے بھر دے
28/09/2024
الہ پاک سب کی ماؤں کو سلامت رکھے
اور جن کی اس دنیا سے چلی گئی ہیں ان کی مغفرت فرمائے
(آمین)
27/09/2024
جھوٹی قسم خیر و برکت کو ختم کر دیتی ہے
25/09/2024
میرا رب تو شہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے
لیکن کیا میں بھی اپنے رب کے قریبی ہونے کا دعوےدار ہوں اور کوئی ایسا ایک عمل کرتا ہو جو رب عزوجل کے قرب کا زریعہ ہو؟؟؟
23/09/2024
*کامیابی کا راستہ*
ایک دانا شخص سے پوچھا گیا کہ زندگی میں کامیابی کیسے حاصل ہوتی ہے؟
دانا شخص نے کہا:
اس کا جواب لینے کے لیے آپ کو آج رات کا کھانا میرے پاس کھانا ہوگا
سب دوست رات کو جمع ہو گئے
اس نے سوپ کا ایک بڑا برتن سب کے سامنے لا کر رکھ دیا
مگر سوپ پینے کے لیے سب کو ایک ایک میٹر لمبا چمچ دے دیا
اور سب سے کہا
کہ آپ سب کو اپنے اپنے لمبے چمچ سے سوپ پینا ہے
ہر شخص نے کوشش کی، مگر ظاہر ہے ایسا ناممکن تھا
کوئی بھی شخص چمچ سے سوپ نہیں پی سکا۔
سب بھوکے ہی رہے۔
سب ناکام ہو گئے تو دانا شخص نے کہا:
میری طرف دیکھو۔
اس نے ایک چمچ پکڑا،
سوپ لیا اور چمچ اپنے سامنے والے شخص کے منہ سے لگا دیا۔
اب ہر شخص نے اپنا اپنا چمچ پکڑا اور دوسرے کو سوپ پلانے لگا۔
سب کے سب بہت خوش ہوئے۔
سوپ پینے کے بعد وہ شخص کھڑا ہوا اور بولا:
جو زندگی کے دسترخوان پر اپنا ہی پیٹ بھرنے کا فیصلہ کرتا ہے،
وہ بھوکا ہی رہے گا۔
اور جو شخص دوسروں کو کھلانے کی فکر کرے گا،
وہ خود کبھی بھوکا نہیں رہے گا۔
دینے والا ہمیشہ فائدہ میں رہتا ہے، لینے والے سے۔
ہم سب کی کامیابی کا راستہ دوسروں کی کامیابی سے ہوکر گزرتا ہے
23/09/2024
الحدیث
الصلٰوۃ معراج المؤمن
22/09/2024
تاریخ شاہد ہے کہ اگر کسی نے قرآن کے نور کوبجھانے ، اس میں کمی زیادتی ،تحریف اور تبدیلی کرنے یا اس کے حروف میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی بھی تو وہ کامیاب نہ سکا۔ قَرَامِطَہْ کے مُلحد اور گمراہ لوگ سینکڑوں سال تک اپنے تمام تر مکر ،دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود قرآن کے نور کو تھوڑا سا بھی بجھانے پر قادر نہ ہو سکے ،اس کے کلام میں ذرا سی بھی تبدیلی کر سکے نہ ہی اس کے حروف میں سے کسی ایک حرف کے بارے میں مسلمانوں کو شک و شبہ میں ڈال سکے۔ اسی طرح قرآنِ مجید کے زمانۂ نزول سے لے کر آج تک ہر زمانے میں اہلِ بیان،علمِ لسان کے ماہرین ، ائمہ بلاغت، کلام کے شہسوار اور کامل اساتذہ موجود رہے، یونہی ہر زمانے میں بکثرت ملحدین اور دین و شریعت کے دشمن ہر وقت قرآنِ عظیم کی مخالفت پر تیار رہے مگر ان میں سے کوئی بھی اس مقدس کلام پر اثر انداز نہ ہو سکا اور کوئی ایک بھی قرآنِ حکیم جیسا کلام نہ لا سکا اور نہ ہی وہ کسی آیتِ قرآنی پر صحیح اِعتراض کر سکا ۔