Muslim online quran academy

Muslim online quran academy

Share

3 days free trial / expert qualified teacher / flexible timing / affordable fees / one to one class

24/02/2026

ساتواں پارہ part 3
سورۃ انعام کے دسویں رکوع میں نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۲)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۳)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۴)حضرت نوح علیہ السلام ، (۵)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۶)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۷)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۸)حضرت یوسف علیہ السلام ، (۹)حضرت موسٰی علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام ، (۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام ، (۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، (۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ، (۱۷)حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۸)حضرت لوط۔

قیامت:
قیامت کے روز اللہ تمام انسانوں کا جمع کرے گا۔ (آیت:۱۲)
روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (آیت:۱۶)
روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمھارے شرکاء؟ (آیت:۲۲)
اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انھیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللہ رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں۔(آیت:۲۷)
آخرت کا انکار کرنے والے خسارہ پانے والوں میں سے ہوں گے۔ (آیت : ۳۱)
دنیا کی زندگی تو کھیل اور مشغلہ ہے ، آخرت کی زندگی بدرجہا بہتر ہے۔

24/02/2026

ساتواں پارہ part2

سورۃ مائدہ کی آخری آیات میں قیامت کا تذکرہ اور حضرت عیسیٰؑ سے سوالات و جوابات
قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے کہو ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنواکر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود مانیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے تو پاک ہے، میں نے تو ان سے تیری ہی عبادت کرنے کا کہا تھا الی آخرہ۔

(دوسرا حصہ) سورۂ انعام کے ابتدائی حصہ میں درج ذیل باتیں ہیں:
1۔توحید
2۔رسالت
3۔ آخرت
4۔کا ئنات کی نشانیو ں پر غوروفکر کی دعوت

آیت نمبر 1: سورۃ کا آغاز الحمد سے ہے ، الحمد اللہ کہنا زمین اور آسمان کو نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔

آیت نمبر17: کوئی بھی تکلیف ،غم پریشانی ہو تو ہر حال میں ہمیں اللہ کی طرف رجوع کرنا ہے،کیونکہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی تکلیف دور نہیں کر سکتا۔مشکلات کا حل استغفار میں ہے۔
صحابہ کیا کیا کرتے تھے، صحابہ کا عمل یہ تھا کہ اگر انہیں جوتے کا تسمہ بھی چاہیے ہوتا تھا تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے تھے.

آیت نمبر 42: تکلیف انسان کو جنجھوڑنے کے لئے ہے تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ اللہ کے آگ جھک جائے ۔

آیت نمبر 44: نعمتوں کی کثر ت اور قلت دونوں ہی آزمائش ہیں

آیت نمبر50 & 59: انبیاء کے پاس غیب کا علم نہیں ہوتا ۔ ان کے پاس صرف وہی علم ہے جو اللہ نے ان کو عطا کیا ہے۔غیب کا علم صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے، وہی سب کچھ جانتا ہے۔
غیب کی کنجیاں اُ سی کے پاس ہیں ۔اُس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو تا ،پتا بھی گرتا ہے تو اُس کے علم میں ہو تا ہے ۔ اس لئے ہر حال میں صرف اللہ سے مانگنا چاہیے ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بڑی حیا والا ہے اسکو اس بات سے شرم آتی ہےکہ کوئی بندہ اس کے آگے ہاتھ پھیلائے اور اللہ اس کو خالی ہاتھ لٹا دے۔

آیت نمبر 68: اللہ کی آیات میں بحث/اعتراض کرنے والی مجلسوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

رسالت:
سورۃ انعام کے دسویں رکوع میں نبی علیہ

24/02/2026

ساتواں پارہ part1
اس پارے میں دو حصے ہیں:
۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ
(پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں درج ذیل باتیں ہیں:

آیت نمبر 83: نجاشی اور اُس کے ساتھیوں کی تعریف:
انہوں نے جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے قرآن سنا تو اُن کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔

آیت نمبر 85: ہانی بن یزید نے رسول اللہ ﷺ سے پو چھا کہ کون سی چیز جنت کو واجب کرتی ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم عمدہ کلام اور کھانے کھلانے کو لازم پکڑ لو۔

آیت نمبر 89: قسم کھانے کا تذکرہ
لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہےجھوٹی قسم قابلِ مؤاخذہ ہے ، اس کا کفارہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے جان بوجھ کر جھوٹی قسم اٹھائی وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔

آیت نمبر 90& 91: شراب اور جواکی حرمت
شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔ (رجس من عمل الشیطن)یہ سارے شیطانی کام ہے۔نماز اور اللہ کے ذکر سے روکنےوالے ہیں ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا شراب برائیوں کی جڑ ہے جس نے شراب پی اُس کی چالیس دن عبادت قبول نہیں ہوتی (مفہومِ حدیث)
شراب کا عادی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔

آیت نمبر 95: حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔
حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے
چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

آیت نمبر 100: پاک اور ناپاک ،حلال اور حرام برابر نہیں چاہے ناپاک اور حرام کی کثرت بھلی لگتی ہو ۔
اس کے لیے ایک دعا بھی سکھائی گئی ہے
اللّٰہم اکفنی بحلالک عن حرامک واغننی بفضلک عمن سواک

آیت نمبر 101: غیر ضروری سوالوں سے ممانعت

آیت نمبر 104: باپ دادا کی اندھی تقلید کی بجائے قرآن و سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی۔

23/02/2026

part3
10-آیت نمبر 50: اسلام یا جاہلیت
اسلام سے ہٹ کر جو بھی طریقہ ہے وہ جاہلیت کا طریقہ ہے۔ہر کام اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کے طریقوں کے مطابق کرنا چاہیے۔

11-آیت نمبر51& 57: یہود و نصریٰ اور باقی کفار سے دوستی کی ممانعت ۔۔۔جو اُن کو دوست بنائے وہی ظالم ہے۔

12-آیت نمبر 54: اگر مسلمان اپنے دین سے پھر جائیں تو اللہ کیسے لوگ لائے گا۔
وہ اللہ سے محبت کرتے ہوں گے، مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت،جہاد کرنے والے،بلا خوف و جھجک دین پر سختی سے عمل کرنے والے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ مال سب کودیتا ہے لیکن ایمان اُس کو دیتا ہے جس سے محبت کرتا ہے۔

13-آیت نمبر 64: یہودیوں کا اللہ پر بہتان

14-آیت نمبر 74:
نبی ﷺ نے فرمایا
استغفار کرو کیونکہ ندامت اور استغفار ہی گناہ سے توبہ ہے۔
15-آیت نمبر 75: اس میں حضرت ِ عیسیٰؑ اور حضرتِ مریم ؑ کی فضیلت بیان کی گئی

23/02/2026

part2
(دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل باتیں ہیں۔
(یا ایھاالذین امنو )یہ وہ سورت ہے جس میں سب سے زیادہ ایمان والوں کو پکارا گیا ہے (۱۶ دفعہ)

1-آیت نمبر 1: وعدوں کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے۔
عہد کو توڑنا منافقین کی نشانی ہے ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو قوم عہد شکنی کرتی ہے اُس میں قتل و غارت پھیل جا تا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا اس شخص میں ایمان نہیں جس میں امانت نہیں۔اور اُس کا دین نہیں جس میں عہد کی پابندی نہیں۔

2۔آیت نمبر 2& 58: دین ِ کے شعار کا مذاق اڑانا بہت گناہ کا کام ہے ،
شعائر اللہ ، ہر وہ چیز جسے دیکھ کے اللہ کی یا د آئے، جیسے اذان ، مسجد بیت اللہ۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اذان سنو تو وہی کلمات کہو جو موذن کہتا ہے۔
نیکی کے کاموں میں تعاون کرنے اور گناہوں کے کاموں میں تعاون نہ کرنے کا حکم دیا جا رہاہے۔

3۔ آیت نمبر 3: دین کی تکمیل اللہ کا احسان ہے۔

4۔آیت نمبر 6: وضو کا طریقہ بتا یا گیا ہے۔نماز کے وقت وضو کر لیں ، پانی نہ ملے تو تیمم کرلیں۔وضو کے ذریعے اللہ گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔قیامت کے دن وضو کے اعضا چمک رہیں ہو ں گے۔ نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو اِ ن اعضا کے چمکنے کی وجہ سے پہنچانے گے۔

5-آیت نمبر 18: اللہ کی محبت محض تمنا کرنے سے نہیں بلکہ اُن کاموں کے کرنے سے ملتی ہےجسے وہ پسند کرتا ہے۔
6-آیت نمبر 35: الوسیلہ ۔۔۔نماز اور قرآن سے تعلق اللہ سے قرب کا ذریعہ ہے۔اور جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
7-آیت نمبر 3 & 42: حرام کھانےکی ممانعت
نبی ﷺ نے فرمایا وہ گوشت اور خون جنت میں داخل نہیں ہو گاجو حرام اور شہوت خوری پر پلا بڑھا وہ جہنم کا زیادہ مستحق ہے۔
حرام چیزیں (بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو)(اور وہ مال جو ناحق طریقے سے کمایا)

8-آیت نمبر 45: معاف کرنا قصاص سے بہتر ہے
جو بندہ کسی کے ظلم کو معاف کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُ سکی عزت بڑھا دے گا۔

9-آیت نمبر 47: اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہ کرنےوالے کافر ہیں، ظالم ہیں اور فاسق ہیں۔جو لوگ
کتا ب اللہ کے مخالف فیصلہ کرتےہیں اُن میں فقر وفاقہ پھیل جاتا ہے۔اور جس قوم کے امام کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ نہ کرے وہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔

23/02/2026

پارہ چھٹا پارہ
اس پارے میں دو حصے ہیں
۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ
۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ
(پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں درج ذیل باتیں ہیں
1-آیت نمبر 148 & 149 : لَا يُحِبُّ اللّٰهُ الۡجَــهۡرَ۔۔۔کسی میں کوئی برائی دیکھو تو چرچا نہ کرو بلکہ تنہائی میں سمجھاؤ
جو بندہ دنیا میں کسی بندے کے عیب چھپائے گا قیامت کے دن اللہ اس کے عیب چھپائے گا۔صحیح مسلم
مظلوم اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بتا سکتا ہے۔ساتھ ہی معاف کرنے کی تعلیم بھی دی گئی ہے ۔

2-آیت نمبر 152: تمام انبیاء پر ایمان لا نا ضروری ہے۔
واحدتِ ادعیان صرف اُس وقت ہو سکتا ہے۔جب محمد ﷺ کو آخری نبی اور اُن کے لائے ہوئے دین پر ایمان لایا جائے۔

3۔آیت نمبر 155 & 156: یہود کی مذمت
انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی اور انکو زندہ آسمانوں پر اٹھایا
اور حضرت مریمؑ پر بہتان لگایا۔

4۔ آیت نمبر 159: حضرت عیسیٰؑ کی وفات۔۔۔!
حضرت عیسیٰ ؑ محمد ﷺ کی امتی کی حیثیت سے دوبارہ دنیا میں آئیں گے طبعی موت فوت ہوں گےپھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھائیں جائیں گےبہت سے اہلِ کتاب اس وقت اسلام قبول کر لیں گے۔

5-آیت نمبر 164: رسولوں کا ذکر
رسولوں کی تعداد کم وبیش 315 تک ہے ۔قرآنِ مجید میں 25 رسولوں کے نام پتا چلتے ہیں۔محمد ﷺ تک بے شمار نبی آئے جن کا ذکر قرآن میں نہیں ملتا۔
6۔ آیت نمبر 171: غلو نہ کرو
غلو کیا ہوتا ہے؟ کسی چیز کی تائید اور حمایت میں حد سے گزر جانا۔جیسے کسی انسان کو اللہ کے برابر یا اُس کے جیسی صفات کا مالک جاننا۔
جیسے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکارہو کر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔

7-آیت نمبر 172: اللہ کی عبادت میں تکبر /عار محسوس نہ کرے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایمان والے ،عاجزی کرنے والے نرم ہوتے ہیں اُس مانوس اونٹ کی طرح اگر اُس کو چلایا جائے یا ہانکا جائے تو وہ چلتا ہےاور اگر چٹان پر بٹھا دیں تو بیٹھ جاتا ہے۔
دین کا کوئی کام کرتے ہوئے عارمحسوس نہ کرنا۔جیسے دین پر تنہا عمل کرنا ، عار سمجھا جاتا ہے کوئی بھی تو نہیں کر رہا۔
8۔آیت نمبر 176: بقیہ میراث کا ذکر

22/02/2026

part2
10-آیت نمبر77: جہاد کی ترغیب:
جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔جہاد کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہیے ۔
11-آیت نمبر 86: سلام پھیلانا سلامتی ہے
آپﷺ نے فرمایا سلام پھیلاؤ تم سلامت رہو گے۔
سلام آپس میں محبت بڑھانے کا ذریعہ ہے۔جو سلام نہیں کرتا وہ بخیل ہے۔
12-آیت نمبر 93: کسی مسلمان کو قتل کرنے کی سزا جہنم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تمام آسمان اور زمین والے کسی مومن کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ اُن سب کو جہنم میں دھکیل دے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک مسلمان کا خون ، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔
13-آیت نمبر 97: مشکل حالات اور کمزوری گناہوں کا عذر نہیں۔جہاں تک ممکن ہو گناہوں سے بچتے رہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیز کو چھوڑ دے۔
14-آیت نمبر 110: گناہ سرزد ہونے کے بعد کیا کیا جائے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان کوئی گنا ہ کر بیٹھے پھر وضو کرے اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گنا ہ کی معافی مانگے تو اللہ اُ س کے گناہ کو یقینا معاف کر دے گا۔
15-آیت نمبر 116: اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ۔۔۔۔ شرک ناقابلِ معافی گنا ہ ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امید ہے اللہ ہر گناہ بخش دے گاسوائے اُس شخص کے جو مشرک ہو کے مرا یا کسی نے مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا۔
16-آیت نمبر117: دیویوں اور شیطان کی اطاعت کرنے سے ممانعت
شیطان یا کوتاہی کا وسوسہ ڈالتا ہےیا حد سے بڑھنے کا یا غلو کی طرف لے جاتا ہے۔
17-آیت نمبر 125: بہتر ین طریقہ زندگی
ہر کا م اللہ کی رضا اور محمد ﷺ کے طریقہ کے مطابق کیا جائے
18-آیت نمبر 142: منافقین نمازوں کے لئے کسمساتے ہوئے اٹھتے ہیں(آیت)
فجر اور عشا ان پر بھاری پڑھتی ہے۔( حدیث)

22/02/2026

part1
پانچواں پارہ (سورۃ النساء)
اس پارے میں درج ذیل باتیں ہیں:
1۔آیت نمبر24: مرد کو عورت کے ساتھ شرعی طریقے سے رشتہ قائم کر نا چاہیے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی بندہ نکاح کرلیتا ہے۔تو اپنا آدھا دین مکمل کر لیتا ہے۔لہذٰا اُسے چاہیے باقی آدھے دین کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے۔
2۔ آیت نمبر 25: مر داور عورت کی کھلی یا چھپی ہو ئی دوستی کی ممانعت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عرب کی ہلاکت میں تم سے جس چیز کے بارے میں سب سے زیادہ ڈرتا ہوں وہ زنا ہے اور مخفی شہوت ہے ۔
زانیہ عورت کی دعا قبول نہیں ہوتی۔
3۔ آیت نمبر 29: دوسروں کے مال کو غلط طریقوں سے کھانے کی ممانعت، خود کشی کی ممانعت
خود کشی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
4-آیت نمبر 31: کبیرہ گناہوں(شرک ، والدین کی نافرمانی ، قتل ، جہاد سے بھاگنا، زنا، جادو ، جھوٹی گواہی ، سود کھانا وغیرہ) سے اجتناب صغیرہ گناہوں کی معافی کا سبب (انشاءاللہ)
5- آیت نمبر 32: وَسۡئَـلُوا اللّٰهَ مِنۡ فَضۡلِهٖ دوسرں کو ملنے والی نعمتوں پر جلنے یا حسد کرنے کی بجائے اللہ سے اپنے لئے نعمتیں مانگیں۔
اللهم اني اسألك من فضلك العظيم
6-آیت نمبر 34: مرد کو عورت پر فضیلت :
پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔
7-آیت نمبر 37: کنجوس لوگ اللہ کو پسند نہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی میں بدترین چیز بے صبرے پن کے ساتھ بخل اور بزدل ہو نا ہے ۔
8-آیت نمبر 43: نشے اور جنابت کی حالت میں نماز کی ممانعت
جنابت میں جب تک غسل نہ کر لیں نماز کے قریب نہ جائیں
اگر پانی نہ پائیں یا جان کی ہلاکت کا ڈر ہویا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہوتو تیمم کریں
تیمم کا طریقہ
ہاتھوں کو پاک مٹی پر مارنا،اور پھر اُسکو جھاڑ لیں ، اور پھر اُسے چہرے اور دونو ں ہاتھوں تک کہنیوں تک پھیر لیں،
9۔آیت نمبر 69: انعام یا فتہ لوگ کون
نبی ، صدیقین ، شہدا، صالحین (اے اللہ ہمیں بھی ان کے ساتھ کر دے)

22/02/2026

Part2
8۔ جہاد مومن اور منافق کی پہچان کا ایک ذریعہ
کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے ﴿۱۴۲﴾
تکلیف مصیبت آزمائش یا انسان کو ترقی دیتی ہے یا نیچے گرا دیتی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب انسان کیلیے اللہ تعالی کے ہاں کوئی ایسا درجہ مختص ہو جسے پانے کیلیے انسان کے اعمال ناکافی ہو تو اللہ تعالی اس کو جسم، مال، یا اولاد کی مصیبتوں میں مبتلا کر دیتا ہے) ابو داود: (3090)
9۔ نرمی کا موں کو سنوارتی ہے
۔۔۔۔اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔۔۔ ﴿۱۵۹﴾
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نرمی کاموں کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔
10-شہید زندہ ہو تا ہے۔
جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے ﴿۱۶۹﴾
اس کو برزخ (قبر) کی زندگی میں رزق عطا ہوتا ہے۔
اور وہ جن سے لوگوں نے کہا کہ، "تماررے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں، --------------------- ﴿۱۷۳﴾

11۔سورہ اٰل عمران کی آخری آیات(آخری رکوع)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔آج کی رات مجھ پر چند آیا ت نازل ہوئی ہیں اُس آدمی کے لئے ہلاکت ہے جس نے ان کو پڑھا لیکن ان میں غورو فکر نہیں کیا۔نبی اکرم ﷺ تہجد کے وقت وضو کرنے سے پہلے ان آیا ت کو پڑھا کرتے تھے۔
جب چیزیں بہت مشکل ہو جائے تو اللہ سے دعا مانگا کرے۔۔۔۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل
12۔ کامیاب شخص کون؟
1۔جو جنت میں داخل کردیا گیا اور دوزخ سے بچا لیا گیا۔
2۔جس نے دین ِ اسلام قبول کر لیا
3۔ جو استغفار کرتے ہیں
(دوسرا حصہ) سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل باتیں ہیں:
1۔ اللہ تعالیٰ نے ایک مرد اور عورت سے تمام انسانوں کو پیدا کیا ۔ ﴿۱﴾مفہوم
2۔یتیموں کا حق: اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔﴿۲﴾
یتیموں کی پرورش کرنے والا جنت میں اللہ کے نبی کے ساتھ ہو گا (مفہومِ حدیث)
3۔ مرد کو زیادہ شادیوں کی اجازت۔﴿۳﴾
(ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتاہے بشرط ادائیگیٔ حقوق۔)
4۔ میراث کی تقسیم: (اولاد ، ماں باپ ، بیوی ، کلالہ کے حصے بیان ہوئے اس قید کے ساتھ کہ پہلی وصیت ادا کردی

22/02/2026

part1
چوتھا پارہ
۱۔ بقیہ سورۂ آل عمران
۲۔ ابتدائے سورۂ نساء
سورۂ آل عمران کا بقیہ حصہ ۔۔۔۔۔۔۔۔:
1۔نیکی تک کیسے پہنچا جائے
حقیقی نیکی اور تقوی اس کے حصہ میں آتی ہے جو اپنی محبوب ترین چیزوں میں سے اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔
محبوب چیزیں کیا کیا ہے؟
مال۔۔۔۔۔۔اللہ کے راستے میں خرچ کرنا
نیند۔۔۔۔۔۔قیام اللیل کرنا
اولاد۔۔۔۔۔۔دین کی خدمت کے لئے وقف کرنا
جو اپنے لئے پسند کرے وہی دوسرے کے لئے پسند کرے
اس آیت کے نزول کے بعد بہت سے صحابہ نے اپنی محبوب ترین چیزیں اللہ کی راہ میں دے دیں۔
2۔ خانہ کعبہ کے فضائل:
یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔
پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لیے مقرر کیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ﴿۹۶﴾
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پے درپے حج اور عمرے کیا کرو کیونکہ یہ دونوں فقر یعنی محتاجی ، غربت اور گناہوں کو اس طرح ختم کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے، سونے چاندی کے میل کو ختم کردیتی ہے۔
مسجد حرم میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہو جاتا ہے۔اور مسجدِ نبوی میں ایک نماز کو ثواب ایک ہزار کے برابر ہے۔
3۔ اللہ سے کیسے ڈریں
آیت مومنو! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا ﴿۱۰۲﴾
خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہوگا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتق اللہ حیثما کنت۔۔۔۔۔تم جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔
4۔ تفرقے میں نہ پڑو
اور سب مل کر خدا کی (ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑے رہنا ۔۔۔﴿۱۰۳﴾
اللہ کی رسی کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی کتاب ہی اللہ کی وہ رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے۔
5۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ﴿۱۱۰﴾
امت ِ محمدبہترین اُمت ہے کہ جو لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔
6۔ تین غزوے:
۱۔غزوۂ بدر ۲۔غزوۂ اُحد ۳۔غزوۂ حمراء الاسد
7۔ دوڑو جنت کی طرف
اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے ﴿۱۳۳﴾

21/02/2026

Part2
دوسرا حصہ) سورۂ آل عمران کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں درج ذیل باتیں ہیں:
1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت
مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قرآن کی حقانیت اور اہل کتاب سے خطاب ہے۔ سورۂ بقرہ میں اکثر خطاب یہود سے ہے جبکہ آل عمران میں اکثر روئے سخن نصاری کی طرف ہے۔

آیت 8 دعا

ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا ۔۔۔۔۔
دین پر استقامت کی دعا کرنا ۔۔

آیت 14
لوگوں کے لیے مرغوبات نفس، عورتیں، اولا د، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے، مویشی او ر زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں،--------------- ﴿۱۴﴾
ان چیزوں کی محبت فطری محبت ہے ان میں مشغول ہو کر اللہ تعالی کو نہ بھول جائیں۔

آیت 17
جنت والوں کی صفات۔۔
صبر کرنے والے
سچے،راست باز
فرمانبردار
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والے
رات کی آخری گھڑیوں میں استغفار کرنے والے

آیت31
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت/ اتباع کا فائدہ۔۔
اللہ کی محبت کا ملنا
گناہوں کی بخشش کا ذریعہ

آیت 38 صالح اولاد کے لئے دعا
رَبِّ هَبۡ لِىۡ مِنۡ لَّدُنۡكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً‌ ۚ اِنَّكَ سَمِيۡعُ الدُّعَآءِ
"پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر تو ہی دعا سننے والا ہے"

۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے
پہلا قصہ جنگ بدر کا ہے، تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو شکست دے دی۔
دوسرا قصہ حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل کے پائے جانے کا ہے۔
تیسرا قصہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے۔
چوتھا قصہ حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے، بچپن میں بولنے اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا ہے۔

آیت55
عیسی علیہ السلام جسم اور روح سمیت آسمان پر اٹھا لیے گئے۔

آیت 85
دین اسلام کے علاوہ کوئی اور دین قبول نہ کیا جائے گا۔۔۔
(اے اللہ ہمارے دلوں کو دین پہ ثابت قدم رکھ۔ يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك)

آیت 91
کفر اختیار کرنا کل قیامت کے دن شدید حسرت کا باعث ہو گا۔اور دنیا کی نعمتیں کام نہ آئیں گی۔

۔ مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ:

اہل کتاب سے مناظرہ ہوا، پھر مباہلہ ہوا کہ تم اپنے اہل و عیال کو لاؤ، میں اپنے اہل و عیال کو لاتا ہوں، پھر مل کر خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر خدا کہ لعنت ہو، وہ تیار نہ ہوئے تو پھر مفاہمہ ہوا، یعنی ایسی بات کی دعوت دی گئی جو سب کو تسلیم ہو اور وہ ہے کلمۂ ”لا الہ

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Faisalabad