Sufism UAF

Sufism UAF

Share

غلامان پنجتن پاک

29/07/2025

صوفی مداری نہیں ہوتا ۔۔۔!
اگر آپ ہوا میں اُڑنے بھی لگیں تو کچھ تبدیل نہیں ہوتا۔۔کتنے ہی پرندے آسمان میں اُڑ رہے ہیں۔ تو کیا وہ سب مرتبہ ولائیت پر فائز ہیں۔
صوفی مداری نہیں ہوتا۔۔
اُسے دوسروں کو متاثر کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ اس کے نزدیک قوت کا منبع “القوی” ہے اور اسکے ہوتے ہوئے طاقت میں کسی قسم کی دلچسپی “ظلم” ہے۔
صوفی مداری نہیں ہوتا
اسی لیے آپ کو مل نہیں رہا ۔ کیونکہ آپ جادوئی اور پراسرار طاقتوں والے کسی سامری جادوگر کی تلاش میں ہیں۔
ہزاروں لوگ ایسے ہی کرداروں کے اردگرد پائے جائیں گے جو “ کرامتوں “ کی مارکیٹنگ میں مہارت حاصل کر چکے ہیں۔
صوفیاء کے نزدیک کرامت کا ظہور “ حیض الرجال” سمجھا جاتا ہے۔ کرامتیں رونما ہوتی ہیں لیکن یہ کرامتیں دکھائی نہیں دیتی۔ جہاں صوفی ہوتا ہے اُس جگہ پر ، اسکے اردگرد، اس فضا میں اور اُس خلا میں جو اسکے اردگرد ہے اُس میں کرامتیں ہوتی رہتی ہیں، لوگ بدلتے رہتے ہیں، لوگ نئے جنم لینے لگتے ہیں، ظلمات سے نور میں آنے لگتے ہیں۔
زمین پر اکڑ کر نہ چلنا کرامت ہے ہوا میں تو لاکھوں پرندے اُڑ رہے ہیں۔
دُعاگُو
صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

11/11/2024
19/07/2023

"محسن نقوی شہید کا لکھا ہوا حسین ع اور کربلا کے درمیان مکالمہ"
۔
حسین ع :

تجھ پر میرا سلام ہو اے زمین کربلا
میری محبتوں کی عقیدت وصول کر.
آیا ہوں رفعتوں کی تمنا لیے ہوئے.
میرا خلوص میری دعائیں قبول کر.

کربلا:

اے اجنبی ٹھہر مجھے اتنی دعا نہ دے.
پہلے بھی میری خاک ہے نبیوں سے شرمسار.
میری حدوں سے جلد گزر جا با احتیاط.
میں کربلا ہوں میری تباہی سے ہوشیار.

حسین ع :

تیرے اجاڑ پن کا میرے پاس ہے علاج.
تجھ کو خبر نہیں کہ میں عیسیٰ کا ناز ہوں.
میں نے تو بچپنے میں فرشتوں کو پر دیے.
اپنا مرض بتا میں بڑا کارساز ہوں.

کربلا:

میرا یہ مشورہ مسافر پلٹ ہی جا.
شاید تجھے خبر نہیں میرے جنون کی.
گرمی سے جاں بلب ہیں تیرے قافلے کے لوگ.
لیکن میری رگوں میں ضرورت ہے خون کی.

حسین ع :

اے نینوا اداس نہ ہو حوصلہ نہ ہار.
لایا ہوں تیرے واسطے پیغام زندگی.
میں خود اجڑ کے تجھ کو بساوں گا اس طرح.
تیری سحر بنے گی میری شام زندگی.

کربلا:

آئے تھے لوگ مجھ کو بسانے کے شوق میں.
اک پل میں سب کے صبر کے ساغر چھلک گئے.
تو تازہ دم سہی مگر اتنا خیال کر.
میری اداسیوں سے پیمبر بھی تھک گئے.

حسین ع :

وہ لوگ انبیاء تھے مگر میں امام ہوں.
ممکن نہیں کہ دید کے بدلے شنید لوں.
تجھ کو سنوارنے کی تمنا بھی ضد بھی ہے.
اب طے یہ ہو چکا ہے تجھے میں خرید لوں.

کربلا:

ہر چند لا علاج ہیں میری اداسیاں.
لیکن یہ حوصلہ یہ محبت کمال ہے.
نسخے سبھی درست سہی خواہشیں بجا.
میں کیا کروں کہ تو کوئی زہرا کا لال ہے.

حسین ع :

آہستہ بول اتنی دلیلیں نہ دے مجھے.
گستاخیاں نہ کر کہ شہہ مشرقین ہوں.
لے اب لگا رہا ہوں تیری خاک پر خیام.

اتنا بھڑک رہی ہے تو سن۔۔۔۔ " میں حسین ع ہوں".

16/06/2023

رُوح کو دریافت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ صرف رُوح کو دریافت کرنے والے رُوح کو دریافت کرتے ہیں۔اس کی مثال مولانا روم رح نے دی ہے۔
ایک شیر کا بچہ گُم ہو گیا اور بھیڑوں میں پلنے لگ گیا۔ وہ شیر تھا لیکن بھیڑوں میں رہ گیا اور بھیڑوں جیسی حرکتیں کرنے لگ گیا۔

ایک دن ایک بزرگ شیر نے دیکھا کہ ہے تو یہ شیر لیکن بھیڑوں میں رہ رہا ہے۔
اس نے بچے کو پکڑا اور کہا کہ تُو شیر ہے۔بچے نے کہا کہ میں تو بھیڑ ہوں۔شیر نے کہا کہ تُو اور ہے اور یہ لوگ اور ہیں کیونکہ تیری جنس اور ہے۔اس بچے نے کہا کہ مجھے کیا پتہ کہ میری جنس اور ہے، اور یہ مجھے کس طرح پتہ چلے گا۔

اس بزرگ شیر نے کہا کہ میں تمہیں تمہاری جنس دکھاتا ہوں۔اس نے ایک بھیڑ کو جھپٹا مارا اورکھا گیا، اور بچے کو کہا کہ میرا یہ عمل دیکھا ہے؟ اُس نے کہا کہ جی دیکھا ہے۔پھر وہ اس کو ایک تالاب پر لے گیا اور کہا کہ تالاب کے پانی میں دیکھو کہ میری شکل یہ ہے اور تیری شکل بھی میرے جیسی ہے۔

جب اس بچے نے اپنی شکل پانی کے آئینے میں دیکھی تو اسے پتہ چلا کہ وہ بھی شیر ہے۔تو اُس نے کہا کہ چل اب تُو بھی بھیڑ کو پکڑ اور کھا جا !!!

ایک بار آئینے میں پہنچنے کی دیر ہے اور آگے کھیل رُوح کا اپنا ہے۔بس آپ کی آئینے تک رسائی ہوتی ہےاور رُوح کو آئینے تک دریافت کرنا ہوتا ہے۔

۔۔۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رح

( کتاب :۔گفتگو ۔7)
🌺🌺🌺

16/06/2023

اولیاء اللّٰه کی تضحیک ۔۔۔ اسلام سے دوری! 🥀

طوفان کی خبروں کے نیچے حضرت عبداللّٰه شاہ غازی علیہ رحمہ سے منسوب مزاحیہ، توہین آمیز کومنٹس اور میمز لکھے دیکھے تو سوچا توہین رسالت پر جانیں لینے والی قوم کو بتایا جائے کہ یہ بابے کہہ کہہ کر جن کا مذاق اڑایا جاتا ہے یہ رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ وَآلہ وَسَلّم کے نواسے امام حسن علیہ سلام کی پانچویں اولاد ہیں۔

حضرت عبداللہ شاہ غازی ابن محمد نفس زکیہ ابن عبداللہ ابن حسن مثنی ابن امام حسن ابن علی و ابن فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

پچھلے دنوں بلوچستان کے ایک بزرگ اس لئے مشہور ہوگئے کیونکہ ان کو دیکھ کر اہل مدینہ کو صحابہ کی یاد آگئی۔ کسے آئی؟ اہل مدینہ کو! ہم پاکستانیوں کو نہیں!

ہم تو اتنے گر چکے ہیں کہ صدیوں سے مدفون حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمة الله عليه کو بھی نہ بخشا اور ان کے نام کی میمز بنانے لگے ہیں۔ خیر کی بات احسن طریقے سے بھی جا سکتی ہے اس کے لئے بزرگوں کی تحقیر اور تضحیک کی ضرورت نہیں ہوتی۔

طوفانوں کو ٹالنے والی ذات صرف اور صرف اللہ جل جلاله کی ہے لیکن کیا اس ذاتِ بے نیاز نے نہیں فرمایا کہ وہ اپنے نیک بندوں کی دعا ضرور قبول کرتا ہے۔ اب یا تو آپ اتنے ضعیف الاعتقاد ہو چکے ہیں کہ یہ بھی نہیں مانتے کہ اولیاء اللہ دعا کر سکتے ہیں۔
غور سے صحیح البخاری کی یہ حدیث قدسی پڑھئیے:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے۔

اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہو جاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔

پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں۔ اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتا ہے۔
(صحیح البخاری، حدیث 6502)

ذرا غور کر لیجیئے گا کہ کہیں آپ اللہ سے دشمنی تو نہیں کر رہے!

کوئی بھی ماننے والا مائی کا لال انہیں خدا نہیں کہتا مگر رکیں زرا!
جب یہ کہا جاتا ہے کہ کراچی کے ساحل پر "عبداللہ" ہیں تو ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اللّٰه کا وہ نیک بندہ یہاں موجود ہے کہ جس کے نسبی احترام اور عملی مرتبہ کی وجہ سے اللہ کریم ہم گناہگاروں پر رحم کردیتا ہے۔
یہ فیض اور فیضان کی باتیں ہیں جو منجانب اللہ ہیں اور اس کا مطلب آل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و سید و سادات کی عزت کرنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ لٰہذا مزار کی تصویر اور زائر کی تقدیر سے جلنا کڑنا چھوڑ دیں اور روئیں اپنی قسمت پر کہ جس میں اللہ کے ولی کی محبت نہیں لکھی گئی!💔

27/03/2023

مرشدِ کامل کسے کہتے ہیں ؟؟؟
کامل مرشد صاحبِ تصرّف فنا فی اللہ اور بقا باللہ فقیر ہوتا ہے۔ جو مردہ قلب کو زندہ کرتا ہے اور زندہ نفس کو مارتا ہے۔ کامل مرشد لایحتاج ( ہر حاجت سے پاک ، دنیا سے بے پرواہ) ہوتا ہے ۔
کامل مرشد صاحبِ قرآن ہوتا ہے اور کامل مرید کے دل میں قرآن پاک کا فہم اور شوق ڈال دیتا ہے کیونکہ حضرت سیّدنا مجدد الف ثانی رحمۃ اللّٰہ علیہم اجمعین فرماتے ہیں
" قرآن عین اللہ کریم کی ذات مبارکہ ہے "
جس کو قرآن حاصل ہوگیا اس کو عین ذات حاصل ہوگئی
کامل مرشد کی صحبت سے مجلس محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہوتی ہے مجلس محمدی باطنی محبت و عشق آقا کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم ہی ہے اور آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے در سے ہی معرفتِ الٰہی کی مہہ پلائی جاتی ہے ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


University Of Agriculture Faisalabad
Faisalabad