Urdu Writes

Urdu Writes پلیز اپنااخلاق اچھارکھیں سب اچھاہوگا۔شکریہ

سوچیں اور سمجھیں۔🤔Plz like and share,
01/09/2026

سوچیں اور سمجھیں۔🤔
Plz like and share,

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔❣❣❣❣
01/09/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔❣❣❣❣

" جو معاشرہ ایک قوم کی شکل میں ہو وہاں کے لوگوں کا شعوربلند ہوتا ہے۔"اپنے بڑوں اور محنت کشوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے یہ ا...
31/08/2026

" جو معاشرہ ایک قوم کی شکل میں ہو وہاں کے لوگوں کا شعوربلند ہوتا ہے۔"
اپنے بڑوں اور محنت کشوں کی قدر کیسے کی جاتی ہے یہ انگلینڈ والوں نے بتا دیا۔
انگلینڈ کی محنت کش 77 سالہ ضعیف المعر خاتون ڈینی
گزشتہ روز پاکستان انگلینڈ میچ کے دوران پورا دن بارش میں بیٹھ کر دھاگے سے جرسی سی رہی تھی۔ تیسرے دن میچ کے بعد اس کو خصوصی طور پر لارڈز کرکٹ گراؤنڈ مین میڈیا آفس میں مدعو کیا گیا اس سے سوال ہوا کہ پورا دن آپ بیٹھی رہی لنچ بھی آپ اپنے ساتھ لائی تھیں بارش میں بیٹھی رہیں جب تک کھیل ختم نہیں ہوا؟
ڈینی نے کہا میں ہاتھوں سے جرسیاں بناکر فروخت کرتی ہوں میچ دیکھنے آئی ساتھ میچ بھی دیکھ رہی تھی اور اپنا کام بھی کیونکہ اگر بغیر کام کے میں بیٹھ جاتی تو میرا دن ضائع ہوجاتا میں صرف ٹیسٹ کرکٹ دیکھتی ہوں ٹیسٹ کرکٹ سے بہت پیار ہے مجھے میں نے پانچ دن کیلئے ٹکٹ لیا ہے۔
جس پر فوری طور پر انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس کے ٹکٹ کے تمام پیسے واپس کردئیے اور اس کو باقی دنوں کیلئے اور تیسرے آخری ٹیسٹ میچ کیلئے وی آئی پی انکلوژر کا اسپیشل پاس دے دیا اور جو لنچ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کو دیا جائے گا وہی اس کو بھی دیا جائے۔
پاکستان کوشکست کے بعد ڈینی کو انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی جانب سے اسپیشل ایوارڈ دیا گیا اور اس کی تصویر کو بھی لیجنڈ کرکٹر کیساتھ لارڈز گراؤنڈ میں لگایا گیا اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے اس کو نوکری دی کہ انگلینڈ ٹیم کی ٹیسٹ کی جرسی کے اوپر انگلینڈ کے نام کا لوگو وہ بنائے گی اور انگلینڈ کرکٹ بورڈ اس کام کا اس کو معاوضہ دے گا۔۔۔۔۔💕

ماما : بابا کو چھوڑو اور ہمارے پاس واپس آجاؤ ۔۔۔۔ ایک یتیم خانے میں موجود سگے بہن بھائی کی رلا دینے والی کہانی ۔۔۔۔۔ سدر...
28/08/2026

ماما : بابا کو چھوڑو اور ہمارے پاس واپس آجاؤ ۔۔۔۔ ایک یتیم خانے میں موجود سگے بہن بھائی کی رلا دینے والی کہانی ۔۔۔۔۔ سدرہ اور فرمان ان دنوں محکمہ پولیس کے ایک ایسے مرکز میں رہائش پذیر ہیں جہاں یتیم بے گھر اور بے آسرا بچوں کی کفالت کی جاتی ہے ، ان بہن بھائی کی کہانی یہ ہے کہ انکا والد کئی سالوں سےا ور طویل عرصے کے لیے جیل میں بند ہے شاید عمر قید کا قیدی ہے ، یہ بہن بھائی چھوٹے چھوٹے تھے جب والد چلے گئے ، والدہ زیادہ عرصہ زمانے کا مقابلہ نہ کر سکی اور خلع لے کر دوسری شادی کرلی ، والدہ کا دوسرا شوہر انہیں لے کر پشاور چلا گیا، دونوں بہن بھائی ایک سال تو نانو کے گھر رہے وہاں خالہ نے بھی انکا خیال رکھا مگر جلد یہ خالہ کے شوہر کو بوجھ لگنے لگے تو نانو نے دل پر پتھر رکھ کر انہیں پولیس کے اس مرکز میں لا کر داخل کروا دیا ، تب سے دونوں بہن بھائی یہیں پرورش پا رہے ہیں ، پڑھ بھی رہے ہیں اور دونوں یہاں بہت خوش ہیں انکی والدہ ایک بار انہیں پشاور لے گئی تھی چند روز رہے پھر انکے شوہر نے کہابچوں کو واپس چھوڑ آؤ انکا یہاں کوئی کام نہیں تو ماں انہیں نانی کے پاس چھوڑ گئی جو انہیں واپس سنٹر میں پہنچا گئی ۔ سدرہ کے بقول ، میں نے سنا ہے اکیلی مائیں اپنے بچوں کے سہارے اور شوہر کے بغیر بھی زندگی گزار لیتی ہیں میں بھی چاہتی ہوں کاش کبھی ہماری ماں واپس آجائے ، ہم یہاں بہت خوش ہیں لیکن ماں تو پاس نہیں ہے ناں ، ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کے سہارے زندگی گزار رہے ہیں ، یہاں ہمیں ہر چیز مل جاتی ہے کھانا پینا سونا سب اچھا ہے لیکن ایک کمی ہے ، اپنے بابا کی تو ہمیں کوئی بات یاد نہیں کہ ہم تب بہت چھوٹے تھے ۔اتنا یاد ہے کہ بابا ہمیں بہت پیار کرتے تھے لیکن ماما جب کئی ہفتے بعد اپنے شوہر سے چھپ کر ہمیں فون کرتی ہیں تو ہمارے دل میں انکے لیے پیار اور کشش پھر پیدا ہو جاتی ہے ، یا تو ماما ہمیں بالکل بھلا دیتیں ، ہم بھی انہیں بھول جاتے ، اب بھی ماما نے کہہ رکھا ہے موقع مل گیا تو واپس آجاؤنگی ، دیکھیں اب ماما اپنا وعدہ پورا کرتی ہیں یا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دعا ہے اللہﷻ ان بہن بھائی کو خوش فہمیوں کے بغیر زندہ رہنے کا حوصلہ دے ، اللہﷻ انکا مستقبل اتنا روشن کرے اور نصیب اتنے اچھے کرے کہ دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کے دکھ بانٹ لیں ۔اللہﷻ ان بچوں کا حامی وناصر ہو۔ آمین ثم آمین

20/08/2026

20/08/2026
پلیز۔۔۔ایک بار پڑھ کر میرے والدین کےلیے اور اپنے فوت شدگان کےلیے ایصال ثواب کردیں۔اور آگے لازمی شیئر کریں۔شکریہ         ...
17/08/2026

پلیز۔۔۔ایک بار پڑھ کر میرے والدین کےلیے اور اپنے فوت شدگان کےلیے ایصال ثواب کردیں۔اور آگے لازمی شیئر کریں۔شکریہ

عمیری نام کا  نوجوان ایک غیر محرم عورت کے ساتھ ناپاک حرکات پر مبنی ویڈیو کی وجہ سے وائرل ہوا اور سوشل میڈیا ایک بار پھر ...
06/01/2026

عمیری نام کا نوجوان ایک غیر محرم عورت کے ساتھ ناپاک حرکات پر مبنی ویڈیو کی وجہ سے وائرل ہوا اور سوشل میڈیا ایک بار پھر سے تماشہ بن گیا۔ میں اس پر لکھنا نہیں چاہتا تھا، مگر جس بے حیائی کو لوگ آزادی، جس گناہ کو ذاتی معاملہ اور جس تباہی کو “کسی کا پرائیویٹ مسئلہ” کہہ کر جائز ثابت کرنے پر تلُےہوئے ہیں، ایسے میں خاموشی جرم ہے۔ مسئلہ صرف عمیری کا نہیں، مسئلہ وہ گندی اور نیچ ذہنیت ہے جو شادی شدہ گھروں کے سکون کو روند کر وقتی لذت کے حصول کو حق اور جائز سمجھتی ہے، اور بے حد افسوسناک بات تو یہ ہے وہ پھر تباہ ہوتے خاندانوں پر بھی شرمندہ نہیں ہوتی۔۔
سب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ زنا کبھی درست نہیں ہو جاتا، چاہے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں۔
قرآن صاف اعلان کرتا ہے:
“زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، یہ بے حیائی اور بدترین راستہ ہے”۔
یہ حکم کسی شرط کے ساتھ نہیں، نہ غربت کی رعایت ہے، نہ جذبات کی، نہ شوہر کی کمزوری کی۔
یہ کہناکہ
“عورت نے جو کیا ٹھیک کیا” کھلی گمراہی ہے۔ اگر عورت مظلوم ہے، اگر شوہر میں واقعی کوئی کمی ہے، تو شریعت نے واضح اور باعزت راستے دئیے ہیں: اصلاح، خاندان کی مداخلت، طلاق یا خلع۔
کسی تیسرے مرد کے ساتھ تعلق نہ انصاف ہے، نہ حل، نہ عزت — بلکہ ایک اور گناہ ہے۔
بعض لوگوں نے“لمس” کو مردانگی کا معیار بناکر لکھ دیا ہے، جو انتہائی سطحی اور حیوانی سوچ ہے۔ مردانگی صرف جنسی طاقت کا نام نہیں،
بلکہ ذمہ داری، وفاداری، حفاظت، غیرت اور حیا کا نام ہے۔ اگر لمس ہی سب کچھ ہے تو نکاح، وفا، خاندان اور شریعت سب بے معنی ہو جاتے ہیں۔
پھر بھائیوں کو مجرم بنا کر زنا کو درست ٹھہرانا بھی ایک خطرناک منطق ہے۔ بھائی غلط ہو سکتے ہیں، شادی غلط ہو سکتی ہے، مگر اس کا حل بدکاری نہیں۔ اگر ہر گناہ کا جواز کسی اور کی غلطی بنا لیا جائے تو معاشرہ جنگل بن جاتا ہے۔
یہ کہنا کہ “وہ گناہ نہیں چاہتی تھی، پسند کا نکاح چاہتی تھی” بھی خود اپنے اندر تضاد رکھتا ہے۔ اگرپسند نکاح مقصود تھا تو زنا کیوں کیا گیا؟یہ سراسر فحاشی ہے اور یہ فحاشی پھیلانے کےمرتکب ٹھہرے۔

اور فحاشی پھیلانے والوں کےلیےاللہﷻ کا واضح فرمان ہے۔
- إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ

- تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
اور بےحیائی پھیلانے والوں کا انجام

إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ
لَا تَعْلَمُونَ )

فحاشی پھیلانے کا انجام
جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ایمان والوں میں ہے حیائی پھیلے ، ان کے لیے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں
جانتے (سورہ النور آیت 19)

اسی طرح غربت کو زنا کا جواز بنانا بھی باطل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے نکاح کی استطاعت نہ رکھنے والوں کو ضبطِ نفس اور روزے کا راستہ بتایا، نہ کہ حرام کو ہیرو ازم۔

اکثر تحریروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ “ننگے وہ نہیں، ننگا معاشرہ ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ ننگا وہ معاشرہ نہیں بلکہ وہ ضمیر ہے جو زنا کو ہیرو، وفا کو جرم اور حیا کو دقیانوسیت کہنے لگے۔ ننگی وہ سوچ ہے جو حرام کو حق اور حق کو تماشا بنا دے۔
خلاصہ بالکل واضح ہے: عورت مظلوم ہو سکتی ہے مگر زنا پھر بھی زنا ہی رہتا ہے۔ اس فعل کا دفاع اسلام سے بغاوت، معاشرتی تباہی اور آنے والی نسلوں کی اخلاقی موت کا راستہ ہے۔

یہ بات کڑوی ضرور ہے مگر سچ ہے کہ حرام تعلقات کبھی سچی محبتیں اور پکے رشتے نہیں ہوتے، وہ تو صرف سفلی خواہشات ، حرص و ہوس کے شرمناک کھیل اور خود غرضی کے ذلت ورسوائی سے بھرپور گڑھے ہوتے ہیں۔ ایسی راہوں پر چلنے والی عورت سب سے پہلے اپنی عزت گنواتی ہے ، اپنا تحفظ ختم کرتی ہے اور اپنا مستقبل خود اپنے ہاتھوں سے نیلام کر ڈالتی ہے، اور دوسری جانب مرد اپنی غیرت و حمیت، احساس ذمہ داری اور اعتبار و بھروسہ کھو بیٹھتا ہے۔ جو شوہر بیوی بچوں کے لیے دن رات محنت کرتا ہے، جو بیوی شوہر کے نام پر اپنا مان، وقت اور جوانی قربان کرتی ہے، ان سب کے حقوق کو چند لمحوں کی لذت کے بدلے پامال کرنا محض گناہ نہیں، بدترین اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ ان راستوں کا انجام گھروں اور رشتوں کا ٹوٹنا ، اعتماد کا ختم ہونا اور سکون و راحت کا اذیت و کرب میں بدل جانا ہوا کرتا ہے ، اور بعض اوقات تو بات قتل و غارتگری تک جا پہنچتی ہے ، ہر وقت خوف، رسوائیاں اور زندگی بھر کا پچھتاوا الگ۔

اسلام کیسا خوبصورت دین ہے کہ اس نے ہمیں سختی اور تنگی میں نہیں ڈالا بلکہ حکمت و دانائی کی ڈور سے حدود و قیود میں باندھا ہے؛ نکاح، پردہ اور حدود انسانیت کے لیے باعثِ گھٹن نہیں ہیں بلکہ یہ تو انسانوں کو تباہی سے بچانے کے سنہرے اصول ہیں۔ یقین جانیے مستقل سکون نافرمانی میں نہیں ہے، اطاعت میں ہے؛ خوشی چھپ چھپ کر کیے گئے گناہوں میں نہیں ہے، پاکیزہ و صاف بے داغ زندگی میں ہے۔ بہت عمر گزار لی ہے اب یہ وقت خود کو دھوکہ دینے کا نہیں ہے، اپنے نفس کو لگام پہنانے کا ہے۔ شادی شدہ مرد و عورت اگر آج نہ سنبھلے تو اللہﷻ کی قسم کل نہ گھر بچے گا، نہ کوئی رشتہ، اور نہ عزت و آبرو ، فیصلہ واضح ہے: وقتی لذت کا راستہ انسان کو آگ میں لے جاتا ہے، اور اچھائی کا راستہ سکون، اعتماد اور دائمی خوشی کی طرف لے جاتا ہے ، اب انتخاب ہمارا ہے۔

پلیز کمنٹس سیکشن میں اس بارے میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔شکریہ

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیہِ رٰجِعُونڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ بھی رخصت ہوئی ۔۔۔اللہﷻ آگے کی منزلیں آسان فرمائے اور مغفرت ف...
10/11/2025

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیہِ رٰجِعُون
ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ بھی رخصت ہوئی ۔۔۔
اللہﷻ آگے کی منزلیں آسان فرمائے اور مغفرت فرمائے
آمین ثم آمین

Address

Faisalabad

Telephone

+923425660546

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Urdu Writes:

Shortcuts

Share

Category