11/04/2024
The deadline to apply for MS and PhD programmes is April 16, 2024!
MS and PhD programmes at the Syed Babar Ali School of Science and Engineering at LUMS are designed to develop critical thinking and independent research skills needed to tackle complex challenges and create sustainable solutions. As a student, you will have the opportunity to collaborate with expert faculty in a nurturing and supportive environment and cultivate your research expertise.
Apply now and become part of a vibrant academic and research environment at LUMS.
https://admissions.lums.edu.pk/application/
09/04/2024
Eid Greetings I received being a LUMS student
08/04/2024
Spring on Syed Babar Ali School of Science and Engineering at LUMS
07/04/2024
Spring Bloom's surprising at LUMS campus
19/03/2024
لمز کا ڈائینگ سنٹر
آج آپ سب کو لمز کے ڈائنیگ سنٹر کی سیر کرواتے ہیں۔ لمز میں دیگر یونیورسٹیوں کی طرح میس سسٹم نہیں ہے۔ پوری یونیورسٹی ، طلبہ وطالبات ، فیکلٹی اور سٹاف کے لیے ایک ہی ڈائینگ سنٹر موجود ہے۔ بعنوان " پیپسی ڈائینگ سنٹر" شاید پیپسی کے عطا کردہ فنڈذ سے بنایا گیا ہے۔ خیر اس ڈائینگ سنٹر کی کچھ انفرادیت بیان کرتی چلوں۔ یہاں پر سب سے بڑ ے کاؤنٹر پر پاکستانی کیوزن سیرو کیا جاتا ہے۔ جس میں دال، سبزی اور چکن کے سالن سمیت چائے اور روزانہ کوئی نہ کوئی سویٹ ڈش بھی ملتی ہے۔ آپ اپنی جیب یا موڈ کے مطابق کچھ بھی خرید سکتے ہیں۔ چکن کی ڈش کے تو ایسے منفرد نام ہیں کہ کیا بتاؤں ۔ چکن دو پیازا ، باربی کیو چکن، چکن دو آتشہ ، پتیلا چکن، لیکن ذائقہ سب کا ایک جیسا اور بد مزہ۔ پی ڈی سی کو چکن بنانا نہیں آتا ویسے۔ دال میں زیادہ تر کالے مصر پکاتے ہیں۔ کبھی کبھی دال چنا، قلندری دال اور کڑھی پھلکی بھی بنا لیتے ہیں۔ ہاں ! بریانی اچھی بناتے ہیں۔ پھر ایک اور کاؤنٹر ہے جہاں سے آپ پین ایشن یا میڈیٹرین کیوزن لے سکتے ہیں اگر آپ کچھ برگر ہیں۔ لیکن اگر آپ کا تعلق زیادہ برگر کمیونٹی سے ہے تو آپ ہیلتھی فوڈ کاؤنٹر پر تشریف لے جائیں۔ کیونکہ جس قدر ہیلتھی ، پھیکے اور آئل فری کھانا یہاں سے ملتا ہے۔ شاید ہی کہیں اور سے ملے۔ دیسی روٹی، دیسی انڈہ، سٹیم دال، اوبلی ہوئی سبزیاں، گرلڈ چکن، چکن اور چکندر کی چٹنی, نام اس کا ویسے beetroot chicken, کافی سٹائلش سا رکھا ہوا ہے۔ لیکن دیکھا نہیں جاتا تو کھایا کہاں جائے گا۔ اس کے علاؤہ ایک سیلڈ بار بھی ہے۔ جہاں سے انواع و اقسام کے سیلڈ مل سکتے ہیں۔ ایک کاؤنٹر بیکری آئٹمز کے لیے ہے۔ یہاں کی بلیک فوریسٹ پیسٹری کمال کی ہے۔ دیگر بیکری آئٹمز جیسا کہ پائن ایپل پیسٹری ، براؤنیز (Brownies)، کوکیز(cookies)، مفنزز(muffins)، سموسے، پیٹیزز(patties) اور طرح طرح کی چائے یا جوس بھی ملتے ہیں۔ اب آتے ہیں آخری کاؤنٹر کی جانب۔ یہ ہے سنیکس اینڈ فاسٹ فوڈ کاؤنٹر ، جہاں سے پیزا، شوارما، سینڈوچ، چپس، برگر اور دیگر فاسٹ فوڈ کی ایشیا ملتی ہیں۔ لمز کا ڈائنگ سنٹر میس سسٹم سے قدرے مہنگا پڑ جاتا ہے۔ لیکن میسں (mess) میں اگر دال پکی ہے وہ بھی کالے مصور کی یا پھر ٹینڈے کی بھجیا، تو آپ کو لازمی کھانی پڑے گی۔ لیکن ڈائنگ سنٹر میں آپ option سوئچ کر سکتے ہیں۔ اور اگر ڈائینگ سنٹر سے کچھ پسند نہ آئے تو لمز کی دوسری ایٹریز کا رخ کیا جا سکتا ہے۔ آخر میں ڈائینگ سنٹر کی سٹنگ ارینجمنٹ کی بات کر لیتے ہیں۔ سٹنگ ارینجمنٹ کسی KFC یا بڑے ریسٹورانٹ سے کم نہیں۔ پر سکون اور آرام دہ ماحول اور مر د و خواتین کے لیے الگ الگ بیت الخلاء کا انتظام بھی ہے۔ آخری بات تو بتانا بھول گئی ڈائینگ سنٹر میں پانی کی ٹونٹی چلانے کے لیے ہاتھ کا نہیں پیر کا استعمال کیا جاتا ہے کیوں کہ ہینڈ ل نیچے لگا ہے۔ باقی کی انفرادیت تصویری جھلکیوں میں ملاحظہ فرمائیں ۔
Written by Arwa Sohail
16/03/2024
لمز اور رمضان کی برکتیں
مجھے تقریباً لمز میں آئے چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اس دوران لمز کی چھوٹی سی دنیا جس کو "لمز ببل " کہا جاتا ہے کو بغور دیکھنے کا موقع ملا۔ آج کل رمضان کے لمحات کیمپس پر گزر رہیے ہیں۔ سحور و افطار کی رونقیں اور لمز کا لبر ل ماحول ساتھ ساتھ چل رہا۔ ہمارے معاشرے میں لمز کو ہمیشہ ایک ایسے ادارے کو طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جہاں اخلاقی معاملات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جہاں کے ماحول میں صرف لبرلز ہی سما سکتے ہیں۔ لیکن یہاں کا ما حول اور یہاں کی کیمپس لائف سنی سنائی باتوں کے برعکس بہت مختلف ہے۔ پہلا روزے میں دوستوں کے ساتھ سحری کے لیے ڈائینگ سنٹر کا رخ کیا ۔ تقریباً ساڑھے تین بجے ہم ڈائنگ سنٹر تھے۔ لیکن ہر کاؤنٹر پر رش دید کے قابل تھا۔ کوئی بیس منٹ لائن میں کھڑے رہنے کے بعد اللّٰہ اللّٰہ کر کے سحری لینے کی باری آئی ۔ سحری میں ہم نے چھ پراٹھے ، آملیٹ ، دہی ، لسی اور چائے خریدی۔ پراٹھوں کی تعداد کا ذکر خاص کر اس لیے کیا۔ تاکہ افراد کی تعداد کا اندازہ ہوسکے۔ سحری سے فارغ ہو کر ہوسٹل واپس آئے اور نماز فجر ادا کی۔ یہ میری پہلی سحری تھی جو گھر سے دور تھی۔ گھر سے باہر بڑے شہر کی بڑی یونیورسٹی میں آپ کو والدہ اور ان کے ہاتھ کے کھانے ضرور یاد آتے ہیں اس لیے میں نے بھی انہیں اور ان کے کھانے کو بہت یاد کیا۔ افطار کے لیے مسجد کا رخ کیا۔ روانہ کی بنیاد پر مسجد میں درس و تدریس کے اہتمام کے ساتھ ساتھ دعا بھی کی گئی تھی۔ مسجد میں افطار کا بھرپور انتظام تھا۔ چاول ، سموسے ، پھل اور جام شیریں سے روزے داروں کی خدمت کی جارہی تھی۔ افطار کا بندوبست روزانہ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ عام پبلک افطار کے برعکس یہاں کے لوگ ایک دوسرے سے بڑھ کر چیز کھانے کی کوشش نہیں کر رہے تھے۔ سب نے ایک دوسرے کا خیال رکھا اور مناسب انداز سے کھانے کی چیزیں استعمال کرتے رہے۔ یہ ایک بہت ڈسپلنری برتاؤ تھا جو کہ لمز کے طلبہ کی طرف سے اپنایا گیا۔ افطار سے فارغ ہو کر نماز مغرب جماعت کے ساتھ ہی ادا کی۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔ ایک عجب خوشی کا احساس ہو رہا تھا کہ ایک لبرل اور سیکولر ادارے میں بھی اس طرح مواقع موجود ہیں اور طلبا و طالبات کا خیال رکھنے کے لیے افطار کا اس قدر شاندار انتظام تھا۔
Written by Arwa Sohail