29/05/2024
Noor ul Huda Islamic center Faisalabad
تلاوت قرآن کریم اور بہترین علمی مواد کیلیے فالو کریں
29/05/2024
18/12/2023
عربی زبان کا عالمی دن ہے۔ اسی حوالے سےپیغام ٹی وی نے عربی زبان سکھانے کیلئے سہ روزہ کورس کا اجرا کیا ہے، جس سے آن لائن بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ بہ نفس نفیس شرکت کیلئے اس نمبر پر رابطہ کیجیے۔
نعیم الرحمٰن ناصف: 03014761097
*🌷🏝️مدینہ برے لوگوں کو دور کر دیتا ہے*
🌿💎نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ ( برے) لوگوں کو اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ میل کچیل دور کر دیتی ہے ۔
*📙 صحیح البخاری 1884*
شعبہ تبلیغ
نور الھدی اسلامک سنٹر فیصل آباد
*عزت و احترام کا جنس کیساتھ تعلق*
کیا کسی کا فقط مرد ہونا،یا عورت ہونا اسکے معزز ہونے کیلیے کافی ہے؟
ہمارے معاشرے میں طبقہ جہلاء عورت کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں۔انکی ناقدری کرتے ہیں۔مار پیٹ جیسا ناروا غیر اسلامی فعل بھی کرگزرتے ہیں۔
اور دوسری طرف بہت ساری خواتین اپنی نسوانیت کو پلس پوائنٹ سمجھتی ہیں۔انکا یہ ماننا ہے کہ وہ جسکو چاہیں جو مرضی کہتی رہیں،جو مرضی کرتی رہیں انکو اچھے برے کا کوئی بھی بتانے والا نہ ہو،جو روک ٹوک کرے اسے اپنی ایگو کو مسئلہ بنا کر عورت کی عزت کریں۔کا فتوی صادر کردیا جاتا ہے۔
اگر جنس کے لحاظ سے عورت ہونا قابل اکرام ہے تو جسم فروش خواتین اور سپلائرز کے بارے میں کیا خیال ہے؟
اگر مرد ہونا ہی قابل عزت ہے بس تو صالحات،قانتات زاہدات ،اور نیک ترین خواتین کا کیا قصور؟
اور ہوس پرست ،بدزبان،غدار، ناجائز افعال کرنے والوں کی تکریم کے بارے کیا خیال؟
یاد رہے ۔۔کسی کا مرد ہونا یا عورت ہونا بلحاظ جنس کوئی قابل احترام نہیں ہوتا۔
عزت اپنے معاملات سے کمائی جاتی ہے۔بدزبان،جھوٹا،فراڈیا حرام خور بندہ یا بندی کبھی بھی قابل تکریم نہیں ہوسکتا۔
غلط جو بھی ہو مرد یا عورت کمیونٹی کو بلاتفریق جنس سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کی جرات ہونے چاہیے۔
زکوۃ کے پیسوں سے افطاری کا انتظام کرنا
افطاری کروانا بڑا عظیم عمل ہے، لیکن یہ زکوۃ کے مصارف میں سے نہیں ہے۔ اور اگر افطاری کروانے کا شوق اور طاقت ہے، تو اپنی جیب سے کروائیں، زکوۃ کے پیسوں کو اس انداز سے استعمال کرناجائز نہیں۔
لجنۃ العلماء للافتاء، فتوی نمبر:368
تاریخ اسلام تلواروں کی چھاؤں میں
ایک انسان تھا جسے دنیا ضرار بن ازور ؓ کے نام سے جانتی تھی۔ یہ ایک ایسے انسان تھے کہ اس دور میں دشمن ان کے نام سے کانپ اٹھتے تھے اور ان کی راہ میں آنے سے کتراتے تھے۔ جنگ ہوتی تھی تو سارے دشمن اور فوجیں زرہ اور جنگی لباس پہن کر جنگ لڑتے تھے۔ لیکن آفرین حضرت ضرار ؓ پر کہ جو زرہ تو درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔۔۔
لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے تھے تو ان کے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور ان کے آگے لاشیں۔ اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کے صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ان کی بہادری نے بےشمار مرتبہ حضرت خالد بن ولید ؓ کو ان کی تعریف کرنے اور انہیں انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔۔۔
دشمنوں میں وہ ننگے بدن والا کے نام سے مشہور تھے۔ رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے جنگِ اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرارؓ حسب معمول میدان میں اترے اور صف آراء دشمن فوج پر طوفان کی طرح ٹوٹ پڑے۔ اتنی تیزی اور بہادری سے لڑے کہ لڑتے لڑتےدشمن فوج کی صفیں چیرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر سے بچھڑ کر دشمن فوج کے درمیان تک پہنچ گئے۔۔۔
دشمن نے انہیں اپنے درمیاں دیکھا تو ان کو نرغے میں لے کر بڑی مشکل سے قید کر لیا۔ مسلمانوں تک بھی خبر پہنچ گئی کہ حضرت ضرار ؓ کو قید کر لیا گیا ہے۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنی فوج کے بہادر نوجوانوں کا دستہ تیار کیا اور حضرت ضرارؓ کو آزاد کروانے کے لیے ہدایات وغیرہ دینے لگے۔۔۔
اتنے میں انہوں نے ایک نقاب پوش سوار کو دیکھا جو گرد اڑاتا دشمن کی فوج پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے۔ اس سوار نے اتنی تند خوہی اور غضب ناکی سے حملہ کیا کہ اس کے سامنے سے دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ اس کے وار دیکھ کر اور شجاعت دیکھ کر عش عش کر اٹھے اور ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ سوار کون ہے؟ لیکن سب نے لاعلمی ظاہر کی کہ وہ نہیں جانتے۔۔۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے جوانوں کو اس سوار کی مدد کرنے کو کہا اور خود بھی مدد کرنے اس سوار کی جانب لپکے۔
گھمسان کی جنگ جاری تھی کبھی حضرت خالد بن ولید ؓ اس سوار کو نرغے سے نکلنے میں مدد کرتے اور کبھی وہ سوار حضرت خالد ؓ کی مدد کرتا۔۔۔
حضرت خالد ؓ اس سوار کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کے پاس گئے اور پوچھا کون ہو تم؟ اس سوار نے بجائے جواب دینے کے اپنا رخ موڑا اور دشمنوں پر جارحانہ حملے اور وار کرنے لگا موقع ملنے پر دوسری بار پھر حضرت خالد بن ولیدؓ نے پوچھا اے سوار تو کون ہے؟ اس سوار نے پھر جواب دینے کی بجائے رخ بدل کر دشمن پر حملہ آور ہوا تیسری بار حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس سوار سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا کہ اے بہادر تو کون ہے۔۔۔؟
تب نقاب کے پیچھے سے نسوانی آواز آئی کہ میں ضرار ؓ کی بہن خولہ بنت ازور ؓ ہوں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھوں گی جب تک اپنے بھائی کو آزاد نہیں کروا لیتی۔ حضرت خالد ؓ نے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا تو کہنے لگی آپ نے منع کر دینا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے کہا آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی ہم تھے آزاد کروانے کے لیے تو حضرت خولہ ؓ نے جواب دیا کہ جب بھائیوں پر مصیبت آتی ہے تو بہنیں ہی آگے آیا کرتیں ہیں۔ پھر مسلمانوں اور حضرت خولہ ؓ نے مل کر حضرت ضرار ؓ کو آزاد کروا کر دم لیا۔۔۔
گزارش۔ اسلام خون اور قربانیوں کے دریا میں تیر کر ھم تک پہنچا ہے اس کی قدر کریں جذبہ جہاد کو زندہ رکھیں کہ جب تک جہاد تھا مسلمان ہمیشہ غالب رہے جب جہاد چھوٹا تو مسلمانوں پر زوال آیا۔ کم از کم اپنے بچوں کے نام ان اسلام کے ہیروز کے نام پر رکھیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ان کا نام کس کے نام پر ہے اور نام کا اثر شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔اور ان کی تربیت ایسے کریں کہ اسلام کا مستقبل روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔۔۔
اس بہادر صحابی رضی اللہ عنہ کے نام سے پاکستان کا مین بیٹل ٹینک الضرّار اور ایس ایس جی میں گوریلا کمانڈوز کی کمپنی کا نام بھی ضرّار رکھا گیا ہے جو ہر وقت دشمن پر ٹوٹ پڑنے کیلئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Settelite Town
Faisalabad
38000