06/09/2024
. عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيَاثٍ الْحَنَفِيِّ: أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه کَانَ يَقُولُ: إِنَّ الْبَيْتَ لَيَتَّسِعُ عَلَی أَهْلِهِ وَتَحْضُرُهُ الْمَلَائِکَةُ وَتَهْجُرُهُ الشَّيَاطِيْنُ وَيَکْثُرُ خَيْرُهُ أَنْ يُقْرَأَ فِيْهِ الْقُرْآنُ، وَإِنَّ الْبَيْتَ لَيَضِيْقُ عَلَی أَهْلِهِ وَتَهْجُرُهُ الْمَلَائِکَةُ وَتَحْضُرُهُ الشَّيَاطِيْنُ وَيَقِلُّ خَيْرُهُ أَنْ لَا يُقْرَأَ فِيْهِ الْقُرْآنُ. رواه الدارمي والديلمي.
”حضرت حفص بن غیاث حنفی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: بے شک گھر میں قرآن کے پڑھے جانے سے وہ گھر اپنے اہل کے لئے کشادہ ہوجاتا ہے اور اس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور شیاطین اس کو چھوڑ جاتے ہیں اور اس کی خیر (و برکت) بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ اور بیشک وہ گھر جس میں قرآن نہیں پڑھا جاتا وہ اپنے اہل کے لیے تنگ ہو جاتا ہے اور فرشتے اس کو چھوڑ جاتے ہیں اور اس میں شیاطین حاضر ہوتے ہیں اور اس گھر میں خیر (و برکت) کم ہوجاتی ہے۔“