10/10/2022
اللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج کا ہمارا قرآن پاک کا خوبصورت کا قصہ ہے (ایک گستاخ پر بجلی گر پڑی )ایک شخص جو کفار عرب کے سرداروں میں سے تھا اس کے پاس حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے چند صحابہ کرام کو تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا چنانچہ ان حضرات نے اس کے پاس پہنچ کر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام سنا کر اسلام کی دعوت دی تو اس گستاخ نے ازراہ تمسخر کہا کہ اللہ کون ہے ؟کیسا ہے اور کہاں ہے ؟کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا تانبے کا ہے ؟اس کا یہ متکبرانہ اور گستاخانہ جواب سن کر صحابہ کرام کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ان حضرات میں بارگاہ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں واپس حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس شخص سے بڑھ کر کافر اور اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کرنے والا تو ہم لوگوں نے دیکھا ہی نہیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ چنانچہ یہ حضرات دوبارہ اس کے پاس پہنچے تو اس خبیث نے پہلے سے بھی زیادہ گستاخانہ الفاظ زبان سے نکالے صحابہ کرام کی گستاخی و اور بد زبانی و سے رنجیدہ ہو کر دربار نبوت میں واپس پلٹ آئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تیسری مرتبہ ان صحابہ کرام کو اس کے پاس بھیجا جہاں یہ لوگ پہنچ کر اس کو دعوت اسلام دینے لگے اور وہ گستاخ ان حضرات سے جھگڑا کرتے ہوئے بدزبانی اور گالیوں گلوچ پر اتر آیا صحابہ کرام ارشاد نبوی کے مطابق صبر کرتے رہے اسی دوران میں لوگوں نے دیکھا کہ ناگہاں ایک بدلی آئی اور اس کے بدلے میں اچانک گرج اور چمک پیدا ہوئی پھر ایک دم نہایت ہی مہیب گرج کے ساتھ اس کافر پر بجلی گری جس سے اس کی کھوپڑی اڑ گئی اور وہ لمحہ بھر میں جل کر راکھ ہو گیا یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام بارگاہ اقدس میں واپس آئے تو ان حضرات کو دیکھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جس گستاخ کے یہاں گئے تھے وہ تو جل کر راکھ ہو گیا صحابہ کرام نے انتہائی حیرت و تعجب سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کو کیسے اور کس طرح اس کی خبر ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے پارہ نمبر 13 سورہ الرعد (درس ہدایت )باری تعالی کی شان میں اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کو بارہا عذاب الہی نے اپنی گرفت میں لے کر ہلاک کرڈالا لہذا خبردار اس مقدس جناب میں ہرگز ہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہیے جو شان الہی میں بےادبی قرار پائے آج کل بہت سے لوگ بیماریوں اور مصیبتوں کے وقت اللہ تعالی کی شان میں ناشکری کے الفاظ بول کر خداوند قدوس کی بے ادبی کر بیٹھتے ہیں جس سے ان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں عذاب کے حقدار بن جاتے ہیں پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں اپنی بچیوں کو قرآن کی تعلیم دلوانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین