Quranislamicacademy

Quranislamicacademy

Share

ناظرة القرآن حفظ القرآن

10/10/2022

اللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج کا ہمارا قرآن پاک کا خوبصورت کا قصہ ہے (ایک گستاخ پر بجلی گر پڑی )ایک شخص جو کفار عرب کے سرداروں میں سے تھا اس کے پاس حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے چند صحابہ کرام کو تبلیغ اسلام کے لیے بھیجا چنانچہ ان حضرات نے اس کے پاس پہنچ کر اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام سنا کر اسلام کی دعوت دی تو اس گستاخ نے ازراہ تمسخر کہا کہ اللہ کون ہے ؟کیسا ہے اور کہاں ہے ؟کیا وہ سونے کا ہے یا چاندی کا ہے یا تانبے کا ہے ؟اس کا یہ متکبرانہ اور گستاخانہ جواب سن کر صحابہ کرام کے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور ان حضرات میں بارگاہ نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں واپس حاضر ہو کر سارا ماجرا سنایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس شخص سے بڑھ کر کافر اور اللہ تعالی کی شان میں گستاخی کرنے والا تو ہم لوگوں نے دیکھا ہی نہیں تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ دوبارہ اس کے پاس جاؤ چنانچہ یہ حضرات دوبارہ اس کے پاس پہنچے تو اس خبیث نے پہلے سے بھی زیادہ گستاخانہ الفاظ زبان سے نکالے صحابہ کرام کی گستاخی و اور بد زبانی و سے رنجیدہ ہو کر دربار نبوت میں واپس پلٹ آئے تو حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تیسری مرتبہ ان صحابہ کرام کو اس کے پاس بھیجا جہاں یہ لوگ پہنچ کر اس کو دعوت اسلام دینے لگے اور وہ گستاخ ان حضرات سے جھگڑا کرتے ہوئے بدزبانی اور گالیوں گلوچ پر اتر آیا صحابہ کرام ارشاد نبوی کے مطابق صبر کرتے رہے اسی دوران میں لوگوں نے دیکھا کہ ناگہاں ایک بدلی آئی اور اس کے بدلے میں اچانک گرج اور چمک پیدا ہوئی پھر ایک دم نہایت ہی مہیب گرج کے ساتھ اس کافر پر بجلی گری جس سے اس کی کھوپڑی اڑ گئی اور وہ لمحہ بھر میں جل کر راکھ ہو گیا یہ منظر دیکھ کر صحابہ کرام بارگاہ اقدس میں واپس آئے تو ان حضرات کو دیکھتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ جس گستاخ کے یہاں گئے تھے وہ تو جل کر راکھ ہو گیا صحابہ کرام نے انتہائی حیرت و تعجب سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کو کیسے اور کس طرح اس کی خبر ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی اور کڑک بھیجتا ہے تو اسے ڈالتا ہے جس پر چاہے اور وہ اللہ میں جھگڑتے ہوتے ہیں اور اس کی پکڑ سخت ہے پارہ نمبر 13 سورہ الرعد (درس ہدایت )باری تعالی کی شان میں اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کو بارہا عذاب الہی نے اپنی گرفت میں لے کر ہلاک کرڈالا لہذا خبردار اس مقدس جناب میں ہرگز ہرگز کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکالنا چاہیے جو شان الہی میں بےادبی قرار پائے آج کل بہت سے لوگ بیماریوں اور مصیبتوں کے وقت اللہ تعالی کی شان میں ناشکری کے الفاظ بول کر خداوند قدوس کی بے ادبی کر بیٹھتے ہیں جس سے ان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے اور وہ دنیا اور آخرت میں عذاب کے حقدار بن جاتے ہیں پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں اپنی بچیوں کو قرآن کی تعلیم دلوانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

10/10/2022

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم درود پاک اب حیات ہے وہ آب حیات کے ہزاروں اب حیات اس پر قربان ہو جائیں کیوں کہ بالفرض کسی کو دنیا میں اب حیات مل جائے اور وہاں سے پی لے پھر اسے ہزار پانچ یا دس ہزار سال تک بلکہ قیامت تک زندگی مل جائے تو دنیاوی زندگی گدلی زندگی پریشانیوں کی زندگی دھوکہ اور فریب کی زندگی آخرت ختم ہو جائے گی لیکن درود پاک کو آب حیات ہے کہ جس نے اسے پیلیا اسے جنت میں وہ زندگی عطا ہوگی جو ختم ہونے والی نہیں مثلا ہزار لاکھ کروڑ ارب کھرب سنکھ سال یہ گنتی ہی ختم ہو جائیں گی لیکن وہ ابدی زندگی ختم ہونے والی نہیں ہے پھر اس زندگی میں گدلا پن نہیں دو کا فریب نہیں بے چینی نہیں دکھ درد نہیں بلکہ چین ہی چین ہے آرام ہی آرام ہے سکون ہی سکون ہے تو دنیا کا آب حیات اس آب حیات کا ہم پلہ کیسے ہو سکتا ہے درود پاک اسم اعظم ہے جیسے اس میں اعظم سے سارے کے سارے کام خوابوں دنیا کے کام ہو آخر تک کے سب کے سب پورے ہو جاتے ہیں یوں ہی درود پاک سے سارے کے سارے کام پورے ہو جاتے ہیں درود پاک کے بے شمار اور ان گنت فوائد ہیں جن میں سے بیان کئے ہیں یہ سارے کے سارے فائدے بلا شک و شبہ تجھے حاصل ہوں گے مگر تو ان کا بن کر تو دیکھ اور اگر تو ان سے بیگانہ رہے اور کہتا پھرے کہ میرا فلاں کام نہیں ہوا فلاں نہیں ہوا تو قصور تیرا اپنا ہے آفتاب تو پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہو چکا ہے اور پورے جہان کے لیے بلکہ سب جہانوں کے لئے فیض رساں ہیں لیکن اگر شپرہ چشم کہتا پھرے کے آفتاب نہیں ہے تو قصور اس کا اپنا ہے آفتاب کی فیض رسانی میں کوئی کمی نہیں ہے اے میرے عزیز ان کا دامن پکڑ لے اور ان کو اپنے دل میں جگہ دے دل میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور عظمت پیدا کر کیونکہ جو دل ان کی محبت و عظمت سے خالی ہے اس کے درود پاک پڑھنے کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہے اللہ پاک اپنے پیارے آقا الصلوٰۃ والسلام پر زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں اپنی بچیوں کو قرآن کی تعلیم دلوانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں اللہ پاک ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

10/10/2022

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جس دل میں محبت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں اس کا ایمان ہی نہیں لہذا سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ایمان کا رکن ہے کہ کسی بندے کا ایمان محبت رسول کے بغیر نہ ثابت ہو سکتا ہے نہ مقبول ہو سکتا ہے اللہ تعالی کی محبت کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت شرط ہے لہذا جو شخص سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے بغیر اللہ تعالی کی محبت کا دعوی کرے وہ جھوٹا ہے دربار الہی سے مردود ہے ایک کلمہ گو مسلمان نے یوں کہہ دیا کہ مجھے تو اللہ کے رسول سے ایمان کی طرف صرف رہنمائی ملی ہے باقی ایمان کا نور وہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے نبی کی طرف سے ایمان کا نور نہیں ہے یہ سن کر ایک اللہ والے نے فرمایا ارے کیا کہتا ہے کیا اگر ہم وہ نور جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہنچ رہاہے کاٹ دی اور تیرے پاس وہ ہدایت و رہنمائی رہ جائے جس کا تو ذکر کرتا ہے کیا تجھے یہ منظور ہے اس نے کہا مجھے منظور ہے اتنا کہنا تھا کہ وہ بد نصیب صلیب کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا اور اللہ تعالی اور اس کے رسول کے ساتھ کافر ہو گیا اور وہ کفر پر ہی مر گیا جو شخص سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ کے بغیر حضور کی جانب سے منہ پھیر کر اللہ تعالی کا قرب چاہے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے وہ اللہ تعالی کی طرف سے انتہا درجہ کی ناراضگی اور غضب کا حقدار ہے وہ غایت درجہ کی دوری اور لعنت کا مستحق ہے اس کی ساری کی ساری کوششیں رائیگاں ہے اور اس کے اعمال میں خسارہ ہی خسارہ ہے اگر کوئی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوں کے اللہ تعالی کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن کو چھوڑ کر اللہ تعالی تک پہنچ سکتا ہے تو وہ اپنے ایمان اور عقیدے کی فکر کرے کہ ایسا شخص مردود ہے مقہور ہے مبغوض ہے مطرود ہے مہجور ہے ممکور ہے لا حول ولا قوة الا باللہالعلی العظیم مروی ہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ میں سچا پکا مومن کب بنوں گا فرمایا تو جب اللہ تعالی سے محبت کرے گا اس نے عرض کیا میرے آقا میری محبت اللہ تعالی سے کب ہوگی فرمایا جب تو اس کے رسول سے محبت کرے گا پھر عرض کیا اللہ تعالی کے حبیب سے میری محبت کب ہوگی فرمایا جب تو ان کے طریقے پر چلے گا اور ان کی سنت کی پیروی کرے گا اور ان سے محبت کرنے والوں کے ساتھ محبت کرے گا اور ان سے بغض رکھنے والوں کے ساتھ تو بغض رکھے گا اور کسی سے محبت کرے تو ان کی محبت کی وجہ سے کرے اور اگر کسی سے عداوت رکھے تو ان کی وجہ سے رکھے فرمایا لوگوں کا ایمان ایک جیسا نہیں بلکہ جس کے دل میں میری محبت جتنی زیادہ ہوگی اتنا ہی اس کا ایمان مضبوط ہوگا یوں ہی لوگوں کا کفر ایک جیسا نہیں بلکہ جس کے دل میں میرے متعلق بغض زیادہ ہوگا اس کا کفر بھی اتنا ہی بڑا ہوگا پھر فرمایا خبردار جس کے دل میں میری محبت نہیں اس کا ایمان نہیں خبردار جس کے دل میں محبت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں ہے خبردار جس کے دل میں میری محبت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں اللہ پاک اپنے پیارے آقا الصلوٰۃ والسلام پر زیادہ سے زیادہ درود پاک پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

10/10/2022

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج کا مارا قرآن پاک خوبصورت قصہ ہے (مرتدین سے جہاد کرنے والے )حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں چند آدمی اور وفات اقدس کے بعد بہت لوگ اسلام سے مرتد ہونے والے تھے جن سے اسلام کی بقا کو شدید خطرہ لاحق ہونے والا تھا لیکن قرآن مجید نے برسوں پہلے یہ غیب کی خبر دیں اور پیشنگوئی فرما دیں گے اس بھیانک اور خطرناک وقت پر اللہ تعالی ایک ایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو اسلام کی محافظت کرے گی اور وہ ایسی چھ صفتوں کی جامع ہوگی جو تمام دنیاوی اور اخروی فضائل و کملات کا سرچشمہ ہے اور یہی چھ صفات المحافظین اسلام کی علامات اور ان کی پہچان کا نشان ہو گی اور وہ چھ صفات یہ ہیں (1)وہ اللہ تعالی کے محبوب ہوں گے (2)وہ اللہ تعالی سے محبت کریں گے (3)وہ مومنین پر بہت مہربان ہوں گے (4)وہ کافروں کے لئے بہت سخت ہوں گے (5)وہ خدا کی راہ میں جہاد کریں گے (6)وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خائف نہیں ہوں گے صاحب تفسیر جمل نے کشاف کے حوالہ سے تحریر فرمایا ہے کہ عرب کے 11 قبیلے اسلام قبول کرلینے کے بعد آگے پیچھے اسلام سے منحرف ہو کر مرتد ہو گئے تین قبائل تو خود حضور علیہ الصلاۃ والسلام کی موجودگی میں اور سات قبیلے حضرت امیر المومنین ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اور ایک قبیلہ حضرت امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کے بعد مگر یہ گیارہ قبائل اپنی انتہائی کوششوں کے باوجود اسلام کا کچھ نہ بگاڑ سکے بلکہ مجاہدین اسلام کے سرفروشانہ جہادوں کی بدولت یہ سب مرتدین تہس نہس ہو کر فنا کے گھاٹ اتر گئے اور پرچم اسلام برابر بلند سے بلند تر ہوتا ہی چلا گیا اور قرآن مجید کا وعدہ اور غیب کی خبر بالکل سچ اور صحیح ثابت ہو کر رہی
(زمانہ رسالت کے تین مرتبہ قبائل )
(1)قبیلہ بنی مذلبح جس کا ریس اسودعنسی تھا جو ذو الحمار کے لقب سے مشہور تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل اور یمن کے سرداروں کو فرمان بھیجا کے مرتدین سے جہاد کریں چنانچہ فیروز ویلمی کے ہاتھ سے اسودعنسی قتل ہوا اور اس کی جماعت بکھر گئی اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو بستر علالت پر یہ خوشخبری سنائی گئی کے اسود عنسی قتل ہو گیا اور اس کے دوسرے ہی دن حضور علیہ الصلاۃ و السلام کا وصال ہو گیا
(2)قبیلہ بنو حنیفہ جس کا سردار مسلمة الکذاب جس سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جہاد فرمایا اور لڑائی کے بعد حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاتھ سے مسلیمة الکذاب مقتول ہوا اور اس کا گروہ کچھ قتل ہوگیا اور کچھ دوبارہ دامنے اسلام میں آگئے
(3)قبیلہ بنو اسد جس کا امیر طلحہ بن خویلد تھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے مقابلہ کے لیے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور جنگ کے بعد طلحہ بن خویلد شکست کھا کر ملک شام بھاگ گیا مگر پھر دوبارہ اسلام قبول کرلیا اور آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہا اور اس کی فوج کچھ کاٹ گئی کچھ تائب ہو کر پھر دوبارہ مسلمان ہو گئے
(خلافت صدیق اکبر کے ساتھ مرتد قبائل )
(1)قبیلہ فزارہ جس کا سردار عیینہ بن حصن فزاری تھا (2)قبیلہ غطفان جس کا سردار کرہ بن سلمہ قشیر ی تھا (3)قبیلہ بنو سلیم جس کا سرغنہ فجاء بن یالیل تھا
)4(قبیلہ بنی یربوع جس کا سربراہ مالک بن بریدہ تھا
(5)قبیلہ بنو تمیم جن کی امیر سجاح بنت منذر ایک عورت تھی جس نے مسلمة الکذاب سے شادی کرلی تھی
(6)قبیلہ کندہ جو اشعت بن قیس کے پیروکار تھے
(7)قبیلہ بنو بکر جو خطمی بن یزید کے تابعدار تھے امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان مرتد ہونے والے ساتوں قبیلوں سے مہینوں تک بڑی خونریز جنگ فرمائی چنانچہ کچھ ان میں سے مقتول ہوگئے اور کچھ توبہ کر کے پھر دامن اسلام میں آگئے
(دور فاروقی کا مرتد کا قبیلہ )
امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں صرف ایک ہی قبیلہ مرتد ہوا اور یہ قبیلہ غستان تھا جس کی سرداری جبلہ بن ایہم کر رہا تھا مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پرچم کے نیچے صحابہ کرام نے جہاد کر کے اس گروہ کا قلع قمع کر دیا اور پھر اس کے بعد کوئی قبیلہ بھی مرتد ہونے کے لئے سر نہیں اٹھا سکا اس طرح مرتد ہونے والے ان گیارہ قبیلوں کا سارا فتنہ و فساد مجاہدین اسلام کے جہادوں کی بدولت ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا ان مرتدین سے لڑنے والے اور ان شریروں کا قلعہ قمع کرنے والے صحابہ کرام تھے جن کے بارے میں برسوں پہلے قرآن مجید نے غیب کی خبر دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ
(ترجمہ) سورة المائدہ رکوع 8)
اے ایمان والو تم میں سے جو اپنے دین سے پھرے گزار تو عنقریب چلا ایک ایسی قوم کو لائے گا کہ وہ اللہ کے پیارے اور اللہ ان کا پیارا ہوگا وہ مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت ہونگے وہ اللہ کی راہ میں لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہ کریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا فرمائے اور اللہ وسعت والا علم والا علم ہے
(درس ہدایت)
مرتدین کے فتنوں اور شورشوں سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتاکیوں کے اللہ تعالی مرتدوں کے مقابلے کے لئے ہر دو میں ایک ایسی جماعت کو پیدا فرما دے گا
جو تمام مرتدین کی فتنہ پردازیوں کو ختم کرکے اسلام کا بول بالاکرتی رہے گی جن کی 6 نشانیاں ہوگی
ان آیات بیانات سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ جنہوں نے حضرت دین کے گیارہ قبائلکی شورشوں کو ختم کر کے پرچم اسلام کو بلند سے بلند تر ک کر دیا یہ صحابہ کرام مندرجہ ذیل چھ عظیم صفات کے شرف سے سرفراز تھے یعنی (١) صحابہ کرام اللہ کے محبوب ہیں (٢) وہ اللہ تعالی کی محبت ہے (٣)وہ مسلمانوں کے لیے رحم دل ہیں (۴) وہ کافروں کے حق میں بہت سخت ہیں (۵)
وہ مجاہد بھی سبیل اللہ ہیں (٦) وہ اللہ تعالی کے مال میں کسی ملامت کرنے والے کا اندیشہ خوف نہیں رکھتے ہیں
پھر آیت کے آخر میں خداوند قدوس نے ان صحابہ کرام کے مراتب اور درجات کی عظمت و سربلندی پر اپنے فضل و انعام سے محض فرماتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے اور اللہ تعالی کا فضل وکرم بڑی وسعت والا ہے اور اللہ تعالی ہی کو خوب معلوم ہے کہ کون اس کے فضل کا حقدار ہے
اللہ اکبر سبحان اللہ کیا کہنا ہے صاحبہ کرام کی عظمتوں کی بلندی کارسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے فضل و کمال کا اعلان فرمایا اور خداوند قدوس نے ان لوگوں کے جامعہ الکاملۃ ہونے کا قرآن مجید میں خطبہ پڑھا

10/10/2022

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج کا ہمارا قرآن پاک کا خوبصورت قصہ ہے (کافروں کی مایوسی )
ہجرت کے بعد وہ برابر اسلام ترقی کرتا رہا اور ہر محاذ پر کفار کے مقابلہ میں مسلمانوں کو فتوحات بھی حاصل ہوتی رہیں اور کفار اپنی چالوں میں ناکام و نامراد بھی ہوتے رہے مگر پھر بھی کفار برابر اسلام کی بیخ کنی میں مصروف رہے اور یہ آس لگائے ہوئے تھے کہ کسی نہ کسی دن ضرور اسلام مٹ جائے گا اور پھر عرب میں بت پرستی کا چرچا ہو کر رہے گا کفار اپنی مذموم امید کی بنا پر برابر اپنی اسلام دشمن سکیموں میں لگے رہے اور طرح طرح کے فتنے برپا کرتے رہے مگر دس ہجری حجۃ الوداع کے موقع پر جب کافروں نے مسلمانوں کا عظیم مجمہع میدان عرافات میں دیکھا اور ان ہزاروں مسلمانوں کے اسلامی جوش اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کے والہانہ جذبات عقیدت کا نظارہ دیکھ لیا تو کفار کے حوصلوں اور ان کے مذموم امیدوں پر اوس پڑ گئی اور وہ اسلام کی تباہی اور بربادی سے بالکل ہی مایوس ہو گئے چنانچہ اس واقعہ کی عکاسی کرتے ہوئے خاص میدان عرفات میں بعد عصر یہ آیات نازل ہوئی (سورة المائدہ ع 1)آج تمہارے دین کی طرف سے کافروں کی آس ٹوٹ گئی تو ان سے مت ڈرو اورمجھ سے ڈرو آج میں نے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا روایت ہے کہ یہودی نے امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ تمہاری کتاب میں ایک ایسی آیت ہے کہ اگر ہم یوتھیوں پر ایسی نازل ہوئی ہوئی ہوتی تو ہم لوگ اس دن کو عید کا دن بنا لیتے تو آپ نے فرمایا کہ کون سی آیت ہے تو اس نے کہا کہ الیوم اکملت لکم دینکم والی آیت تو آپ نے فرمایا کہ جس دن اور جس جگہ اور جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ہم اس کو اچھی طرح جانتے پہچانتے ہیں وہ جمعہ کا دن تھا اور عرفات کا میدان تھا اور حضور علیہ السلام عصر کے بعد خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی آپ کا مطلب یہ تھا کہ اس آیت کے نزول کے دن تو ہماری دو دو عیدیں تھی ایک تو عرفہ کا دن یہ بھی ہماری عید کا دن ہے اور دوسرے جمعہ کا دن یہ بھی ہماری عید ہی کا دن ہے اس لیے اب الگ سے ہم کو عید منانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے یہ بھی روایت ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ رونے لگے تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے دریافت فرمایا کہ اے عمر تم روتے کیوں ہو تو آپ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا دین روز بروز بڑھتا جا رہا ہے لیکن اب جب کہ یہ دین کامل ہوگیا تو یہ قاعدہ ہے کہ ہر کمال را زوال کہ جو چیز اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے وہ گھٹنا شروع ہوتی ہے پھر اس آیت سے وفات نبوی کی طرف بھی اشارہ مل رہا ہے کیوں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام دین کو کامل کرنے ہی کے لئے دنیا میں تشریف لائے تھے تو جب دین کامل ہوچکا تو ظاہر ہے کہ حضور اس دنیا میں رہنا پسند نہیں فرمائیں گے (درس ہدایت )
(1)اللہ تعالی نے اس آیت میں اس بات پر مہر لگا دیں گے اب کافروں کی کوئی جدوجہد اور کوشش بھی اسلام کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ کفار کی امیدو آس پر نا امیدی و یاس کے بادل چھا گئے ہیں کیوں کہ ان کا اسلام کو مٹادینے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا
(2)اس آیت نے اعلان کر دیا کہ دین اسلام مکمل ہو چکا ہے اب اگر کوئی یہ کہے کہ اسلام میں فلاں فلاں مسائل ناقص رہ گئے ہیں یا اسلام میں کچھ ترمیم اور اضافہ کی ضرورت ہے تو وہ شخص کذاب اور جھوٹا ہے اور درحقیقت وہ قرآن کی تکذیب کرنے والا ملحد اور اسلام سے خارج ہے دین اسلام بلاشبہ یقین کامل و مکمل ہوچکا ہے اس پر ایمان رکھنا ضروریات دین میں سے ہیں پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم دلوانے کے لیے ہم سے رابطہ کریں اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے

27/12/2021

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج کا ہمارا قرآن پاک کا خوبصورت قصہ ہے (پانچ دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کفار قریش کے پانچ سردار (1)عاص بن وائل سہمی (2) اسود بن مطلب (3)اسود بن عبد یغوث (4)حارث بن قیس (5)ولید بن مغیرہ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت زیادہ ایذائیں دیتے اور آپ کا بے حد مذاق اڑایا کرتے تھے ایک روز پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد حرام میں تشریف لائیں تو یہ پانچوں خبیث بھی پیچھے پیچھے آئے اور حسب عادت تمسخر اور طعن و تشنیع کے الفاظ بکنے لگے اسی حالت میں حضرت جبرائیل علیہ السلام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور انہوں نے ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف اور عاص بن وائل سہمی کے پاؤں کے تلوے کی طرف اور اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف اور اسود بن عبد یغوث کے پیٹ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ فرمایا اور یہ کہا کہ میں ان لوگوں کے شر کو دفع کرونگا چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں یہ پانچوں دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طرح طرح کی بلاؤں میں گرفتار ہوکر ہلاک ہوگئے ولید بن مغیرہ ایک تیر بیچنے والے کی دکان کے پاس سے گزرا ناگہاں ایک تیر کا پیکان اس کے تہمد میں چبھ گیا مگر اس کو نکالنے کے لیے اس نے تکبر سے سر نیچا نہ کیا اور کھڑے کھڑے تہمد ہلاہلا کر پیکان کو نکالنے لگا جس سے اس کی پنڈلی زخمی ہوگئیں اور وہ زخم اچھا نہیں ہوا بلکہ اسی زخم کی تکلیف اٹھا اٹھا کر وہ مر گیا عاص بن وائل سہمی کے پاؤں میں ایک کانٹا چبھ گیا جس سے اس کے پاؤں زہر باد ہو گیا اور اس کا پاؤں پھول کر اونٹ کی گردن کی طرح موٹا ہو گیا اسی تکلیف میں وہ تڑپ تڑپ کر مر گیا اسود بن مطلب کی آنکھوں میں ایسا درد اٹھا کہ وہ اندھا ہوگیا اور درد کی شدت سے وہ بے قراری میں اپنا سر دیوار سے بار بار ٹکراتا تھا اور اسی درد کرب کی بے چینی میں وہ مر گیا اور یہ کہتا ہوں مرا کے مجھ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کیا ہے اسود بن عبد یغوث کو استسقاء ہوگیا جس سے اس کا پیٹ بہت زیادہ پھول گیا اور وہ اسی مرض میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہلاک ہو گیا حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ بہنے لگا اور وہ اسی میں مر کر ہلاک ہو گیا اس طرح یہ پانچوں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت جلد بڑی بڑی تکلیف اٹھا کر ہلاک ہوگئے انہیں پانچوں کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید کی یہ آیت نازل فرمائی بے شک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفایت کرتے ہیں جو اللہ تعالی کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہرا تے ہیں تو اب جان جائیں گے پارہ نمبر 14 سورہ الحجر (درس ہدایت )اس دور میں بھی جو لوگ بارگاہ نبوت میں گستاخی اور بے ادبی کرتے رہتے ہیں کان کھول کر سن لے کے ان کے ایمان کی دولت و غارت ہو ہی چکی ہے اب انشاء اللہ تعالی وہ کسی نہ کسی عذاب الہی میں گرفتار ہو کر ذلت کی موت مر جائیں گے اور دنیا ان کے منہوس وجود سے پاک ہوجائے گی سن لو اللہ تعالی کا وعدہ کبھی ہرگز غلط نہیں ہو سکتا لہذا وہ لوگ انتظار کریں اور ہم بھی انتظار کر رہے ہیں اگر عذاب الہی کی مار سے بچنا چاہتے ہو تو اس کی فقط ایک ہی صورت ہے کس صدق دل سے توبہ کر کے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و عظمت سے اپنے دلوں کو معمور و آباد کر لو اور اپنے قول و فعل اور اعتقاد سے تعظیم وتوقیر نبوی کو اپنا دینی شعار بنا لو پھر تم دیکھنا کہ ہر قدم پر تمہارے اوپر خداوند قدوس کی رحمت نازل ہوگی اور خاتمہ بالخیر کی کرامتوں سے تم سرفراز ہوکر دونوں جہاں کی سعادتوں سے بہرہ مند ہو جاؤ گے پوسٹ پسند آئے تو لائک اور شیئر کریں اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے آمین

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Faisalabad
5555