16/11/2020
_*جانباز*_
_*قسط نمبر 4*_
_*عارف اور قیصر نے*_ مجھے سے خطروں میں دوبارہ کودنے کا جو شکوہ کیا تھا وہ بلکل بجا تھا لیکن یہ میری مجبوری تھی کیونکہ میں اپنے اصولوں کا قیدی تھا. کہ کسی کے احسان خلوص اور محبت بھرے انداز کو میں بھلا نہیں سکتا تھا راجہ تری کا چٹاگانگ میں میرے دشمن ہندو بنگالی انسپکٹر کو ٹھکانے لگانے جو احسان تھا اور جو دوستی اسی بنا پر راجہ نے مجھ پر بھروسہ کر کے مجھے یہ کام کرنے کا کہا تھا. جس سے میں انکار نہ کر سکا دوستی مذہب سے جدا ہوتی ہے. دوستی میں فاصلے وقت اور دوست کی کسی برائی کو بھی نہیں دیکھا جاتا. راجہ میں ساری خامیاں موجود ہونے کے باوجود بھی راجہ میرا دوست تھا. دوستی میں آزمائش کا پہلا قدم. راجہ نے ہی رکھا تھا اور اب میری باری تھی. ہوٹل رائل پلازہ سری وانگ روڈ پر پولیس اسٹیشن کے بلکل قریب تھا. اب اس کا نام شاید بدل گیا ہو. اس ہوٹل کی مالک ایک جوان اور حسین سکھ عورت تھی. اسی وجہ سے اس ہوٹل میں زیادہ تر پاکستانی اور انڈین قیام کرتے تھے. جو اکثر شراب کے نشے میں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے. ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مالکن رانی نے پانچ چھے تھائی غنڈے پال رکھے تھے. میں نے ان غنڈوں سے اپنے مشن کا آغاز کیا. میرا گذشتہ تجربہ مجھے بتاتا تھا کہ میرے مطلب کے لوگ مجھے شرفاء میں سے نہیں ملیں گے. بلکہ انڈر ورلڈ ( زیر زمین) کام کرنے والوں میں ہی مل سکتے ہیں. اور انڈر ورلڈ کے لوگوں سے رابطہ یا رسائی ان غنڈوں کے ذریعے ہی ممکن تھی. میں نے ان غنڈوں میں سے ایک کا انتخاب کیا اور اسے سو بھات دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسی جگہ لے چلے جہاں سب کچھ ملتا ہو. بنکاک میں سرعام تو سب کچھ ملتا ہے کیونکہ ویت نام جنگ میں امریکی فوجیوں کے لیے تھائی لینڈ خاص کر بنکاک تو انکی مختصر تعطیلات گزارنے کے لیے ان کا مرکز بن چکا تھا. سرکاری طور پر بدھ مت کو ماننے والا یہ ملک جس کے باسی کبھی اپنی قناعت پسندی کیوجہ سے مشہور تھے امریکی ڈالروں کی چمک کیوجہ سے اب ایک قحبہ خانہ بن چکا تھا. دنیا کی کوئی ایسی برائی نہ تھی جو یہاں پر موجود نہ ہو. یہاں کے مختلف ہوٹل دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی ہر قسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر وقت سجے رہتے ہیں. مثلاً پاکستانی سفارت کے بالمقابل گریس ہوٹل اپنے عرب گاہکوں کی ضروریات اور خواہشات پوری کرنے میں مشہور ہے.
اور اسی طرح ایمبیسیڈر ہوٹل پاکستانی اور بھارتی افراد کی خدمات کے لیے مشہور تھا. اورینٹل اور رائل آرچڈ شیرٹن اپنے مغربی افراد کی خدمات کے لیے مشہور تھا.اسی طرح کی بیسیوں ہوٹل اسی قسم کے دھندوں کے لیے مشہور تھے. اور ایسے ماحول میں جب میں نے ایک غنڈے کو کہا تو وہ یقیناً مجھے ایسی جگہ لے جائے گا جو منشیات اور ہتھیاروں کے لیے مشہور تھے. وہ غنڈا مجھے ٹیکسی میں دو میل دور آفٹر7کلب کے پچھواڑے گلیوں میں سے گزارتے ہوئے ایک مکان کے سامنے پہنچ کر رک گیا. جسکا دروازہ بند تھا گھنٹی بجانے پر دروازے کی چوکور کھڑکی میں سے کسی نے سر نکال کر پوچھا. تو میرے ساتھ آنےوالے غنڈے نے اسے اپنی زبان میں کچھ کہا. اندر والے نے دروازہ کھولا جب ہم دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ہمیں روک لیا گیا. دو تھائی گارڈوں نے میری جامع تلاشی لی جب مطمئن ہو گئے تو میرے ساتھ آے ہوئے غنڈے کو انہوں نے واپس بھیج دیا اور مجھے ساتھ لے کر آگے چلے. ایک کمرے میں داخل ہونے پر انہوں نے میری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی. اور مجھے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر آگے بڑھے. غالباً مزید دو کمروں میں سے گزرنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ہم کھلی فضا میں آ گئے ہیں. وہاں سے ایک کار میں مجھے بٹھا کر وہ دونوں میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے. گاڑی اندازاً 30 منٹ چلنے کے بعد رکی گاڑی سے اتر کر دونوں تھائی مجھے لیے ایک گھر میں داخل ہوئے. اور ایک کمرے میں پہنچ کر مجھے ایک کرسی پر بٹھا کر میری آنکھوں سے پٹی ہٹائی. یہ ڈرائنگ روم تھا جس میں مجھے بٹھایا گیا تھا اور میرے سامنے صوفوں پر تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے. ان تینوں. میں سے ایک جو غالباً ان کا چیف تھا نے دونوں تھائیوں کو باہر جا کر انتظار کرنے کا کہا. وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئے. چیف نے نہایت نرم لہجے میں مجھ سے میرے اس طرح لاے جانے پر مجھ سے معذرت کی. وہ اچھی خاصی انگریزی بول رہا تھا اس نے کہا کہ سیکورٹی کیوجہ سے ایسا کرنا مجبوری تھی. جس کے لیے وہ نادم ہوں. چیف نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے کیا چاہیے اسلحہ منشیات یا ایل ایس ڈی تو میں نے کہا کہ مجھے دو درجن ہینڈ گرنیڈ ایک امریکن پسٹل کم سے کم 32 بور کا تین فالتو میگزین اور دو سو گولیاں چاہیئے. اس نے ایک اور تھائی کو مسکرا کر کہا کہ یور ڈیپارٹمنٹ دوسرا تھائی مجھے لے کر ایک اور کمرے میں چلا گیا. اس کمرے میں دیواروں پر مختلف قسم ہتھیار سجے لٹکے ہوئے تھے. تھائی نے 32 بور کے دو پسٹل مجھے اتار کر دکھائے. دونوں پسٹل امریکی ساختہ تھے. ایک کی میگزین 7 گولیوں والی جبکہ دوسرے کی 11 گولیوں والی تھی. مختلف ٹائمنگوں کے ہینڈ گرنیڈ بھی دکھائے. اور ساتھ ہی کہا کہ ہم سودے بازی نہیں کرتے جو دام بتائیں جائیں گے اگر منظور ہوں تو ٹھیک ورنہ آپ واپس جا سکتے ہیں.
میں نے دام پوچھے تو اس نے نہایت مناسب قیمت بتائی. میں نے 6سیکنڈ میں پھٹنے والے درجن گرنیڈ اور 11 گولیوں والا پسٹل پسند کیا. تھائی کے کہنے کے مطابق میں نے اس اسلحہ کی آدھی قیمت ادھر ہی ادا کر دی. اور باقی آدھی رقم سامان کی ڈلیوری ہونے پر ہوٹل میں ادا کرنی تھی.
تھائی نے مجھے ایک اچھا گاہک سمجھتے ہوئے کہا کہ وہ مجھے LMG( لائٹ مشین گن) SMG(سمال مشین گن) بزرکاRRاور امریکی ساختہ تمام آٹو میٹک ہتھیار حتی کہ اسٹنگر میزائل اور ان ہتھیاروں کا ایمونیشن بھی مہیا کر سکتا ہے. اس کے علاوہ جتنی بھی مقدار میں چاہوں وہ مجھے حشیش ایل ایس ڈی اور گولڈن ٹرائی اینگل کی بنی ہوئی ہیرؤن بھی سپلائی کر سکتا ہے. میں نے اسکا شکریہ ادا کیا واپسی پر پہلے کیطرح میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے ایک گاڑی میں بٹھا کر پہلے گھر کے قریب مجھے اتار دیا گیا اگلے روز رات 8 بجے ہوٹل میں مجھے سامان کی ڈلیوری کر دی گئی اور میں نے باقی پیمنٹ ادا کر دی. تو سامان لانے والوں میں سے ایک نے مجھے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو وہ ڈائریکٹ مسٹر تھان سے رابطہ کر لے تو مطلوبہ چیزیں پہنچا دی جائیگی.شاید میں پہلے بھی کسی جگہ عرض کر چکا ہوں کہ سمگلر لکھنے لکھانے کا تکلف نہیں کرتے انکی زبان ہی سب کچھ ہوتی ہے. پہلے بمبئی میں اور اب بنکاک میں میرا تجربہ ہوا. سمگلروں کی زبان ہی انکے وعدے وعید ہوتے ہیں. جو کہہ دیا سو کہہ دیا اس پر پورا اترتے ہیں. کاش ہمارے کاروباری حضرات ان سمگلروں سے ہی کچھ سبق سیکھ لیں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے لگ جائیں اگلے روز میں نے بازار سے ایسی جیکٹ خریدی جس میں یہ اسلحہ چھپایا اور سما سکے. جیکٹ خریدتے وقت یکایک دوکاندار نے مجھے نظر انداز کیا اور دوکان سے باہر آ کر ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا. سڑک پر سات یا آٹھ گاڑیوں کا قافلہ گزر رہا تھا. باہر سبھی دوکان دار اور سڑک پر چلنے والے مردوزن اسی طرح ہاتھ باندھے اور سر جھکائے کھڑے تھے. قافلہ گزرنے کے بعد جب دوکان دار اندر آیا تو میرے پوچھنے پر دوکاندار نے بتایا کہ یہ قافلہ بھائی خان کا تھا. جو تھائی لینڈ کا بے تاج بادشاہ ہے. اور اپنی نوجوانی میں ( تقسیم ہند سے پہلے) یہاں آیا تھا. اور پھر یہی کا ہو کر رہ گیا. دوکاندار نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بھائی خان کی داستان سنائی تو میں حیران رہ گیا. اور فیصلہ کیا کہ پہلی فرصت میں بھائی خان سے ملوں گا. کیونکہ ایسی عجوبہ شخصیت روز روز پیدا نہیں ہوتی.
میری ضرورت کا اسلحہ مجھے مل چکا تھا. راستے میں ہائل ہونیوالی جھاڑیوں اور کانٹے دار درختوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے خنجر اور چاقو بھی میں خرید چکا تھا. ملیریا سے بچنے کے لیے کونین کی گولیاں سانپوں کے زہر سے بچنے کے لیے میڈیسن اور فرسٹ ایڈ بکس بھی میں خرید چکا تھا. دوران سفر کے لیے کپڑے بھی میں نے خرید لیے اور ہئیر کیٹ کیپ بھی خرید لی. اس طرح میری ساری تیاری بلکل مکمل ہو چکی تھی اب بس ایک گائیڈ اور دو سامان اٹھانے کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی. میں نے جس گائیڈ اور مزدور سے ساتھ جانے کی بات کی انہوں نے تھائی لینڈ کی سرحد تک جانے کی حامی بھرتے مگر برما جانے سے صاف انکار کر دیتے. مجھے تو ایسے افراد کی ضرورت تھی. جو میرے ساتھ سارا تھائی لینڈ عبور کر کے برما تک اور برما عبور کر کے بھارتی سرحدی قصبے کالادان تک میرے ہمراہ جائیں. وہاں سے پھر برما میں داخل ہو کر کشتی میں سوار ہو کر بنگلہ دیشی قصبے کاکس بازار یا برما سے خشکی کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہو کر رانگا ماٹی تک میرے ساتھ جائیں. اور پھر انہی راستوں سے واپس لوٹتے ہوئے تھائی لینڈ واپس آئیں. اس سلسلے میں میں نے ہوٹل کی مالکہ رانی سے بات کی تو اس نے کہا کہ یہاں سے کوئی بھی تھائی تمہارے ساتھ اس سفر پر نہیں جاۓ گا. اور اگر بالفرض تیار ہو کر تمہارے ساتھ چلا بھی جاتا ہے تو راستے میں تمہیں قتل کر کے سامان لوٹ کر واپس آ جاۓ گا. رانی کی بات سن کر میں ہر طرف سے نامید ہو گیا کہ اچانک مجھے بھائی خان کا خیال آیا. چنانچہ میں نے بھائی خان کے متعلق معلومات اکھٹی کرنی شروع کر دیں جب تمام معلومات اکٹھی کر لیں تو وہ بہت حیرت انگیز تھیں جن پر یقین کرنا تھوڑا مشکل تھا مگر اس کے متعلق سن کر میں خود کو بھائی خان کے سامنے بلکل چھوٹا محسوس کرنے لگا. بھائی خان اٹک کے قریب مانسر کیمپ کی پہاڑیوں میں واقع ایک گاؤں کا ان پڑھ شخص تھا. قیام پاکستان سے قبل وہ غربت سے تنگ آ کر کراچی میں ایک مال بردار جہاز میں ملازم بھرتی ہوا. جب یہ جہاز بنکاک پورٹ پر لنگر انداز ہوا تو بھائی خان جہاز سے چھلانگ لگا کر رات کے اندھیرے میں تیرتا ہوا ساحل پر پہنچا اور وہاں سے غائب ہو گیا. جلد ہی اسکی بے خوفی اور نڈر پن کو دیکھتے ہوئے ایک سمگلروں کے گروہ نے اسے اپنے ساتھ شامل کر لیا. اسمگلنگ کے رموزواوقاف جاننے کے بعد اس نے اپنا ایک گروہ تشکیل دے دیا. اور بیس سال کے عرصے میں اس نے اپنے آبائی گاؤں کے بہت سے غریب لڑکوں کو بنکاک بلا کر اپنے گروہ میں شامل کر لیا. جن کی تعداد تقریباً 5 ہزار افراد تھی یہ سب غیر قانونی طریقے سے تھائی لینڈ منگواے تھے بھائی خان کا ہیڈ کوارٹر سارا بری تھا.
ہر نئے آنے والے کو وہ گوریلا جنگ اور ہر قسم کا اسلحہ چلانے کی تربیت دیتا تھا غرض یہ کہ اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ اس کے پاس 5 ہزار گوریلا جنگجو بھی تیار ہو گئے. بھائی خان کی اس خفیہ سرگرمیوں کی اطلاع ملنے پر تھائی حکومت نے پہلے پولیس بھیجی. جو اپنی درجنوں لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئی. اور پھر فوجی دستے بھیجے گئے. لیکن ان پہاڑی علاقوں میں وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے. ہوائی جہاز سے پھینکے ہوئے بم بھی بیکار گئے. بالآخر تھائی حکومت نے مجبور ہو کر بھائی خان سے مذاکرات کرنے کی ٹھانی. یہ واقعہ پچاس کی دہائی کا ہے. تھائی لینڈ میں بادشاہت قائم تھی. شاہی محل میں بادشاہ وزیراعظم اور فوج کے سربراہان کی موجودگی میں بھائی خان سے مذاکرات ہوئے. تھائی حکومت ہر طرح سے مایوس ہو چکی تھی. لہٰذا بھائی خان سے اسکے مطالبات پوچھے گئے. حکومت کے خیال میں یہ تھا کہ ایک مسلمان جو ایک مہاجر بھی تھا وہ زر جواہرات کی ڈیمانڈ کرے گا مگر جب بھائی خان نے اپنے مطالبات پیش کیے تو وہاں پر موجود ہر شخص انگشت بدانداں رہ گیا. بھائی خان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ پورے تھائی لینڈ میں حلال جانور کا کوئی بھی غیر مسلم جھٹکا نہیں کرے گا بلکہ اسکو مسلمان ذبح کیا کریں گے. دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ تھائی لینڈ میں مسلم بچیوں کو سکول اور کالج میں اسکرٹ پہننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا. وہ پاجامہ یا پتلون پہنیں گی. اور سر کو دوپٹے سے یا اسکارف سے ڈھانپییں گی. تیسرا مطالبہ کوئی بھی مسلمان عورت بدکاری نہیں کرے گی. اور اس کے بعد مسلم عورت بدکاری کرتی ہوئی پکڑی گئی اسے اس کے والدین اور عزیز واکارب کو لمبی قید سنائی جاے گی. بھائی خان کے یہ تینوں مطالبے فوری طور پر مان لیے گئے. سارے تھائی لینڈ میں اب تک حالت یہ ہے کہ کسی بھی ہوٹل ریسٹورنٹ یا قصاب سے حلال چوپائے کا گوشت اس یقین پر لے سکتے ہیں کہ یہ مسلم کے ہاتھ سے ذبح شدہ ہے.سارے تھائی لینڈ کی مسلم بچیاں اپنے پاجامے پتلون اور اسکارف کیوجہ سے الگ پہچان بنا چکی ہیں. تمام بدقماش اور بدکار عورتیں اپنی غیر مسلم پہچان کے لیے ماتما بدھ کے پتلے کو گلے میں لٹکائے رکھتی ہیں. اور اگر کوئی مسلم عورت ایسا کرتے پکڑی جائے تو اسکو اس کے شوہر یا سرپرست سمیت لمبی قید بھگتنی پڑتی ہے. اپنے انہی مطالبات کی منظوری کے بعد بھائی خان نے سمگلنگ چھوڑ دی. اور حکومت نے اسے اور اس کے ساتھیوں کے لیے بنکاک کے گردونواح سے لے کر چیانگ رائی اور چنگ ماہی تک اور دوسری طرف ملائشیا کی سرحد کے ساتھ صوبہ ریحان (ہرجائی) تک بھینسوں کے فارم بنانے اور حلال گوشت کی سپلائی دینے کے لیے وسیع زمینیں الاٹ کیں.
_*جاری ہے*_
(قاری شفیق احمد)