Jamia Azizia darulquran official FSD

Jamia Azizia darulquran official FSD

Share

ہمارے ہاں بچوں کو قرآن پاک کی مفت تعلیم دی جاتی ہے

16/11/2020

_*جانباز*_

_*قسط نمبر 4*_

_*عارف اور قیصر نے*_ مجھے سے خطروں میں دوبارہ کودنے کا جو شکوہ کیا تھا وہ بلکل بجا تھا لیکن یہ میری مجبوری تھی کیونکہ میں اپنے اصولوں کا قیدی تھا. کہ کسی کے احسان خلوص اور محبت بھرے انداز کو میں بھلا نہیں سکتا تھا راجہ تری کا چٹاگانگ میں میرے دشمن ہندو بنگالی انسپکٹر کو ٹھکانے لگانے جو احسان تھا اور جو دوستی اسی بنا پر راجہ نے مجھ پر بھروسہ کر کے مجھے یہ کام کرنے کا کہا تھا. جس سے میں انکار نہ کر سکا دوستی مذہب سے جدا ہوتی ہے. دوستی میں فاصلے وقت اور دوست کی کسی برائی کو بھی نہیں دیکھا جاتا. راجہ میں ساری خامیاں موجود ہونے کے باوجود بھی راجہ میرا دوست تھا. دوستی میں آزمائش کا پہلا قدم. راجہ نے ہی رکھا تھا اور اب میری باری تھی. ہوٹل رائل پلازہ سری وانگ روڈ پر پولیس اسٹیشن کے بلکل قریب تھا. اب اس کا نام شاید بدل گیا ہو. اس ہوٹل کی مالک ایک جوان اور حسین سکھ عورت تھی. اسی وجہ سے اس ہوٹل میں زیادہ تر پاکستانی اور انڈین قیام کرتے تھے. جو اکثر شراب کے نشے میں ایک دوسرے سے لڑتے رہتے تھے. ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مالکن رانی نے پانچ چھے تھائی غنڈے پال رکھے تھے. میں نے ان غنڈوں سے اپنے مشن کا آغاز کیا. میرا گذشتہ تجربہ مجھے بتاتا تھا کہ میرے مطلب کے لوگ مجھے شرفاء میں سے نہیں ملیں گے. بلکہ انڈر ورلڈ ( زیر زمین) کام کرنے والوں میں ہی مل سکتے ہیں. اور انڈر ورلڈ کے لوگوں سے رابطہ یا رسائی ان غنڈوں کے ذریعے ہی ممکن تھی. میں نے ان غنڈوں میں سے ایک کا انتخاب کیا اور اسے سو بھات دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ایسی جگہ لے چلے جہاں سب کچھ ملتا ہو. بنکاک میں سرعام تو سب کچھ ملتا ہے کیونکہ ویت نام جنگ میں امریکی فوجیوں کے لیے تھائی لینڈ خاص کر بنکاک تو انکی مختصر تعطیلات گزارنے کے لیے ان کا مرکز بن چکا تھا. سرکاری طور پر بدھ مت کو ماننے والا یہ ملک جس کے باسی کبھی اپنی قناعت پسندی کیوجہ سے مشہور تھے امریکی ڈالروں کی چمک کیوجہ سے اب ایک قحبہ خانہ بن چکا تھا. دنیا کی کوئی ایسی برائی نہ تھی جو یہاں پر موجود نہ ہو. یہاں کے مختلف ہوٹل دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی ہر قسم کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہر وقت سجے رہتے ہیں. مثلاً پاکستانی سفارت کے بالمقابل گریس ہوٹل اپنے عرب گاہکوں کی ضروریات اور خواہشات پوری کرنے میں مشہور ہے.
اور اسی طرح ایمبیسیڈر ہوٹل پاکستانی اور بھارتی افراد کی خدمات کے لیے مشہور تھا. اورینٹل اور رائل آرچڈ شیرٹن اپنے مغربی افراد کی خدمات کے لیے مشہور تھا.اسی طرح کی بیسیوں ہوٹل اسی قسم کے دھندوں کے لیے مشہور تھے. اور ایسے ماحول میں جب میں نے ایک غنڈے کو کہا تو وہ یقیناً مجھے ایسی جگہ لے جائے گا جو منشیات اور ہتھیاروں کے لیے مشہور تھے. وہ غنڈا مجھے ٹیکسی میں دو میل دور آفٹر7کلب کے پچھواڑے گلیوں میں سے گزارتے ہوئے ایک مکان کے سامنے پہنچ کر رک گیا. جسکا دروازہ بند تھا گھنٹی بجانے پر دروازے کی چوکور کھڑکی میں سے کسی نے سر نکال کر پوچھا. تو میرے ساتھ آنےوالے غنڈے نے اسے اپنی زبان میں کچھ کہا. اندر والے نے دروازہ کھولا جب ہم دروازے سے اندر داخل ہوئے تو ہمیں روک لیا گیا. دو تھائی گارڈوں نے میری جامع تلاشی لی جب مطمئن ہو گئے تو میرے ساتھ آے ہوئے غنڈے کو انہوں نے واپس بھیج دیا اور مجھے ساتھ لے کر آگے چلے. ایک کمرے میں داخل ہونے پر انہوں نے میری آنکھوں پر سیاہ پٹی باندھ دی. اور مجھے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر آگے بڑھے. غالباً مزید دو کمروں میں سے گزرنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ ہم کھلی فضا میں آ گئے ہیں. وہاں سے ایک کار میں مجھے بٹھا کر وہ دونوں میرے دائیں بائیں بیٹھ گئے. گاڑی اندازاً 30 منٹ چلنے کے بعد رکی گاڑی سے اتر کر دونوں تھائی مجھے لیے ایک گھر میں داخل ہوئے. اور ایک کمرے میں پہنچ کر مجھے ایک کرسی پر بٹھا کر میری آنکھوں سے پٹی ہٹائی. یہ ڈرائنگ روم تھا جس میں مجھے بٹھایا گیا تھا اور میرے سامنے صوفوں پر تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے. ان تینوں. میں سے ایک جو غالباً ان کا چیف تھا نے دونوں تھائیوں کو باہر جا کر انتظار کرنے کا کہا. وہ دونوں کمرے سے باہر نکل گئے. چیف نے نہایت نرم لہجے میں مجھ سے میرے اس طرح لاے جانے پر مجھ سے معذرت کی. وہ اچھی خاصی انگریزی بول رہا تھا اس نے کہا کہ سیکورٹی کیوجہ سے ایسا کرنا مجبوری تھی. جس کے لیے وہ نادم ہوں. چیف نے مجھ سے پوچھا کہ مجھے کیا چاہیے اسلحہ منشیات یا ایل ایس ڈی تو میں نے کہا کہ مجھے دو درجن ہینڈ گرنیڈ ایک امریکن پسٹل کم سے کم 32 بور کا تین فالتو میگزین اور دو سو گولیاں چاہیئے. اس نے ایک اور تھائی کو مسکرا کر کہا کہ یور ڈیپارٹمنٹ دوسرا تھائی مجھے لے کر ایک اور کمرے میں چلا گیا. اس کمرے میں دیواروں پر مختلف قسم ہتھیار سجے لٹکے ہوئے تھے. تھائی نے 32 بور کے دو پسٹل مجھے اتار کر دکھائے. دونوں پسٹل امریکی ساختہ تھے. ایک کی میگزین 7 گولیوں والی جبکہ دوسرے کی 11 گولیوں والی تھی. مختلف ٹائمنگوں کے ہینڈ گرنیڈ بھی دکھائے. اور ساتھ ہی کہا کہ ہم سودے بازی نہیں کرتے جو دام بتائیں جائیں گے اگر منظور ہوں تو ٹھیک ورنہ آپ واپس جا سکتے ہیں.
میں نے دام پوچھے تو اس نے نہایت مناسب قیمت بتائی. میں نے 6سیکنڈ میں پھٹنے والے درجن گرنیڈ اور 11 گولیوں والا پسٹل پسند کیا. تھائی کے کہنے کے مطابق میں نے اس اسلحہ کی آدھی قیمت ادھر ہی ادا کر دی. اور باقی آدھی رقم سامان کی ڈلیوری ہونے پر ہوٹل میں ادا کرنی تھی.
تھائی نے مجھے ایک اچھا گاہک سمجھتے ہوئے کہا کہ وہ مجھے LMG( لائٹ مشین گن) SMG(سمال مشین گن) بزرکاRRاور امریکی ساختہ تمام آٹو میٹک ہتھیار حتی کہ اسٹنگر میزائل اور ان ہتھیاروں کا ایمونیشن بھی مہیا کر سکتا ہے. اس کے علاوہ جتنی بھی مقدار میں چاہوں وہ مجھے حشیش ایل ایس ڈی اور گولڈن ٹرائی اینگل کی بنی ہوئی ہیرؤن بھی سپلائی کر سکتا ہے. میں نے اسکا شکریہ ادا کیا واپسی پر پہلے کیطرح میری آنکھوں پر پٹی باندھ کر مجھے ایک گاڑی میں بٹھا کر پہلے گھر کے قریب مجھے اتار دیا گیا اگلے روز رات 8 بجے ہوٹل میں مجھے سامان کی ڈلیوری کر دی گئی اور میں نے باقی پیمنٹ ادا کر دی. تو سامان لانے والوں میں سے ایک نے مجھے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو وہ ڈائریکٹ مسٹر تھان سے رابطہ کر لے تو مطلوبہ چیزیں پہنچا دی جائیگی.شاید میں پہلے بھی کسی جگہ عرض کر چکا ہوں کہ سمگلر لکھنے لکھانے کا تکلف نہیں کرتے انکی زبان ہی سب کچھ ہوتی ہے. پہلے بمبئی میں اور اب بنکاک میں میرا تجربہ ہوا. سمگلروں کی زبان ہی انکے وعدے وعید ہوتے ہیں. جو کہہ دیا سو کہہ دیا اس پر پورا اترتے ہیں. کاش ہمارے کاروباری حضرات ان سمگلروں سے ہی کچھ سبق سیکھ لیں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے لگ جائیں اگلے روز میں نے بازار سے ایسی جیکٹ خریدی جس میں یہ اسلحہ چھپایا اور سما سکے. جیکٹ خریدتے وقت یکایک دوکاندار نے مجھے نظر انداز کیا اور دوکان سے باہر آ کر ہاتھ جوڑ کر کھڑا ہو گیا. سڑک پر سات یا آٹھ گاڑیوں کا قافلہ گزر رہا تھا. باہر سبھی دوکان دار اور سڑک پر چلنے والے مردوزن اسی طرح ہاتھ باندھے اور سر جھکائے کھڑے تھے. قافلہ گزرنے کے بعد جب دوکان دار اندر آیا تو میرے پوچھنے پر دوکاندار نے بتایا کہ یہ قافلہ بھائی خان کا تھا. جو تھائی لینڈ کا بے تاج بادشاہ ہے. اور اپنی نوجوانی میں ( تقسیم ہند سے پہلے) یہاں آیا تھا. اور پھر یہی کا ہو کر رہ گیا. دوکاندار نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بھائی خان کی داستان سنائی تو میں حیران رہ گیا. اور فیصلہ کیا کہ پہلی فرصت میں بھائی خان سے ملوں گا. کیونکہ ایسی عجوبہ شخصیت روز روز پیدا نہیں ہوتی.
میری ضرورت کا اسلحہ مجھے مل چکا تھا. راستے میں ہائل ہونیوالی جھاڑیوں اور کانٹے دار درختوں کو راستے سے ہٹانے کے لیے خنجر اور چاقو بھی میں خرید چکا تھا. ملیریا سے بچنے کے لیے کونین کی گولیاں سانپوں کے زہر سے بچنے کے لیے میڈیسن اور فرسٹ ایڈ بکس بھی میں خرید چکا تھا. دوران سفر کے لیے کپڑے بھی میں نے خرید لیے اور ہئیر کیٹ کیپ بھی خرید لی. اس طرح میری ساری تیاری بلکل مکمل ہو چکی تھی اب بس ایک گائیڈ اور دو سامان اٹھانے کے لیے مزدوروں کی ضرورت تھی. میں نے جس گائیڈ اور مزدور سے ساتھ جانے کی بات کی انہوں نے تھائی لینڈ کی سرحد تک جانے کی حامی بھرتے مگر برما جانے سے صاف انکار کر دیتے. مجھے تو ایسے افراد کی ضرورت تھی. جو میرے ساتھ سارا تھائی لینڈ عبور کر کے برما تک اور برما عبور کر کے بھارتی سرحدی قصبے کالادان تک میرے ہمراہ جائیں. وہاں سے پھر برما میں داخل ہو کر کشتی میں سوار ہو کر بنگلہ دیشی قصبے کاکس بازار یا برما سے خشکی کے راستے بنگلہ دیش میں داخل ہو کر رانگا ماٹی تک میرے ساتھ جائیں. اور پھر انہی راستوں سے واپس لوٹتے ہوئے تھائی لینڈ واپس آئیں. اس سلسلے میں میں نے ہوٹل کی مالکہ رانی سے بات کی تو اس نے کہا کہ یہاں سے کوئی بھی تھائی تمہارے ساتھ اس سفر پر نہیں جاۓ گا. اور اگر بالفرض تیار ہو کر تمہارے ساتھ چلا بھی جاتا ہے تو راستے میں تمہیں قتل کر کے سامان لوٹ کر واپس آ جاۓ گا. رانی کی بات سن کر میں ہر طرف سے نامید ہو گیا کہ اچانک مجھے بھائی خان کا خیال آیا. چنانچہ میں نے بھائی خان کے متعلق معلومات اکھٹی کرنی شروع کر دیں جب تمام معلومات اکٹھی کر لیں تو وہ بہت حیرت انگیز تھیں جن پر یقین کرنا تھوڑا مشکل تھا مگر اس کے متعلق سن کر میں خود کو بھائی خان کے سامنے بلکل چھوٹا محسوس کرنے لگا. بھائی خان اٹک کے قریب مانسر کیمپ کی پہاڑیوں میں واقع ایک گاؤں کا ان پڑھ شخص تھا. قیام پاکستان سے قبل وہ غربت سے تنگ آ کر کراچی میں ایک مال بردار جہاز میں ملازم بھرتی ہوا. جب یہ جہاز بنکاک پورٹ پر لنگر انداز ہوا تو بھائی خان جہاز سے چھلانگ لگا کر رات کے اندھیرے میں تیرتا ہوا ساحل پر پہنچا اور وہاں سے غائب ہو گیا. جلد ہی اسکی بے خوفی اور نڈر پن کو دیکھتے ہوئے ایک سمگلروں کے گروہ نے اسے اپنے ساتھ شامل کر لیا. اسمگلنگ کے رموزواوقاف جاننے کے بعد اس نے اپنا ایک گروہ تشکیل دے دیا. اور بیس سال کے عرصے میں اس نے اپنے آبائی گاؤں کے بہت سے غریب لڑکوں کو بنکاک بلا کر اپنے گروہ میں شامل کر لیا. جن کی تعداد تقریباً 5 ہزار افراد تھی یہ سب غیر قانونی طریقے سے تھائی لینڈ منگواے تھے بھائی خان کا ہیڈ کوارٹر سارا بری تھا.
ہر نئے آنے والے کو وہ گوریلا جنگ اور ہر قسم کا اسلحہ چلانے کی تربیت دیتا تھا غرض یہ کہ اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ اس کے پاس 5 ہزار گوریلا جنگجو بھی تیار ہو گئے. بھائی خان کی اس خفیہ سرگرمیوں کی اطلاع ملنے پر تھائی حکومت نے پہلے پولیس بھیجی. جو اپنی درجنوں لاشیں چھوڑ کر بھاگ گئی. اور پھر فوجی دستے بھیجے گئے. لیکن ان پہاڑی علاقوں میں وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے. ہوائی جہاز سے پھینکے ہوئے بم بھی بیکار گئے. بالآخر تھائی حکومت نے مجبور ہو کر بھائی خان سے مذاکرات کرنے کی ٹھانی. یہ واقعہ پچاس کی دہائی کا ہے. تھائی لینڈ میں بادشاہت قائم تھی. شاہی محل میں بادشاہ وزیراعظم اور فوج کے سربراہان کی موجودگی میں بھائی خان سے مذاکرات ہوئے. تھائی حکومت ہر طرح سے مایوس ہو چکی تھی. لہٰذا بھائی خان سے اسکے مطالبات پوچھے گئے. حکومت کے خیال میں یہ تھا کہ ایک مسلمان جو ایک مہاجر بھی تھا وہ زر جواہرات کی ڈیمانڈ کرے گا مگر جب بھائی خان نے اپنے مطالبات پیش کیے تو وہاں پر موجود ہر شخص انگشت بدانداں رہ گیا. بھائی خان کا پہلا مطالبہ یہ تھا کہ پورے تھائی لینڈ میں حلال جانور کا کوئی بھی غیر مسلم جھٹکا نہیں کرے گا بلکہ اسکو مسلمان ذبح کیا کریں گے. دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ تھائی لینڈ میں مسلم بچیوں کو سکول اور کالج میں اسکرٹ پہننے پر مجبور نہیں کیا جائے گا. وہ پاجامہ یا پتلون پہنیں گی. اور سر کو دوپٹے سے یا اسکارف سے ڈھانپییں گی. تیسرا مطالبہ کوئی بھی مسلمان عورت بدکاری نہیں کرے گی. اور اس کے بعد مسلم عورت بدکاری کرتی ہوئی پکڑی گئی اسے اس کے والدین اور عزیز واکارب کو لمبی قید سنائی جاے گی. بھائی خان کے یہ تینوں مطالبے فوری طور پر مان لیے گئے. سارے تھائی لینڈ میں اب تک حالت یہ ہے کہ کسی بھی ہوٹل ریسٹورنٹ یا قصاب سے حلال چوپائے کا گوشت اس یقین پر لے سکتے ہیں کہ یہ مسلم کے ہاتھ سے ذبح شدہ ہے.سارے تھائی لینڈ کی مسلم بچیاں اپنے پاجامے پتلون اور اسکارف کیوجہ سے الگ پہچان بنا چکی ہیں. تمام بدقماش اور بدکار عورتیں اپنی غیر مسلم پہچان کے لیے ماتما بدھ کے پتلے کو گلے میں لٹکائے رکھتی ہیں. اور اگر کوئی مسلم عورت ایسا کرتے پکڑی جائے تو اسکو اس کے شوہر یا سرپرست سمیت لمبی قید بھگتنی پڑتی ہے. اپنے انہی مطالبات کی منظوری کے بعد بھائی خان نے سمگلنگ چھوڑ دی. اور حکومت نے اسے اور اس کے ساتھیوں کے لیے بنکاک کے گردونواح سے لے کر چیانگ رائی اور چنگ ماہی تک اور دوسری طرف ملائشیا کی سرحد کے ساتھ صوبہ ریحان (ہرجائی) تک بھینسوں کے فارم بنانے اور حلال گوشت کی سپلائی دینے کے لیے وسیع زمینیں الاٹ کیں.

_*جاری ہے*_
(قاری شفیق احمد)

13/11/2020

_*🕵🏼‍♂️ جانباز*_

_*قسط نمبر 3*_

_*راجہ نے کراچی میں ملاقات کے*_ دوران اپنے خاندان اور جواہرات کو ساتھ لانے کا کہہ کر مجھے مشکل میں ڈال دیا تھا. راجہ کے یہ کہنا کہ جواہرات کا اس کے بیٹے کو ذرا بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے. اور نہ ہی قبیلے کے کسی فرد کو ان جواہرات کے متعلق علم ہونا چاہیے. ان سب باتوں سے مجھے اپنے مشن کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہو گیا تھا. پہلے میں سمجھتا تھا کہ چکمہ قبیلے میں پہنچ کر ہم محفوظ ہو جائیں گے. اور راجہ کا بیٹا قبیلے کا سردار رانگا ماٹی میں ہمارے قیام طعام اور واپسی پر ہمارے لیے مددگار ثابت ہو گا. لیکن راجہ کی بات سن کر صورت حال مختلف دکھائی دے رہی تھی. دوران سفر مجھے اور میرے ساتھیوں کو اتنی مشکلات کا سامنا نہیں ہو سکتا تھا جتنا اب رانگا ماٹی میں ہو گا.سردار کے بدلنے کے ساتھ لوگوں کی وفاداریاں بھی بدل گئی ہو گی.نئے سردار کی تقرری کا فرمان میں اپنے ہمراہ لے جا رہا تھا. اس فرمان کے مطابق وہ لوگ جو راجہ تری کے وفا دار تھے اب اپنی وفاداریاں نئے راجہ کے ساتھ اٹیچ کرنی ہوں گی. رانگا ماٹی دشوار گزار پہاڑیوں میں گھرا ہوا تھا. وہاں پہنچنے کے لیے سب آسان اور کم ترین راستہ چٹاگانگ سے ہو کر جاتا ہے. اس راستے پر بھی کوئی باقاعدہ سڑک نہیں ہے اونچے نیچے راستوں پر فور وہیل بھی بڑی مشکل سے گزرتی ہے. مجھے اپنی ڈرائیونگ پر بڑا ناز ہے مگر ماضی میں جتنی بار بھی میں ان راستوں پر گاڑی لے کر گزرا بڑی مشکل پیش آتی اسی کے راستے میں ایک دریا بھی عبور کرنا پڑتا ہے جس پر بس دونوں طرف گاڑی کی چوڑائی کے حساب سے لکڑی کے تختے رسوں اور لوہے کی تاروں کے ساتھ فکس کر کے جوڑے گئے ہیں اور درمیان میں جگہ خالی ہے ان تختوں پر گاڑی چڑھا کر میں آ نکھیں بند کر کے پورا ایکسیلیٹر دبا دیتا تو جب دریا کے پار پہنچتا تو ساتھی آوازیں دیتے کہ گاڑی روکو پل کراس کر لیا ہے. یہ سہل ترین راستہ بھی اب ہمارے لیے ممنوع تھا کیونکہ ہم کسی صورت بھی چٹاگانگ جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے میرے پلان کے مطابق ہمیں بلند ترین پہاڑی سطح سے ہوتے ہوے پہلے مورنگ اور پھر مگھ قبیلوں کے پاس سے گزرتے ہوئے چکمہ قبیلے میں داخل ہونا تھا. اور اسی راستے سے واپس لوٹنا تھا. واپسی پر رانی اسکا بیٹا اور جواہرات بھی ساتھ ہونے تھے تصور میں تو یہ بڑی ایڈونچر اور دلچسپ مہم دکھائی دیتی تھی. اور عملی طور پر ناممکن لگتی تھی. بہت زیادہ سوچ وبچار کے بعد دوسرے دن میں پھر راجہ کے پاس گیا اور اسے کہا کہ وہ مجھے اپنے بڑے بیٹے کے نام ایک اور فرمان لکھ کر دے جس میں تمہاری بہت جلد واپسی اور قبیلے کی سرداری دوبارہ سنبھالنے اور بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے اور تمہارے یورپین کراے کی فوج کے حصول کی کوشش کا احوالِ درج ہو.
رانی اور چھوٹے بیٹے کو پاکستان بلانے کیوجہ اور آئندہ جنگ میں انکی حفاظت اور قبیلے کے لوگوں کو اس جنگ کے لیے پوری طرح تیار رہنے کا لکھے. میں نے راجہ کو کہا کہ میں یہ فرمان تمہارے بڑے بیٹے کو پہلے دوں گا اور واپسی کے وقت اسے کہوں گا کہ رانی اور چھوٹے بھائی کی حفاظت کے پیش نظر چند معتبر اور بہادر آدمی ہمارے ساتھ بھیجے. جو برما کی سرحد تک ہمارے ساتھ رہیں. جب وہ ہمیں برما چھوڑ کر واپس جانے لگیں گے تو ان میں معتبر شخص کو میں آپ کا دوسرا فرمان جس میں آپ نے اپنے بڑے بیٹے کو قبیلہ کا سردار نامزد کیا ہے دوں گا. جب تک وہ فرمان آپ کے بیٹے کے پاس پہنچے گا تب تک ہم وہاں سے بہت دور نکل چکے ہوں گے. راجہ کو میری بات سمجھ آ گئی اس نے یہ دوسرا فرمان بھی لکھ کر میرے حوالے کر دیا. میں نے دونوں فرمانوں پر اپنے نشان لگائے تاکہ دیتے وقت غلطی کی گنجائش نہ رہے. راجہ سےمیری دوستی بے تکلفی کی حد تک تھی میں نے راجہ سے کہا کہ جب تم ایک فرانسیسی عورت سے پیار کی پینگیں بڑھا رہے ہو تو پھر رانی کو یہاں بلانے کی وجہ وہ جواہرات ہوں گے جو رانی کے بغیر یہاں تک نہیں پہنچ سکتے. بجائے چھپنے کے راجہ کھلکھلا کر ہنس پڑا اور بولا. میں تمہاری ذہنی رسائی کی داد دیتا ہوں. مجھے واقعی جواہرات کی ضرورت ہے. رانی اور بیٹے کو انگلینڈ بھجوا دوں گا تاکہ میرا بیٹا مغربی تعلیم حاصل کر سکے. جہاں تک فرانسیسی عورت کا تعلق ہے تو تم نے آج اسے پہلی بار ہی دیکھا ہو گا. تمہارے یہاں آنے سے چند لمحے پہلے ہی وہ یہاں سے نکلی تھی. نجانے ایسی کتنی عورتیں یہاں اور اسلام آباد سے میرے پاس آتی ہیں. میں تمہیں یہ بتا دوں کہ ان میں زیادہ تر پاکستانی اور مسلم ہوتی ہیں. راجہ کی یہ بات سن کر مجھے طیش تو بہت آیا. مگر میں خاموش رہا. اسکی وجہ یہ بھی تھی کہ راجہ کسی عورت کو بلانے کے لیے اس کے گھر نہیں جاتا اور نہ ہی اس کو بلاتا ہے وہ خود ہی اپنی ضروریات یا اپنے اغراض و مقاصد کے لیے راجہ کے پاس آتی ہیں. جب اپنی مرغی اچھی نہ ہو تو پھر ہمسائیوں کے گھر اس کا انڈہ دینے پر جھگڑا کیوں کرنا. اور بات چند کی نہیں بلکہ یہاں تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا تھا.اگلا دن میں نے سفر کی تیاری اور اپنے پلان کی نوک جوک کو درست کرنے میں گزار دیا. میں سوچ رہا تھا کہ دہلی سے قیصر پارٹی اگر نہ آ سکی تو کیا مجھے ان کے متبادل قابل اعتماد ساتھی کہاں سے ملیں گے. میرا بنکاک تک کا سفر لیگل تھا جانے اور آنے تک کے لیے جبکہ اس سے آگے کا سفر ان لیگل تھا
مجھے تھائی لینڈ سے گائیڈ بھی لینے تھے. اور اسلحہ بھی خریدنا تھا اور اگر دہلی سے لڑکے نہیں آتے تو پھر مجھے بنکاک سے ہی ساتھیوں کا انتخاب کرنا تھا میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ مجھے اچانک خیال آیا کہ میرا ایک سال باہر جانے پر پابندی کیوجہ سے میرا محکمہ بھی میری نگرانی کر رہا ہو گا ایسی صورت میں کسی طور بھی نہیں جا سکتا تھا. اس طرح اچانک ایک غلط نام سے پاسپورٹ بنوا کر جانے کی صورت میں میرے محکمے کو میرے اوپر شک ہو سکتا تھا. جو میرے لیے وبال جان سے کم نہیں تھا. میرے اوپر پابندی کیوجہ یہ تھی کہ گو میں نے بھارت میں بہت سے اہم مشن سرانجام دئیے تھے جس پر میرے محکمے نے مجھے سراہا بھی تھا مگر ڈی ایم آئی کی قید سے بھاگنے کی بات ان کے لیے تھوڑا ہضم کرنا مشکل ہو رہی تھی شک کی بنا پر کہ میں کہیں ڈبل ایجنٹ کا رول ادا نہ کر رہا ہوں اسی لیے میری نگرانی اور ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد تھی. اگر میں بغیر اطلاع کیے چلا جاتا ہوں تو میری واپسی پر میرا جو بھیانک حشر ہونا تھا وہ سوچ کر ہی میں کانپ اٹھا لہذا میں اسی ٹائم راجہ تری کے پاس گیا اور اپنے خدشے کا اظہار کیا راجہ نے میری بات غور سے سنی اور وہ بھی سوچ میں پڑھ گیا ہم نے پلان بنانے کے دوران اس بات کو بلکل نظر انداز کر دیا تھا. وہ بھی سوچنے لگا کہ کیا کیا جائے اس نے اپنی آخری کوشش کے طور پر اپنے سیکرٹری کو وزیراعظم سے کال ملانے کا کہا اور کہا کہ انتہائی Top priority (اہم بات) کرنی ہے خوش قسمتی سے 30 منٹ کے بعد بھٹو صاحب لائن پر تھے. راجہ نے چونکہ بھٹو سے پہلے ہی اس معاملے پر بات کی ہوئی تھی لہذا اب ساری بات اسے دہرانے کی ضرورت نہ پڑی. راجہ اور بھٹو بے تکلف دوست بھی تھے اور ایک تھالی کے چھٹے بٹے بھی تھے. میں تو فون پر صرف راجہ کی بات ہی سن سکتا تھا آگے سے کیا جواب مل رہا ہے اس کا مجھے علم نہیں ہو رہا تھا لیکن جب فون پر بات چیت ختم ہوئی راجہ نے فون رکھا تو اس کے چہرے پر اطمینان جھلک رہا تھا. راجہ نے مجھے کہا کہ بے فکر ہو جاؤ سب ٹھیک ہو جائے گا. اور آپ یقین کریں کہ ایک گھنٹے بعد ہی راجہ کے پی اے نے بتایا کہ میرے سیکرٹ محکمے کے دو افسران اسلام آباد کی ہدایات سے ملنے کے لیے آے ہیں. انہیں فوراً راجہ نے بلا لیا. ان دوافسران نے مختصراً میرے اور راجہ کے بیان لیے. اور ایک پہلے سے ٹائپ شدہ کلئرنس سرٹیفکیٹ جس پر خالی جگہوں پر میرا اصل نام نقل نام پاسپورٹ نمبر اور محکمانہ کوڈ نمبر انہوں نے خود لکھ کر مجھے دیا سرٹیفکیٹ پر لکھا ہوا تھا کہ انتہائی اہم فرض کی انجام دہی کے لیے میرے محکمے کے سربراہ کی ہدایت پر مجھے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی ہے. اور واپسی پر اپنے سابقہ محکمے میں آ کر روپوٹ کروں. یہ سرٹیفکیٹ دے کر وہ لوگ چلے اور میری بہت بڑی مشکل حل ہو گئی. ہوٹل میٹرو پول آ کر میں نے اس سرٹیفکیٹ کی 4 کاپیاں بنوائیں ایک کاپی اپنے گھر بھیجی دوسری پشاور میں ہوٹل کے مالک بابر خان کو اور تیسری ماٹر مینوالا کو امانتا دی اور چوتھی کاپی بنکاک جا کر تلف کرنی تھی.میں صبح 9 بجے ہی بنکاک کے مرکزی ٹیلی فون اور ٹیلیگرام آفس پہنچ گیا. اور دہلی میں عارف کے گھر کے لیے ارجنٹ کال بک کی. چند منٹس بعد ہی کال مل گئی کال خود عارف نے اٹینڈ کی. خیر خیریت دریافت کرنے کے بعد جب میں نے اسے بتایا کہ میں بنکاک سے کال کر رہا ہوں تو وہ حیران ہوا اور جب میں نے اسے اپنے مشن پر جانے کا بتایا تو اس نے کہا کہ خدا کے لیے اب بس بھی کرو کیوں اپنی جان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہو کیا بھارت اور کھٹمنڈو میں پیش آنے واقعات سے تمہارا جی نہیں بھرا. میں نے کہا کہ میں تو اپنی زندگی پرسکون طریقے سے گزارنا چاہتا ہوں مگر میرا ایک بہت قریبی غیر مسلم دوست ہے جس نے مجھ پر احسان کیے ہیں آج اس نے جب مجھ سے مدد مانگی تو میں انکار نہ کر سکا. میں نے کہا کہ اس مہم پر مجھے بشیر کے گیراج والے لڑکے خاص کر قیصر کی ضرورت ہے تو عارف نے کہا کہ تمہارے جانے کے بعد قیصر نے اپنے گیراج میں ٹیلی فون لگوا لیا ہے.ساتھ ہی عارف نے مجھے گیراج کا نمبر دیتے ہوئے بتایا کہ نذیر اور تمہارے ساتھی اور قیصر لوگ سب خیریت سے ہیں. تھوڑی سے مزید گفتگو کے بعد میں نے فون بند کر کے قیصر کے گیراج کے نمبر پر کال بک کروائی. ایک دو گھنٹی کے بعد قیصر نے خود فون اٹھایا. اس سے بھی رسمی کلمات اور بات چیت کے بعد میں جب اصل بات پر آیا اور اسے بتائی تو وہ بھی حیران رہ گیا. کہنے لگا کہ آپ گوشت پوشت کے بنے ہوئے ہیں یا لوہے کے. میں نے اسے اپنی مجبوری بتائی اور اسے کہا کہ اس مہم پر تم اپنے 6 ساتھیوں کے ساتھ میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو سکتے ہو. تو قیصر نے کہا کہ بھائی جان آپ کے ساتھ تو میں تحت الثری تک جانے کے لیے بھی تیار ہوں. آپ حکم کریں میں نے اسکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ابھی تو اس مہم کے واضع خدوخال میں خود بھی تشکیل نہیں دے سکا تم اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر پوری تیاری کر لو. آج سے تقریباً دسویں روز میں اسی ٹائم تم کو فون کروں گا میرا فون ملنے پر تم ساتھیوں سمیت دہلی سے چل پڑنا. اور میں بنکاک سے روانہ ہو جاؤں گا ہماری ملاقات ان شاء اللہ بھارت اور برما کی سرحد پر موجود قصبےکالادان میں ہو گی. اپنے ہمراہ لانگ شوز لازماً لے کر آنا کیونکہ اس مہم میں ہمیں زہریلے سانپوں جھونکوں مچھروں مکھیوں دلدلی علاقوں اور وحشی قبائل کا سامنا کرنا پڑے گا. اس لیے ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کر کے آنا. کالادان پہنچنے کے لیے نقشوں سے مدد لینا. میں کل اسی وقت دوبارہ فون کروں گا اگر آپ لوگ کسی بھی وجہ نہ آ سکو یا آپ لوگوں کا نہ آنے کا پروگرام بنے تو مجھے کل ہی بتا دینا. قیصر نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا کہ بھائی جان کل اگر آپ نے یہ بات جاننے کے لیے فون کرنا ہے کہ ہم آپ کے ساتھ مشن پر جانے کے لیے تیار ہیں یا نہیں تو پھر فون مت کیجئیے گا قیصر نے جو زبان سے وعدہ کر لیا سو کر لیا اسے بشرط زندگی نبھائے گا بھی. اور ہم ساتوں آپکی طرف سے گرین سگنل ملنے کے بعد یہاں سے روانہ ہو جائیں گے. میں نے قیصر کو کچھ مزید ہدایات دینے کے لیے اگلے روز فون کرنے کا کہہ کر فون بند کیا اور واپس اپنے ہوٹل آ گیا.

_*جاری ہے*_

(قاری شفیق احمد)

12/11/2020

_*🕵🏼‍♂️ جانباز*_

_*قسط نمبر 2*_

_*مجھے اس مشن*_ کے متعلق ابھی تک کچھ نہیں بتایا گیا تھا لیکن راجہ تری دیو اور راستوں کی رہبری سے مجھے کچھ کچھ اندازہ ہو گیا تھا کہ مشن کس نوعیت کا ہے مجھے فخریہ ان 6 افراد کے متعلق بتایا گیا کہ یہ ایف ایس ایف کی کریک کمپنی سے منتخب کیے گئے ہیں. یہاں یہ عرض کرتا چلوں کہ کریک کمپنی ایف ایس ایف کے بہادر نڈر اور بے رحم لوگوں کو چن کر بنائی گئی تھی اور یہ پیشہ ور قاتل بھی تھے جن پر ایف ایس ایف کو بہت فخر تھا. اس کمپنی کی صلاحیت کا اندازہ آپ ایک واقعہ سے ہی لگا سکتے ہیں. بھٹو اقتدار حاصل کر کے فرعونیت کے اس دور میں تھا. جہاں پر ذرا سی بھی مخالفت برداشت کرنے کا ان میں یارانہ نہ تھا ہر مخالفت کرنے والے کو وہ نہ صرف فکس اپ کرنے اور دھمکی دینے پر اکتفا نہ کرتے تھے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی کرتے تھے احمد رضا قصوری کو بھٹو نے پارلیمنٹ میں کہا تھا. You have become impossible. I will fix you up(تم میرے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکے ہو میں تمہیں ٹھیک کر دوں گا)اور اسے ٹھیک کرنے کا کام ایف ایس ایف کی اس کریک کمپنی کو سونپا گیا.کوئٹہ اور لاہور میں ان ایف ایس ایف کے ماہر نشانچیوں نے اڑھائی ماہ قصوری صاحب کی نگرانی کی. اور انکے آنے جانے کے اوقات نوٹ کیے.ایکشن کے روز انہی نگرانی کرنے والے افراد میں سے دو افراد نے خود کار ہتھیاروں (Automatic weapons) سے حملہ کیا. اور 87 راؤنڈ فائر کیے.اور غلط آدمی یعنی نواب محمد احمد( احمد رضا قصوری) کے والد کو مار بیٹھے. یہ تھی کریک کمپنی کے ان چیدہ چیدہ منتخب آدمیوں کی صلاحیت. یعنی کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق. اگلے روز صبح 10 بجے کا میں کہہ کر ہیڈ کوارٹر سے رخصت ہوا اور شام 9 بجے راجہ تری دیو کے گھر پہنچ گیا. راجہ میرا منتظر تھا. خاصی دیر خوش گپیاں ہوتی رہیں. کھانے کے بعد ہم پھر اصل موضوع کی طرف آے. راجہ نے بتایا کہ اسکی بیٹی تو امریکہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہے. مگر اسکی بیوی اور دو بیٹے ابھی بھی رانگا ماٹی میں ہی ہیں. بنگلہ دیشی حکومت انہیں گرفتار کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے. تاکہ مجھے پر دباؤ ڈال کر اور بلیک میل کر کے وہ مجھے بنگلہ دیش واپس آنے پر مجبور کر سکیں. پاکستان سے وفاداری کے جرم میں میرے لیے وہ پہلے ہی سزائے موت کے آرڈر جاری کر چکے ہیں. میرا ابھی تک میری فیملی سے رابطہ نہیں ہو سکا اور نہ یہ پتہ ہے کہ وہ کس حال میں ہیں. میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی اور چھوٹا بیٹا یہاں پاکستان میں آ جائیں. اور بڑا لڑکا وہی رہے جس کے لیے قبیلے کی سرداری کے آرڈر میں یہاں سے ہی لکھ کر بھیج دوں. تا کہ اسے قبیلے کا باقاعدہ سردار تسلیم کر لیا جائے. اور وہ بنگلہ دیشی حکومت سے مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں ہو جائے. میں نے وزیراعظم بھٹو سے اپنی اس خواہش کا تذکرہ کیا تھا. اور انہوں نے مسعود محمود کے ذمے یہ ڈیوٹی لگا دی. مجھے قطعی کوئی علم نہ تھا کہ اس مشن کے لیے تمہارا انتخاب ہو گا. اسی لیے تمہیں مسعود کے ساتھ اپنے دفتر میں دیکھ کر حیران ہو گیا تھا. یقین کرو مجھے تمہارا نام بھی ٹھیک طرح سے یاد نہیں تھا. وہ مسعود نے مجھے بتایا تو مجھے یاد آ گیا. راجہ تری اتنا کہہ کر خاموش ہو گیا.
راجہ کے چہرے پر اب ایک سوالیہ نشان تھا.اور میں ماضی کے ان دنوں میں پہنچ گیا. جب رانگا ماٹی میں اس نے میری اور میرے دوستوں کی بھرپور میزبانی کی تھی. مجھے یہ بھی یاد تھا. کہ چٹاگانگ میں میری اصفہانی کمپنی میں ملازمت کے شروع کے دنوں میں ہی دفتر میں ایک متعصب ہندو بنگالی انسپکٹر سے کھٹ پٹ ہو گئی تھی. جو بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی کہ اس نے کھلے بندوں کہہ دیا تھا. کہ چٹاگانگ میں اب تم رہو گے یا میں. اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے اس نے اپنی دھمکی کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے میری کمپنی کے باہر اور میرے ریسٹ ہاؤس کے راستے میں چند غنڈے چھوڑ دئیے. یہ ریسٹ ہاؤس ریلوے روڈ پر مسکا (Maska) ہوٹل کے سامنے واقعہ تھا. وہ بنگالی غنڈے میرے دفتر اور گھر آنے جانے کے دوران مجھ پر آوازیں کستے اور مجھے اکساتے کہ میں زچ ہو کر ان سے بھڑ جاؤں.اور انہیں مجھے مزا چکھانے کا موقع مل جائے. میں نے یہ بات راجہ تری کو بتائی. جو اس وقت اسی ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا. ان دنوں ہماری گاڑھی چھنتی تھی. راجہ اگلے روز دفتر کا ٹائم ختم ہونے سے پہلے ہی دفتر میں میرے پاس پہنچ گیا. اس کے ساتھ اس کے دو تین ملازم بھی تھے.ہم دفتر سے اکٹھے باہر نکلے اور باہر آ کر میں نے راجہ کو وہ بنگالی انسپکٹر کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ یہ ہے وہ انسپکٹر. راجہ دو ملازم اسی وقت رکشہ لے کر اس انسپکٹر کے پیچھے لگ گئے. اگلے روز وہ انسپکٹر نہ آیا. تو چند روز بعد پتہ چلا کہ اس انسپکٹر کو ایک زہریلے سانپ نے کاٹ لیا تھا جس سے اسکی موت واقعہ ہو گئ تھی. کیڑے کے کاٹنے کا نشان انسپکٹر کی گردن پر تھا. میں نے راجہ کو اس کے متعلق بتایا تو راجہ نے کہا (He deserved it) کہ وہ اسی کا مستحق تھا. کہہ کر موضوع گفتگو بدل دیا. آج وہی دوست مجھ سے مدد کا طلبگار تھا. میں نے راجہ کو کہا کہ میں اس مشن میں آخری حد تک جانے کے لیے تیار ہوں. لیکن اس کے لیے میری کچھ شرائط ہیں.اول یہ کہ میں ایف ایس ایف یا کسی بھی سرکاری ادارے کی ہیلپ کے بغیر اپنی مدد آپ کے تحت یہ کام انجام دوں گا. نمبر دو مجھے مختلف نام سے ایک پاسپورٹ چاہیے. جس کا علم کسی کو نہیں ہونا چاہیے. کیونکہ میرے محکمے کیطرف سے میرے ملک سے باہر جانے پر ایک سال کی پابندی عائد ہے. نمبر تین مجھے اس کام کو انجام دینے کے لیے خاصی رقم چاہیئے. کیونکہ اس مشن میں میں اپنے آزمودہ ساتھیوں کو شامل کروں گا. اور آخری اور چوتھی شرط یہ ہے کہ تم مسعود محمود کو یہ کہہ دو کہ تم نے فی الحال یہ کام کرنے کا ارادہ بدل دیا ہے. راجہ نے میری تمام شرائط مان لیں. وجہ اسے خود بھی ایف ایس ایف پر بھروسہ نہیں تھا کہ وہ یہ کام کر سکیں گے یا نہیں تھا کیونکہ معاملہ صرف رانگا ماٹی تک پہنچنے تک کا نہیں تھا بلکہ اسکی فیملی کو بحفاظت اور خفیہ طور پر پاکستان لانے کا بھی تھا. راجہ نے مجھے 5 ہزار روپے سفر کی تیاری کے لیے دئیے. اور کہا کہ آج سے دسویں دن بعد تم مجھے کراچی میں جم خانہ کلب کے سامنے ہوٹل قصر ناز میں ملوں. اور وہ وہاں ایک دن میں میرے سفری پاسپورٹ اپنے خطوط اور ضروری رقم ادا کر دے گا. یہ رات میں نے پھر راجہ سرفراز کے پاس ہی گزاری. دوسرے میں دن 10 بجے ایف ایس ایف کے ہیڈ کوارٹر گیا. جہاں مجھے یہ بتایا گیا کہ یہ مشن فی الحال منسوخ کر دیا گیا ہے. لہذا اب میری ضرورت نہیں ہے.
راولپنڈی صدر سے میں نے بینک روڈ اور کشمیر روڈ کی کراسنگ کے بلکل قریب فاروق سپورٹس سے (Long shoes) گھٹنوں تک آنے والے جوتے اور سفری ضروریات کی چند چیزیں خریدیں. اور شام تک پشاور پہنچ گیا. اس مشن پر جانے کے لیے میں نے اپنے ذہن میں ایک خاکہ تیار کیا تھا اس مشن کی تفصیلات اور مختلف ممالک میں سے گزرنے اور اس میں آنے والی مشکلات اور ان کے حل کے لیے فول پروف پلان ترتیب دے دیا پاسپورٹ ملنے پر میں سیدھا ڈھاکہ بھی جا سکتا تھا. لیکن 76ء کے آغاز سے بنگلہ دیش جانے والے پاکستانیوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا وہاں کے ان حالات کی گواہی وہاں جانے والے یا وہاں کے سفارتی عملے کے ارکان ہی دے سکتے تھے. ان دنوں بنگلہ دیشیوں کی پاکستان سے نفرت عروج پر تھی پورے بنگلہ دیش پر عملاً بھارت کا راج تھا. مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنا کر بنگلہ دیشی بھارت کی غلامی میں آ چکے تھے. غدار مجیب الرحمٰن جسکو بنگلہ دیشی عوام نے اپنا نجات دہندہ سمجھ کر سر آنکھوں پر بٹھا لیا تھا. جب مجیب کی غداری بنگلہ دیشی عوام کے سامنے آئی تو سواے حسینہ واجد کے مجیب الرحمن کے سارے خاندان کو گولیوں سے بھون دیا گیا. حسینہ واجد جو کہ ان دنوں حسینہ مجیب کے نام سے جانی جاتی تھی جو اس وقت لندن میں زیر تعلیم تھی بچ گئی. باقی مجیب الرحمن کے سارے خاندان کو گولیاں مارکر ختم کر دیا گیا ان کی بےگوروکفن لاشیں کئی روز تک ایسے ہی پڑی رہیں یہاں تک کہ ان لاشوں سے بدبو اور تعفن اٹھنے لگا تو آس پاس کے گھروں کے مکین اس تعفن اور بدبو سے تنگ آ کر اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے. بنگلہ دیش کی تین سیاسی پارٹیاں ہیں
پہلی بنگلہ دیش کرشک مرشک عوامی پارٹی
دوسری بنگلہ دیش نیشنل پارٹی
تیسری. جاتیہ پارٹی
سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کے پہلے وزیراعظم کا نام تاج الدین احمد تھا جنہوں نے 11 اپریل 1971 کو بطور بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے عہدہ سنبھالا اور 12 جنوری 1972 تک وزیراعظم رہے. اس کا تعلق عوامی پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے دوسرے وزیراعظم شیخ مجیب الرحمٰن نے 12 جنوری 1972 کو بطورِ وزیراعظم عہدہ سنبھالا اور یہ 25 جنوری 1975 تک بطور وزیراعظم رہے یہ بھی عوامی پارٹی سے تھے
بنگلہ دیش کا تیسرا وزیراعظم محمد منصور علی جو کہ 25 جنوری 1975 کو وزیراعظم بنے اور 29 جون 1978 کو وزیراعظم کے عہدے سے معزول کر دیئے گئے ان کا تعلق بھی عوامی پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے چوتھے وزیراعظم مسیح الرحمن 29 جون 1978 کو بطور وزیراعظم عہدے پر براجمان ہوے اور 12 مارچ 1979 تک وزیراعظم رہے ان کا تعلق نیشنل پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے پانچویں وزیراعظم شاہ عزیزالرحمن 15 اپریل 1979 کو وزیراعظم منتخب ہوے اور 30 مارچ 1984 کو معزول کر دئیے گئے ان کا تعلق بھی نیشنل پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے چھٹے وزیراعظم عطاء الرحمن خان 30 مارچ 1984 کو منتخب ہوئے اور 9 جولائی 1986 تک رہے. ان کا تعلق جاتیہ پارٹی سے تھا بنگلہ دیش کے ساتویں وزیراعظم میزان الرحمن چوہدری 9 جولائی 1986کو منتخب ہوئے اور 27 مارچ 1988 تک رہے ان کا تعلق بھی جاتیہ پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے آٹھویں وزیراعظم مودود احمد 27 مارچ 1988 کو منتخب ہوے اور 12 اگست 1989 تک رہے ان کا تعلق بھی جاتیہ پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے نویں وزیراعظم قاضی ظفر احمد 12 اگست 1989 کو منتخب ہوے اور 6 دسمبر 1990 تک رہے ان کا تعلق بھی جاتیہ پارٹی سے تھا یہ 20 مارچ 1991 تک نگران وزیراعظم بھی رہے
بنگلہ دیش کے دسویں وزیراعظم خالدہ ضیاء 20 مارچ 1991 کو منتخب ہوئیں اور 30 مارچ 1996 تک رہیں. ان کا تعلق نیشنل پارٹی سے تھا
بنگلہ دیش کے گیارہویں وزیراعظم محمد حبیبِ الرحمن 30 مارچ 1996 بطور نگران وزیراعظم منتخب ہوے اور 23 جون 1996 تک رہے.
بنگلہ دیش کے بارہویں وزیراعظم حسینہ واجد 23 جون 1996 کو منتخب ہوئیں اور 15 جولائی 2001 تک رہیں ان کا تعلق عوامی پارٹی سے ہے.
بنگلہ دیش کے تیرھویں وزیراعظم لطیف الرحمن 15 جولائی 2001 کو بطور نگران وزیراعظم منتخب ہوے اور 10 اکتوبر 2001 تک رہے
بنگلہ دیش کے چودھویں وزیراعظم خالدہ ضیاء 10 اکتوبر 2001 کو منتخب ہوئیں اور 29 اکتوبر 2006 تک رہیں.اس کا تعلق نیشنل پارٹی سے ہے.
بنگلہ دیش پندرھویں وزیراعظم عیاض الدین احمد 29 اکتوبر 2006 کو بطور نگران وزیراعظم منتخب ہوے اور 11 جنوری 2007 تک رہے
بنگلہ دیش کے سولھویں وزیراعظم فضل الحق 11 جنوری 2007 کو نگران وزیراعظم منتخب ہوے اور 12 جنوری 2007 یعنی ایک دن معزول کر دئیے گئے.
بنگلہ دیش کے سترھویں وزیراعظم فخرالدین احمد 12 جنوری 2007 کو نگران وزیراعظم منتخب ہوے اور 6 جنوری 2009 تک رہے
بنگلہ دیش کے اٹھارہویں وزیراعظم حسینہ واجد 6 جنوری 2009 کو بطور وزیراعظم منتخب ہوئیں اور آج تک وزیراعظم ہیں ان کا تعلق عوامی پارٹی سے ہے.
میں نے اپنے پلان میں اپنے آزمودہ ساتھیوں یعنی دہلی میں بشیر کے گیراج والے لڑکوں اور ان کے لیڈر قیصر کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا. کیونکہ وہ جری بہادر بھی تھے اور جان پر کھیل جانے کو معمولی بات سمجھتے تھے. لیکـن ان سب کی دشواری بھارتی پاسپورٹ کا حصول تھی. اس سکیولر ملک میں جہاں سب مذاہب کے ماننے والوں کے ساتھ یکساں سلوک کا پرچار کیا جاتا تھا. مسلمانوں کو آزادی سے سانس لینے کی بھی اجازت نہ تھی. حتی کہ عدالتوں میں چاہے وہ مجسٹریٹ کی ہوں یا جج کی. صرف نمائشی طور پر قرآن. گیتا. گرنتھ پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانے کی اجازت تھی. باقی سب کام یعنی تفتیش سے جیل تک مسلمانوں کے ساتھ ایسا گھٹیا سلوک کیا جاتا ہے کہ اللہ کی پناہ. میں پاکستان سے دہلی خط بھی نہیں لکھ سکتا تھا اس کی ایک وجہ تو میرے محکمے کی مجھ پر نگرانی تھی اور دوسری پاکستان سے بھارت جانے والے خط سنسر کیے جاتے تھے. جس کیوجہ سے مجھ پر شک کیا جا سکتا تھا. اوراگر خط بھارت پہنچ بھی جاتا تو قیصر لوگوں کے لیے مصیبت بن سکتا تھا. میں نے رانگا ماٹی جانے کے لیے جو رستہ متعین کیا تھا وہ بہت لمبا اور بل کھاتا ہوا جنگلوں دریاؤں سے گزرتا ہوا تھا. میں نے اپنے دوست اور ہوٹلز کے مالک بابر خان سے چند روز کی چھٹی لی. اور 12 روز کی تاریخ کا لکھا ہوا استعفیٰ بھی دے دیا اور کہا کہ اگر میں 10 تک واپس نہ پہنچ سکا تو یہ میرا استعفیٰ منظور کر لینا. دراصل ان حالات ہی کچھ ایسے تھے کہ ہر وقت بے یقینی کا عالم رہتا تھا. کسی کو بھی کچھ علم نہ تھا کہ سیاسی طور پر کیا گھل کھل رہیں ہیں اور اگلے روز کیا ہونے والا ہے. راجہ تری نے بھی پہلے ایف ایس ایف کی خدمات حاصل کیں. اور پھر میرے ایک اشارے پر انہیں رد کر دیا. میرے ساتھ بھی آخری لمہے پر ایسا ہو سکتا تھا. اسی لیے میں نے اپنی ملازمت کو بھی محفوظ کر لیا تھا. میرے گھریلو حالات پہلے ہی ناگفتہ بہ تھے اور میں کسی قسم کا ملازمت کے لیے رسک نہیں لے سکتا تھا زندگی نے ہر دور اور موڑ نے میرے کامیابی سے قدم چومے تھے لیکن گھریلو حالات پر میں شکست پر شکست کھا رہا تھا. میں نے اپنے گھر والوں کو اس مشن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا. راجہ سے طے شدہ پروگرام کے مطابق میں پی آئی اے کی فلائٹ سے کراچی چلا آیا. ہوٹل میٹروپول کے مالک سائیپرس مینوالا (ہیپی مینوالا کے والد) میری کراچی میں ٹیکیشن میں ملازمت کے دور سے مجھ سے انتہائی شفقت برتتے اور اپنی اولاد کیطرح چاہتے تھے. میں نے ان کے ہوٹل میں قیام کیا. اور بعد دوپہر قصر ناز میں راجہ سے ملنے کے لیے چلا گیا. راجہ صاحب اس وقت اپنے بیڈ روم میں مئے نوشی میں مصروف تھے. راجہ نے مجھے بھی وہی بلا لیا. راجہ کی اس محفل میں 3 اور آدمی انکے شریک کار تھے.رسمی گفتگو کے بعد راجہ نے ان تینوں کو باہر ڈرائنگ روم میں جا کر بیٹھنے کا کہا. وہ چلے گئے تو میں نے راجہ تری کو اپنا پلان بتایا. راجہ نے میرا پلان سننے میں کوئی دلچسپی نہ لی اور کہا کہ پلان بھی تمہارا ہے اور ذمہ داری بھی تمہاری ہے مجھے تم پر پورا بھروسہ ہے. تم بس اپنی سفری ضروریات بتاؤ تو میں نے کہا کہ عیسائی رابرٹ مائیکل نام سے پاسپورٹ اور سفری اخراجات کے لیے 5 لاکھ روپے کے مساوی امریکی ڈالر. راجہ نے کہا بس یہی کچھ. میں نے کہا جی ہاں اتنے میں ہی ان شاء اللہ سارا کام مکمل ہو جائے گا. راجہ نے اسی وقت اپنے پی اے کو انٹر کام پر کہا. کہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے لوگوں کو کمرے میں بھیج دو.جب وہ تینوں آ گئے تو راجہ نے کہا کہ مجھے کل شام تک 5لاکھ کے مساعی امریکی ڈالر سرکاری ریٹ پر چاہیئے. اور ایک ارجنٹ پاسپورٹ بھی بنوانا ہے. جو مجھے کل شام 4 بجے تک ہر حال میں مل جانا چاہیے. تینوں نے یکبارگی سر ہلا کر کہا sure sir it will be done. ( سر یقینی طور پر یہ سب ہو جائے گا) راجہ نے کہا کہ پاسپورٹ کے لیے تصاویر لینے کے لئے کل صبح 9 بجے تک آ جانا. تھوڑی دیر بعد وہ تینوں راجہ سے اجازت لے کر چلے گئے تو راجہ نے مجھے بتایا کہ یہ تینوں سندھ انجئنیرنگ ورکس میں اوپر کے عہدے دار ہیں یہ 5 لاکھ مجھے دے کر دس لاکھ خود کمائیں گے. اور اگر میں ایسا نہ کروں تو پھر بھی انکے پاس ایسے حربے ہیں کہ میری لاعلمی میں لاے بغیر یہ ہر مہینے بیسیوں کما لیا کریں. میں نے راجہ کو اس بات کا کوئی جواب نہ دیا. اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے اجازت لی. اور راجہ کے پی اے کے پاس جا کر پاسپورٹ سائز پکس اور فارم فل کر کے چار پانچ جگہ پر رابرٹ مائیکل کے نام سے دستخط بھی کر دئیے. اور واپس ہوٹل آ گیا. اگلے روز جب میں شام 5 بجے راجہ کے پاس قصر ناز پہنچا تو راجہ میرا پاسپورٹ ہاتھ میں لیے اور 5 لاکھ کے برابر ڈالر لیے میرا منتظر تھا انہوں نے یہ سب مجھے دیتے ہوئے کہا کہ بنکاک( Banco) تک کا تمہارا جہاز کا ریٹرن ٹکٹ میں نے اپنی تنخواہ سے لے لیا ہے تاکہ تمہارا سفر محفوظ رہے. میں اس عجیب منطق پر ہنس پڑا. راجہ نے ٹکٹ کے ساتھ مجھے بڑے لفافوں میں بند خطوط دئیے. جن پر قبائلی زبان کے علاوہ انگلش میں بھی نام درج تھے راجہ نے کہا کہ ان خطوط کو ذاتی طور پر تسلی کر کے ہر ایک الگ الگ خطوط دینا.
واپسی پر تمہارے ہمراہ میری بیوی اور ایک بیٹا بھی ہو گا. بے شک زیادہ دن لگ جائیں مگر انہیں حفاظت سے لانا. اور ایک انتہائی رازداری کا کام میں تمہیں سونپ رہا ہوں. میری بیوی کے پاس ہمارے پرکھوں (Ancestors) کا خزانہ ہے. میں نے اپنی بیوی کو لکھا ہے کہ جڑاؤ زیورات تو بڑے لڑکے کو دے دے جو اب وہاں کا سردار ہے اور باقی خزانہ جو تقریباً 4 کلو کے برابر ہے وہ پہلے تمہارے حوالے کر دے پھر میرے چھوٹے لڑکے کو دے دے. ان جواہرات کو میرے بڑے لڑکے اور چکمہ قبائل سے بڑی ہوشیاری اور رازداری سے نکالنا ہے. میرے لڑکوں کو اس خزانے کی ذرا سے بھنک پڑ گئی تو نہ خزانہ بچے گا نہ تم اور نہ تمہارے ساتھی. تم میرے دوست ہو میں تم پر تو اس معاملے میں بھروسہ کر سکتا ہوں مگر اپنے بیٹوں پر نہیں. قبیلے کی رسومات اور سردار کی بیوی کی روانگی سے پہلے قبیلے کی عورتیں اسے ایک لمہے کے لیے بھی اکیلا نہیں چھوڑتیں. اس لیے میں نے اپنی بیوی کو لکھ دیا ہے کہ خط ملتے ہی سارے جواہرات تمہارے حوالے کر دے اور پھر یہ تمہاری ذمہ داری ہو گی کہ انہیں بحفاظت مجھ تک پہنچاؤ. راجہ کی باتوں سے مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ اسے اپنے بیوی بچے کی نسبت خزانے کی زیادہ فکر ہے. بیوی اور بیٹے کو پاکستان لانے کے مقصد کی آڑ میں خزانہ ہی تھا. بہرحال یہ اسکا ذاتی مسئلہ تھا. ابھی تک وہ چکمہ قبیلے کا سردار تھا. اور محض پاکستان سے وفاداری کیوجہ سے وہ اپنے قبیلے میں واپس نہیں جا سکتا تھا. مجھ پر اس کا اتنا بڑا احسان تھا جسے میں کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتا تھا خزانے کا مالک راجہ تھا اور اصولاً اس تک خزانہ پہنچنا چاہیے تھا. چنانچہ میں نے یہ ذمہ داری بھی قبول کر لی. میری سیٹ دو دن کے بعد جانے والی فلائٹ میں اوکے تھی. اور مجھے اس سفر پر جانے کے لیے مزید تیاری بھی کرنی تھی. میں نے اجازت چاہی تو راجہ نے کہا کہ فلائٹ سے دو گھنٹے پہلے میں تمہارے پاس آ جاؤں گا. بغیر کسی قسم کے رسک کے وہ جہاز تک میرے ساتھ جاۓ گا. میں نے راجہ کو بتا دیا کہ اس ساری مہم کے لیے تین سے پانچ ماہ تک کا عرصہ لگ سکتا ہے. اس لیے میں آپکو کوئی فکسڈ تاریخ نہیں بتا سکتا. میں اپنی طرف سے حتی الامکان کوشش کروں گا کہ جلد از جلد کامیابی سے لوٹ آؤں. اور جہاں جہاں بھی موقع ملا بذریعہ تار آپکو مطلع کرتا رہوں گا. راجہ تری سے فارغ ہو کر میں میٹرو پول ہوٹل میں آ گیا. اس ملاقات میں راجہ نے جو نئے انکشافات کیے تھے ان کے متعلق اسلام آباد میں ملاقات کے دوران ایک بات بھی نہیں کہی تھی. اسلام آباد میں راجہ نے صرف یہ کہا تھا کہ اسکی بیوی اور بیٹے کو پاکستان لانا ہے

_*جاری ہے*_

(قاری شفیق احمد)

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Faisalabad
38000