Lets study togather to explore islamic economics system
Islamic Economics System
Islamic Economic System
17/04/2026
📚 علمی دعوت — آپ کے لیے ایک خوبصورت موقع 🌿
ہم سب مل کر عظیم کتاب
"اسلام کا اقتصادی نظام"
(حضرت حفظ الرحمن سیھارویؒ) کا مطالعہ کر رہے ہیں۔
یہ مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے:
✨ اسلامی معیشت کی اصل روح کیا ہے
✨ انصاف اور برکت کا حقیقی نظام کیسے قائم ہوتا ہے
✨ موجودہ دنیا کے مسائل کا حل اسلام میں کیسے موجود ہے
اگر آپ بھی:
✔ اپنی دینی سمجھ میں اضافہ چاہتے ہیں
✔ ایک مثبت اور علمی ماحول کا حصہ بننا چاہتے ہیں
✔ اسلام کے معاشی اصول سیکھنا چاہتے ہیں
تو ہمارے ساتھ شامل ہو جائیں 🤝
📖 علم کا یہ سفر آپ کا منتظر ہے
اسلام کا معاشی نظام اور غیر مسلموں کے حقوق: عربی نصوص کے ساتھ جامع جائزہ
تمہید
اسلام کا معاشی نظام ایک ایسا ہمہ گیر نظام ہے جو عدل، رحمت اور معاشرتی توازن پر قائم ہے۔ اس میں مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے حقوق و فرائض واضح طور پر متعین کیے گئے ہیں۔
⸻
اوّل: مسلمان کی مالی و اخلاقی ذمہ داریاں
1. زکوٰۃ
📖 قرآن:
خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا
(قرآن، التوبہ: 103)
ترجمہ:
“ان کے مالوں میں سے صدقہ (زکوٰۃ) لے لو، تاکہ تم انہیں پاک اور صاف کر دو۔”
⸻
2. پڑوسی اور معاشرتی ذمہ داری
📖 قرآن:
وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا… وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ
(النساء: 36)
ترجمہ:
“اللہ کی عبادت کرو… اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو… اور قریبی و دور کے پڑوسی کے ساتھ بھی۔”
⸻
3. پڑوسی کا حق (حدیث)
📖
لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَىٰ جَنْبِهِ
(مسند احمد)
ترجمہ:
“وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھائے جبکہ اس کا پڑوسی بھوکا ہو۔”
⸻
4. مزدور اور غلام کے حقوق
📖
إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ… فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ
(صحیح بخاری)
ترجمہ:
“تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں… انہیں وہی کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو تم پہنتے ہو۔”
⸻
📖
أَعْطُوا الْأَجِيرَ أَجْرَهُ قَبْلَ أَنْ يَجِفَّ عَرَقُهُ
(سنن ابن ماجہ، 2443)
ترجمہ:
“مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔”
⸻
دوم: ریاست اور بیت المال
صحابہؓ کے آثار
🔹 حضرت عمر بن خطابؓ کا قول:
لَوْ عَثَرَتْ دَابَّةٌ فِي الْعِرَاقِ لَسُئِلَ عَنْهَا عُمَرُ لِمَ لَمْ يُمَهِّدْ لَهَا الطَّرِيقَ
ترجمہ:
“اگر عراق میں ایک جانور بھی ٹھوکر کھا جائے تو عمر سے پوچھا جائے گا کہ اس کے لیے راستہ ہموار کیوں نہ کیا۔”
⸻
سوم: غیر مسلموں کے حقوق
1. عدل و احسان
📖 قرآن:
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ… أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ
(الممتحنة: 😎
ترجمہ:
“اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ بھلائی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے۔”
⸻
2. ظلم کی ممانعت
📖
مَنْ ظَلَمَ مُعَاهَدًا أَوِ انْتَقَصَهُ… فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
(سنن ابی داؤد، 3052)
ترجمہ:
“جس نے کسی معاہد (ذمی) پر ظلم کیا… قیامت کے دن میں اس کے خلاف ہوں گا۔”
⸻
3. صحابہؓ کا عملی واقعہ
🔹 حضرت عمر بن خطابؓ:
مَا أَنْصَفْنَاهُ إِذْ أَكَلْنَا شَبِيبَتَهُ ثُمَّ نَخْذُلُهُ عِنْدَ الْهَرَمِ
ترجمہ:
“ہم نے انصاف نہیں کیا کہ اس کی جوانی میں اس سے لیا اور بڑھاپے میں اسے چھوڑ دیا۔”
⸻
چہارم: جزیہ
📖 قرآن:
حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ
(التوبہ: 29)
ترجمہ:
“یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور مطیع ہو جائیں۔”
⸻
عملی وضاحت (صحابہ کا اثر)
جب مسلمان شام کے بعض علاقوں کی حفاظت نہ کر سکے تو:
جزیہ واپس کر دیا گیا (تاریخی کتب: بلاذری)
یہ ظاہر کرتا ہے کہ جزیہ سروس کے بدلے تھا، نہ کہ جبر۔
⸻
پنجم: مذہبی آزادی
📖 قرآن:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ
(البقرہ: 256)
ترجمہ:
“دین میں کوئی زبردستی نہیں۔”
⸻
ششم: جنگ اور شہری اصول
📖 قرآن:
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
(الانعام: 164)
ترجمہ:
“کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔”
⸻
📖 حدیث:
لَا تَقْتُلُوا النِّسَاءَ وَلَا الصِّبْيَانَ
(صحیح مسلم)
ترجمہ:
“عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کرو۔”
⸻
نتیجہ
اسلامی معاشی نظام:
• عدل (Justice) پر قائم ہے
• رحمت (Mercy) کو فروغ دیتا ہے
• ذمہ داری (Responsibility) کو متوازن کرتا ہے
✔ مسلمان → زیادہ ذمہ داریاں (زکوٰۃ، سماجی کفالت)
✔ غیر مسلم → تحفظ + آزادی + جزیہ بطور متبادل
یہ نظام امتیاز نہیں بلکہ منصفانہ تقسیمِ ذمہ داری (Equity) ہے۔
معاشی غلامی
ابتدایہ
انسانی معاشرہ بہت سے ارتقائی مراحل سے گزرا ہے اِس دوران اس نے بہت سے عروج و زوال دیکھے ہیں بظاہر یہ لگتا ہے کہ اس وقت ہمارا معاشرہ دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ بہتر حالت میں ہے کیونکہ یہاں شخصی آزادی ہے جس میں مندرجہ ذیل عوامل شامل ہیں ۔
1-Freedom of Choice
2-Freedom of Speech
3-Civil Liberties
4-Democracy
اور اس طرح کے بہت سے خوبصورت سلوگنز سے عوام کو ایک نشہ دے کر احساس ئ آزادی اور خود مختاری کے سراب میں مبتلا رکھا جاتا ہے-عوام کو ایک ہفتہ میں 5 دن کام کے لے مجبور کیا جاتا ہے۔ایک گدھے کی طرح پھر 2 دن کے لے چھٹی دی جاتی ہے ۔ جس میں وہ اپنی ذہنی اور جسمانی تھکن اتارنے کے لے بیچ ،پب ،نائٹ کلب اور ہر طرح کی برائی کو اپنا کر آزادی اور خودمختاری کے سراب کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتے ہیں- یہ صرف اس لے کیا جاتا ہے کہ وہ اس غلامی کو جنت سمجھیں۔اور اگلے ہفتہ کی غلامی اس شوق سے قبول کریں کہ پھر دو دن کی آزادی ملے گی اس سارے سرکل میں کبھی وہ ٹائم نہیں اتا کہ وہ یہ سوچیں کہ ہم کون ہیں ؟ ہم دنیا میں کیوں آئے؟ ہمارا مقصدِ حیات کیا ہے ؟
کیونکہ وہ ایمان لے آتے ہیں یہ جسمانی ، معاشی اور معاشرتی ضروریات اور انکی تکمیل ہی سب کچھ ہے یہ سب باتیں صرفمغرب پر چسپاں نہیں ہوتی اب ہمارآ معاشرہ بھی ایسا ہو گیا ہے۔آپ سوچیں گے کہ کام تو لوگ خوشی سے کرتے ہیں اپنی ترقی اور راحت کے لے ؟
مغربی معاشی نظام کے کام کا طریقہ
جی نہیں! ذرا ٹھریں اور غور کریں مغرب کا دیا ہوا معاشی نظام کام کیسے کرتا ہے ہر کاروبار کو چلانے اور پیسہ کمانے کے لے سرمایادار کچھ طریقہ استعمال کرتا ہے ان میں ایک بہت اہم ہے ایسی مشہور شخصیات پیدا کریں جو لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کریں پھر ان بناوٹی مشہور شخصیات کو تخلیق کیا جاتا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے تک جنگجو بہادر ، شہسوار یا خلیفہ اور انتہائی پاک باز علماء لوگوں کے لے رول ماڈل ہوا کرتے تھے اور لوگ خود کو ان جیسا بنا کر فخر محسوس کرتے تھے ۔ اب یہ لوگ بہت کم نظر آتے ہیں ۔لہذا اس کمی کو پورا کرنے کے لے گلوکار ، موسیقار،اداکار ، فلم سٹار ، مختلف کھیل کھیل کھیلنے والے لوگوں پر سرمایہ دار اپنی انویسٹمنٹ کرتے ہیں ۔ ان کی بہت خوشحال اور آسائش سے بھرپور زندگی ( جو کہ منافع کمانے کے لے سرمایہ دار کی سوچی سمجھی انویسٹمنٹ ہے)کی بھر پور تشریح کی جاتی ہے ۔
وہ تمام پروڈکٹس جو ان شعبوں سے منسلک ہیں اور جو انسانی حیات کے لے عام طور پر غیر ضروری ہیں ان کو مذکورہ با لا افراد کے استعمال میں دیکھا کر ان کی ڈیمانڈ پیدا کی جاتی ہے اور پھر زیادہ سے زیادہ قیمت پر بیچا جاتا اور وہ رقم جو لوگوں نے جانوروں کی طرح کام کر کے کمائی تھی واپس سرمایہ دار کی جیب میں چلی جاتی ہے۔
لہذا انسانی محنت وقت اور سوچ جو انسان کی بقا اور رب سے تعلق کی مضبوطی کے لے استعمال ہونی تھی سرمایہ دار کے سرمائے کے اضافہ میں استعمال ہو تی رہتی ہے-
عوام کی نسلیں بنیادی طور پر غلام ہوتی ہیں لیکن آزادی کے سراب کی وجہ سے ساری زندگی بے تحاشا محنت کرتے ھوئے زندگیاں گزرتی ہیں لیکن سرمایہ دار کی نسلیں ان کا خون چوس کر مزید طاقتور اور امیر ہوتیجاتی ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں مزید مضبوطی حاصل کر کے ایسے قوانین کی ترویج جاری رکھتی ہیں جن سے یہ استحصالی نظام مضبوط سے مضبوط ہوتا جاے ۔
2-جسمانی غلامی
ایک دور تھا جب انسان کو جسمانی طور پر غلام بنایا جاتا تھا اس دور میں اس کو چھوٹے چھوٹے کمروں یا پنجروں میں رکھا جاتا تھا کم سے کم خوراک دی جاتی جس سے وہ زندہ رہے ۔نہ اس کو کوئی حق اے ملکیت تھا نا فیصلہ کا کوئی اختیار بس سانس لینے کی اجازت تھی اور وہ سب کام کرنے پر مجبور جو اس کا مالک کہے۔
3-شعور کی ترقی
پھر اس کو شعور آیا تو انسان نے بغاوت کردی اب اس کو حق اے ملکیت اپنا ملک یا شہر دے دیا گیا اب وہ روز مرا کے معاملات کسی حد تک اپنی مرضی سے طے کر سکتا تھا لیکن حکومت اور نظام پھر کسی سامراجی آقا کے پاس رہا ۔جو اسلحہ کے زور پر اور کچھ افراد کو خرید کر اپنی مرضی کا نظام جاری کرتا-جس کا بنیادی مقصد اس خِطّہ کے عوام کے ہر طرح کے وسائل کو اپنے فائدہ کے لے استعمال کرنا تھا-
پھر عوام میں مزید شعور آیا اور اس نو آبادیاتی نظام کے خلاف آزادی کے لے بغاوت کر دی سامراج نے نہایت عیاری سے یہ آزادی بھی دے دی اب آپکے اپنے منتخب نمائدے آپ پر حکومت کریں گے اور آپکی فلاح کے لے اپنی علاقائی روایت کے مطابق نظام نافذ کریں گے لیکن یہ نظام اور حکمران طبقہ زیادہ تر بیرونی آقاؤں کے پسندیدہ لوگ ہوتے ہیں کہیں وہ جمہوریت کو کہیں بادشاہت کو کہیں فوجی طاقت کو سپورٹ کرتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے ان کی کسی اصول سے کوئی کمٹمنٹ نہیں ان کو بس اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے جیسے بھی ہو اس کے علاوہ ہر علاقہ میں بارودی سرنگیں بچھا دی گئی ہیں تاکہ جب بھی کوئی علاقہ یا اس کا حاکم خود سر ہو تو اس کو سبق سکھایا جا سکے یہ بارودی سرنگیں کیا ہیں اس پر پھر کبھی تفصیل سے بات ہو گی
ان تمام آزادیوں کی حقیت ایک مثال سے سمجھتے ہیں
ایک مرغی خانہ کا تصور کریں مرغیاں اپنے پنجرے میں آزاد ہیں انکی مرضی کی بہترین خوراک اور پانی دیا جاتا ہے وہ اپنے روم میں ایک دوسرے سے جیسے چاہیں سلوک کر سکتی ہیں بس انہیں آپس میں لڑنے نہیں دیا جاتا اگر وہ لڑیں تو انکے رکھوالے قانون نافذ کر کے یہ چیز ختم کروا دیتے ہیں یعنی پولیس موجود ہے ان کے کھانے پینے کے لے خوراک دینے والے خانسامیں موجود ہیں ان کی صفائی کے لے سویپر موجود ہیں ان کی ڈائٹ میں ہر چیز وٹامن منرل ادویات کا خیال رکھا جاتا ہے ڈاکٹر موجود ہے ان کے ماحول کو گرم یا ٹھنڈا رکھنے کے لے ہیٹر اور ائیر کولر ایگزاسٹ فین اور ائیر کنڈیشن تک موجود ہیں ان کے کمرہ میں وائٹ واش اور روشنی کا انتظام بہترین کیا جاتا ہے غرض ہر طرح اسانی اور صحت مند زندگی ان کو فراہم کرنے کے لے ان کا مالک بہت خرچ اور محنت کرتا ہے
کیا مرغیاں آزاد ہیں ؟ کیا ان کا مالک ان سے پیار کرتا ہے ؟
نہیں وہ یہ سب صرف اس لے کرتا ہے کیونکہ وہ انڈے یا گوشت دیتی ہیں جس دن وہ یہ دینا بند کر دیں سب سہولیات واپس لے لی جائیںگی اور ان کی اخری بولی لگا کر قصائی کے ہاتھ ان کی زندگی کی قیمت وصول کر لی جاتی ہے ۔ اپنے ارد گرد نظر ڈالیں بہت سی اقوام ان مراحل سے گزر رہی ہیں ۔
1-انسان قدرتی غلام
انسان بنیادی طور پر غلام ہی ہے یہ کبھی مکمل آزاد نہیں ہوتا یا تو رب کے دین کی مان کر رب کی غلامی کر کے سارے جہان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے یا پھر رب سے بغاوت کر کے اس کی اپنے جیسی یا اس سے بھی کمتر مخلوق کا غلام ہو جاتا ہے ۔اب انتخاب اپنا ہے کہ آپ نے کسکی غلامی اختیار کرنی ہے طاغوت کی غلامی میں دنیاوی اور نفسانی خواہشات کی تسکین جلدی ہو جاتی ہے اس لیا زیادہ تر انسان اس پھندے میں پھنس جاتے ہیں جبکہ رب کی غلامی کے لے وقت کے طاغوت سے مقابلہ ہوتا ہے اور فوری کامیابی کا کوئی وعدہ نہیں تو کمزور انسان اس سے گھبرا جاتا ہے - اور طاغوت کی غلامی کی بغاوت پر اس کے کارندے سخت انتقام کا نشانہ بھی بناتے ہیں ۔
4-ملکی آزادی کی حقیقت
ہم سب ایک معاشی نظام میں جکڑے ہوے ہیں اس نظام کے آقا کچھ بڑے امیر ممالک ہیں جیسے امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی ، کینیڈا ،چین ، روس وغیرہ -ان تمام ممالک نے لین ڈین کے لے ریزرو کرنسی1 ڈالر کو چن لیا ہے جو امریکہ کی کرنس اس کو ریزرو کرنسی کامقام کیسے ملا اب اس پر بات کرتے ہیں
5-ڈالر کی کہانی
دنیا میں زیادہ تر سونا چاندی وغیرہ کو سن 1900 تک بطور کرنسی استعمال کیا جاتا تھا- تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف چیزوں کو اس مقصد کے لے استعمال کیا گیا ہے مگر جس دور کی ہم بات کر رہے اس میں اول از ذکر کا استعمال زیادہ تھا-
سال 1900 میں امریکہ نے گولڈ سٹینڈرڈ ایکٹ منظور کیا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک ڈالر کی قیمت 1.50463 گرام سونے کے برابر ہو گی یعنی اگر کوئی فرد یا حکومت ڈالر لینا چاہتی ہے تو وہ ڈالر پرنٹ کرنے والے اس وقت کے ادارہ کو مجوزہ مقدار میں سونا دے گا تو اس کو ایک ڈالر دے دیا جاے گا اور اس طرح جو سونا واپس لینا چاہے وہ ایک ڈالر جمع کروا دے تو اتنا ہی سونا واپس دیا جاے گا ۔
6-عالمی کرنسی کا معاہدہ
سن 1944 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کی معیشت تباہ ہو چکی تھی اور مختلف حیلے بہانوں سے جنگ کے دوران امریکہ دنیا کا 70% سونا اپنے پاس محفوظ کر چکا تھا- تو دنیا کے 44 ممالک نے بریٹن ووڈ معاہدہ کیا کہ ڈالر سونے کا متبادل ہے ( امریکہ اپنی فوجی قوت بھی ایٹم بومب کی صورت میں دکھا چکا تھا )لہٰذا دنیا کی تمام تجارت ڈالر میں ہو گی- ایسی دوران سن 1974 میں امریکہ نے سعودی عرب سے معاہدہ کیا جس کی تمام اوپیک ممالک نے پیروی کی- معاہدہ یہ تھا کہ تیل صرف ڈالر میں فروخت کیا جاے • بدلے میں، امریکہ نے سعودی عرب کو فوجی تحفظ، جدید ہتھیار، اور معاشی تعاون کی پیشکش کی۔ سعودی عرب نے اپنی تیل کی آمدنی کو امریکی ٹریژری بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے پر بھی اتفاق کیا، جس سے امریکی معیشت کو سہارا ملا۔ اس طرح ساری دنیا کو ہر وقت ڈالر کی ضروت رہنے لگی اور سب نے اپنا سونا امریکہ کو دے کر ڈالر لینے لگےاور جن کے پاس سونا نہ تھا انھوں نے ایسی معاہدہ کے مطابق ورلڈ بینک اور IMF کو اپنے اثاثے گروی رکھوا کر ڈالر میں قرض لیا -سونا امریکہ کے پاس اور کاغذ کے ڈالر دنیا کے پاس-
7-امریکہ کی چالاکی
دنیا کی معاشی حالت کو بہانا بنا کر امریکہ نے آہستہ آہستہ بریٹن ووڈ معاہدہ سے فرار حاصل کرنا شروع کیا اور آخر کار 1971 میں صدر نکسن نے ڈالر کو سونے کے معیار سے الگ کر دیا (نکسن شاک)، جس سے ڈالر کی قدر گرنے کا خطرہ بڑھ گیا۔ اس کے بعد امریکہ کو ڈالر کی عالمی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے ایک نیا نظام درکار تھا۔ پیٹرو ڈالر اس کا حل تھا۔
8-تیل کی عالمی مانگ
تیل عالمی معیشت کا اہم جزو تھا، اور سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ تھا۔ تیل کی قیمت ڈالر میں طے کرنے سے ڈالر کی عالمی مانگ میں اضافہ ہوا، کیونکہ ممالک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر جمع کرنے پڑتے تھے۔
9-ورلڈ ریزرو کرنسی کی حفاظت
اس کرنسی اور معاشی نظام کے پیچھے امریکہ یورپ اور نیٹو کی فوجی طاقت ہے جو کوئی اس کے خلاف آواز اٹھائے اس کو دنیا سے رخصت کر دیا جاتا ہے اس کی بڑی بڑی مثالیں شاہ فیصل شہید ،کرنل قذافی اور صدام حسین ہیں ان لوگوں نے اپنی سونے کی بنیاد پر کرنسی کی بات کی تھی
خیر امریکہ اور اس کے اتحادی اقوام نے کچھ نہایت چلاک طریقوں سے دنیا سے سونے چاندی اور دوسری قیمتی کموڈیٹیز جو اصل سرمایہ ہے ہتھیا کر اپنے پاس جمعہ کر لے ہیں اور اس کے بدلے میں کاغذ کے نوٹ جو ڈالر کہلاتے ہیں دنیا میں پھیلا دیا ہیں
اوپر والے ٹیبل سے واضع ہے اصل دولت کس کے پاس ہے
اب ساری دنیا کی دولت کو ڈالر میں ناپا جاتا ہے
10-پاکستان بمقابلہ دنیا
اگر آپ نے دنیا سے آئل لینا ہے یا الیکٹرونکس، گیس ، کار ، مشینری ، خوراک یا کچھ بھی تو آپکو ڈالر چاہیے اب یہ ڈالر کہاں سے حاصل کیا جے اس کے مختلف طریقے ہیں
آپکی عوام غیر ملک میں جاے وہاںجا کر کام کرے اور ڈالر پاکستان بھیجے
آپ ایسی چیزیں تیار کی جائیں جو عالمی مارکیٹ میں بیچی جائیں تو پھر ڈالر پاکستان آئین گے
لیکن کچھ بھی اس معیار کا پیدا کرنے کے لے جدید مشینری اور ایکویٰپمنٹ چاہیے جس کے لے پھر ڈالر کی ضروت ہے یعنی کچھ بھی بنا کر ایکسپورٹ کرنے سے پہلے ہمین ڈالر چاھے
اب آخری راستہیہ بچتا ہے دنیا اور اس کے ادروں جیسے ورلڈ بینک ، آئی ایم ایف وغیرہ سے قرض لینا پڑے گا
اس کی بہت سی شرائط ہوں گی-
ڈالر لینے کی شرائط
سود اپنے دینا ہے اور وہ بھی ڈالر میں جو آپکے پاس ہیں نہیں تو اصل رقم تو فرض کیا آپ کما لیں گے ڈالر میں لیکن سود دینے کے لے آپکو پھر قرض لینا ہے ڈالر میں اب اس نے قرض کو اتارنے کے لے پھر قرض لینا ہے ڈالر میں اور یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا
اس کے علاوہ
آپ اپنے بچوں کو وہی تعلیم دیں گے جس سے وہ اس نظام کی حفاظت اور ترقی کے لے مزدوری کا اچھا کام کریں اور ان میں کبھی بھی اس کے خلاف سوچنے اور اس سے نجات کے لے کچھ بھی کوشش کرنے کا خیال بھی ان کہ ذہن میں نا اے
ان افراد میں سے اگر کچھ ذہین لوگ سوچنے والے پھر بھی نکل آئیں تو ان کو اعلیٰ عہدے گھر بار سہولتیں اور اپنے جیسے انسانوں پر قانونی ظلم کا اختیار دے کر ایک خاص نشے کا عادی بنا دیا جاے اور ان پر ثابت کیا جاے اگر انھوں نے اس سب کی مخالفت کی جو نظام کر رہا ہے تو ان سے یہ سب چھین لیا جاے گا اب وہ اس نشے کے بغیر رہ نہیں سکتے تو وہ اپنے تمام اعمال کے جائز ہونے کے بہانے ڈھونڈھ لیں گے جس سے ان کا ضمیر مطمئن رہے گا اس کام میں وہ علمائے سوء۲ جو ان کے تنخواہ دار ہیں اس مین ان کی مدد کرتے ہیں
ان لوگوں کے کچھ ٹائٹل یہ ہیں
ایڈمنسٹریٹو سروسز
پولیس اور انٹیلیجنس سروسز
دفاعی ادارے
سیاسی ادارے اور ان کے اراکین
عدلیہ
ہمارے جمہوری نظام ، قانونی ، سیاسی اور تمام دوسرے ادارے کس نظام پر کام کریں گے
ہمارے پیٹرول ، بجلی ، گیس کی کیا قیمت عوام کو ادا کرنی ہو گی
ہمین دین اور دنیا کی کونسے اصولوں پر عمل کرنا ہے
ہمین دنیا کے کس ملک یا ادارے سے کیسے تعلق رکھنے ہیں
اور بھی بہت سی شرائط ہوتی ہیں
اب تک کی شرائط سے کیا آپکو لگتا ہے ہم آزادہو سکتے ہیں؟
یہاں تک ہم نے ملکی لیول پر بات کی
اب ایک خاندان پر بات کرتے ہیں
لیکن اس سے پہلے ایک اہم نقطہ
جب روپیہ کی قدر کا اندازہ ڈالر کے مقابلے میں لگایا جاتا ہے تو مندرجہ ذیل باتیں مد نظر رکھی جاتی ہیں
طلب اور رسد
مطلب پاکستان کو کتنے ڈالرز کی ضرورت ہے اور عالمی مارکیٹ میں کتنے ڈالرز موجود ہیں
اوپر کی گفتگو میں ہم دیکھ چکے ہیں پاکستان کو ہمیشہ زائد ڈالر کی ضرورت ہوتی کیونکہ ہماری ایکسپورٹ کم ہے اور امپورٹ زیادہ ہہے لہذا ڈالر ہمیشہ مہنگا ملے گا
اکنامک حالات
پھر دیکھا جاے گا پاکستان کی اکانومی کیسی ہے اس کے لے انفلیشن ، سود کا ریٹ وغیرہ کو دیکھا جاتا ہے اس میں بھی پاکستان کی حالت خراب ہے تو ڈالر مہنگا ملے گا
گورنمنٹ پالیسیز
گورنمنٹ اپنے معاشی حالات کے مطابق مقامی مارکیٹ اور غیر ملکی ٹرانسفر پر پابندیاں سخت یا آسان کرتی ہے اس سیٹ ڈالر کی قیمت پر فرق پرتا ہے
تجارتی بیلنس
اگر امپورٹ زیادہ ہوں ایکسپورٹ کم ہوں تو ہمارے پاس ڈالر کم اور مہنگے ہوں گے جو اکثر ہوتا ہے
دنیاوی حالات
ساری دنیا کو ڈالر کی ضرورت ہوتی ہے اگر دوسرے امیر ممالک کو ڈالر کی زیادہ ضرورت ہے تو ہمین مہنگا ملے گا
تو یہ واضع ہوگیا جو بھی مال جائیداد ہمارے پاس ہے اوپر والے فیکٹرز جب ہمارے خلاف ہوں گے تو ہمارے تمام اثاثوں کی قیمت کم ہو گی
ایک خاندان
اب آتے ہیں ایک خاندان پر
فرض کریں اس خاندان کی ماہانہ آمدن 1000 ہے
اس کے اثاثوں کی مالیت 100000 ہے
اس وقت 1 ڈالر کے 100 رپے ملتا ہے
اس کا مطلب ہوا ان کی آمدن 10 ڈالر ہے
اور ان کے اثاثے 1000 ڈالر کے ہیں
رات کو وہ سب گھر والے سو گے صبح جب وہ جاگے ہیں تو عالمی حالات کی وجہ سے اور جو کنورژن کے طریقہ بتائیں ہیں 1 ڈالر پاکستان کے 200 روپے کا ہو گیا ہے
اب اس خاندان کے مالی حالات کیا ہوں گے
ان کی ماہانہ آمدن جو اب بھی 1000 روپیہ ہے صرف 5 ڈالر رہ گئی ہے جو ایک رات پہلے 10 ڈالر تھی
ان کے اثاثوں کی مالیت جو ایک رات پہلے 100000 روپیہ تھی اور 1000 ڈالر تھی اب 500 ڈالر رہ گئی ہے
ان کا کیا قصور ہے ان کو ایک نائٹ سونے میں 50% نقصان کیون ہوا ؟
اکنامکس کا اصول ہے جب ایک فرد کا نقصان ہوتا ہے تو دوسرے کس فائدہ اس طرح ڈالر رکھنے والی قوم کا فائدہ ہوا ہے اور ہمارا نقصان
آپ اپنی امدنی اور اثاثوں میں نقصان میں ہیں اور وہ فائدہ میں تو کیا کبھی آپ اس مالیاتی نظام میں کامیاب ہو سکتے ہیں ان کا کبھی معاشی طور پر مقابلہ کر سکتے ہیں
یہ معاشی غلامی ہے
آپ پوچھیں گے ہم تو پاکستان میں ہیں ڈالر مہنگا ہو یا سستا ہمین کیا ہم نے پاک روپیہ استعمال کرنا ہے
جی ہوا یہ ہے جب ڈالر مہنگا ہو گیا تو جو کچھ اپنے عالمی مارکیٹ سے لینا ہے مہنگا ملے گا اور پاکستان میں بھی اسکی قیمت برہ جاے گی
دوسری بات جو قرض ڈالر کی شکل میں اپنے لیا تھا اس کی مالیت زیادہ ہو گئی ہے اس کے علاوہ اس پر سود بھی زیادہ ہو گیا ہے اب گورنمنٹ کی امدنی تو بڑھی نہیں پھر وہ اضافی ڈالر کہاں سے ادا کرے گی ؟
وہ آپ پر ٹیکس لگائے گی بجلی ، گیس، پیٹرول مہنگا کرے گی تو لوکل مارکیٹ میں ہر چیز مہنگی ہو گی
جبکہ وہ ملک جہاں ڈالر ہیں اس کے الٹ ہو گا ان کی امدنی زیادہ ہو گئی چیزیں سستی ہوں گی اور لوگوں کی آمدنیمیں بھی اضافہ ہو جاے گا
اس طرح آپ کا جتنا سرمایہ، کاروباری مال، مشینری، تنخواہ، منافع، فکسڈ ایسیٹس وغیرہ کی کیا قیمت ہے ؟ کیا وہ عالمی مارکیٹ میں بیچے بھی جا سکتے ہیں یا نہیں؟ اور اِسی طرح آپ عالمی مارکیٹ سے کیا اور کس قیمت پر خرید سکتے ہیں؟ اور آپ کسی بھی دوسرے ملک میں سفر کر سکتے ہیں یا نہیں؟ ان سب باتون کا فیصلہ
کرنا آپکے اختیار میں نہیں
یہ صرف کرنسی ریٹ بدلنےکا اثر ہے اس کے علاوہ بہت کچھ ہے
آپ اب بھی سمجھتے ہیں اس نظام میں ہم آزاد ہیں ؟
۱ - دنیا کی ریزرو کرنسی سے مراد وہ کرنسی ہے جو مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی طرف سے بین الاقوامی لین دین، تجارت، اور ذخائر کے طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے۔ یہ عام طور پر ایک ایسی کرنسی ہوتی ہے جو مستحکم، قابل اعتماد، اور عالمی سطح پر قبول شدہ ہوتی ہے۔ فی الحال امریکی ڈالر (USD) دنیا کی سب سے اہم ریزرو کرنسی ہے، جسے عالمی تجارت، قرضوں، اور مالیاتی ذخائر کے لیے سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔
اہم خصوصیات:
1. عالمی تجارت میں استعمال: ریزرو کرنسی کو بین الاقوامی تجارت، جیسے تیل اور دیگر اجناس کی خرید و فروخت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
2. مالیاتی استحکام: یہ کرنسی عام طور پر ایک مضبوط معیشت اور سیاسی استحکام والے ملک کی ہوتی ہے۔
3. ذخائر کا حصہ: ممالک اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا ایک بڑا حصہ اس کرنسی میں رکھتے ہیں۔
4. بین الاقوامی قرضے: عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے اور بانڈز اکثر اس کرنسی میں جاری کیے جاتے ہیں۔
امریکی ڈالر کی مثال:
* عالمی تجارت کا تقریباً 50% سے زیادہ امریکی ڈالر میں ہوتا ہے۔
* عالمی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 60% حصہ ڈالر پر مشتمل ہے (2025 تک کے تخمینوں کے مطابق)۔
* دیگر کرنسیاں جیسے یورو (EUR)، جاپانی ین (JPY)، اور چینی یوآن (CNY) بھی ریزرو کرنسیوں کے طور پر استعمال ہوتی ہیں، لیکن ان کا حصہ ڈالر کے مقابلے میں کم ہے
۲علماء سوء (یعنی بدکردار یا گمراہ عالم) کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح رہنمائی موجود ہے۔ علماء سوء سے مراد وہ علماء ہیں جو اپنے علم کو دنیاوی فائدے، شہرت، یا غلط مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں یا دین کے نام پر گمراہی پھیلاتے ہیں
“تم لوگوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک چیز وہ منافق عالم ہے جو زبان سے علم کی بات کرتا ہو۔”
(مسند احمد، حدیث نمبر: 3706، شعب الایمان للبیہقی)
Does our current economic system adhere to principles that foster individual and societal growth?
Islam” is very different to the way it is viewed by capitalism. Capitalists assert that there is relative scarcity of resources available in the world, and hence, people’s demand for these resources are unlimited. Therefore, each nation should concentrate on ever increasing production.
Islam, however, views the “economic problem” as one that concerns distribution and not production. Allah has provided us collectively with more than enough, so the issue is one of distributing all of those resources to all citizens.
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْأَنْهَٰرَ
وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ
وَءَاتَىٰكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ وَإِن تَعُدُّوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحْصُوهَآ ۗ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ
“Allah is He who created the heavens and the earth and sent down water from the sky and by it brings forth fruits as provision for you. He has made the ships subservient to you to run upon the sea by His command, and has He has made the rivers subservient to you, and He has made the sun and the moon subservient to you holding steady to their courses, and He has made the night and day subservient to you. He has given you everything you have asked Him for. If you tried to number Allah’s blessings, you could never count them. Man is indeed wrongdoing, ungrateful.” [14:32-34]
إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ بِعِبَادِهِۦ خَبِيرًۢا بَصِيرًا
“Verily your Lord lavishes provision on whom He wills, and withholds in exact due measure: Verliy He was ever of His servants all-aware, all-seeing.” [17:30]
Islam also distinguishes between basic needs and luxuries. Food, shelter and clothing is guaranteed to all citizens who are unable to provide for themselves through work or being looked after by their close relatives:
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ بَيْتٌ يَسْكُنُهُ وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ
‘Uthman ibn Affan reported: The Prophet ﷺ said, “There is no right for the son of Adam other than these things: a house in which he lives, a garment to cover his nakedness, a piece of bread, and water.” [Sunan
“The people know that something in America is broken, but they don’t quite know what, they don’t know why, and, most important, they don’t know how to fix it. All they can point to are the symptoms.
The symptoms, of course, are evident everywhere. It is the illness itself we can’t seem to put our finger on. And so all our solutions…are symptom-orientated, which means that they are by definition inadequate. Indeed, so many of our so-called solutions create more problems than they cure. They attempt to alter the results of the system without changing the system that produces those results…
Our economic system, we must acknowledge, is much more than just a free market, a collection of businesses and bureaucracies, exchanges and transactions. At a more fundamental level, it is a common pattern of thought, a way of looking at the world around us, and it manifests itself in our financial dealings, our ownership practices, and our consumer-producer relationships. This pattern of thought pervades all we do…
[It] is the economic system, and not just the way we implement it that is flawed. If we are to solve the monumental problems that face us, we must change the way we think about things, because our problems are systemic in nature, and all our attempts to solve them are as effective as straightening deck chairs on the Titanic.”
[Roger Terry, Economic Insanity: How Growth-Driven Capitalism is Devouring the American Dream, Berret-Koehler, San Francisco, 1995, pp. 1-3]
طاغوتی نظام کے جن کی جان کس طوطے میں ھے ؟
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Faisalabad