16/06/2026
(Happy Islamic New Year)
اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ ، وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ
Welcome to Fari’s Academy! Join us and experience an education that goes beyond the textbook! 🌟
Our mission is to provide personalized, high-quality education that empowers students to thrive academically, socially, and emotionally.
16/06/2026
(Happy Islamic New Year)
اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ عَلَيْنَا بِالْأَمْنِ وَالْإِيمَانِ ، وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ ، وَرِضْوَانٍ مِنَ الرَّحْمَنِ ، وَجِوَارٍ مِنَ الشَّيْطَانِ
I got over 50 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉
*اس سال 2026/2027 تمام پرائیویٹ سکولز کا 8ویں کا امتحان پیکٹا لے گا۔*
*اور یہ سب کے لیے ضروری ہو گا۔*
*منسٹر ایجوکیشن رانا سکندر حیات*
31/05/2026
پنجاب حکومت نے سرکاری و پرائیویٹ سکولوں کو یکم جون سے 30 جون تک سمر کیمپ لگانے کی اجازت دے دی
سمر کیمپ صرف سوموار سے جمعرات تک صبح 7 سے 10 بجے تک ہوگا، نوٹیفیکیشن
پرائیویٹ سکول سمر کیمپ کی اضافی فیس نہیں لیں گے، نوٹیفیکیشن
سرکاری سکول/ اساتذہ سمر کیمپ کی کوئی فیس نہیں لیں گے، نوٹیفیکیشن
29/05/2026
*01 جون تا 30 جون 2026* تک سرکاری و نجی سکولوں میں *سمر کیمپس* کے انعقاد کی اجازت دے دی ہے۔ مقصد طلبہ کا تعلیمی نقصان پورا کرنا ہے۔
29/05/2026
27/05/2026
🕋 Eid ul Adha Mubarak 🕋
Qurbani، Dua aur Mohabbat ka din
Allah sabko khushiyan aur barkat ata farmaye 🌸
25/05/2026
جب لاکھوں آوازیں ایک ساتھ “لبیک اللہم لبیک” کہتی ہیں تو روح کانپ اٹھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے مقدس گھر کی حاضری نصیب فرمائے۔
حج مبارک! 🌙
25/05/2026
پاکستان اور جاپان کا تعلیمی موازنہ: اصل سوال یہ نہیں کہ جاپان آگے کیوں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان پیچھے کیوں رہ گیا؟
جاپان اور پاکستان کے تعلیمی نظام کا فرق صرف عمارتوں، کتابوں، نصاب، شرحِ خواندگی یا جدید آلات کا فرق نہیں۔ اصل فرق سوچ کا ہے، مقصد کا ہے، تربیت کا ہے اور قومی ترجیحات کا ہے۔ جاپان نے تعلیم کو قوم بنانے کا ذریعہ بنایا، جبکہ پاکستان میں تعلیم زیادہ تر امتحان، سند، نوکری اور رٹے کا راستہ بن کر رہ گئی۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے ایک قوم کو تحقیق، صنعت، نظم، جدت اور عالمی وقار تک پہنچایا، جبکہ دوسری قوم آج بھی بچوں کو معیاری تعلیم، اچھا استاد، بہتر ماحول اور عملی سوچ دینے کی جدوجہد میں پھنسی ہوئی ہے۔
جاپان میں بچہ سکول صرف کتاب پڑھنے نہیں جاتا، بلکہ زندگی جینے کا سلیقہ سیکھنے جاتا ہے۔ وہاں اسے وقت کی پابندی، صفائی، اجتماعی ذمہ داری، استاد کا احترام، دوسروں کے حقوق، مل کر کام کرنا، مسئلہ حل کرنا اور اپنی غلطی سے سیکھنا سکھایا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے بہت سے سکولوں میں بچہ صبح سے دوپہر تک سبق یاد کرتا ہے، پھر شام کو ٹیوشن جاتا ہے، رات کو رٹا لگاتا ہے، امتحان دیتا ہے اور نمبر لے کر خود کو کامیاب یا ناکام سمجھنے لگتا ہے۔ یعنی ہم نے تعلیم کو ذہنی بیداری کے بجائے یادداشت کا مقابلہ بنا دیا ہے۔ سبحان اللہ، بچے کا دماغ بھی کبھی کبھی حافظہ کارڈ سمجھ لیا جاتا ہے۔
جاپان کی اصل طاقت یہ نہیں کہ وہاں عمارتیں خوب صورت ہیں یا ٹیکنالوجی زیادہ ہے۔ اصل طاقت یہ ہے کہ وہاں تعلیمی نظام بچے کے اندر کردار، اعتماد، ذمہ داری، نظم و ضبط اور تخلیقی سوچ پیدا کرتا ہے۔ وہاں علم کو زندگی سے جوڑا جاتا ہے۔ بچہ یہ نہیں سیکھتا کہ کتاب میں کیا لکھا ہے، بلکہ یہ سیکھتا ہے کہ اس علم کو حقیقی زندگی میں کیسے استعمال کرنا ہے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے اکثر سوال یہ ہوتا ہے کہ سبق یاد ہے یا نہیں، جبکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ بچہ سمجھا کیا ہے، سوچا کیا ہے، سوال کیا ہے، اور اس علم سے کون سا مسئلہ حل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہاں تعلیم اور تعلیمی اداکاری میں فرق مٹتا جا رہا ہے۔ سکول موجود ہے مگر سیکھنے کا ماحول نہیں، کتابیں موجود ہیں مگر مطالعے کی عادت نہیں، امتحان موجود ہیں مگر فہم نہیں، ڈگریاں موجود ہیں مگر مہارت نہیں، تقریریں موجود ہیں مگر تحقیق نہیں۔ ہم اکثر نظام کو چلتا ہوا دیکھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں، مگر یہ نہیں دیکھتے کہ اس نظام سے نکلنے والا طالب علم سوچنے، سمجھنے، سوال کرنے اور تخلیق کرنے کے قابل بھی ہے یا نہیں۔
پاکستان میں تخلیقی سوچ کا قتل بہت خاموشی سے ہوتا ہے۔ چھوٹا بچہ فطری طور پر سوال کرتا ہے، چیزوں کو کھول کر دیکھتا ہے، نئے طریقے سوچتا ہے، غلطی سے سیکھتا ہے اور حیرت کے ساتھ دنیا کو سمجھنا چاہتا ہے۔ پھر ہمارا تعلیمی ماحول اسے آہستہ آہستہ سکھاتا ہے کہ خاموش رہو، زیادہ سوال نہ کرو، کتاب سے باہر مت سوچو، استاد سے بحث نہ کرو، گائیڈ والی زبان لکھو، اور امتحان میں وہی جواب دو جو سب دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک زندہ، متجسس اور تخلیقی ذہن آہستہ آہستہ محتاط، ڈرا ہوا اور نقل کرنے والا ذہن بن جاتا ہے۔
جاپان میں غلطی کو سیکھنے کا حصہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں غلطی کو اکثر شرمندگی بنا دیا جاتا ہے۔ جہاں بچہ غلطی سے ڈرے گا، وہاں وہ نیا تجربہ نہیں کرے گا۔ جہاں سوال کو بدتمیزی سمجھا جائے گا، وہاں تحقیق پیدا نہیں ہوگی۔ جہاں مختلف سوچ کو خطرہ سمجھا جائے گا، وہاں جدت کیسے آئے گی؟ قومیں صرف ذہین بچوں سے نہیں بنتیں، قومیں ایسے ماحول سے بنتی ہیں جہاں ذہانت کو سوال کرنے، تلاش کرنے اور تخلیق کرنے کی آزادی ملے۔
پاکستان میں زبان کا مسئلہ بھی تعلیم کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ بچہ گھر میں ایک زبان بولتا ہے، سکول میں دوسری زبان سے واسطہ پڑتا ہے، آگے چل کر کامیابی کو تیسری زبان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح بچہ علم سے پہلے زبان کی دیوار سے ٹکراتا ہے۔ زبان سیکھنا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے زبان کو علم کا ذریعہ بنانے کے بجائے طبقاتی برتری کا نشان بنا دیا ہے۔ جاپان میں بچہ پہلے اپنی زبان میں مضبوط بنیاد بناتا ہے، پھر دنیا کی زبانیں سیکھتا ہے۔ پاکستان میں بچہ اکثر سمجھنے سے پہلے ترجمہ کرنے لگتا ہے، اور جب ذہن ہر وقت ترجمے میں الجھا رہے تو گہری سوچ کیسے پیدا ہو؟
استاد کے معاملے میں بھی دونوں ملکوں کا فرق بہت واضح ہے۔ جاپان میں استاد صرف ملازم نہیں، قوم کا معمار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تربیت، عزت، نگرانی اور پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بہت سے باصلاحیت اور مخلص اساتذہ موجود ہیں، مگر نظام انہیں وہ مقام، تربیت، وسائل اور آزادی نہیں دیتا جس کے وہ حق دار ہیں۔ کہیں استاد کم تنخواہ سے پریشان ہے، کہیں تربیت کمزور ہے، کہیں سیاسی اثرات ہیں، کہیں احتساب نہیں، اور کہیں پورا ماحول ہی استاد کو محض نصاب ختم کرنے والی مشین بنا دیتا ہے۔ استاد اگر خود مسلسل سیکھنے والا، سوال کرنے والا اور تحقیق سے جڑا ہوا نہیں ہوگا تو وہ بچوں میں یہ صلاحیتیں کیسے پیدا کرے گا؟
پاکستان کے امتحانی نظام نے بھی تعلیم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ہمارا امتحان اکثر یادداشت کو ناپتا ہے، فہم کو نہیں۔ بچہ جانتا ہے کہ اچھے نمبر لینے کے لیے محفوظ جواب لکھنا ہے، کتابی زبان استعمال کرنی ہے، گائیڈ کی لائنیں یاد کرنی ہیں اور کوئی نیا زاویہ نہیں لانا۔ اس طرح امتحان ذہانت کو نہیں بلکہ مطابقت کو انعام دیتا ہے۔ جو بچہ زیادہ اچھا رٹتا ہے وہ کامیاب کہلاتا ہے، اور جو بچہ مختلف سوچتا ہے وہ اکثر مشکل بچہ سمجھا جاتا ہے۔ پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ہمارے ہاں موجد، محقق اور اصل فکر رکھنے والے لوگ کم کیوں ہیں۔ بھائی، جب بچپن سے ہی مختلف سوچ کو کاٹ دیا جائے تو بعد میں تخلیق کہاں سے آئے گی؟
جاپان کا نظم و ضبط صرف سختی کا نتیجہ نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کا نتیجہ ہے۔ وہاں بچہ سمجھتا ہے کہ اگر میں وقت پر نہیں آیا تو دوسروں کا نقصان ہوگا، اگر میں صفائی نہیں رکھوں گا تو معاشرے کو تکلیف ہوگی، اگر میں ذمہ داری نہیں نبھاؤں گا تو نظام کمزور ہوگا۔ پاکستان میں بدقسمتی سے بچہ اکثر یہ منظر دیکھتا ہے کہ استاد دیر سے آ رہا ہے، دفتر دیر سے کھل رہا ہے، نتیجہ دیر سے آ رہا ہے، وعدے پورے نہیں ہو رہے، منصوبے ادھورے ہیں، قانون کمزور ہے، اور پھر ہم اسی بچے سے توقع کرتے ہیں کہ وہ مثالی نظم و ضبط دکھائے۔ بچے معاشرے کی نقل ہوتے ہیں، الگ سیارے سے نہیں آتے۔
تعلیم اور معیشت کا تعلق بھی پاکستان میں کمزور ہے۔ جاپان میں تعلیم صنعت، تحقیق، قومی ضرورت اور عملی مہارت سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں بہت سے نوجوان سالوں کی تعلیم کے بعد یہ محسوس کرتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے پڑھا، عملی زندگی میں اس کی ضرورت بہت کم ہے۔ ڈگری موجود ہے مگر مہارت نہیں، سند موجود ہے مگر اعتماد نہیں، معلومات موجود ہیں مگر مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں۔ یہ ایک بڑا قومی نقصان ہے۔ ہمیں ایسے نوجوان نہیں چاہییں جو صرف نوکری مانگیں، ہمیں ایسے نوجوان چاہییں جو مسئلہ سمجھیں، حل نکالیں، کام پیدا کریں، نئی راہیں بنائیں اور معاشرے کو آگے لے جائیں۔
مطالعے کی کمزوری بھی پاکستان کے فکری بحران کی اہم وجہ ہے۔ ہمارے ہاں بہت سے بچے صرف امتحان کے لیے پڑھتے ہیں۔ امتحان ختم، کتاب ختم۔ جبکہ اصل تعلیم نصاب سے باہر شروع ہوتی ہے۔ جو قوم مطالعہ نہیں کرتی، وہ دوسروں کے خیالات استعمال کرتی رہتی ہے۔ وہ نئی فکر، نئی سمت، نئی تہذیب اور نئی تحقیق پیدا نہیں کر سکتی۔ جاپان جیسے معاشروں میں مطالعہ عادت ہے، صرف امتحانی ضرورت نہیں۔ پاکستان کو بھی کتاب، سوال، مکالمہ، تحقیق اور غور و فکر کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
پاکستان کا اصل بحران صرف تعلیمی نہیں، فکری بحران ہے۔ ہم بچوں کو اکثر یہ سکھاتے ہیں کہ کیا سوچنا ہے، مگر یہ نہیں سکھاتے کہ کیسے سوچنا ہے۔ ہم جواب یاد کرواتے ہیں، سوال پیدا نہیں کرتے۔ ہم نصاب مکمل کرواتے ہیں، ذہن مکمل نہیں بناتے۔ ہم نمبر لیتے ہیں، مگر شعور نہیں بناتے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بچے پڑھ لکھ کر بھی آزادانہ سوچ، دلیل، تحقیق، برداشت، تجزیہ اور فیصلہ سازی میں کمزور رہ جاتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اصلاح کہاں سے شروع ہو؟ سب سے پہلے ابتدائی تعلیم کو قومی ترجیح نہیں بلکہ قومی ایمرجنسی سمجھنا ہوگا۔ اگر بچہ پہلی پانچ جماعتوں میں پڑھنا، سمجھنا، لکھنا، سوال کرنا، گنتی، اخلاق، اعتماد اور بنیادی سوچ نہیں سیکھتا تو آگے کی ساری عمارت کمزور بنیاد پر کھڑی ہوگی۔ ہمیں ابتدائی تعلیم کو سب سے مضبوط بنانا ہوگا، کیونکہ قوم کی فکری عمارت کی بنیاد وہیں رکھی جاتی ہے۔
دوسرا بڑا قدم امتحانی نظام کی اصلاح ہے۔ امتحان کو صرف یادداشت کا پیمانہ نہیں رہنا چاہیے۔ اس میں فہم، تجزیہ، تخلیق، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، عملی اطلاق، گفتگو، تحقیق اور اخلاقی سمجھ کو بھی جگہ ملنی چاہیے۔ جب تک امتحان نہیں بدلے گا، تدریس نہیں بدلے گی۔ جب تک تدریس نہیں بدلے گی، ذہن نہیں بدلے گا۔ اور جب تک ذہن نہیں بدلے گا، قوم کا مستقبل نہیں بدلے گا۔
تیسرا قدم استاد کو مرکز میں لانا ہے۔ استاد کو صرف نصاب ختم کرنے والا فرد نہیں بلکہ رہنما، مربی، محقق اور کردار ساز بنانا ہوگا۔ اس کے لیے استاد کی تربیت، عزت، معاشی تحفظ، نگرانی، جدید تدریسی طریقوں اور مسلسل سیکھنے کے مواقع ضروری ہیں۔ دنیا کے مضبوط تعلیمی نظام استاد پر کھڑے ہیں۔ اگر استاد کمزور ہے تو نصاب، عمارت، آلات اور دعوے سب کمزور ہیں۔
چوتھا قدم سرکاری سکولوں کو مضبوط کرنا ہے۔ جب تک عام بچے کو معیاری تعلیم نہیں ملے گی، قوم طبقوں میں تقسیم رہے گی۔ ایک طرف مہنگے سکولوں کے بچے عالمی مواقع حاصل کریں گے، دوسری طرف کمزور سکولوں کے بچے زندگی کی دوڑ شروع ہونے سے پہلے ہی پیچھے رہ جائیں گے۔ یہ صرف تعلیمی مسئلہ نہیں، یہ سماجی ناانصافی ہے۔ پاکستان کو ایسا نظام چاہیے جہاں غریب کا بچہ بھی بہترین تعلیم، اچھا استاد، محفوظ ماحول اور ترقی کا برابر موقع حاصل کر سکے۔
پانچواں قدم زبان کی واضح اور دانشمندانہ پالیسی ہے۔ ابتدائی سطح پر بچے کو اس زبان میں تعلیم ملنی چاہیے جس میں وہ واقعی سمجھ سکے۔ اس کے ساتھ مضبوط اردو، پھر منظم انداز میں دوسری زبانوں کی تعلیم دی جائے۔ زبان کو رکاوٹ نہیں، پل بنایا جائے۔ بچے کی سوچ کو قربان کر کے زبان سکھانا دانشمندی نہیں۔ پہلے بچے کو سمجھنا سکھائیں، پھر اسے دنیا کی زبانوں سے جوڑیں۔
چھٹا قدم سکول کو زندگی سے جوڑنا ہے۔ بچے کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ زندگی کی مہارتیں بھی سکھائی جائیں۔ وہ صحت، صفائی، مالی سمجھ، گفتگو، ٹیم ورک، اخلاق، شہری ذمہ داری، مسئلہ حل کرنا، تحقیق، جدید آلات کا درست استعمال اور عملی کام کرنا سیکھے۔ جب تعلیم زندگی سے کٹ جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے، اور جب تعلیم زندگی سے جڑ جائے تو وہ طاقت بن جاتی ہے۔
پاکستان کو جاپان کی اندھی نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہر ملک کی اپنی تاریخ، ثقافت، زبان، معاشی حالات اور سماجی حقیقت ہوتی ہے۔ مگر پاکستان جاپان سے اصول سیکھ سکتا ہے: نظم، استاد کی عزت، معیاری سرکاری تعلیم، مادری زبان میں مضبوط بنیاد، عملی تعلیم، تحقیق، اجتماعی ذمہ داری، کردار سازی، وقت کی پابندی اور علم کو زندگی سے جوڑنا۔ یہی اصول کسی بھی قوم کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کے بچے کم ذہین نہیں۔ مسئلہ بچوں کا نہیں، نظام کا ہے۔ ہمارے بچے ذہین ہیں، محنتی ہیں، سوال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تخلیق کر سکتے ہیں، دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مگر انہیں ایسا ماحول چاہیے جو ان کی سوچ کو دبائے نہیں، جگائے۔ ایسا استاد چاہیے جو انہیں ڈرائے نہیں، رہنمائی دے۔ ایسا نصاب چاہیے جو انہیں رٹو طوطا نہ بنائے، سوچنے والا انسان بنائے۔ ایسا امتحان چاہیے جو ان کی سمجھ کو پرکھے، صرف یادداشت کو نہیں۔
پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، ذہانت ہے، جذبہ ہے، ثقافتی طاقت ہے، دینی و اخلاقی بنیاد ہے، جدید دور کے مواقع ہیں، اور دنیا سے جڑنے کے امکانات ہیں۔ کمی صرف درست سمت، مستقل مزاجی، سنجیدہ پالیسی اور قوم گیر تعلیمی شعور کی ہے۔ اگر ہم تعلیم کو واقعی قوم سازی کا ذریعہ بنا لیں تو پاکستان صرف جاپان سے سیکھ نہیں سکتا، بلکہ اپنی تہذیبی بنیادوں اور جدید علم کے امتزاج سے ایک بہتر، منفرد اور باوقار تعلیمی نمونہ بھی پیش کر سکتا ہے۔
آخر میں فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے تیار کر رہے ہیں یا مستقبل بنانے کے لیے؟ کیا ہم انہیں صرف نوکری ڈھونڈنے والا بنانا چاہتے ہیں یا مسئلہ حل کرنے والا؟ کیا ہم انہیں صرف کتاب کا جواب یاد کرانا چاہتے ہیں یا زندگی کے سوالات کا سامنا کرنا سکھانا چاہتے ہیں؟ قومیں رٹے سے نہیں بنتیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ عمارتوں سے نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔ دعووں سے نہیں بنتیں، مستقل تعلیمی عمل سے بنتی ہیں.
ابنِ محمد یار
ماہرِ مصنوعی ذہانت، محققِ جدید تعلیم، اور تربیتی رہنما
پیگ لائن:
تعلیم وہ روشنی ہے جو قوم کو نقل سے نکال کر تخلیق، شعور اور قیادت تک لے جاتی ہے۔