11/05/2024
Everything about circle 😎
Aspire to be leader one day ��
11/05/2024
Everything about circle 😎
عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
ہشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا
اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور ،( کبھی) خوف سے اور (کبھی) بھوک سے (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے اور جو لوگ ( ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
(القرآن)
07/12/2023
Mind map
02/12/2023
Types of graphs
21/11/2023
Orbital period of every planet in the Solar System.
مادی آلات کی دریافت اور پھر ان کی مدد سے مادے میں تبدیلیوں کا عمل انسانی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ پتھروں، ہڈیوں، چمڑے کے استعمال سے لے کر برتن بنانے اور دھات کاری جس میں تانبہ، سیسہ، لوہا اور پیریاڈک ٹیبل کے دیگر تمام عناصر کی دریافت اور ترتیب شامل ہے۔ یونہی برقیات، حرارت، روشنی، مقناطیسیت اور کیمیاوی تعاملات سمیت سپر کنڈکٹر اور سپر فلائڈ کی دریافت، پلاسٹک، سیرامک، گرافین اور حالیہ وقتوں میں ٹوپولوجیکل انسولیٹر بھی شامل ہیں۔
ہم انسانوں نے اپنی ذہانت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر قدرتی وسائل کو کارآمد آلات اور ٹیکنالوجی کے ذریعے مفید بنانے کا کام کیا ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ مادے کی ان حالتوں کی دریافت اور ان کے استعمال کے پیچھے کون سا علم کارفرما ہے؟ جدید آلات میں سینکڑوں مشینی پرزے موجود ہوتے ہیں جنہیں دریافت کرنے اور قابل استعمال بنانے میں فزکس کے ایک شعبے سے سب سے زیادہ کام لیا گیا ہے اور یہ کنڈینسڈ میٹر فزکس Condensed Matter Physics کا شعبہ ہے۔
11/02/2023
اگر ہم زمین پر لاہور شہر کے بلکل نیچے زمین کی دوسری طرف جانا چاہیں تو ہمیں 20 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا لیکن اگر ہم زمین کی سطح پر سفر کرنے کی بجائے لاہور شہر کے نیچے زمین کی دوسرے طرف ایک سیدھا سوراخ کریں اور اُس میں چھلانگ لگا دیں تو کیا ہوگا۔
اگر ہم ایسا سوراخ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم زمین کی دوسری طرف ساؤتھ امریکہ کے سمندر میں نکلیں گے جہاں سے قریب ترین ملک چلی ہے اور وہ بھی 608 کلومیٹر کے فاصلے پر لیکن اگر ہم ارجنٹینا سے زمین میں ایک سیدھا سوراخ کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو سوراخ دوسری طرف چین میں نکلے گا۔
سائنس دان زمین کو زمین کی سطح کے بعد تین بُنیادی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں
Mentle.
Outer core.
Inner core
انسان آج تک ان تین حصوں کے پار نہیں جاسکا اور اگر ہم زمین کی سطح پر سوراخ کرنا شروع کریں تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر سے ساڑھے تین کلومیٹر نیچے ہمیں Devil Worm ملیں گے ڈیول وارم زیر زمین گہرائی میں رہنے والے واحد جانور ہیں جو انسان نے 2011 میں دریافت کیے تھے اور پھر 3600 میٹر کی گہرائی سے آگے درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوجائے گا۔
زمین کی سطح کے 4000 میٹر نیچے زمین کا درجہ حرارت 60C تک پہنچ جائے گا جہاں سے نیچے مزید سوراخ کرنے کے لیے ہمیں ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے برف درکار ہوگی، سوراخ مزید گہرا کرتے ہُوئے جب 8800 میٹر نیچے پہنچے گا تو یہ زمین کے سب سے اُونچے پہاڑماونٹ ایورسٹ کی بُلندی جتنا گہرا ہوجائے گا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ انسان زمین کے اندر اس سے بھی آگے جا چُکا ہے اور Kola Superdeep Borehole کے نام سے سائندانوں نے اب تک زمین میں 12260 میٹر کی گہرائی تک سُوراخ کیا ہے۔
اس گہرائی پر زمین کا درجہ حرارت 180 ڈگری سے تجاوز کرجاتا ہے اور پریشر سطح سمندر کے پریشر سے 4 ہزار گُنا زیادہ ہو جاتا ہے اور اگر آپ سوراخ کرتے کرتے اس مُقام پر پہنچ جائیں تو آپ کو اس مُقام پر زندہ رہنے کے لیے سوراخ کے ارد گرد ایسی انسولیشن کرنی پڑے گی جو اس شدید درجہ حرارت کو سوراخ میں داخل ہونے سے روک دے وگرنہ آپ اپنے سوراخ کرنے کے سامان سمیت پگھل جائیں گے۔
اگر آپ سوراخ کرتے کرتے 40 ہزار میٹر نیچے پہنچ جائیں تو یہاں سے زمین کی دوسری تہہ Mantle شروع ہوگی اور اس مقام پر زمین کا درجہ حرارت 1 ہزار ڈگری کے قریب پہنچ جائے گا جہاں لوہا اور سلور پگھل جاتے ہیں مگر خوشخبری یہ ہے کے سٹیل نہیں پگھلے گا کیونکہ سٹیل کو پگھلانے کے لیے درجہ حرارت کا 1370 ڈگری سے زیادہ ہونا ضروری ہے چنانچہ آپ سٹیل کی ڈرل سے زمین کی تہہ مینٹل جس کی اوپر والی سطح چٹانوں سے بنی ہے ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جب آپ 1 لاکھ میٹر نیچے پہنچے گے تو آپ کی سٹیل ڈرل کام کرنا چھوڑ دے گی اور پگھل جائے گی اور آپ کو مزید نیچے جانے کے لیے کسی اور دھات کی ڈرل کی ضرورت ہوگی جو اُس درجہ حرارت پر نا پگھلے.
ڈرل کرتے کرتے جب آپ ڈیڑھ لاکھ میٹر نیچے پہنچیں گے تو آپ کو مزے ہی آجائیں گے کیونکہ یہاں آپ کو بیشمار ہیرے ملیں گے کیونکہ اس مُقام پر زمین کا پریشر اور گرمی کاربن کے ایٹم کی ساخت کو بدلتی ہے اور ہیرا وجود میں آتا ہے اور زمین کی اس گہرائی پر آپکو لوہے اور چٹانوں سمیت ہر چیز پگھلی ہُوئی ملے گی جیسے آتش فشاں کا لاوا ہوتا ہے۔
اگر آپ اس مقام پر سے زمین کی مزید تہہ میں جانے میں کامیاب ہوجائیں تو 4 لاکھ 10 ہزار میٹر کی گہرائی پر لاوا ختم ہوجائے گا اور دوبارہ چٹانوں کا سلسلہ شروع ہوگا زمین کی اس گہرائی پر درجہ حرات بے حد زیادہ ہوجاتا ہے مگر چٹانیں اس لیے نہیں پگھلتی کیونکہ زمین کا پریشربڑھتے بڑھتے اُس مقام پر چلا جاتا ہے جہاں مالیکول پگھل نہیں پاتے چنانچہ چٹانیں دوبارہ وجود میں آ جاتی ہیں۔
ڈرل کرتے کرتے جب آپ 3 ملین میٹر کی گہرائی پر پہنچیں گے تو آپ کو زمین کی تیسری تہہ Outer Core ملے گی اور یہ تہہ چٹانوں کی بجائے لوہے اور نکل سے بنی ہُوئی ہے اور اس مقام کا درجہ حرارت سُورج کی سطح کے برابر ہے اور تقریباً 5 سے 6 ہزار ڈگری گرم ہے یہ تہہ زمین کی انتہائی اہم تہہ ہے کیونکہ یہاں پر میگنیٹک فلیڈز بنتی ہیں جو زمین کی سطح سے باہر نکل کر خلا تک جا کر ایک بیرئر بناتی ہیں اور زمین کی سطح کو سولر ونڈز سے محفوظ رکھتی ہیں، زمین کی اس تہہ پر آپ کو لوہا اور نکل پگھلا ہُوا ملے گا اور ڈرل کرنے کے لیے کوئی سُپر مٹریل درکار ہوگا اور انسان کی عقل نے اب تک کوئی ایسی چیز دریافت نہیں کی جو 6 ہزار ڈگری سے اوپر کا درجہ حرارت برداشت کر سکے۔
اس مُقام پر آپ کو ڈرل کرنے میں دوسرا بڑا مسلہ یہ درپیش آئے گا کہ یہاں کشش ثقل بہت کم ہوئے گی اور آپ کو کوئی سُپر سب مرین درکار ہوگی جو اتنے پریشر اور حدت کو برداشت کرتے ہُوئے مزید گہرائی میں جا سکے اورجب آپ Outer Core کو ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے پہنچیں گے تو تقریباً 5 لاکھ میٹر نیچے آپ کو زمین کی Inner Core ملے گی جو کے جمے ہُوئے لوہے کی بنی ہُوئی ہے یہاں پر کشش ثقل صفر ہوجائے گی اور زمین کی اس تہہ میں سوراخ کرنا آپ کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا لیکن اگر یہاں بھی آپ کامیاب ہوگئے تو تقریبا 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے آپ زمین کے بلکل وسط میں پہنچ جائیں گے اور یہاں سے آگے ڈرل کرنے کے لیے آپکو نیچے جانے کی بجائے اوپر کی طرف Climb کرنا پڑے گا۔
مُجھے اُمید ہے کہ اگر آپ 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے پہنچ گئے تو پھر یقیناً وہاں سے زمین کی دوسری طرف Climb کرتے ہُوئے نکلنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو زمین کے آر پار ایک سوراخ ہوجائے گا اور ارجنٹینا سے چین کا سفر کرنے لیے آپکو صرف ایک گھنٹہ درکار ہوگا اور یہ سفر آپ سوراخ کی ایک سائیڈ سے چھلانگ لگا کر کریں گے اور یہ چھلانگ آپ کو سوراخ کے دوسری طرف نکال دے گی۔
زمین کے اس سوراخ میں چھلانگ لگانے کے لیے آپ کو اور بھی کئی طرح کی چیزیں درکا ہو گی جیسے خلائی سُوٹ جو پریشر کو برداشت کر سکے وغیرہ وغیرہ لیکن آج تک کوئی انسان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہُوا اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ناممکن ہی دیکھائی دیتا ہے۔ مگر ایک چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ نے انسان کو عقل سلیم عطا کی ہے اور عقل سلیم میں کوئی چیز نا ممکن نہیں ہے۔
نیوکلیٸر فورس.
قدرت میں چار بنیادی فورسز پاٸ جاتی ہیں جن میں الیکٹرومیگنیٹک فورس،گریوی ٹیشنل فورس،کمزور نیوکلیاٸ فورس اور مضبوط نیوکلیاٸ فورس شامل ہیں۔ایسی فورس پروٹانز اور نیوٹرانز کو نیوکلیس میں باندھ کر رکھتی ہے مضبوط نیوکلیاٸ فورس کہلاتی ہے۔آج ہم اسی فورس کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کریں گے۔
زیادہ تر طلباء شاید یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیس الیکٹرونز پر جو قوت لگاتا ہے اس کو نیوکلیئر قوت کہتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔یعنی طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیئر فورس الیکٹروسٹیٹک فورس ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ الیکٹروسٹیٹک فورس چارجز کے درمیان لگنے والی فورس ہے جبکہ نیوکلیئر فورس چارج پر منحصر نہیں۔ایسی فورس ہے جو نیوکلیانز(پروٹانز اور نیوٹرانز) ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔یعنی نیوکلیانز کے درمیان کشش کی فورس نیوکلیئر فورس کہلاتی ہے۔یہی قوت نیوکلیانز کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے جس کی وجہ سے پروٹان نیوکلیئس میں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے چپکے ہوتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہوگا کہ نیوکلیئس میں پروٹون کیسے ایگسٹ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ تو ایک دوسرے پر الیکٹروسٹیٹک ریپلسو فورس لگاتے ہیں اور اس فورس کی وجہ سے تو ان کو ایک دوسرے سے دور جانا چاہیے اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے ایٹم کو کو لیپس کر جانا چاہیے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایٹم کو کلیپس کر جانا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایٹم تو سٹیبل ہوتا ہے۔یعنی اس کے نیوکلیئس میں موجود پروٹانز نے ایک دوسرے کو جکڑے رکھا ہوتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ضرور کوئی ایسی فورس ہوگی جو ان کو آپس میں مضبوطی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔انیس سو اکتیس میں نیوٹرانز کی دریافت کے بعد ہمیں یہ پتہ چلا کہ ایسی فورس واقعتاً ہے جو پروٹان اور نیوٹرون کو آپس میں جوڑ کر رکھتی ہے اور اس فورس کو نیوکلیئر فورس کہتے ہیں۔چونکہ نیوکلیس کا سائز ایٹم کے سائز کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے یعنی یوں سمجھیں کہ اگر ہم ایٹم کے ساٸز کو ایک کرکٹ سٹیڈیم مانیں تو اس کے مقابلے میں نیوکلیس کا ساٸز سٹیڈیم میں رکھی ایک کرکٹ بال کے برابر ہوگا یعنی ایک لاکھ گنا چھوٹا۔اگرچہ نیوکلیس کا ساٸز بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ایٹم کا نناوے فیصد ماس اسکے نیوکلیس میں موجود ہوتا۔تھوڑا تصور کیجیے کہ پروٹانز ایک دوسرے کے کتنے قریب ہوں گے اور اس قدر قریب ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان الیکٹروسٹیٹک ریپلسوو فورس کتنی مضبوط ہوگی اور چونکہ پروٹانز نے اسکے باوجود ایک دوسرے کو جکڑا ہوتا ہے اسکا مطلب ہے کہ الیکٹروسٹیٹک فورس کی نسبت نیوکلیر فورس کتنی زیادہ طاقتور ہوگی۔لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اس فورس کے متعلق معلومات یعنی دو نیوکلیاٸنز یعنی پروٹانز اور پروٹانز کے درمیان نیوٹرونز اور نیوٹرونز کے درمیان یا پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان نیوکلیر فورس کی مقدار کتنی ہے،کے لیے ہمارے پاس کوٸ لاء موجود نہیں ہے جسطرح ہم دو ماسز کے درمیان عمل کرنے والی گریوی ٹیشنل فورس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس گریوی ٹیشنل لاء(F=Gm1m2/r²) اور دو چارجز کے درمیان موجود الیکٹروسٹیٹک فورس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے کولمب لاء(F=kq1q2/r²) لاء موجود ہے۔
نیوکلیر فورس اگرچہ کششی فورس ہے لیکن یہ گریوی ٹیشنل فورس یا الیکٹروسٹیٹک فورس کی طرح اتنی سادہ نہیں ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ گریوی ٹیشنل فورس اور الیکٹروسٹیک فورس کی نسبت بہت ہی شارٹ رینج فورس ہے۔اگرچہ یہ بہت ہی شارٹ رینج فورس ہے یعنی اگر دو نیوکلیانز کے درمیان فاصلہ فیمٹو میٹر کے آرڈر میں ہو تب یہ فورس برقرار رہ پاۓ گی۔فیمٹو میٹر کا اندازہ لگانے کے لیے کہ یہ کتنا چھوٹا فاصلہ ہے اس کے لیے اگر آپ ایک میٹر کو کھرب برابر حصوں میں تقسیم کریں تو ان حصوں کی لمباٸ شاید فیمٹو میٹر(femto=10^-15) میں آۓ۔اگر ہم دو نیوکلیانز کے درمیان تقریبا 3fm فاصلہ کردیں تو نیوکلیر فورس نہیں عمل کرے گی۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی شارٹ رینج فورس ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دو ماسز کے درمیان ہمیشہ اٹریکٹو فورس ہی لگتی ہے یعنی ماسز ہمیشہ ایک دوسرے کو اپنی جانب کھنچتے ہیں۔کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اگر دو ماسز کے درمیان فاصلہ تبدیل کرنے سے وہ ایک دوسرے پر repulsive فورس لگانا شروع کردیں۔یعنی گریوی ٹیشنل فورس کی نوعیت فاصلے پر منحصر نہیں ہے۔اگرچہ گریوی ٹیشنل فورس کی مقدار فاصلہ تبدیل کرنے سے تبدیل ہوجاتی ہے لیکن اسکی نیچر تو سیم ہی رہی گی یعنی وہ ہمیشہ اٹریکٹو فورس ہی رہے گی۔اسی طرح اگر دو ایک جیسے چارجز کے درمیان ہمیشہ ریپلشن کی فورس عمل کرے گی چاہے فاصلہ کم ہو یا زیادہ ہو۔لیکن حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر دو نیوکلیاٸنز کے درمیان فاصلہ 0.7fm سے جیسے ہی کم ہوگا تو ان کے درمیان موجود نیوکلیر فورس ریپلسو فورس بن جاۓ گی۔یعنی نیچر نے ایک لمٹ لگاٸ ہوٸ ہے کہ دو نیوکلیاٸ اس فاصلے سے کم فاصلے پر نہیں آسکتے۔جیسے ہی وہ قریب آنے کی کوشش کریں گے نیوکلیر ریپلسو فورس لگنا شروع ہوجاۓ گی۔اگرچہ یہ فورس بہت ہی مضبوط ہے لیکن جیسے ہی دو نیوکلیاٸنز کے درمیان تھوڑے ہی فاصلہ بڑھنے کے ساتھ یہ فورس تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔جس طرح اگر دو چارچز یا ماسز کے درمیان اگر فاصلہ دو گنا زیادہ کردیا جاۓ تو ان کے درمیان فورس کی مقدار چار گنا کم ہوجاتی ہے۔جبکہ اس کے برعکس اگر دو نیوکلیاٸنز کے درمیان فاصلہ دو گنا زیادہ کردیا جاۓ تو یہ نیوکلیر فورس کٸ ہزار گنا کم ہوجاتی ہے یعنی اسکا ریٹ آف چینچ بہت زیادہ ہے۔اگر دو نیوکلیاٸنز مطلب دو پروٹانز کے درمیان یا پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان یا دو نیوٹرانز کے درمیان فاصلہ 1fm ہو تو نیوکلیر فورس کی مقدار سب سے زیادہ ہوگی ایک اندازے کے مطابق 25000N فورس لگے گی جوکہ بہت ہی بڑی فورس ہے ۔اور جیسے ہی نیوکلیانز کے درمیان فاصلہ تقریبا 3fm سے بڑھتا ہے تو یہ اتنی کم ہوجاتی ہے کہ الیکٹروسٹیک فورس غالب آجاتی ہے
نیوکلیٸر فورس.
قدرت میں چار بنیادی فورسز پاٸ جاتی ہیں جن میں الیکٹرومیگنیٹک فورس،گریوی ٹیشنل فورس،کمزور نیوکلیاٸ فورس اور مضبوط نیوکلیاٸ فورس شامل ہیں۔ایسی فورس پروٹانز اور نیوٹرانز کو نیوکلیس میں باندھ کر رکھتی ہے مضبوط نیوکلیاٸ فورس کہلاتی ہے۔آج ہم اسی فورس کو تفصیل سے جاننے کی کوشش کریں گے۔
زیادہ تر طلباء شاید یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیس الیکٹرونز پر جو قوت لگاتا ہے اس کو نیوکلیئر قوت کہتے ہیں جو کہ بالکل غلط ہے۔یعنی طلباء یہ سمجھتے ہیں کہ نیوکلیئر فورس الیکٹروسٹیٹک فورس ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ الیکٹروسٹیٹک فورس چارجز کے درمیان لگنے والی فورس ہے جبکہ نیوکلیئر فورس چارج پر منحصر نہیں۔ایسی فورس ہے جو نیوکلیانز(پروٹانز اور نیوٹرانز) ایک دوسرے پر لگاتے ہیں۔یعنی نیوکلیانز کے درمیان کشش کی فورس نیوکلیئر فورس کہلاتی ہے۔یہی قوت نیوکلیانز کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے جس کی وجہ سے پروٹان نیوکلیئس میں ایک دوسرے کے ساتھ مضبوطی سے چپکے ہوتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہوگا کہ نیوکلیئس میں پروٹون کیسے ایگسٹ کرسکتے ہیں کیونکہ وہ تو ایک دوسرے پر الیکٹروسٹیٹک ریپلسو فورس لگاتے ہیں اور اس فورس کی وجہ سے تو ان کو ایک دوسرے سے دور جانا چاہیے اور ان کے درمیان فاصلہ بڑھنے سے ایٹم کو کو لیپس کر جانا چاہیے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایٹم کو کلیپس کر جانا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایٹم تو سٹیبل ہوتا ہے۔یعنی اس کے نیوکلیئس میں موجود پروٹانز نے ایک دوسرے کو جکڑے رکھا ہوتا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ ضرور کوئی ایسی فورس ہوگی جو ان کو آپس میں مضبوطی کے ساتھ جوڑے رکھتی ہے۔انیس سو اکتیس میں نیوٹرانز کی دریافت کے بعد ہمیں یہ پتہ چلا کہ ایسی فورس واقعتاً ہے جو پروٹان اور نیوٹرون کو آپس میں جوڑ کر رکھتی ہے اور اس فورس کو نیوکلیئر فورس کہتے ہیں۔چونکہ نیوکلیس کا سائز ایٹم کے سائز کے مقابلے میں بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے یعنی یوں سمجھیں کہ اگر ہم ایٹم کے ساٸز کو ایک کرکٹ سٹیڈیم مانیں تو اس کے مقابلے میں نیوکلیس کا ساٸز سٹیڈیم میں رکھی ایک کرکٹ بال کے برابر ہوگا یعنی ایک لاکھ گنا چھوٹا۔اگرچہ نیوکلیس کا ساٸز بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ ایٹم کا نناوے فیصد ماس اسکے نیوکلیس میں موجود ہوتا۔تھوڑا تصور کیجیے کہ پروٹانز ایک دوسرے کے کتنے قریب ہوں گے اور اس قدر قریب ہونے کی وجہ سے ان کے درمیان الیکٹروسٹیٹک ریپلسوو فورس کتنی مضبوط ہوگی اور چونکہ پروٹانز نے اسکے باوجود ایک دوسرے کو جکڑا ہوتا ہے اسکا مطلب ہے کہ الیکٹروسٹیٹک فورس کی نسبت نیوکلیر فورس کتنی زیادہ طاقتور ہوگی۔لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ اس فورس کے متعلق معلومات یعنی دو نیوکلیاٸنز یعنی پروٹانز اور پروٹانز کے درمیان نیوٹرونز اور نیوٹرونز کے درمیان یا پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان نیوکلیر فورس کی مقدار کتنی ہے،کے لیے ہمارے پاس کوٸ لاء موجود نہیں ہے جسطرح ہم دو ماسز کے درمیان عمل کرنے والی گریوی ٹیشنل فورس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس گریوی ٹیشنل لاء(F=Gm1m2/r²) اور دو چارجز کے درمیان موجود الیکٹروسٹیٹک فورس کی مقدار معلوم کرنے کے لیے کولمب لاء(F=kq1q2/r²) لاء موجود ہے۔
نیوکلیر فورس اگرچہ کششی فورس ہے لیکن یہ گریوی ٹیشنل فورس یا الیکٹروسٹیٹک فورس کی طرح اتنی سادہ نہیں ہے۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ گریوی ٹیشنل فورس اور الیکٹروسٹیک فورس کی نسبت بہت ہی شارٹ رینج فورس ہے۔اگرچہ یہ بہت ہی شارٹ رینج فورس ہے یعنی اگر دو نیوکلیانز کے درمیان فاصلہ فیمٹو میٹر کے آرڈر میں ہو تب یہ فورس برقرار رہ پاۓ گی۔فیمٹو میٹر کا اندازہ لگانے کے لیے کہ یہ کتنا چھوٹا فاصلہ ہے اس کے لیے اگر آپ ایک میٹر کو کھرب برابر حصوں میں تقسیم کریں تو ان حصوں کی لمباٸ شاید فیمٹو میٹر(femto=10^-15) میں آۓ۔اگر ہم دو نیوکلیانز کے درمیان تقریبا 3fm فاصلہ کردیں تو نیوکلیر فورس نہیں عمل کرے گی۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کتنی شارٹ رینج فورس ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ دو ماسز کے درمیان ہمیشہ اٹریکٹو فورس ہی لگتی ہے یعنی ماسز ہمیشہ ایک دوسرے کو اپنی جانب کھنچتے ہیں۔کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ اگر دو ماسز کے درمیان فاصلہ تبدیل کرنے سے وہ ایک دوسرے پر repulsive فورس لگانا شروع کردیں۔یعنی گریوی ٹیشنل فورس کی نوعیت فاصلے پر منحصر نہیں ہے۔اگرچہ گریوی ٹیشنل فورس کی مقدار فاصلہ تبدیل کرنے سے تبدیل ہوجاتی ہے لیکن اسکی نیچر تو سیم ہی رہی گی یعنی وہ ہمیشہ اٹریکٹو فورس ہی رہے گی۔اسی طرح اگر دو ایک جیسے چارجز کے درمیان ہمیشہ ریپلشن کی فورس عمل کرے گی چاہے فاصلہ کم ہو یا زیادہ ہو۔لیکن حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر دو نیوکلیاٸنز کے درمیان فاصلہ 0.7fm سے جیسے ہی کم ہوگا تو ان کے درمیان موجود نیوکلیر فورس ریپلسو فورس بن جاۓ گی۔یعنی نیچر نے ایک لمٹ لگاٸ ہوٸ ہے کہ دو نیوکلیاٸ اس فاصلے سے کم فاصلے پر نہیں آسکتے۔جیسے ہی وہ قریب آنے کی کوشش کریں گے نیوکلیر ریپلسو فورس لگنا شروع ہوجاۓ گی۔اگرچہ یہ فورس بہت ہی مضبوط ہے لیکن جیسے ہی دو نیوکلیاٸنز کے درمیان تھوڑے ہی فاصلہ بڑھنے کے ساتھ یہ فورس تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔جس طرح اگر دو چارچز یا ماسز کے درمیان اگر فاصلہ دو گنا زیادہ کردیا جاۓ تو ان کے درمیان فورس کی مقدار چار گنا کم ہوجاتی ہے۔جبکہ اس کے برعکس اگر دو نیوکلیاٸنز کے درمیان فاصلہ دو گنا زیادہ کردیا جاۓ تو یہ نیوکلیر فورس کٸ ہزار گنا کم ہوجاتی ہے یعنی اسکا ریٹ آف چینچ بہت زیادہ ہے۔اگر دو نیوکلیاٸنز مطلب دو پروٹانز کے درمیان یا پروٹانز اور نیوٹرانز کے درمیان یا دو نیوٹرانز کے درمیان فاصلہ 1fm ہو تو نیوکلیر فورس کی مقدار سب سے زیادہ ہوگی ایک اندازے کے مطابق 25000N فورس لگے گی جوکہ بہت ہی بڑی فورس ہے ۔اور جیسے ہی نیوکلیانز کے درمیان فاصلہ تقریبا 3fm سے بڑھتا ہے تو یہ اتنی کم ہوجاتی ہے کہ الیکٹروسٹیک فورس غالب آجاتی ہے
*زندگی میں کبھی کسی بھی مقام پرہو کچھ بھی بنیں...*
*لیکن کبھی* *judgemental مت بنیں...*
*دوسروں کو اپنی بات کہنے کا موقع دیں۔*
*بغیر تحقیق کیے کسی کو بھی کٹہرے میں کھڑا نہ کریں، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں کوئی بھی perfect نہیں ہوتا، لیکن کسی کی ایک غلطی پر اسے judge کرلینا کہ فلاں تو ہے ہی ایسا...*
*سنیں!...*
*ہر انسان اپنی جگہ پر صحیح ہوتا ہے،* *ادھوری بات کبھی بھی قصہ مکمل نہیں کرتی...*
*سوچیں!...*
*اگر اس جگہ پہ جہاں وہ ہے، آپ ہوتے تو یقیناً آپ بھی ایسا ہی کرتے۔*
*بس آپ لوگوں کو اپنی زندگی میں ایک assign کیا ہوا character سمجھ کے move on کر لیں... پازیٹو سوچیں... آپ نے اپنا حساب دینا ہے... خودکو سنوارنا ہے... لوگوں کا کردار آپ کی ذمہ داری نہیں ہے...*