18/06/2025
Awaaz .Awaz Association of Pvt Schools Pakistan
Education
18/06/2025
18/06/2025
🟢 قومی مؤقف | National Stance 🇵🇰
آواز ایسوسی ایشن پرائیویٹ سکولز اینڈ کالجز پاکستان
Awaz Association of Private Schools & Colleges Pakistan
چیئرمین: چوہدری عبدالصمد صائم ایڈووکیٹ
Chairman: Ch. Abdul Samad Saim Advocate
وائس چیئرمین: پروفیسر محمد سلیم جہانگیر
Vice Chairman: Prof. Muhammad Saleem Jahangir
📌 اردو:
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا دورۂ امریکہ پاکستان کی خودمختار، تزویراتی اور امن پر مبنی خارجہ و دفاعی پالیسی کا مظہر ہے۔اس دورے میں دہشت گردی، سلامتی، معدنی وسائل، اور عالمی طاقت کے توازن جیسے اہم موضوعات پر امریکی قیادت سے گہری مشاورت کی گئی۔پاکستان نے اپنی معدنی دولت، جغرافیائی اہمیت اور بلوچستان کی اسٹریٹیجک حیثیت کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ایران اور اسرائیل کی ممکنہ جنگ پر پاکستان نے غیرجانبدار، مصالحتی اور امن دوست مؤقف اختیار کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی وکالت کی۔پاکستان کسی عالمی بلاک کا حصہ نہیں بلکہ ایک باوقار، خودمختار ریاست ہے جو امن، ترقی اور توازن کی راہ پر گامزن ہے۔
📌 English:
F.M General Asim Munir’s visit to the United States reflects Pakistan’s sovereign, strategic, and peace-oriented foreign and defense policy.
In this visit, meaningful dialogue was held with US leadership on key issues like terrorism, security, natural resources, and global power balance.
Pakistan effectively highlighted its mineral wealth, geographic importance, and the strategic significance of Balochistan at the international level.
On the Iran-Israel conflict, Pakistan adopted a neutral, reconciliatory, and peace-driven stance, emphasizing unity in the Muslim Ummah.
Pakistan remains an independent, dignified state—steadfast on the path of peace, progress, and balanced diplomacy.
🔰 یہ دورہ پاکستان کے عالمی تشخص، قومی وقار اور امن پسند پالیسیوں کو نئی جِلا بخشتا ہے۔
🔰 This visit reinforces Pakistan’s global image, national dignity, and commitment to peace.
Association #بلوچستان
16/06/2025
چنیوٹ:چیئرمین آواز ایسوسی ایشن پرائیویٹ سکولز پاکستان و صدر پنجاب وکلا محاذ چنیوٹ چوہدری عبدالصمد صائم نے وفاقی بجٹ 2025 پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ بجٹ کے اعلان کے ساتھ قوم کو امید تھی کہ تعلیم کو اولین ترجیح دی جائے گی، لیکن افسوس کہ ایک بار پھر تعلیم کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی ترقیاتی اخراجات میں کمی اور تعلیمی بجٹ کے لیے ناکافی رقم مختص کرنا ایک لمحہ فکریہ ہے، جو آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ تعلیم صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ قوموں کی ترقی، تہذیب اور بقا کی بنیاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ہزارہا نجی تعلیمی ادارے محدود وسائل کے باوجود تعلیمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان اداروں کے لیے حکومتی معاونت نہایت ضروری ہے۔
چوہدری عبدالصمد صائم کے مطالبات درج ذیل ہیں:
نجی تعلیمی اداروں کو ٹیکس اور رجسٹریشن میں ریلیف دیا جائے۔تعلیمی اداروں کے بجلی و گیس کے بلوں پر سبسڈی فراہم کی جائے۔تعلیمی بجٹ میں واضح اضافہ کیا جائے، خاص طور پر کم آمدنی والے علاقوں کے لیے۔ایک تعلیمی مشاورتی فورم تشکیل دیا جائے جس میں نجی تعلیمی شعبے کی حقیقی نمائندگی ہو۔آخر میں انہوں نے حکومت سے پُرزور مطالبہ کیا کہ تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے، تاکہ پاکستان کا ہر بچہ روشنی، علم اور ترقی سے بہرہ مند ہو سکے۔
میں تعلیم کو نظرانداز کرنا افسوسناک ہے۔
چیئرمین آواز ایسوسی ایشن چوہدری عبدالصمد صائم کا کہنا ہے:
> "تعلیم پر سرمایہ کاری دراصل قوم کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔"
حکومت سے مطالبہ: ✅ نجی اداروں کو ٹیکس ریلیف
✅ بجلی و گیس میں سبسڈی
✅ تعلیمی بجٹ میں اضافہ
✅ نجی تعلیمی نمائندگی پر مبنی مشاورتی فورم
#بچاٶ
Voice Of Chiniot
CM Punjab House
CM Punjab SocialMedia
CM Punjab
Education Minister Punjab house - G.O.R Lahore
Pm House Islamabad
Hamza Shahbaz Sharif
Social
03/04/2025
سعودی فتویٰ ہاؤس نے محمد بن سلمان کی درخواست کے برعکس مذاہب کے اتحاد کے بارے میں واضح موقف اختیار کیا اور اس کی دعوت دینے والوں کو کفر کا مرتکب قرار دیا۔
سعودی عرب کی مستقل فتویٰ کمیٹی نے “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” کے متعلق پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے درج ذیل فتویٰ جاری کیا:
مستقل فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ - فتویٰ نمبر 19402
“تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو اُن پر جن کے بعد کوئی نبی نہیں، اور ان کے اہلِ بیت و صحابہ اور جو ان کے طریقے پر چلتے رہے قیامت تک۔ بعد ازاں…”
مستقل کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء نے ان سوالات اور میڈیا میں شائع مضامین کا جائزہ لیا جو مذاہب کے اتحاد ہم آہنگی (اسلام، یہودیت، اور عیسائیت)( اور دیگر) کے بارے میں پیش کیے گئے، جن میں یہ تجویز دی گئی کہ ایک ہی جگہ مسجد، چرچ، اور مندر بنائے جائیں یا قرآن، تورات، اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کیا جائے۔ اس مسئلے پر غور کے بعد کمیٹی نے درج ذیل فیصلہ کیا:
Fatwa no:19402
1. پہلا نقطہ:
اسلامی عقیدے کی بنیاد یہ ہے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین حق نہیں ہے، اور یہ آخری دین ہے جو تمام سابقہ مذاہب اور شریعتوں کو منسوخ کر چکا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“بیشک اللہ کے نزدیک دین اسلام ہی ہے۔”
2. دوسرا نقطہ:
قرآن مجید اللہ کی آخری کتاب ہے اور اس نے تورات، زبور، انجیل اور دیگر کتب کو منسوخ کر دیا ہے۔
3. تیسرا نقطہ:
تورات اور انجیل کے منسوخ ہونے کے ساتھ ساتھ ان میں تحریف بھی کی گئی ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات میں ذکر ہے۔
4. چوتھا نقطہ:
حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
5. پانچواں نقطہ:
جو کوئی اسلام قبول نہ کرے، خواہ وہ یہودی، عیسائی یا کوئی اور ہو، وہ کافر ہے اور اللہ کا دشمن ہے، اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو وہ جہنم کا مستحق ہے۔
6. چھٹا نقطہ:
مذاہب کے اتحاد کی دعوت ایک فتنہ انگیز اور مکارانہ سازش ہے جس کا مقصد اسلام کو کمزور کرنا اور مسلمانوں کو مرتد کرنا ہے۔
7. ساتواں نقطہ:
اس دعوت کا ایک اثر یہ ہوگا کہ اسلام اور کفر کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا اور مسلمانوں کا کفار کے ساتھ بیزاری کا رویہ ختم ہو جائے گا، جس سے جہاد اور اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی جدوجہد بھی ختم ہو جائے گی۔
8. آٹھواں نقطہ:
اگر کوئی مسلمان اس دعوت کو فروغ دے تو وہ دینِ اسلام سے مرتد ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ دعوت اسلام کے اصولوں کے منافی ہے۔
9. نواں نقطہ:
• مسلمان کے لیے اس دعوت کی حمایت کرنا، اس کے سیمینارز میں شرکت کرنا یا اس کے خیالات کو پھیلانا جائز نہیں۔
• قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی جلد میں شائع کرنا یا مسجد، چرچ اور مندر کو ایک جگہ بنانا ناجائز ہے، کیونکہ یہ اسلام کی برتری کو مسترد کرنے کے مترادف ہے۔
مستقل فتویٰ کمیٹی برائے علمی تحقیق و افتاء
“اللہ اس فیصلے کو کمیٹی کے لیے اجر کا ذریعہ بنائے، آمین۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔”
اس پیغام کو آگے بڑھائیں اور آپ کو ان لوگوں میں شمار کیا جائے گا جو اس گمراہ کن نظریے کے سب سے پہلے انکار اور رد کرنے والے ہیں، اور بطور داعی، معلم، طالب علم اور اجر کے متلاشی اس پیغام کا حصہ بنیں.انتخاب.احقرعبدالصمدصائم
دین اسلام پر عالم کفرکے فتوے:کچھ تلخ دینی وتاریخی حوالہ جات کی روشنی میں حقائق
01/03/2024
اس خط کی عمر 991 سال ہے
اس خط میں شاہ انگلستان، اندلس میں مسلمانوں کے خلیفہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ برطانوی طلبہ کو اندلس کی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے۔
خط عربی زبان میں ہے اور خط کے آخری الفاظ یہ ہیں
"آپ کا تابعدار جارج ثانی شاہ انگلستان"
جب مسلمانوں کی غیرت زندہ تھی!!اور انگریزی زبان والے خود مسلمانوں کے عربی رسم الخط اور نصاب میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں تھے۔
یہ خط آج کے نام نہاد انگریزی زبان کی غلامی کرنے والوں اور لبرلز کے لئے بھی سبق ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Faisalabad