Awaaz .Awaz Association of Pvt Schools Pakistan

Awaaz   .Awaz Association of Pvt Schools Pakistan Education

17/09/2026
بہترین مسلمان کون؟​تنزیل بمقابلہ تاویل: اسلام کی حقیقی روح اور انسانی جان کی حرمتتحریر.احقرعبدالصمد صائمدوستو.اگربات بھل...
08/03/2026

بہترین مسلمان کون؟
​تنزیل بمقابلہ تاویل: اسلام کی حقیقی روح اور انسانی جان کی حرمت
تحریر.احقرعبدالصمد صائم
دوستو.اگربات بھلی معلوم ہوتواسے آگے ضرور پھیلادیجیے گا.اوربندہ احقرکے لیے تہ دل سے دعاخیر ضرور فرمادیجیے گا.مسلمان کون؟میں آپ ہم سب.نقطہ آغاز
​1. کائناتِ ہست و بود میں اسلام کی بنیاد اس "تنزیل" پر رکھی گئی ہے جو اللہ رب العزت کی طرف سے بنی نوع انسان کی فلاح اور ابدی کامیابی کے لیے نازل ہوئی۔ یہ وحیِ الٰہی سراسر رحمت، عدل اور سلامتی کا وہ دائمی منشور ہے جس میں انسانی جان کی حرمت کو کعبہ کی عظمت سے بھی بلند و بالا مقام عطا کیا گیا ہے۔ جب ہم دینِ مبین کو انسانی افکار کی کجیوں اور ذاتی تاویلوں سے پاک کر کے خالص وحی کے صاف و شفاف آئینے میں دیکھتے ہیں، تو ہمیں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ملتی ہے کہ اسلام کا اصل منشا روئے زمین پر امن و امان کا قیام اور ہر قسم کے ظلم و بربریت کا خاتمہ ہے، نہ کہ انسانوں کے درمیان بلاوجہ کی خونریزی اور فساد۔
​2. اے کلمہ گو بھائیو! آئیے سب سے پہلے اس بنیادی علمی حقیقت کا ادراک کریں کہ "مسلمان" کی اصل حقیقت کیا ہے؟ لغوی اور شرعی اعتبار سے مسلمان وہ ہستی ہے جس نے اپنے کل وجود کو اللہ کے احکامات کے سامنے کلی طور پر سپرد کر دیا ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمان کی جو آفاقی اور ہمہ گیر تعریف بیان فرمائی، وہ معاشرتی امن و استحکام کی سب سے بڑی اور مضبوط ضمانت ہے۔ آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: "الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ" (ترجمہ: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کی اذیت سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" - صحیح بخاری)۔ یہ ایک ایسا جامع اور ہمہ گیر ضابطہ ہے جو کسی بھی ایسے قول یا فعل کی سختی سے نفی کرتا ہے جس سے کسی دوسرے انسان کی جان، مال یا آبرو کو ذرہ برابر بھی خطرہ لاحق ہو۔
​3. ایمان کا تصور محض چند ظاہری رسومات کی بجا آوری تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمیق قلبی عہد ہے جو انسان کو دوسرے تمام انسانوں کے لیے سراپا سلامتی اور سکون بنا دیتا ہے۔ ایک سچے مومن کی پہچان ہی یہ ہے کہ لوگ اس کی موجودگی میں خود کو ہر طرح سے محفوظ و مامون محسوس کریں۔ آپ ﷺ نے صراحت فرمائی کہ مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنے جان و مال کے بارے میں مکمل طور پر پرامن رہیں۔ جب یہ بنیادی صفت مفقود ہو جائے اور انسان اپنے ہی بھائیوں کے لیے دہشت، خوف اور اذیت کا استعارہ بن جائے، تو اس کے ایمان کا دعویٰ اپنی حقیقت کھو دیتا ہے۔ اسلام نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ایک فرد کا وجود معاشرے کے لیے نفع بخش اور تعمیری ہو، نہ کہ تخریب اور فساد کا پیش خیمہ۔
​4. انسانی جان کی قدامت اور حرمت کے باب میں قرآنِ کریم کا لب و لہجہ اتنا قطعی، واشگاف اور عالمگیر ہے کہ اس کی نظیر دنیا کے کسی دوسرے قانونی یا اخلاقی ضابطے میں نہیں مل سکتی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا" (ترجمہ: "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے (کی سزا) کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا۔" - سورہ المائدہ: 32)۔ یہ آفاقی آیت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ ایک بھی بے گناہ کا خون بہانا پوری انسانیت کے اجتماعی قتل کے مترادف ہے، کیونکہ قتل ہونے والا صرف ایک فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ کی تخلیق کا ایک شاہکار اور انسانی نسل کے تسلسل کا ایک اہم جزو ہوتا ہے۔
​5. اسی طرح، کسی ایک بھی انسان کی جان بچانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا عظیم اور پسندیدہ عمل ہے، اس کا اندازہ اس آیتِ مبارکہ کے اگلے حصے سے لگایا جا سکتا ہے: "وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا" (ترجمہ: "اور جس نے کسی ایک کی جان بچائی، گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔")۔ اسلام کا پورا نظامِ عدل و انصاف اسی ایک جملے پر استوار ہے کہ زندگی اللہ کی عطا کردہ وہ مقدس امانت ہے جس کی حفاظت کرنا ہر فرد اور ریاست کی اولین اور ناگزیر ذمہ داری ہے۔ جب ہم اس خدائی تنزیل کو پسِ پشت ڈال کر گروہی مفادات کی تاویلوں کے گورکھ دھندوں میں الجھتے ہیں، تو ہم جان لینے کے اسباب تلاش کرنے لگتے ہیں، جو کہ سراسر گمراہی اور ضلالت ہے۔
​6. مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی بنیاد اللہ تبارک و تعالیٰ نے "اخوت" یعنی ایک اٹل بھائی چارے پر رکھی ہے جو خون کے رشتے سے بھی زیادہ مضبوط ہے۔ قرآنِ حکیم میں واضح ارشاد ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ" (ترجمہ: "مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں، پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو۔" - سورہ الحجرات: 10)۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے کسی خاص گروہ یا لسانی وحدت کا ذکر نہیں فرمایا، بلکہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وحدانیت و رسالت پر ایمان لایا، وہ دوسرے کا بھائی قرار پایا۔ اس ایمانی بھائی چارے کا تقاضا یہ ہے کہ ان کے درمیان مسلح لڑائی کا تصور ہی موجود نہ ہو، اور اگر کبھی انسانی بشریت کے ناطے کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو تیسرے فریق کی شرعی ذمہ داری صرف "صلح" کرانا ہے، نہ کہ دشمنی کی آگ کو ہوا دینا۔
​7. یہاں سے "جہاد بالقتال" اور "خانہ جنگی" کے درمیان وہ باریک اور نازک علمی فرق شروع ہوتا ہے جسے انسانی تاریخ میں غلط تاویلوں نے بری طرح مسخ کر دیا ہے۔ جہاد بالقتال یعنی ہتھیار اٹھا کر باقاعدہ جنگ کرنا، صرف اور صرف اس بیرونی دشمن (کفرِ حربی) کے خلاف جائز ہے جو اسلام کے وجود کو مٹانے اور زمین پر فتنہ و فساد برپا کرنے کے لیے پوری قوت کے ساتھ میدان میں آئے۔ جبکہ مسلمانوں کی آپس کی مسلح لڑائی کو قرآنِ کریم نے کبھی بھی "جہاد" کے مقدس نام سے موسوم نہیں کیا، بلکہ اسے ہمیشہ "بغی" یعنی سرکشی، زیادتی اور "فتنہ" قرار دیا ہے۔ یہ وہ بنیادی سچائی ہے جسے اگر امت سمجھ لے تو داخلی انتشار کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو سکتے ہیں۔
​8. کفر کے خلاف جہاد بالقتال کا حکم قرآن میں نہایت سخت اور فیصلہ کن ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد اس فتنے کو جڑ سے اکھاڑنا ہے جو انسانیت کو اللہ کی بندگی سے بزورِ شمشیر روکتا ہے۔ جب کفر کی طاقتیں مسلمانوں کے خلاف میدانِ کارزار میں صف آراء ہوں، تو قرآن اپنے غازیوں کو یہ حکمِ قاطع دیتا ہے: "فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ" (ترجمہ: "تو تم (ان کافروں کی) گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ اور ان کے ایک ایک جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔" - سورہ الانفال: 12)۔ یہ آیت دو ٹوک الفاظ میں واضح کرتی ہے کہ کفر کے خلاف قتال میں کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے کیونکہ وہ حق کا راستہ روکنے والے سرکش اور فسادی گروہ ہیں۔
​9. اسی تسلسل میں سورہ محمد میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے: "فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ" (ترجمہ: "پس جب تمہارا (میدانِ جنگ میں) ان لوگوں سے مقابلہ ہو جنہوں نے کفر کیا ہے، تو ان کی گردنیں اڑاؤ، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو (ان کی طاقت توڑ دو) تو انہیں مضبوطی سے قید کر لو۔" - آیت: 4)۔ یہ آیاتِ بینات اس حقیقت کی قطعی سند ہیں کہ "گردنیں اڑانا" اور "پور پور کاٹنا" جیسے سخت احکامات صرف اور صرف ان کفار کے لیے مخصوص ہیں جو اسلام کے خلاف باقاعدہ حالتِ جنگ میں ہوں۔ کسی بھی ایسی آیت کا رخ کلمہ گو بھائیوں کی طرف پھیرنا کلامِ الٰہی کے مفہوم کے ساتھ بدترین خیانت اور ظلم ہے۔
​10. ایک نہایت اہم اور کلیدی علمی نکتہ یہ ہے کہ اسلام میں جہاد یا قتال کا اعلان کرنا کسی گروہ، کسی فرد، کسی تنظیم یا کسی "اسٹیٹ ود ان اسٹیٹ" (ریاست کے اندر ریاست) ادارے کا کام ہرگز نہیں ہے۔ جہاد کا حکم دینا صرف اور صرف ایک منظم اور شرعی "ریاست" کا منصب ہے۔ اگر ریاست کی اجازت اور اس کے باقاعدہ حکم کے بغیر کوئی گروہ اپنی مرضی سے ہتھیار اٹھا کر قتال شروع کرتا ہے، تو وہ شریعت کی نظر میں "جہاد" نہیں بلکہ "فتنہ اور بغاوت" کہلائے گا۔ اسلام ایک نظم و ضبط کا دین ہے جہاں طاقت کا استعمال صرف قانون اور مسلمہ ریاست کے دائرہ اختیار میں ہوتا ہے، تاکہ معاشرہ انارکی اور جنگل کا قانون بننے سے بچ سکے۔
​11. اسی طرح، یہ ایک اٹل ضابطہ ہے کہ دین کے نام پر دیے جانے والے ہر قول، ہر فتوے اور ہر انسانی حکم کو لازمی طور پر "قرآن و حدیث" کے واضح ترازو پر پیش کیا جائے گا۔ اگر کوئی بھی تشریح یا کوئی بھی حکم قرآنِ مجید کی نصوص اور رسول اللہ ﷺ کی مستند احادیث سے ذرہ برابر بھی متصادم پایا گیا، تو اسے کلی طور پر مسترد کر دیا جائے گا۔ وحیِ الٰہی (تنزیل) کے سامنے کسی بھی انسان کی "تاویل" کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ہم اس بات کے مکلف ہیں کہ ہم اپنی عقل اور اپنی آراء کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے فرامین کے تابع رکھیں، نہ کہ فرامین کو اپنی آراء کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔
​12. مختلف ادوار میں جب بھی ان سخت آیات کو محض سیاسی، گروہی یا مسلکی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، تو یہ دراصل قرآنِ مجید کی "تحریفِ معنوی" کے زمرے میں آتا ہے۔ کفر کے خلاف نازل ہونے والے جنگی احکامات کو مسلمانوں کے خلاف بطورِ فتویٰ استعمال کرنا وہ فتنہ ہے جس نے تاریخ کے ہر دور میں انتہا پسند گروہوں کو جنم دیا جنہوں نے امت کا شیرازہ بکھیر دیا۔ جب کوئی شخص کسی کلمہ گو کو "کافر" قرار دیتا ہے، تو اس کا اصل مقصد اس کی فکری اصلاح نہیں ہوتا بلکہ وہ ان آیات کا سہارا لے کر اس کی گردن اڑانے کا شرعی جواز پیدا کرنا چاہتا ہے، جو کہ صریحاً جہالت اور اللہ کی حدود سے تجاوز ہے۔
​13. مسلمانوں کی آپس کی لڑائی کے حوالے سے قرآن کا حکم بالکل جداگانہ اور مصلحانہ ہے۔ سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ" (ترجمہ: "اور اگر مومنوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔" - آیت: 9)۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے "مومن" کا لفظ استعمال فرمایا ہے، جس کا مطلب ہے کہ باہمی لڑائی کے باوجود وہ گروہ دائرۂ ایمان سے خارج نہیں ہوتے۔ یہاں "گردنیں اڑانے" کا کوئی حکم نہیں دیا گیا، بلکہ تمام تر زور صلح اور باہمی مفاہمت پر دیا گیا ہے۔ اگر ایک گروہ سرکشی پر تلا رہے تو اس سے صرف اس حد تک لڑائی کی اجازت ہے کہ وہ "اللہ کے حکم یعنی صلح کی طرف لوٹ آئے۔" جیسے ہی وہ فریق جنگ بندی کر لے، اس کے خلاف قتال فوراً حرام ہو جاتا ہے۔
​14. انسانی تاریخ میں پہلی "خانہ جنگی" کا المیہ حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں، ہابیل اور قابیل کے قصے کی صورت میں پیش آیا۔ جب قابیل نے محض حسد اور اپنی ناقص تاویل کی بنیاد پر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کرنے کی دھمکی دی، تو ہابیل کا جواب ایک سچے مومن کا مثالی اسوہ تھا: "لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ" (ترجمہ: "اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف نہیں بڑھاؤں گا، بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔" - سورہ المائدہ: 28)۔ یہ ایک صاحبِ تقویٰ کا وہ رویہ ہے جو خانہ جنگی میں پہل کرنے کے بجائے جان دے دینے کو ترجیح دیتا ہے تاکہ اپنے بھائی کے خون کا بوجھ اس کی گردن پر نہ آئے۔
​15. قابیل کی اس ظالمانہ حرکت اور پہلے ناحق خون کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے وہ عظیم الشان قانون (آیت 32) صادر فرمایا تاکہ رہتی دنیا تک کوئی "قابیل" کسی "ہابیل" کا خون بہانے کی جسارت نہ کر سکے۔ قتلِ نفس ایک ایسا ناقابلِ تلافی گناہ ہے جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں، کیونکہ آپ اللہ کی عطا کردہ مقدس زندگی کا چراغ گل کر دیتے ہیں۔ جو لوگ آج کے دور میں اجتہادی اختلافات، فروعی مسائل یا معمولی مسلکی تفریق کی بنیاد پر ایک دوسرے کا خون حلال کرنے کے فتوے دیتے ہیں، وہ دراصل قابیل کی اسی وراثت کو پروان چڑھا رہے ہوتے ہیں جس کا انجام سوائے ندامت، شرمندگی اور ابدی خسارے کے کچھ بھی نہیں ہے۔
​16. فتنہ اور "فساد فی الارض" کے بارے میں قرآنِ حکیم کا رویہ انتہائی سخت اور عبرتناک ہے۔ سورہ المائدہ کی آیت 33 میں ارشادِ ربانی ہے: "إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا..." (ترجمہ: "ان لوگوں کی سزا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں فساد انگیزی کرتے پھرتے ہیں، یہی ہے کہ وہ قتل کیے جائیں یا سولی پر چڑھائے جائیں...")۔ یہ ہولناک سزائیں کسی فکری اختلاف یا سیاسی رائے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ ان پیشہ ور مجرموں، مسلح گروہوں اور دہشت گردوں کے لیے ہیں جو انسانی معاشرے کا امن و سکون تہس نہس کر کے معصوم لوگوں کا خون بہاتے ہیں۔
​17. یہاں ایک نہایت دقیق علمی نکتہ یہ ہے کہ اگر کوئی کلمہ گو مسلمان بھی "فساد فی الارض" یعنی مسلح دہشت گردی، ڈاکو زنی یا بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام میں ملوث پایا جائے، تو اس پر بھی شریعت کی یہ "حد" مکمل طور پر لاگو ہو گی۔ لیکن یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اسے یہ سزا اس کے "کفر" کی وجہ سے نہیں دی جا رہی، بلکہ اس کے "عظیم جرم" کی پاداش میں دی جا رہی ہے۔ ایک کلمہ گو کا خون صرف اس وقت حلال قرار پاتا ہے جب وہ خود کسی معصوم کی جان لے۔ اس سنگین صورتحال کے علاوہ، محض سیاسی وابستگی یا مذہبی نقطۂ نظر کے اختلاف کی بنیاد پر کسی مسلمان کو "مفسد" قرار دے کر اسے سزائے موت کا مستحق ٹھہرانا قرآن کی اس آیت کی بدترین تحریف اور صریحاً زیادتی ہے۔
​18. اسلام نے معاشرے میں فتنہ پروری کی ہر شکل کی شدید ترین مذمت فرمائی ہے۔ فتنہ اس سماجی اور فکری کیفیت کو کہتے ہیں جہاں حق اور باطل کے درمیان امتیاز کی لکیریں دھندلا جائیں اور بھائی اپنے ہی بھائی کا خون پینے کا پیاسا ہو جائے۔ قرآنِ کریم کا اعلان ہے: "وَالْفتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ" (ترجمہ: "اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سخت اور سنگین ہے۔" - سورہ البقرہ: 191)۔ یہ اس لیے ہے کہ ایک انفرادی قتل میں صرف ایک فرد کی جان جاتی ہے، لیکن ایک "فتنہ" پوری قوم کے سماجی ڈھانچے اور اخلاقی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اور آنے والی نسلوں کے دلوں میں نفرت و انتقام کا زہریلا بیج بو دیتا ہے۔ دورِ حاضر کی فرقہ واریت وہ بدترین فتنہ ہے جس نے امتِ مسلمہ کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔
​19. نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ نے اپنی متعدد احادیثِ مبارکہ میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کا خون بہانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔ آپ ﷺ کا دو ٹوک فرمان ہے: "سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ" (ترجمہ: "مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔" - صحیح بخاری)۔ یہاں کلمہ گو سے لڑنے کے عمل کو "کفر" سے تعبیر کرنا اس بات کی سنگینی کو واضح کرتا ہے کہ ایک مسلمان کا ہاتھ دوسرے مسلمان کے خون سے رنگین ہونا اللہ تعالیٰ کے نزدیک کتنا بڑا اور ناقابلِ معافی جرم ہے۔ جو لوگ اس قسم کی باہمی لڑائیوں کو "جہاد" کا مقدس نام دے کر عوام کو گمراہ کرتے ہیں، وہ دراصل رسول اللہ ﷺ کے اس واضح فرمان کی کھلی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں۔
​20. اسلام کی نظر میں ایک مسلمان کی حرمت، وقار اور جان اتنی زیادہ مقدس ہے کہ اس کی طرف محض ڈرانے کی نیت سے بھی اسلحہ کا اشارہ کرنا قطعی طور پر ناجائز قرار دیا گیا۔ حدیثِ نبوی ﷺ ہے: "جس نے اپنے بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کیا، فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اسے چھوڑ نہ دے۔" (صحیح مسلم)۔ یہ سخت ترین ضابطہ اس لیے نافذ کیا گیا تاکہ غصے، اشتعال یا نادانی میں بھی کسی کلمہ گو کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ جب محض ایک اشارہ فرشتوں کی لعنت کا باعث بنتا ہے، تو پھر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت دوسرے مسلمان کا قتل کرنا کس قدر عظیم المیہ اور ہولناک فعل ہو گا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
​21. امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اپنے دورِ خلافت میں رونما ہونے والے داخلی فتنوں اور جنگوں کے دوران وہ سنہری اور لازوال اصول وضع کیے جو رہتی دنیا تک مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی کسی ایسے شخص کو "کافر" قرار نہیں دیا جو قبلہ رخ ہو کر کلمہ پڑھتا تھا، چاہے وہ آپ کے خلاف میدانِ جنگ میں ہتھیار اٹھا کر ہی کیوں نہ آیا ہو۔ آپؓ کا اسوہ ہمیں یہ عظیم سبق سکھاتا ہے کہ خانہ جنگی کی صورت میں مخالف کو "باغی بھائی" کی حیثیت سے ڈیل کیا جاتا ہے، نہ کہ اسے دائرۂ اسلام سے خارج سمجھ کر اس کا خون حلال کیا جاتا ہے۔ آپؓ نے بھاگنے والوں کا تعاقب کرنے اور زخمیوں پر دوبارہ وار کرنے سے سختی سے منع فرمایا، جو کہ جہادِ کفر کے مروجہ قوانین سے بالکل جداگانہ طرزِ عمل ہے۔
​22. علمی بصیرت اور فکری بلندی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر وہ قول یا تشریح جو قرآنِ مجید کے صلح پسندی اور انسانیت نوازی کے پیغام سے ذرہ برابر بھی ٹکراتی ہو، وہ سراسر مردود اور ناقابلِ قبول ہے۔ ہر وہ فکر جو عقلِ سلیم اور وحیِ الٰہی کے تال میل سے عاری ہو، وہ فتنہ بن جاتی ہے۔ ہمیں یہ اصول ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ تمام انسانی آراء کو قرآن کے ترازو میں تولا جائے۔ اگر کوئی رائے قرآن کی ان واضح آیات سے متصادم ہے جو انسانی جان کی حرمت اور مسلمانوں کی آپسی اخوت کو بیان کرتی ہیں، تو ایسی رائے کو کسی بھی طرح دین کا حصہ نہیں مانا جا سکتا۔ آج کی وہ تمام نام نہاد تاویلیں جو مسلمانوں کو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر اکساتی ہیں، وہ قرآن کی اساس ہی کے خلاف ہیں۔
​23. آئیے اسلام کے اس روشن پہلو کو دنیا کے سامنے اجاگر کریں جو "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ" کی ٹھوس بنیاد پر استوار ہے۔ اگر کفر اور غیر مسلموں کے لیے بھی دین میں کسی قسم کی زبردستی کی گنجائش نہیں ہے، تو پھر ایک مومن بھائی کے لیے تشدد، جبر اور تلوار کا راستہ کیسے جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسلام رحمت کا وہ گھنا بادل ہے جو ہر رنگ، نسل اور قبیلے کے انسان کو اپنے امن کے سائے میں لینے کے لیے آیا ہے۔ دین کا اصل مقصد اور مشن انسانی دلوں کو محبت و اخلاق سے فتح کرنا ہے، نہ کہ مادی طاقت اور تلوار کے زور پر گردنوں کو جھکانا۔ جہاں زبردستی اور جبر کا عنصر آ جائے، وہاں نفاق جنم لیتا ہے، ایمان اور اسلام نہیں۔
​24. "تنزیل" یعنی قرآنِ حکیم کی پوری عمارت امن و آشتی، عدل و احسان اور باہمی مفاہمت کے ستونوں پر کھڑی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے انسانی "تاویلوں" نے ان آفاقی آیات کو ان کے اصل سیاق و سباق سے کاٹ کر اپنے مخصوص سیاسی اور گروہی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جب ہم قرآن کو کسی تعصب کے بغیر براہِ راست پڑھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ صلح کرانے والوں اور درگزر کرنے والوں کو اپنا سب سے زیادہ محبوب قرار دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں جا بجا حکم ہے: "فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ" (ترجمہ: "پس اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات کو درست کرو۔" - سورہ الانفال: 1)۔ یہ حکمِ الٰہی ہر مسلمان کے لیے ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کے بجائے سنوارنے کی فکر کرے۔
​25. علمی اور فکری حلقوں کی یہ بہت بڑی اور تاریخی ذمہ داری ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو اس تباہ کن "تکفیری سوچ" سے نجات دلائیں جو دوسرے کو "غیر" اور "دشمن" سمجھنے سے شروع ہوتی ہے اور بالآخر اس کے قتل پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنا اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنا نہیں سیکھیں گے، ہم اس "جسدِ واحد" کی صورت کبھی اختیار نہیں کر پائیں گے جس کی تمثیل احادیثِ مبارکہ میں دی گئی ہے۔ امت کی حقیقی مثال ایک جسم کی مانند ہے؛ اگر جسم کے کسی ایک بھی چھوٹے سے حصے میں تکلیف ہوتی ہے، تو اس کا اثر پورا جسم بخار، بے چینی اور بے خوابی کی صورت میں محسوس کرتا ہے۔ کیا آج ہم اپنے بھائی کی تکلیف پر ایسا ہی محسوس کرتے ہیں؟
​26. "فساد فی الارض" کی آیات (سورہ المائدہ: 32-34) کے گہرے مطالعے سے یہ روشن حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے توبہ اور اصلاح کا دروازہ ہر گناہگار کے لیے ہر وقت کھلا رکھا ہے۔ اگر کوئی بڑے سے بڑا مفسد اور مجرم بھی قانون کی گرفت میں آنے سے پہلے اپنے کیے پر نادم ہو کر سچی توبہ کر لے، تو شریعت کی رو سے اس پر سے دنیاوی سزائیں ساقط کر دی جاتی ہیں۔ یہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ اسلام کا اصل مقصد کسی سے انتقام لینا یا اسے ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ انسانوں کو شر سے نکال کر خیر کی طرف لانا اور ان کی اصلاح کرنا ہے۔ جب کائنات کا مالک معاف کرنے پر آمادہ ہے، تو ہم فانی انسان کون ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کا خون بہانے کے نت نئے بہانے تلاش کرتے ہیں؟
​27. شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ جیسے جلیل القدر اور صاحبِ بصیرت علماء نے یہ نکتہ بالکل واضح کر دیا کہ شریعتِ مطہرہ کا اصل مقصد انسانی زندگی کو سہل، پرامن اور محفوظ بنانا ہے۔ جب مذہب جیسے مقدس نام کو گروہی تعصب، ذاتی انا اور سیاسی بالادستی کے لیے استعمال کیا جانے لگے، تو وہ رحمتِ الٰہی بننے کے بجائے ایک سنگین سماجی بوجھ اور انتشار کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ہمیں ان تمام محدود انسانی آراء اور من گھڑت فلسفوں سے نکل کر دوبارہ اس "تنزیل" کی طرف رجوع کرنا ہو گا جو ہر کلمہ گو کی جان، مال اور آبرو کو کعبۃ اللہ کی حرمت سے بھی زیادہ محترم قرار دیتی ہے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جو ہمیں ذلت و رسوائی کی پستیوں سے نکال کر دوبارہ عالمی عزت و وقار کی بلندیوں تک لے جا سکتا ہے۔
​28. حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے مسلمانوں کے اسی المناک فکری انتشار پر ماتم کیا تھا اور انہیں بار بار "کتابِ زندہ" یعنی قرآنِ مجید کو اپنا عملی ضابطۂ حیات بنانے کی پرزور دعوت دی تھی۔ اقبال کے نزدیک توحید کا اصل سماجی تقاضا یہ ہے کہ تمام انسان ایک ہی مرکز پر جمع ہو جائیں اور چھوٹے چھوٹے فروعی اور مسلکی اختلافات کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل کا ذریعہ نہ بنائیں۔ جب ہمارا کلمہ ایک ہے، ہمارا رسول ﷺ ایک ہے اور ہمارا قبلہ بھی ایک ہی ہے، تو پھر ہماری تلواریں ایک دوسرے کے خلاف کیوں بلند ہوتی ہیں؟ یہ وہ تیکھا سوال ہے جس کا جواب ہر مسلمان کو اپنے گریبان میں جھانک کر اور اپنے ضمیر کی عدالت میں تلاش کرنا ہو گا۔
​29. عصرِ حاضر میں "جہاد" جیسی مقدس اصطلاح کو سب سے زیادہ نقصان ان گروہوں اور افراد نے پہنچایا جنہوں نے اسے مسلمانوں کے خلاف خانہ جنگی اور داخلی دہشت گردی کا نام دے کر اسے بدنام کیا۔ اصل "جہادِ اکبر" تو اپنے نفس کے خلاف ہے تاکہ ہم اپنے اندر کی نفرتوں، کینوں اور تعصبات کو مکمل طور پر ختم کر کے دوسروں کے لیے سراپا خیر و عافیت بن جائیں۔ اللہ کی راہ میں تلوار اٹھانا یا قتال کرنا صرف اس مخصوص وقت میں فرض ہوتا ہے جب کفرِ حربی کی طرف سے کھلی جارحیت ہو اور مسلمانوں کی بقا خطرے میں پڑ جائے۔ اس کے علاوہ ہر قسم کی خونریزی، چاہے اسے کتنے ہی خوبصورت مذہبی غلاف میں لپیٹا جائے، وہ "فتنہ" کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
​30. قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت کا دو ٹوک حکم ہے: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" (ترجمہ: "اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔" - سورہ آلِ عمران: 103)۔ یہ آیتِ مبارکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کے لیے سب سے بڑی اور مضبوط اساس فراہم کرتی ہے۔ تفرقہ بازی وہ مہلک زہر ہے جو قوموں کی ہمت اور طاقت کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے اور انہیں دشمنوں کے سامنے تر نوالہ بنا دیتا ہے۔ جب ہم تفرقے اور گروہ بندی میں پڑتے ہیں، تو ہم اپنی وہ ایمانی شان و شوکت اور رعب کھو دیتے ہیں جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے صرف ایک متحد اور جری قوم سے کیا ہے۔
​31. مسلمانوں کے باہمی حقوق کے حوالے سے رسولِ اکرم ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر چھ بنیادی حقوق واجب ہیں: جب اسے ملے تو سلام کرے، جب وہ اسے کھانے کی دعوت دے تو اسے قبول کرے، جب وہ اس سے مخلصانہ نصیحت مانگے تو وہ اسے بہترین مشورہ دے، جب وہ چھینک مارے اور الحمد للہ کہے تو اس کا جواب دے، جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمار داری کرے اور جب وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر جائے تو اس کے جنازے میں شرکت کرے۔ یہ تمام حقوق اسی لیے متعین کیے گئے تاکہ معاشرے کے افراد کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے سچی محبت، ہمدردی اور الفت پیدا ہو، نہ کہ کدورت، کینہ اور دائمی دشمنی کی جڑیں مضبوط ہوں۔
​32. "قتلِ ناحق" کی سنگینی اور ہولناکی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ بروزِ قیامت اللہ کی عدالت میں سب سے پہلا فیصلہ انسانی خون کا ہو گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ایک بھی بے گناہ انسان کے خون کا حساب لینے کے لیے زمین و آسمان کو لرزا دے گا۔ جس کسی نے بھی دنیا میں کسی کلمہ گو کی گردن اڑائی ہو گی یا اس کے قتل میں کسی بھی طرح کی معاونت کی ہو گی، وہ وہاں اللہ کے قہر اور غضب سے کسی صورت نہیں بچ سکے گا، چاہے اس نے اپنے اس قبیح فعل کے حق میں دنیا میں کتنی ہی بڑی اور لچھے دار "تاویل" کا سہارا کیوں نہ لیا ہو۔ وہاں صرف "تنزیل" کا بے لاگ قانون چلے گا اور ہر ظالم مفسد کو اس کے کیے کی بھرپور سزا مل کر رہے گی۔
​33. اسلام میں "قصاص" کا قانون بھی درحقیقت انسانی زندگی کو بچانے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی نازل کیا گیا ہے۔ قرآنِ حکیم کا اعلان ہے: "وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ" (ترجمہ: "اور تمہارے لیے قصاص میں زندگی چھپی ہے، اے عقل والو۔")۔ اس کا گہرا مفہوم یہ ہے کہ جب ایک ظالم قاتل کو قانون کے مطابق اس کے کیے کی سزا ملتی ہے، تو باقی معاشرے کے لیے عبرت کا سامان پیدا ہوتا ہے اور کئی دوسری معصوم جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتی ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ قصاص کا اختیار کسی فردِ واحد یا گروہ کو نہیں دیا گیا، بلکہ یہ ریاست اور باقاعدہ عدالتی نظام کی ذمہ داری ہے تاکہ معاشرہ کسی ذاتی انتقام کی آگ میں جل کر جنگل کا قانون نہ بن جائے۔
​34. آئیے ہم سب مل کر قرآنِ مجید کی اس پکار پر صدقِ دل سے لبیک کہیں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے کے لیے "رحم دل" اور "خیر خواہ" بن جائیں۔ قرآنِ کریم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظیم ترین صفت یہ بیان فرماتا ہے: "رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ"۔ اگر ہم آج کے دور میں ایک دوسرے کے لیے رحم دل، ہمدرد اور درگزر کرنے والے نہیں ہیں، تو ہمیں اپنے اسلاف کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہوئے سخت شرمندگی ہونی چاہیے۔ اسلام تو وہ عظیم دین ہے جو بے زبان جانوروں کے ساتھ بھی نرمی اور شفقت کا حکم دیتا ہے، تو پھر ایک ذی روح انسان اور خصوصاً ایک کلمہ گو بھائی کا مقام و مرتبہ اللہ کے نزدیک کیا ہی بلند و بالا ہو گا۔
​35. علمی حلقوں اور فکری مقتدرہ کے سامنے یہ ایک بڑا اور سنجیدہ علمی چیلنج ہے کہ وہ اپنی تمام تر فقہی ابحاث، تشریحات اور فتاویٰ کو قرآنِ کریم کے ان آفاقی اور اٹل اصولوں کے تابع کریں۔ اگر کوئی فقہی رائے، گروہی مفاد یا سیاسی نظریہ قرآن کی ان واضح آیات سے ذرہ برابر بھی ٹکراتا ہے جو انسانی جان کی ناقابلِ شکست حرمت اور مسلمانوں کی دائمی اخوت کو بیان کرتی ہیں، تو ایسی رائے کو فوراً ترک کر دینا ہی اصل دینداری اور بندگی ہے۔ "تنزیل" یعنی قرآنِ مجید کی اتھارٹی ہر انسانی قول، ہر فتویٰ اور ہر تاویل سے بدرجہا برتر و بالا ہے اور ہمیں ہر حال میں اسی حتمی ماخذ کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔
​36. "فتنہ فی الارض" کی ایک بدترین اور گھناؤنی صورت یہ بھی ہے کہ مذہب جیسے مقدس اور پاکیزہ نام کو استعمال کر کے لوگوں کو گمراہ کیا جائے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف تشدد اور قتل و غارت پر اکسایا جائے۔ قرآنِ کریم ایسے لوگوں کو سخت ترین تنبیہ کرتا ہے جو اللہ کی آیات کو دنیا کی تھوڑی سی قیمت اور عارضی مفاد کے عوض بیچ دیتے ہیں اور اپنی انا کی خاطر دینِ فطرت کا چہرہ مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں ان تمام زہریلی "تاویلوں" اور گمراہ کن نظریات سے ہمیشہ ہوشیار اور باخبر رہنا ہو گا جو ہمیں اپنے ہی بھائیوں کا جانی دشمن بناتی ہیں اور معاشرے میں انتشار کا بیج بوتی ہیں۔
​37. اسلام وہ مثالی اور مکمل دین ہے جس نے باقاعدہ جنگ کے حالات میں بھی انسانیت کے اعلیٰ ترین آداب اور اخلاقیات مقرر فرمائے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ جب بھی کسی لشکر کو میدانِ کارزار کی طرف روانہ فرماتے تو سختی سے یہ ہدایت دیتے کہ خبردار! کسی بوڑھے، کسی نہتے بچے، کسی عورت یا کسی مذہبی عبادت گاہ میں مصروفِ عبادت پجاری کو ہرگز قتل نہ کرنا، یہاں تک کہ دشمن کی زمین پر لگے ہوئے ہرے بھرے درختوں کو بھی نہ کاٹنا۔ جب غیر مسلموں کے ساتھ ایک باقاعدہ جنگ میں اتنی زیادہ احتیاط اور نرمی کا حکم ہے، تو پھر اپنے ہی کلمہ گو مسلمانوں کی آپس کی لڑائی میں بے دریغ اور وحشیانہ خون بہانا کس طرح اور کس منطق سے جائز ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس پر سوچنا ہر ذی شعور مسلمان کا اخلاقی فریضہ ہے۔
​38. کلمہ گو مسلمان کی عزت، آبرو اور وقار بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اتنی ہی محترم اور مقدس ہے جتنی کہ اس کی جان۔ کسی کو بلاوجہ کافر قرار دینا، اس کی تذلیل کرنا، اسے معاشرے میں بدنام کرنا یا اس پر جھوٹے الزامات لگانا بھی ایک طرح کا "فساد" ہی ہے جو معاشرتی امن کو برباد کر دیتا ہے۔ ہمیں اپنی زبانوں کو مکمل طور پر قابو میں رکھنا چاہیے تاکہ ہم "فسق" کے گڑھے میں گرنے سے بچ سکیں۔ جب ہم ایک دوسرے کی عزت اور آبرو کا تہہِ دل سے احترام کریں گے، تبھی ہماری جانیں اور مال بھی ایک دوسرے کے ہاتھوں محفوظ رہ سکیں گے۔ اسلام نے تو غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف قرار دے کر اس فتنے کا سدِ باب کر دیا ہے۔
​39. مرکزیت صرف اور صرف "اللہ اور اس کے رسول ﷺ" کی ذاتِ گرامی اور ان کے فرامین میں پوشیدہ ہے۔ جب ہم شخصیات، مخصوص مسالک، گروہی تعصبات یا دنیاوی تنظیموں کو اپنا اصل مرکز و محور بنا لیتے ہیں، تو ہم ناگزیر طور پر تفرقے اور گروہ بندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اللہ کی مضبوط رسی یعنی قرآنِ مجید وہ واحد آفاقی مرکز ہے جو پوری امتِ مسلمہ کو ایک ہی لڑی میں پرو کر ایک ناقابلِ تسخیر قوت بنا سکتا ہے۔ ہمیں اپنی تمام تر وابستگیوں، محبتوں اور نفرتوں کو قرآن کے ان آفاقی اصولوں کے تابع کرنا ہو گا تاکہ ہم اس اصل "تنزیل" کی روح کو پا سکیں جو سراسر نور، ہدایت اور انسانیت کے لیے رحمتِ کاملہ ہے۔
​40. توبہ، رجوع الی اللہ اور اپنی اصلاح کا دروازہ اللہ تعالیٰ نے کبھی بھی کسی کے لیے بند نہیں فرمایا۔ اگر ماضی کی نادانیوں میں ہم سے ایسی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں کہ ہم نے تفرقے، نفرت اور باہمی دشمنی کا ساتھ دیا ہے، تو اب بھی وقت ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کر کے ہم دوبارہ اسی "ایمانی اخوت" کے خوبصورت رشتے میں بندھ جائیں۔ اسلام ہمیں معاف کرنا، درگزر کرنا اور محبت کے ساتھ آگے بڑھنا سکھاتا ہے۔ آئیے ہم سب اپنے دلوں سے برسوں پرانا کینہ، حسد اور دشمنی نکال کر ایک دوسرے کو گلے لگائیں اور اس بات کا ثبوت دیں کہ ہم واقعی ایک ہی نبی ﷺ کے امتی ہیں جن کا لقب "رحمت للعالمین" ہے۔
​41. اس پوری علمی بحث کا حاصل اور نچوڑ یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے کفر کے خلاف جہاد (گردنیں اڑانے اور جوڑ جوڑ کاٹنے) کے احکامات نہایت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں دیے ہیں، لیکن ان کا محل اور اطلاق صرف اور صرف میدانِ جنگ کے ان کفار پر ہوتا ہے جو مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوں۔ جبکہ مسلمانوں کے درمیان پیدا ہونے والی کسی بھی لڑائی یا اختلاف کی صورت میں قرآن کا مطالبہ صرف اور صرف "صلح، مفاہمت اور اصلاح" ہے۔ جو لوگ ان دونوں متضاد احکامات کو جان بوجھ کر خلط ملط کرتے ہیں اور کفر والی آیات کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑتے ہیں، وہ دراصل امت کے مجرم ہیں اور کل روزِ قیامت اللہ کے حضور جوابدہ ہوں گے۔
​42. آئیے عہد کریں کہ ہم اس زمین پر اللہ کے "امن کے پیامبر" بن کر رہیں گے۔ ہم زمین میں فساد، دہشت اور نفرت پھیلانے والے ہر قابیل کا راستہ روکیں گے اور صلح و آشتی کی فضا قائم کرنے والے ہر ہابیل کا ساتھ دیں گے۔ ہمارا اصل مقصد صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا ہونا چاہیے، اور اللہ کی رضا اس کے بندوں کے ساتھ خیر خواہی، ہمدردی اور بے لوث محبت میں ہی پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی اس اصل روح کو صحیح معنوں میں سمجھنے، اسے اپنانے اور پھر اس پر استقامت کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی توفیقِ کامل عطا فرمائے۔
​43. جب ہم قرآنِ مجید کی سورہ المائدہ کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی امن کو برقرار رکھنے کے لیے "فساد فی الارض" کی اتنی سخت سزائیں کیوں رکھی ہیں۔ یہ سزائیں دراصل ایک "احتیاطی تدبیر" ہیں تاکہ کوئی سرکش گروہ انسانی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کی ہمت نہ کر سکے۔ لیکن ان سزاؤں کا اطلاق کسی سیاسی اختلاف پر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک مسلمان گروہ صرف اپنی رائے میں الگ ہے، تو اسے "مفسد" کہنا سراسر زیادتی ہے۔ اسلام نے ہر انسان کو سوچنے اور سمجھنے کی آزادی دی ہے، اور جب تک وہ آزادی دوسروں کے امن میں مخل نہ ہو، اسے دبایا نہیں جا سکتا۔
​44. "جہاد بالقتال" اور "خانہ جنگی" کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے لیے ہمیں رسول اللہ ﷺ کی ان احادیث کی طرف بھی رجوع کرنا چاہیے جن میں آپ ﷺ نے آنے والے فتنوں سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آ جائیں، تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ قاتل تو سمجھ میں آتا ہے، مقتول کیوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے بھائی کو قتل کرنے کی شدید تڑپ اور نیت رکھتا تھا۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں کوئی "شہید" نہیں ہوتا، بلکہ دونوں فریق ایک عظیم گناہ کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔
​45. اسلام کی تمام تر تعلیمات کا خلاصہ "حقوق اللہ" اور "حقوق العباد" کی ادائیگی ہے۔ حقوق العباد میں سب سے مقدم حق انسانی زندگی کا تحفظ ہے۔ اگر ہم اللہ کی عبادت تو کریں لیکن اس کے بندوں کے خون کے پیاسے رہیں، تو ہماری وہ عبادت اللہ کے ہاں کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتی۔ کلمہ گو بھائی کی حرمت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی ایک ناحق آہ بھی عرشِ الٰہی کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ ہمیں اپنی عبادات کو اپنے اخلاق اور معاملات کے ساتھ جوڑنا ہوگا تاکہ ہم ایک کامل مسلمان بن سکیں جو دوسروں کے لیے رحمت کا باعث ہو۔
​46. ریاست کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ کوئی نجی گروہ یا جتھہ اپنی متوازی عدالتیں یا عسکری ونگ نہ بنائے، کیونکہ یہ عمل براہِ راست "فساد فی الارض" کے زمرے میں آتا ہے۔ شریعت میں طاقت کا استعمال صرف اور صرف اجتماعی نظم (ریاست) کے پاس ہے تاکہ کسی فرد کی جان و مال کے ساتھ کھلواڑ نہ ہو۔ جب گروہ اپنے ہاتھ میں قانون لے لیتے ہیں، تو پھر عدل کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور ملک انارکی کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم ہر معاملے میں نظم و ضبط کی پابندی کریں۔
​47. آج کے اس پرفتن دور میں، جہاں ہر طرف سے امت کو تقسیم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، ہمیں "تنزیل" (قرآن) کی مرکزیت کو مضبوطی سے پکڑنا ہوگا۔ ہمیں ان تمام بیرونی اور اندرونی عناصر کو پہچاننا ہوگا جو دین کی غلط تاویلیں کر کے ہمیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں۔ اسلام وہ دین ہے جو کفر کو مٹانے آیا تھا، نہ کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں ختم کرانے۔ جب ہم قرآن کی صلح پسند آیات پر عمل کریں گے، تو ہماری کھوئی ہوئی شان و شوکت خود بخود واپس آ جائے گی اور ہم دوبارہ دنیا کی قیادت کے اہل بن سکیں گے۔
​48. قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو "امتِ وسط" (میانہ رو امت) قرار دیا ہے، جس کا مقصد دوسروں کے لیے حق کی گواہی دینا ہے۔ اگر ہم خود ہی ایک دوسرے کے خون میں لت پت ہوں گے، تو ہم دنیا کے سامنے حق کی گواہی کیسے دے سکیں گے؟ ہمارا رویہ اور ہمارا عمل ہی اسلام کی بہترین تبلیغ ہونی چاہیے۔ ہمیں انتہا پسندی اور تفریط، دونوں سے بچ کر اس صراطِ مستقیم پر چلنا ہے جس کی بنیاد محبت اور عدل پر رکھی گئی ہے۔
​49. "جہاد کا حکم صرف ریاست کا کام ہے" – یہ جملہ ہمیں بار بار دہرانا ہوگا تاکہ کوئی بھی شخص یا گروہ اللہ کے دین کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ہائی جیک نہ کر سکے۔ جب ہم یہ اصول تسلیم کر لیں گے، تو ملک کے اندر ہونے والی دہشت گردی اور خونریزی کا شرعی جواز خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اسلام امن کا مذہب ہے اور اس کا امن تبھی قائم رہ سکتا ہے جب ہم اللہ کے مقرر کردہ اجتماعی نظم کا احترام کریں۔
​50. آخر میں یہ پیغام کہ اسلام ایک پکار ہے، ایک دعوت ہے عالمگیر بھائی چارے اور عدل و احسان کی۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو ہر قسم کے کینے اور گروہی تعصب سے پاک کر کے قرآن کے اس حکم کو تھام لیں: "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا"۔ یہی وہ سیدھا راستہ ہے جو ہمیں دنیا میں امن اور آخرت میں فلاح کی ضمانت دیتا ہے۔ اللہ ہمیں قرآن کی صحیح فہم عطا کرے اور ہمیں ایک دوسرے کا محافظ اور خیر خواہ بنائے۔ آمین۔فکرنوزائیدہ کی تخلیق تحفظ ملک وملت پاکستان ہے.طالب دعااحقرعبدالصمد صائم

Address

Faisalabad

Telephone

+923154271000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awaaz .Awaz Association of Pvt Schools Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Awaaz .Awaz Association of Pvt Schools Pakistan:

Shortcuts

Share

Category