06/08/2024
نور فری آن لائن قرآن اکیڈمی
ہم آپ کو قرآن کے ضروری اصول ، ترجمہ ، تفسیر ، دعا ، الفاظ
06/08/2024
02/08/2023
👈 *بچیوں کی غیر محفوظ عصمت* 👉
::::::::::::::::::رعایت اللہ فاروقی::::::::::::::
۔
ہمارے والد صاحب رحمہ اللہ نے لگ بھگ تیس برس قبل ہم سے کہا
"اگر کسی غیر شادی شدہ بچی کے والدین میں سے کوئی ایک دنیا سے رخصت ہوجائے تو وہ بچی خوش قسمت ہے جس کی ماں فوت ہوجائے۔ اور وہ غیر شادی شدہ بچی بدقسمت ہے جس کا باپ فوت ہوجائے"
ہم نے حیرت بھرے لہجے میں پوچھا
"وہ کیوں ؟"
فرمایا
"جن گھرانوں میں ستر پردے کا اہتمام نہیں بھی ہوتا ان گھرانوں کی بچی کے سر پر اگر کوئی نامحرم شخص ہاتھ پھیرتے ہوئے کہے، بڑی پیاری بچی ہے ماشاءاللہ تو ماں خوش ہوتی ہے کہ اس کی بچی کو پیار ملا جبکہ باپ یہ حرکت قبول نہیں کرتا۔ وہ بیٹی کی باؤنڈریز کا محافظ ہوتا۔ ایسے مواقع پر وہ کم ازکم بھی یہ ردعمل ضرور دیتا ہے کہ بیٹی سے کہتا ہے، تم اندر جاؤ۔ چنانچہ کزن وزن والے معاملات میں بھی ماں لاپروائی برتتی ہے جبکہ باپ بیٹی کو سمجھا دیتا ہے "فاصلہ رکھئے" یہ عورت اور مرد کی نفسیات کا ایک بڑا فرق ہے۔ نفسیات کے اسی فرق کا ایک شاخسانہ یہ بھی ہے کہ زنا کے معاملے میں مرد کی نفسیات بہت محتاط جبکہ عورت کی نفسیات غیر محتاط ہے۔ وہ اسے کوئی سنگین معاملہ سمجھتی ہی نہیں"
وہ کچھ دیر کے لئے رکے، نسوار کی چونڈی منہ میں رکھی، اور بات آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا
"چنانچہ ایک معاملہ یہ بھی پیش آتا ہے کہ اگر ماں کو خبر ہوجائے کہ بیٹی کے کسی سے مراسم چل رہے ہیں تو بیٹی کو ڈانٹ تو دیتی ہے مگر باپ کو آگاہ نہیں کرتی۔ یہی معاملہ اگر باپ دیکھ لے تو وہ بیٹی کی گرفت ہی نہیں کرتا بلکہ اس کی ماں کو بھی فورا آگاہ کردیتا ہے کہ اس پر نظر رکھو۔ مرد و زن کی نفسیات کے اس فرق کا ایک سنگین نتیجہ یہ ہے کہ جن بچیوں کا باپ مر جائے ان کی عصمت غیر محفوظ ہوجاتی ہے اور بمشکل ہی ان میں سے کوئی بچ پاتی ہے۔ ماں بیٹیوں کو کنٹرول بھی نہیں کرپاتی اور پردہ پوشی سے بھی کام لیتی ہے۔ اگر فیملی آزاد خیال ہو تو اس صورت میں تو ماں باقاعدہ صرف نظر کرتی رہتی ہے۔ لھذا وہ بچی بدقسمت ہے جس کا باپ مر جائے"
یہ سب سن کر ہمارا ذہن اپنے محلے کی ان سات بہنوں کی جانب چلا گیا جن کے والد نہ تھے۔ اور محلے کے لونڈے ان سے "خیرات" وصول کرتے رہتے تھے۔
ہمیں اپنے والد کی یہ بات سو فیصد درست لگی تھی مگر ہم آج سے قبل کبھی بھی اسے قلم کی نوک پر نہ لائے تھے۔ کیونکہ جانتے تھے کہ یہ ماڈرن دور اسے تسلیم کرنے کی بجائے بکواس کرے گا۔ مگر ہم نے چھ ماہ قبل یوٹیوب پر ایک بڑے امریکی یوٹیوبر کا ویلاگ سنا۔ انہوں نے امریکی حکومت کی جاری کردہ ایک سروے رپورٹ کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا
"اس رپورٹ کے مطابق امریکہ میں بچیوں کی ایک بڑی تعداد سنگل پیرنٹ کے ساتھ رہی رہی۔ ان میں سے جو بچیاں باپ کے ساتھ رہ رہی ہیں ان میں سے بیس فیصد کم عمری میں ماں بن گئی ہیں۔ جبکہ وہ بچیاں جن کی سنگل پیرنٹ ماں ہے ان میں سے 70 فیصد کم عمری میں ماں بن چکی ہیں"
سو جانِ عزیز ! اگر آپ نے بہاولپور یونیورسٹی سے گزرنے والے سانپ کی لکیر پیٹنی ہے تو شوق سے پیٹئے۔ مگر ہم لکھ کر دیتے ہیں کہ اس سے فرق کوئی نہیں پڑنے والا۔ ہمارے والد کسی کالج یا یونیورسٹی کے فاضل نہ تھے۔ وہ ایک دیہی پس منظر رکھنے والے عالم دین تھے۔ اور آج سے تیس سال قبل ایسی بات کہہ دی تھی جس کے ادراک تک امریکہ جیسا ماڈرن ترین ملک بھی 2023ء میں پہنچا۔ ہماری نام نہاد پڑھی لکھی فیملیوں کو تو ویسے بھی کچھ پتہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے تو صرف شیمپو اور کنڈیشنرسے نہانے، مغربی لباس پہنے، باڈی سپرے، اور پرفیوم کے استعمال کو ہی "ترقی" سمجھ رکھا ہے۔ علم اور شعور ان کے پاس ٹکے کا نہیں۔
نتیجہ یہ کہ ملا ؤں کی تو 99 فیصد بچیوں کی عصمت محفوظ ہے اور ان نام نہاد پڑھے لکھوں کی بچیوں سے آئسکریم پارلر، سینما ہال، یونیورسٹیز کے لانز کے دور افتادہ گوشے، اور گیسٹ ہاؤسز بھرے پڑے ہیں۔ یہ تو وہ احمق ہیں جنہیں اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ بچی اپنے محلے کے قریب واقع کالج کی بجائے دور پار کے کالج میں داخلے پر کیوں مصر رہتی ہے ؟ آپ سمجھاؤ بھی تو اپنی حماقت کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ ہر ایک نے اپنی بچی کو فرشتہ سمجھ رکھاہے۔ اگر ہر باپ کی بیٹی فرشتہ ہے تو پھر یہ گیسٹ ہاؤسز والی کیا ٹیسٹ ٹیوب بےبیز ہیں ؟ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ان کی بچی دن میں اونگھتی یا سوتی کیوں رہتی ہے ؟اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے کیوں پڑ رہے ہیں ؟ وہ ذرا سا کام کرکے تھک کیوں جاتی ہے ؟ وہ دن بدن چڑچڑی کیوں ہوتی جا رہی ہے ؟اس کے موبائل کو گھر کا کوئی فرد غلطی سے بھی چھو لے تو بدک کیوں جاتی ہے ؟
آپ بہاولپور یونیرسٹی کے 2023 کو روتے ہیں، ہم کراچی کے ایک ایسے گرلز کا احوال بھی اپنی نوجوانی میں جانتے تھے جس کی 80 کی دہائی کے آخر اور 90 کی دہائی کے شروع میں ایسی پرنسپل تھی جو اپنے کالج کی لڑکیوں سے دھندہ کراتی تھی۔ نارتھ ناظم آباد کے ایک پلازے میں تین فلیٹ اس نے بک کرا رکھے تھے جہاں یہ دھندہ ہوتا تھا۔آج سے تقریبا پندرہ بیس سال قبل ملک کے ممتاز اینکر طلعت حسین نے لندن جاکر وہاں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ کے احوال بتاتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ یہاں ہاسٹلز میں پاکستانی لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ ان کے کمروں میں رہ رہی ہیں تاکہ کرایہ نہ دینا پڑے۔ چلئے آپ ہی ہمیں بتا دیجئے کہ کرایہ تو ان کی جگہ وہ لڑکے دے رہے تھے تو اس احسان کے بدلے وہ لڑکوں کو کیا دے رہی تھیں ؟
اب آجایئے اسی مسئلے کے ایک اور پہلو کی جانب
آج سے تیس سال قبل مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ نے مولانا عنایت اللہ خان شہید کو دفتر بلا کر ان سے کہا
"ہمارے ادارے نے مدرسۃ البنات کا خاکہ بنایا ہے، آپ اس کی تفصیل دیکھ لیجئے، کوئی مشورہ دینا ہو تو دیدیجئے تاکہ اسے مزید بہتر کیا جاسکے"
جب خاکے کی تفصیلات بتانے کے لئے ایک موٹی تازی فائل کھولی جانے لگی تو مولانا عنایت اللہ خان شہید نے فورا وہ بند کرواتے ہوئے شیخ سلیم اللہ خان سے کہا
"آپ نے پچاس سال بخاری شریف پڑھا کر جو عزت کمائی ہے، اسے دریا میں بہانا چاہتے ہیں تو شوق سے مدرسۃ البنات کھولئے، لیکن اگر یہ عزت آپ کو عزیز ہے تو اس خرافات میں نہ پڑیئے۔ آپ کو اندازہ نہیں کہ جو دو تین مدرسۃ البنات بنے ہیں وہاں کیا ہو رہا ہے"
شیخ سلیم اللہ خان نے فورا خاکہ بنانے والوں سے فرمایا
"بھئی ہمیں بات سمجھ آگئی، اٹھایئے یہ فائل، ہمیں نہیں بنانا مدرسۃ البنات"
یوں جامعہ فاروقیہ کا آج بھی کوئی مدرسۃ البنات نہیں ہے۔ اس حوالے سے ہم ایسی ہوش ربا تفصیلات جانتے ہیں کہ اگر ہمارا لڑکا غیر شادی شدہ ہوتا اور اس کرہ ارض پر اایک ہی لڑکی ہوتی مگر وہ کسی مدرسۃ البنات کی پڑھی ہوتی تو تب بھی اس کا رشتہ بیٹے کے لئے قبول نہ کرتے۔ اگر آپ کو مسئلہ حل کرنا ہے تو واللہ العظیم یہ بہالپور یونیورسٹی سے ٹھیک ہوگا اور نہ ہی کسی مدرسۃ البنات سے۔ مسئلے کو حل کرنا ہے تو ان احمق ماں باپ کو ٹھیک کیجئے جو بچیوں کے معاملے میں سنگین غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ماں باپ میں عقل و شعور ہو تو کسی کا باپ بھی ان کی بچی کی عصمت نہیں چھین سکتا۔
آپ کو کسی مشہور مدرسۃ البنات کا ایک جملہ دے کر بات ختم کرتے ہیں۔ عقل ہوئی تو سمجھ جائیں گے۔ ورنہ اکابر پرست بھینسوں کے آگے بین بجانے کا ہمیں کوئی شوق نہیں۔ جملہ ہے
"میں سمجھی تھی مہتمم صاحب ہیں"
✐ꪶ࿋྄ིᤢꫂᵤᵣdᵤ ₜₐₕₐᵣₑₑᵣ
🌸 اردو تحـاریـــــــر03 🌸 WhatsApp Group Invite
27/07/2023
بروقت نکاح کے تعلق سے حضرت علامہ مولانا مفتی منیب الرحمان صاحب کے اقوال
....................... *نکاح* .........................
اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے ۔
.............. ............ *نکاح*..........................
وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے
............................ *نکاح*...........................
ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔۔
......................... *نکاح*..........................
بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے. اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔
........................... *نکاح*...........................
بدقسمتی کی انتہا، اسکول، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں، اور والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔
........................... *نکاح*..........................
انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے۔ اور اگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے۔
.......................... *نکاح* ...........................
اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔
......................... *نکاح*..........................
اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔
......................... *نکاح* ......................
نکاح انسانوں کا طریقہ ہے۔ جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔
....................... *نکاح*...........................
والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں
*یہ کوئی فحش پوسٹ نہیں ہے ایک درس ہے جو ہر والدین کی ضرورت ہے بےحیائی کو روکنے کا گناہوں سے اپنے بچوں کی حفاظت کرنے کا ذریعہ ہے*
*شکریہ*.!!!!!
10/07/2023
نور فری آن لائن0304 4160868?لاس ۔03044160868
10/07/2023
نور فری آن لائن قرآن کلاس۔ 923044160868+
22/10/2022
🥀🍃💕🤍💕🌿✨️
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Faisalabad
36000