22/06/2026
سُنیّوں اور شیعوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے واقعہ کربلا کے حوالے سے کچھ ایسی تشریحات کر رکھی ہیں جن کا تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔
سُنّیوں میں سے بعض نے اُموی حکومت کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ کہا کہ امام حسین سے دغا کرنے والے کُوفی شیعہ تھے۔ اس پر مزید اضافہ یہ بھی کردیا جاتا ہے کہ اہلِ کوفہ ایرانی تھے۔
شیعوں کا کہنا ہے کہ اہلِ مکہ و مدینہ امام کے ساتھ ہی نہیں چلے بلکہ یزید کا ساتھ دیا اور اہل مکہ و مدینہ سُنّی تھے۔
یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔
اہلِ کوفہ کی اکثریت نے یقیناً امام عالی مقام کو خطوط لکھ کر بلایا لیکن پھر ان میں سے زیادہ تر عبیداللٰہ ابنِ زیاد کی اشرفیوں کے لالچ میں بِک گئے، اس کے کوڑے کے خوف سے پیچھے ہٹ گئے، امام کو تنہاء چھوڑ دیا اور یہ بھی درست ہے کہ اہلِ کوفہ 'شیعہ' تھے لیکن اہلِ کوفہ اس سے زیادہ شیعہ نہیں تھے جس قدر شیعہ اہلِ مدینہ تھے۔
دراصل اس زمانے میں شیعہ آج کے معنی میں شیعہ نہیں تھے۔ اس دور میں شیعہ کسی مذہبی فرقے یا مسلک کا نام نہ تھا بلکہ اس لفظ کا استعمال لغوی معنی میں ہوتا تھا۔کسی کے حامی، طرف دار، پیروکار کو شیعہ کہا جاتا ہے۔ کوفہ اور مدینہ سیّدنا علی المرتضیٰ اور آپ کے بیٹوں کے طرف دار ہونے کے دعوے داروں کے شہر تھے، جیسے شام معاویہ بن ابوسفیان کے شیعہ (حامی) کہلانے والوں کی اکثریت کا علاقہ تھا۔
یہ بات تو بالکل بے بنیاد ہے کہ اہلِ کوفہ ایرانی تھے۔ کوفہ اور بصرہ اس علاقے میں بسائے گئے جو ایرانی سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا لیکن یہ دونوں نئے شہر تھے، جو سیّدنا عمر کے دور میں بطور فوجی چھاؤنی بسائے گئے اور یہاں عربوں کو لے جا کر آباد کیا گیا۔ کوفہ خالصتاً عرب شہر تھا۔
اب آتے ہیں شیعوں کے اہلِ مکہ و مدینہ یعنی حجاز کے حوالے سے دعووں کی طرف۔
اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس طرح کوفہ والے امامیہ شیعہ نہیں تھے، اس طرح حجاز والے بھی سُنیّ نہیں تھے کیونکہ سُنیّ شناخت اور جماعت تو اس وقت تک وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت تک کیا، اس کے بعد بھی دو تین صدیوں تک سُنّی نام کا کوئی باقاعدہ مسلک یا گروہ نہیں بنا تھا۔
اہلِ حجاز، بالخصوص اہلِ مدینہ بھی اہلِ بیت کے اتنے ہی حامی یا شیعہ تھے جتنے اہلِ کوفہ، بلکہ مکہ چونکہ سیّدنا علی کا اور مدینہ حسنین کریمین کا وطن تھا، اس لیے یہ الفت ان علاقوں میں زیادہ ہی تھی۔
امام جب مدینہ سے چلے اور پھر مکہ سے نکلے تو امام اور امام کے کچھ قریبی راز داروں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کسی فوری جنگ پر جارہے ہیں جہاں وہ اس قدر تنہا ہوں گے اور اہلِ کوفہ اس طرح ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔
مکہ امام کا آبائی وطن اور اسلام کا مرکزی شہر ہے، کوفہ مولا علی کی حکومت کے زمانے میں خانوادہِ علی کا گھر رہا تھا لہذا امام کا مدینہ سے ان شہروں میں جانا ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف جانا ہی سمجھا گیا۔ اس وقت تک یہ طئے نہیں تھا کہ جنگ کی نوبت آئے گی۔ اسے جنگ یا قیام کے حوالے سے دیکھا ہی نہیں گیا۔ بھلا امام کے ساتھ ان کے گھر والوں کو دیکھ کر کون اندازہ کرسکتا تھا کہ امام کسی فوری جنگ پر جارہے ہیں؟ جب کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ ایسی جنگ پر جارہے ہیں تو ساتھ چلنے یا نہ چلنے یا ساتھ دینے یا نہ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
یہاں پر دو اعتراض کیے جائیں گے۔
ایک یہ کہ اگر کسی کو نہیں علم تھا کہ امام جنگ پر جارہے ہیں تو پھر مختلف شخصیات نے انھیں کوفیوں کے ناقابلِ بھروسہ ہونے سے خبردار کیوں کیا ؟
اہلِ کوفہ کے حوالے سے خبردار سیّدنا علی کے ساتھ کوفیوں کے سلوک کے پیش نظر کیا گیا۔ سیّدنا علی کوفہ کے حاکم تھے لیکن اہلِ کوفہ نے ان کا بھرپور طریقے سے ساتھ نہیں دیا، کلیدی مواقع پر ان کی نصرت نہیں کی۔ عام خیال یہ تھا کہ حسین بھی آسانی سے کوفہ میں پہنچ کر حکومت سنبھال لیں گے، ان کی اصل مشکل اس کے بعد شروع ہو گی۔ یہ خیال کسی کو نہیں تھا کہ امام کوفہ پہنچ ہی نہ پائیں گے۔ اس بات کا علم مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملنے کے بعد ہوا۔
مسلم بن عقیل کی شہادت عید الاضحٰی پر ہوئی جب کہ امام اس سے قبل ہی مکہ چھوڑ کر سفر پر نکل چکے تھے۔ گویا یہ خبر انہیں سفر پر روانہ ہونے کے کئی دن بعد ملی جب وہ حجاز اور عراق کے درمیان تھے۔
اس خبر کے باوجود امام نے سفر جاری رکھا کیونکہ خود انہیں پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ اس وقت مجموعی طور پر مسلمان سماج مادہ پرستی اور ضعف ایمان کی جس کیفیت میں جارہا تھا۔۔۔ جس کیفیت کا مظہر خود اہلِ کوفہ کا رویہ تھا، اس کے پیش نظر باقاعدہ حکومت بنا کر جنگ کرنے کا امام کی نظر میں کوئی فائدہ نہ تھا۔
ایسی جابرانہ حکومت کو تو امام حسن پہلے ہی ٹھکرا چکے تھے۔ امام حسین کا مقصد چونکہ ایک گواہی (شہادت) دینا تھا, اس لیے آپ واپس نہیں گئے۔
عملی نکتہ نظر سے بھی واپس جانا بے سود تھا کیونکہ بیعت سے انکار کے سبب جو مسائل مکہ اور مدینہ میں آپ کو اور ان شہروں کو درپیش تھے، وہ واپس جانے سے ختم تو نہیں ہوجانے تھے اور بیعت امام کے نزدیک کوئی اوپشن نہیں تھا۔
لیکن اس سارے معاملے میں اہلِ حجاز پر طعن کرنا کہ وہ ساتھ نہیں چلے، زیادتی ہے۔ امام عالی مقام خروج کے لیے نہیں نکلے تھے جو وہ کسی کو ساتھ چلنے کی دعوت دیتے، لہذا ایسی کوئی دعوت مدینہ یا مکہ میں امام عالی مقام نے نہیں دی۔ واحد شخصیت جسے ساتھ چلنے کا کہا گیا اور وہ ساتھ نہیں چلی، امامِ عالی مقام کے اپنے ہی بھائی محمد بن حنفیہ کی تھی۔ عباسِ علم دار اور اُم البنین کے دیگر بیٹوں کی وفاداری کی اہمیت اس تناظر میں بھی دو چند ہو جاتی ہے۔
(کچھ سُنّی یزید کی حمایت میں محمد بن حنفیہ کی گواہی لاتے ہیں حالانکہ امام حسین اور امام زین العابدین ہرگز ہرگز محمد بن حنفیہ سے راضی نے تھے۔ ابنِ حنفیہ کا طرزِ عمل کسی طور ان کے شایانِ شان نہ تھا۔)
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ مکہ اور مدینہ فوجی علاقے نہیں تھے۔ ان علاقوں کے لوگ عموماً سپاہ پیشہ نہ تھے۔ فوجی چھاؤنیاں کوفہ و بصرہ تھیں اسی لیے جنگ کی حالت میں سیدّنا علی نے حجاز سے کوفہ اور اماں عائشہ نے بصرہ کو جا کر مرکز بنایا۔
دوسرا اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ امام کے ساتھ بھی تو کربلا میں انصار شہید ہوئے۔ اگر کسی کو نہیں پتہ تھا کہ اس قسم کی جنگ ہونے والی ہے تو وہ کہاں سے آئے ؟
جب امام عالی مقام مکہ سے نکلے تو ان کے ساتھ محض ان کے اہلِ خانہ تھے۔ کچھ انصار راستے میں ان کے ساتھ ہوئے جب امام سے مل کر انہیں حالات کا علم ہوا اور کچھ جاں نثار کربلا کے قریب کوفہ اور نواحی بستیوں کے مقیم تھے جو بِک یا ڈر نہیں سکے اور امام کی نصرت کو پہنچے۔ اہلِ حجاز کا کوفہ کے وفاداروں کی طرح فی الفور کربلا پہنچنا تو دور کی بات، ان کو اُس دور میں ان حالات کا بروقت علم ہی کیسے ہوسکتا تھا ؟
واقعہ کربلا کے بعد اگر کوفہ سے توابین کی تحریک اٹھی، پھر مختار کا خروج اور انتقام شروع ہوا تو مدینہ شہر نے بھی، فوجی شہر نہ ہوتے ہوئے، اس سے کہیں زیادہ بھرپور ردعمل دیا۔ جنگ احد میں شہید ہونے والے ایک جلیل القدر انصاری صحابی سیدّنا حنظلہ کے بیٹے عبداللہٰ بن حنظلہ اور سیّدنا عمر کے قبیلے بنی عدی کے سردار عبداللہٰ بن مطیع کی قیادت میں اہلِ مدینہ نے واقعہ کربلا کی خبر ملنے پر یزیدی حکومت کے خلاف قیام کیا، جنگِ حرہ میں سات سو جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
امام حسین پر خروج کا الزام لگا کر یزید کے گناہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے نام نہاد سُنیّ عبداللہٰ بن زبیر کے حوالے سے خاموش رہتے ہیں، حالانکہ عبداللہٰ بن زبیر رض نے تو متوازی حکومت قائم کرکے بنی امیہ کا بالکل ستیاناس کرکے رکھ دیا تھا۔
اس کے باوجود بنی امیہ حجاج بن یوسف و عبدالملک بن مروان کی بدولت دوبارہ زندہ ہوگئی اور عبداللہٰ بن زبیر شہید کردئیے گئے کیونکہ مسلم سماج کی وہ حالت ہی نہ رہی تھی جس میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوسکے۔
یہی بات جو عبداللہٰ بن زبیر نہ سمجھ سکے، امام حسن سمجھ چک
ے تھے لہذا خلافت چھوڑ دی، امام حسین بھی سمجھ چکے تھے لہذا کوفیوں کے مزاج کو جانتے ہوئے حجاز سے کسی کو ساتھ لیے بغیر ایک ابدی گواہی (شہادت) کے لیے نکلے تاکہ اصولی و نظری سطح پر اسلام محفوظ ہوجائے۔
وما علینا الاالبلاغ
محمد احمد
یہ تحریر شیئر لازمی کریں
#اسلام #