Raasta

Raasta دلچسپ،معلوماتی،روحانی،سائنسی،منتخب ویڈیوز اور تحاریر۔

10/09/2026

امریکا نے کیسے خاندانی نظام ختم کیا؟

03/09/2026

دعا پڑھنے سے کیا ہوتا ہے
دیکھ لیں ۔

30/08/2026

خالص اور دو نمبر دودھ کی پہچان کا آسان طریقہ

29/08/2026

یہ معلومات حیران کن ہیں۔
Raasta

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی Google نے اسلام اباد، پاکستان میں اپنا پہلا دفتر کھول دیا۔
18/08/2026

دنیا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی Google نے اسلام اباد، پاکستان میں اپنا پہلا دفتر کھول دیا۔

02/08/2026

حیران کن طور پر ڈاکٹر نے 13 سال پہلے 35 صوبوں والا منصوبہ پیش کیا تھا۔
آپ کیا کہتے ہیں اس بارے کیا یہ عوام کے حق میں ہے یا نہیں؟

اپنی نجی زندگی کو سوشل میڈیا کی آگ سے بچائیے! چھ کروڑ اُنہتر لاکھ۔ یہ کسی ملک کی آبادی نہیں۔ یہ صرف پاکستان میں ٹک ٹاک چ...
31/07/2026

اپنی نجی زندگی کو سوشل میڈیا کی آگ سے بچائیے!

چھ کروڑ اُنہتر لاکھ۔ یہ کسی ملک کی آبادی نہیں۔ یہ صرف پاکستان میں ٹک ٹاک چلانے والوں کی تعداد ہے۔ دنیا کا پانچواں بڑا ہجوم اور اسی ہجوم کے سامنے کہیں ناجائز تعلقات کا رونا پیٹا جارہا ہے۔ کہیں کسی کی ویڈیوز لیک ہورہی ہیں۔ کہیں ایک جوڑا اپنی طلاق فلما رہا ہے۔ کیمرے آن ہیں۔ میڈیا پر دن رات تماشہ چل رہا ہے۔ جس معاشرے میں کبھی غیروں کے سامنے بیوی کا نام لینا معیوب سمجھا جاتا تھا، جہاں گھر کی بات گھر کی چار دیواری میں رہتی تھی، جہاں لفظِ ”طلاق“ بھی دبی زبان میں کہا جاتا تھا اسی معاشرے میں آج میاں بیوی اپنی سب سے نجی لمحات کو کیمرے کے سامنے کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ لاکھوں اجنبیوں کے سامنے کہ اس سے ازدواجی ذمہ داریاں پوری نہیں ہوتیں کہ وہ تو پیشہ ور عورتوں میں گھرا رہنا پسند کرتا ہے۔ صرف کنٹینٹ کے بدلے۔ پچھلے کچھ عرصے میں چند مشہور سوشل میڈیائی جوڑوں کی علیحدگی کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، اور ہر بار پورا ملک اسٹیج ڈرامہ دیکھنے بیٹھ گیا۔ ہم نے اپنی سب سے مقدس خلوت کو تماشہ بنا دیا ہے۔

آج کے تخلیق کار (کنٹینٹ کری ایٹر) کی دنیا میں ایک اصول باقی سب اصولوں کو نگل جاتا ہے۔ ہر چیز کنٹینٹ ہے۔ خوشی کنٹینٹ ہے، غم کنٹینٹ ہے، جھگڑا کنٹینٹ ہے اور ہاں، طلاق بھی کنٹینٹ ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ ٹوٹتے رشتوں کی ویڈیوز سب سے تیزی سے وائرل ہوتی ہیں۔ الگورتھم کو انسانی سکون میں کوئی دلچسپی نہیں۔ اسے اشتعال چاہیے، آنسو چاہیے، تماشا چاہیے۔ جو ویڈیو جتنا بڑا جذباتی طوفان اٹھائے، مشین اسے اتنا ہی اوپر لے جاتی ہے۔ سکون بکتا نہیں؛ تماشا بکتا ہے اور اوپر جانے کا مطلب صرف شہرت نہیں، پیسہ ہے۔ ایک وائرل ویڈیو کے پیچھے ویوز ہیں، ویوز کے پیچھے اشتہار اور برانڈ کے پیسے ہیں۔ اُس ملک میں جہاں محنت کے باوجود مہینہ پورا کرنا مشکل ہو، جہاں پڑھا لکھا نوجوان نوکری کے لیے دھکے کھاتا ہو، وہاں ایک وائرل ٹوٹتی شادی سال بھر کی ایمان دار کمائی سے زیادہ کما سکتی ہے۔ اِس زاویے سے دیکھیں تو اپنی تکلیف بیچنا پاگل پن نہیں لگتا حساب کتاب لگتا ہے اور ہم اس حساب کتاب کے ماہر ہوتے جارہے ہیں۔

اسکرین کا رشتہ جو ہم کسی سکرین پر نظر آنے والے شخص سے جوڑ لیتے ہیں یک طرفہ رشتہ ہوتا ہے، حالانکہ اُسے ہمارے وجود کی خبر تک نہیں ہوتی۔ ناظر محبت کرتا ہے، بھروسا کرتا ہے، مالک ہونے کا احساس پال لیتا ہے اور دوسری طرف بیٹھا تخلیق کار وہ اسے جانتا تک نہیں۔ اب سوچیں، جب کوئی جوڑا اپنی ازدواجی زندگی سکرین پر ”پرفارم“ کرنے لگے، تو وہ لاکھوں ناظرین اُن کے کمرے میں ایک غیر مرئی تیسرے فرد کی طرح آ بیٹھتے ہیں۔ شادی اب دو کے بیچ نہیں رہتی وہ بیس لاکھ کے بیچ آ جاتی ہے اور کوئی کسی کے ساتھ سچی قربت نہیں پا سکتا جب بیس لاکھ آنکھیں اسے دیکھ رہی ہوں۔ خلوت کی تعریف ہی یہ ہے کہ اُس میں کوئی تیسرا نہ ہو۔ پھر ایک اور چیز ہوتی ہے۔ ہر لائیک دماغ میں ڈوپامائن کی ننھی سی لہر چھوڑتا ہے۔ دماغ اِس لہر کا عادی ہو جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ انسان کی اپنی قدر باہر کی توثیق سے بندھ جاتی ہے۔ لوگ دیکھیں تو میں ہوں، نہ دیکھیں تو میں کچھ بھی نہیں اور جب اصل ذات اور آن لائن کردار آپس میں گھل مل جائیں، تو انسان یہ پہچاننا چھوڑ دیتا ہے کہ اداکاری کہاں ختم ہوتی ہے اور زندگی کہاں شروع۔ قرآن گھر کے رشتے کو ایک نہایت لطیف لفظ سے بیان کرتا ہے:سکینہ، یعنی وہ اطمینان جو دو دلوں کے ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔ سورۃ الروم میں ہے کہ اللہ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی تاکہ تم ایک دوسرے میں سکون پاؤ۔ سکینہ اور اسٹیج ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ اسٹیج تماشے کا مطالبہ کرتا ہے، تماشے کو ناظر چاہیے، اور ناظر ہمیشہ نیا مسالہ مانگتا ہے۔ جہاں پرفارمنس آ جائے، وہاں سے سکینہ چپ چاپ اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ ازدواجی راز فاش کرنے کو سب سے بڑی خیانتوں میں شمار کیا گیا۔ اور آج ہم وہی خیانت لائیک کے بدلے، اپنی مرضی سے بخوشی کرتے ہیں۔

تحقیق بتاتی ہے کہ سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال ازدواجی اطمینان کو گھٹاتا ہے، جھگڑے اور شک کو بڑھاتا ہے۔ ایک بڑی وجہ ”موازنہ“ ہے۔ سکرین پر ہر کوئی اپنی زندگی کا سب سے چمکدار، سب سے سجایا ہوا لمحہ دکھاتا ہے۔ ہم اپنی اصل، تھکی ہوئی، عام سی زندگی کا مقابلہ دوسروں کے اِن سجے ہوئے مناظر سے کرتے ہیں اور اپنا شریکِ حیات اچانک کم تر لگنے لگتا ہے۔ ہم جس کے ساتھ ہیں، اُس سے بدظن ہو جاتے ہیں، اُس کے لیے جو نہیں ہے۔ یہ سب ایک پوری نسل دیکھ رہی ہے۔ اور بچے وہی سیکھتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔ آج کا نوجوان یہ سیکھ رہا ہے کہ محبت ایک پرفارمنس ہے، جھگڑا ایک کنٹینٹ ہے، اور ”دِکھنے“ کا واحد راستہ اپنے آپ کو کھول کر رکھ دینا ہے۔ وہ سیکھ رہا ہے کہ اُس کی اپنی رسوائی کی بھی ایک بازاری قیمت ہے۔ اور سب سے خطرناک بات حیا، وہ اسلامی اور ثقافتی احساس جو ہمیں بتاتا ہے کہ کچھ باتیں ڈھکی رہنی چاہئیں، اب اُسے ”کنٹینٹ“کہہ کر مذاق بنا دیا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا کی وجہ سے ہم انسان ایک ایسے جال میں پھنس گئے ہیں جو اُن کی عزتِ نفس کو کرنسی میں بدل دیتا ہے۔ میرے خیال میں اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں۔ پہلی، معاشی وجہ ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں نوجوانوں کا سیلاب ہے اور نوکریاں کم، وہاں ”انفلوئنسر“ بننا کبھی کبھی باہر نکلنے کی واحد نظر آتی سیڑھی لگتی ہے۔ دوسری، نفسیاتی: دیکھے جانے، پہچانے جانے کی وہ فطری انسانی بھوک، جسے یہ مشین جان بوجھ کر بھڑکاتی ہے اور تیسری، ساختی: پرانے خاندان، بڑے بزرگ جو معاشرے کی نجی باتوں کو نجی رکھتے تھے، اب کمزور پڑ چکے ہیں، ملکی مشینری اور ریگولیٹری اتھارٹیز کا ان معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں اور اُن کی جگہ ایک الگورتھم نے لے لی ہے جو اِن دیواروں کے گرنے پر انعام دیتا ہے۔

میرے ایک دوست بتاتے ہیں کہ ان جاننے والوں میں ایک نوجوان جوڑا تھا۔ شادی کے شروع میں دونوں خوش تھے۔ پھر انہوں نے ”کپل کنٹینٹ“ بنانا شروع کیا۔ چھوٹی چھوٹی، پیار بھری، مسکراتی ویڈیوز۔ لوگوں کو پسند آئیں، فالوورز بڑھے۔ اور پھر ایک عجیب چیز ہوئی۔ وہ اصل زندگی میں خاموش رہنے لگے مگر کیمرے کے سامنے مسکراتے۔ کیمرہ آف ہوتے ہی گھر میں ایک سرد خلا اُتر آتا۔ ناظرین کو اُن کی شادی حقیقت سے زیادہ سچی لگتی تھی مگر ہوا یہ کہ معاملات بگڑنے لگے۔ آخرکار وہی سوشل میڈیا اُنہیں نگل گیا۔ جو رشتہ کنٹینٹ بن جائے، اُس کے اندر بچانے کے لیے کوئی نجی مرکز باقی نہیں رہتا۔

میری قارئین سے درخواست ہے کہ سب سے پہلے یہ طے کریں کہ کچھ چیزیں مقدس ہیں اور فروخت کے لیے نہیں ہیں۔ ہر گھر میں ایک ایسا کمرہ ہونا چاہیے جہاں کیمرہ کبھی داخل نہ ہو آپ کے رشتے کی خلوت وہی کمرہ ہے۔ اپنے بچوں اور چھوٹوں کو سکھائیں کہ سکرین پر جو نظر آتا ہے وہ سجایا ہوا منظر ہے، پوری زندگی نہیں؛ یہی سادہ شعور اُنہیں بے جا موازنے کے زہر سے بچا لیتا ہے۔ اور اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی اپنی قدر لائیک اور توثیق کی بھوک میں ڈوبتی جا رہی ہے، یا آپ کا رشتہ دکھاوے کے بوجھ تلے دم توڑ رہا ہے تو یہ کمزوری نہیں، ایک زخم ہے۔ اور زخم چھپانے کے نہیں، بھرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ کسی ماہرِ نفسیات سے بات کرنا اُسی طرح دانائی ہے جیسے جسم کے زخم کے لیے ڈاکٹر کے پاس جانا۔

عمرفاروق۔۔۔کلینیکل سائیکولوجسٹ

Ömer Faruk
Raasta

تحریر ۔۔ حفیظ جالندھری یہ نظم میری عزیز بیٹی ارشاد بتول کی یادگار ہے۔۔۔ میں نے ایک مدت تک بچوں کے لئے نظمیں لکھی ہیں۔۔۔ ...
02/07/2026

تحریر ۔۔ حفیظ جالندھری
یہ نظم میری عزیز بیٹی ارشاد بتول کی یادگار ہے۔۔۔ میں نے ایک مدت تک بچوں کے لئے نظمیں لکھی ہیں۔۔۔ ان کو میری سب سے بڑی بیٹی ارشاد بتول جسے میں پیار سے ''شاداں'' کہا کرتا تھا، بڑے شوق سے پڑھا کرتی تھی۔ اکتوبر ۱۹۲۹ میں جب میں نے رسالہ 'پھول' کی سالگرہ کے لئے متعدد نظمیں لکھیں تو ان میں ایک نظم یہ تھی۔ میں اس وقت سفر میں تھا اور میرے بال بچے جالندھر میں تھے، جہاں ''شاداں'' مدرسۃالبنات میں قران مجید پڑھ رہی تھی اس نظم سے مقصود محض شاداں کو دق کرنا تھا۔ میں نے لکھا کہ وہ پڑھتی پڑھاتی کچھ نہیں، سارا دن کھیل کود میں ضائع کر دیتی ہے۔ خیال یہ تھا کہ اول تو وہ اس نظم کو اپنے نام پر دیکھ کر خوش ہوگی ۔جب اسے پڑھے گی تو پڑھ کر بگڑے گی اور اس طرح خوب ہنسی مذاق رہے گا۔ ان پر لطف خیالات کو لیے جس روز میں گھر پہنچا اسی شام کو یہ بچی جو میری آنکھوں کا نور تھی اچانک کنویں میں گر کر جاں بحق تسلیم ہوگئی۔ رسالہ 'پھول' کا سالگرہ نمبر اس وقت ملا جب میں اپنے لخت جگر کو سپرد خاک کر چکا تھا۔۔۔ حفیظ جالندھری

اک لڑکی تھی چھوٹی سی
دبلی سی اور موٹی سی
ننھی سی اور منی سی
بالکل ہی تھن متھنی سی
اس کے بال تھے کالے سے
سیدھے گھنگریالے سے
منہ پر اس کے لالی سی
چٹی سی مٹیالی سی
اس کی ناک پکوڑی سی
نوکیلی سی چوڑی سی
آنکھیں کالی نیلی سی
سرخ سفید اور پیلی سی
کپڑے اس کے تھیلے سے
اجلے سے اور میلے سے
یہ لڑکی تھی بھولی سی
بی بی سی اور گولی سی
ہر دم کھیل تھا کام اس کا
شاداں بی بی نام تھا اس کا
ہنستی تھی اور روتی تھی
جاگتی تھی اور سوتی تھی
ہر دم اس کی اماں جان
کھینچا کرتی اس کے کان
کہتی تھیں مکتب کو جا
کھیلوں میں مت وقت گنوا
امی سب کچھ کہتی تھی
شاداں کھیلتی رہتی تھی
اک دن شاداں کھیل میں تھی
آئے اس کے ابا جی
وہ لاہور سے آئے تھے
چیزیں ویزیں لائے تھے
باکس میں تھیں یہ چیزیں سب
خیر تماشا دیکھو اب
ابا نے آتے ہی کہا
شاداں آ کچھ پڑھ کے سنا
گم تھی اک مدت سے کتاب
کیا دیتی اس وقت جواب
دو بہنیں تھیں شاداں کی
چھوٹی ننھی منی سی
نام تھا منجھلی کا سیماں
گڑیا سی ننھی ناداں
وہ بولی اے ابا جی
اب تو پڑھتی ہوں میں بھی
بلی ہے سی اے ٹی کیٹ
چوہا ہے آر اے ٹی ریٹ
منہ ماؤتھ ہے ناک ہے نوز
اور گلاب کا پھول ہے روز
میں نے ابا جی دیکھا
خوب سبق ہے یاد کیا
شاداں نے اس وقت کہا
میں نے ہی تو سکھایا تھا
لیکن ابا نے چپ چاپ
کھولا باکس کو اٹھ کر آپ
اس میں جو چیزیں نکلیں
ساری سیماں کو دے دیں
اک چینی کی گڑیا تھی
اک جادو کی پڑیا تھی
اک ننھی سی تھی موٹر
آپ ہی چلتی تھی فر فر
گیندوں کا اک جوڑا تھا
اک لکڑی کا گھوڑا تھا
اک سیٹی تھی اک باجا
ایک تھا مٹی کا راجا
شاداں کو کچھ بھی نہ ملا
یعنی کھیل کی پائی سزا
اب وہ غور سے پڑھتی ہے
پورے طور سے پڑھتی ہے

(منقول)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

01/07/2026

شیعہ سنّی اختلاف کا حل
اختلاف اپنی جگہ لیکن بات صحیح کی ہے۔

سُنیّوں اور شیعوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے واقعہ کربلا کے حوالے سے کچھ ایسی تشریحات کر رکھی ہیں جن کا تاریخی ح...
22/06/2026

سُنیّوں اور شیعوں نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے واقعہ کربلا کے حوالے سے کچھ ایسی تشریحات کر رکھی ہیں جن کا تاریخی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔

سُنّیوں میں سے بعض نے اُموی حکومت کے جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے یہ کہا کہ امام حسین سے دغا کرنے والے کُوفی شیعہ تھے۔ اس پر مزید اضافہ یہ بھی کردیا جاتا ہے کہ اہلِ کوفہ ایرانی تھے۔

شیعوں کا کہنا ہے کہ اہلِ مکہ و مدینہ امام کے ساتھ ہی نہیں چلے بلکہ یزید کا ساتھ دیا اور اہل مکہ و مدینہ سُنّی تھے۔

یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔

اہلِ کوفہ کی اکثریت نے یقیناً امام عالی مقام کو خطوط لکھ کر بلایا لیکن پھر ان میں سے زیادہ تر عبیداللٰہ ابنِ زیاد کی اشرفیوں کے لالچ میں بِک گئے، اس کے کوڑے کے خوف سے پیچھے ہٹ گئے، امام کو تنہاء چھوڑ دیا اور یہ بھی درست ہے کہ اہلِ کوفہ 'شیعہ' تھے لیکن اہلِ کوفہ اس سے زیادہ شیعہ نہیں تھے جس قدر شیعہ اہلِ مدینہ تھے۔

دراصل اس زمانے میں شیعہ آج کے معنی میں شیعہ نہیں تھے۔ اس دور میں شیعہ کسی مذہبی فرقے یا مسلک کا نام نہ تھا بلکہ اس لفظ کا استعمال لغوی معنی میں ہوتا تھا۔کسی کے حامی، طرف دار، پیروکار کو شیعہ کہا جاتا ہے۔ کوفہ اور مدینہ سیّدنا علی المرتضیٰ اور آپ کے بیٹوں کے طرف دار ہونے کے دعوے داروں کے شہر تھے، جیسے شام معاویہ بن ابوسفیان کے شیعہ (حامی) کہلانے والوں کی اکثریت کا علاقہ تھا۔

یہ بات تو بالکل بے بنیاد ہے کہ اہلِ کوفہ ایرانی تھے۔ کوفہ اور بصرہ اس علاقے میں بسائے گئے جو ایرانی سلطنت کا حصہ ہوا کرتا تھا لیکن یہ دونوں نئے شہر تھے، جو سیّدنا عمر کے دور میں بطور فوجی چھاؤنی بسائے گئے اور یہاں عربوں کو لے جا کر آباد کیا گیا۔ کوفہ خالصتاً عرب شہر تھا۔

اب آتے ہیں شیعوں کے اہلِ مکہ و مدینہ یعنی حجاز کے حوالے سے دعووں کی طرف۔

اس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ جس طرح کوفہ والے امامیہ شیعہ نہیں تھے، اس طرح حجاز والے بھی سُنیّ نہیں تھے کیونکہ سُنیّ شناخت اور جماعت تو اس وقت تک وجود ہی نہیں رکھتی تھی۔ اس وقت تک کیا، اس کے بعد بھی دو تین صدیوں تک سُنّی نام کا کوئی باقاعدہ مسلک یا گروہ نہیں بنا تھا۔

اہلِ حجاز، بالخصوص اہلِ مدینہ بھی اہلِ بیت کے اتنے ہی حامی یا شیعہ تھے جتنے اہلِ کوفہ، بلکہ مکہ چونکہ سیّدنا علی کا اور مدینہ حسنین کریمین کا وطن تھا، اس لیے یہ الفت ان علاقوں میں زیادہ ہی تھی۔

امام جب مدینہ سے چلے اور پھر مکہ سے نکلے تو امام اور امام کے کچھ قریبی راز داروں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کسی فوری جنگ پر جارہے ہیں جہاں وہ اس قدر تنہا ہوں گے اور اہلِ کوفہ اس طرح ان کے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔

مکہ امام کا آبائی وطن اور اسلام کا مرکزی شہر ہے، کوفہ مولا علی کی حکومت کے زمانے میں خانوادہِ علی کا گھر رہا تھا لہذا امام کا مدینہ سے ان شہروں میں جانا ایک گھر سے دوسرے گھر کی طرف جانا ہی سمجھا گیا۔ اس وقت تک یہ طئے نہیں تھا کہ جنگ کی نوبت آئے گی۔ اسے جنگ یا قیام کے حوالے سے دیکھا ہی نہیں گیا۔ بھلا امام کے ساتھ ان کے گھر والوں کو دیکھ کر کون اندازہ کرسکتا تھا کہ امام کسی فوری جنگ پر جارہے ہیں؟ جب کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ وہ ایسی جنگ پر جارہے ہیں تو ساتھ چلنے یا نہ چلنے یا ساتھ دینے یا نہ دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

یہاں پر دو اعتراض کیے جائیں گے۔

ایک یہ کہ اگر کسی کو نہیں علم تھا کہ امام جنگ پر جارہے ہیں تو پھر مختلف شخصیات نے انھیں کوفیوں کے ناقابلِ بھروسہ ہونے سے خبردار کیوں کیا ؟

اہلِ کوفہ کے حوالے سے خبردار سیّدنا علی کے ساتھ کوفیوں کے سلوک کے پیش نظر کیا گیا۔ سیّدنا علی کوفہ کے حاکم تھے لیکن اہلِ کوفہ نے ان کا بھرپور طریقے سے ساتھ نہیں دیا، کلیدی مواقع پر ان کی نصرت نہیں کی۔ عام خیال یہ تھا کہ حسین بھی آسانی سے کوفہ میں پہنچ کر حکومت سنبھال لیں گے، ان کی اصل مشکل اس کے بعد شروع ہو گی۔ یہ خیال کسی کو نہیں تھا کہ امام کوفہ پہنچ ہی نہ پائیں گے۔ اس بات کا علم مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر ملنے کے بعد ہوا۔

مسلم بن عقیل کی شہادت عید الاضحٰی پر ہوئی جب کہ امام اس سے قبل ہی مکہ چھوڑ کر سفر پر نکل چکے تھے۔ گویا یہ خبر انہیں سفر پر روانہ ہونے کے کئی دن بعد ملی جب وہ حجاز اور عراق کے درمیان تھے۔

اس خبر کے باوجود امام نے سفر جاری رکھا کیونکہ خود انہیں پتہ تھا کہ وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔ اس وقت مجموعی طور پر مسلمان سماج مادہ پرستی اور ضعف ایمان کی جس کیفیت میں جارہا تھا۔۔۔ جس کیفیت کا مظہر خود اہلِ کوفہ کا رویہ تھا، اس کے پیش نظر باقاعدہ حکومت بنا کر جنگ کرنے کا امام کی نظر میں کوئی فائدہ نہ تھا۔

ایسی جابرانہ حکومت کو تو امام حسن پہلے ہی ٹھکرا چکے تھے۔ امام حسین کا مقصد چونکہ ایک گواہی (شہادت) دینا تھا, اس لیے آپ واپس نہیں گئے۔

عملی نکتہ نظر سے بھی واپس جانا بے سود تھا کیونکہ بیعت سے انکار کے سبب جو مسائل مکہ اور مدینہ میں آپ کو اور ان شہروں کو درپیش تھے، وہ واپس جانے سے ختم تو نہیں ہوجانے تھے اور بیعت امام کے نزدیک کوئی اوپشن نہیں تھا۔

لیکن اس سارے معاملے میں اہلِ حجاز پر طعن کرنا کہ وہ ساتھ نہیں چلے، زیادتی ہے۔ امام عالی مقام خروج کے لیے نہیں نکلے تھے جو وہ کسی کو ساتھ چلنے کی دعوت دیتے، لہذا ایسی کوئی دعوت مدینہ یا مکہ میں امام عالی مقام نے نہیں دی۔ واحد شخصیت جسے ساتھ چلنے کا کہا گیا اور وہ ساتھ نہیں چلی، امامِ عالی مقام کے اپنے ہی بھائی محمد بن حنفیہ کی تھی۔ عباسِ علم دار اور اُم البنین کے دیگر بیٹوں کی وفاداری کی اہمیت اس تناظر میں بھی دو چند ہو جاتی ہے۔

(کچھ سُنّی یزید کی حمایت میں محمد بن حنفیہ کی گواہی لاتے ہیں حالانکہ امام حسین اور امام زین العابدین ہرگز ہرگز محمد بن حنفیہ سے راضی نے تھے۔ ابنِ حنفیہ کا طرزِ عمل کسی طور ان کے شایانِ شان نہ تھا۔)

یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئیے کہ مکہ اور مدینہ فوجی علاقے نہیں تھے۔ ان علاقوں کے لوگ عموماً سپاہ پیشہ نہ تھے۔ فوجی چھاؤنیاں کوفہ و بصرہ تھیں اسی لیے جنگ کی حالت میں سیدّنا علی نے حجاز سے کوفہ اور اماں عائشہ نے بصرہ کو جا کر مرکز بنایا۔

دوسرا اعتراض یہ کیا جا سکتا ہے کہ امام کے ساتھ بھی تو کربلا میں انصار شہید ہوئے۔ اگر کسی کو نہیں پتہ تھا کہ اس قسم کی جنگ ہونے والی ہے تو وہ کہاں سے آئے ؟

جب امام عالی مقام مکہ سے نکلے تو ان کے ساتھ محض ان کے اہلِ خانہ تھے۔ کچھ انصار راستے میں ان کے ساتھ ہوئے جب امام سے مل کر انہیں حالات کا علم ہوا اور کچھ جاں نثار کربلا کے قریب کوفہ اور نواحی بستیوں کے مقیم تھے جو بِک یا ڈر نہیں سکے اور امام کی نصرت کو پہنچے۔ اہلِ حجاز کا کوفہ کے وفاداروں کی طرح فی الفور کربلا پہنچنا تو دور کی بات، ان کو اُس دور میں ان حالات کا بروقت علم ہی کیسے ہوسکتا تھا ؟

واقعہ کربلا کے بعد اگر کوفہ سے توابین کی تحریک اٹھی، پھر مختار کا خروج اور انتقام شروع ہوا تو مدینہ شہر نے بھی، فوجی شہر نہ ہوتے ہوئے، اس سے کہیں زیادہ بھرپور ردعمل دیا۔ جنگ احد میں شہید ہونے والے ایک جلیل القدر انصاری صحابی سیدّنا حنظلہ کے بیٹے عبداللہٰ بن حنظلہ اور سیّدنا عمر کے قبیلے بنی عدی کے سردار عبداللہٰ بن مطیع کی قیادت میں اہلِ مدینہ نے واقعہ کربلا کی خبر ملنے پر یزیدی حکومت کے خلاف قیام کیا، جنگِ حرہ میں سات سو جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

امام حسین پر خروج کا الزام لگا کر یزید کے گناہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے نام نہاد سُنیّ عبداللہٰ بن زبیر کے حوالے سے خاموش رہتے ہیں، حالانکہ عبداللہٰ بن زبیر رض نے تو متوازی حکومت قائم کرکے بنی امیہ کا بالکل ستیاناس کرکے رکھ دیا تھا۔

اس کے باوجود بنی امیہ حجاج بن یوسف و عبدالملک بن مروان کی بدولت دوبارہ زندہ ہوگئی اور عبداللہٰ بن زبیر شہید کردئیے گئے کیونکہ مسلم سماج کی وہ حالت ہی نہ رہی تھی جس میں خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوسکے۔

یہی بات جو عبداللہٰ بن زبیر نہ سمجھ سکے، امام حسن سمجھ چک
ے تھے لہذا خلافت چھوڑ دی، امام حسین بھی سمجھ چکے تھے لہذا کوفیوں کے مزاج کو جانتے ہوئے حجاز سے کسی کو ساتھ لیے بغیر ایک ابدی گواہی (شہادت) کے لیے نکلے تاکہ اصولی و نظری سطح پر اسلام محفوظ ہوجائے۔

وما علینا الاالبلاغ
محمد احمد
یہ تحریر شیئر لازمی کریں

#اسلام #

Address

Faisalabad

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Raasta posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category