Raasta

Raasta

Share

دلچسپ،معلوماتی،روحانی،سائنسی،منتخب ویڈیوز اور تحاریر۔

13/05/2026

یہاں بات صرف برے کام یا جرم کی نہیں ہے بلکہ اس جرم کا گھناؤنا پن اور غلاظت پر سوچئے کہ منشیات فروشی اور لوگوں کے بچوں اور نوجوانوں کو ایسی لت پر لگا کر تباہ و برباد کرنا کہ جن کی حالت دیکھ کر موت بھی بہتر لگتی ہے۔ جو لوگ اس کو ہیروئن غنڈی اور جی دار بنا کر پیش کررہے ہیں وہ زرا اس کی سفاکی اور شیطانی سوچ پر غور کریں کہ یہ نہ صرف لاکھوں ھنستے بستے گھرانوں کی تباہی کی ذمہ دار ہے بلکہ اس نشے کو کرنے کے لئے جو بھیانک جرائم سر انجام دئے جاتے ہیں ان کی ذمہ دار بھی ہے۔ کسی کے کالج یونئورسٹی میں پڑھتے ہونہار بچے بچی کو اس لت پر لگا کر زندہ درگور کردینا اور پھر ان کو نشے کا لالچ دے کر ہر بدترین کام کروانا۔ اس پر اس کی باڈی لنگویج اور اسٹیٹ کی طرف سے دیا گیا پروٹوکول دیکھئے۔
کراچی کے گڈاپ ٹاؤن ضلع ملیر کے انگارہ گوٹھ سے تعلق رکھنے والی ان پڑھ عورت کے انداز سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ یہ ایک مہرہ ہے جس کی ڈوریاں کوئ اور ھلارہا ہے۔

کراچی میں مبینہ طور پر کوکین تیار اور سپلائی کرنے والے بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد تفتیش میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تحقیقاتی حکام کے مطابق ملزمہ نے دورانِ پوچھ گچھ بتایا کہ اس نے تقریباً 13 برس قبل معمولی سطح پر منشیات فروخت کرنے کا آغاز کیا تھا، تاہم بعد میں یہ کام ایک منظم کاروبار کی شکل اختیار کرگیا۔

حکام کے مطابق ابتدا میں انمول پوش علاقوں میں آئس نامی منشیات فروخت کرتی رہی لیکن بعد ازاں اس نے کوکین کے کاروبار میں قدم رکھا۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ اعلیٰ طبقے کی پارٹیوں میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو نشے کی جانب راغب کرتی تھی جبکہ اس کے زیادہ تر خریدار 17 سے 20 سال عمر کے نوجوان تھے۔

تحقیقات کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا شروع کی تو وہ کراچی چھوڑ کر لاہور منتقل ہوگئی۔ ملزمہ نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے مبینہ طور پر تیزاب کا استعمال کیا تاکہ بائیو میٹرک شناخت ممکن نہ رہے۔

حکام کے مطابق انمول عرف پنکی کئی سال تک اس لیے گرفتاری سے بچتی رہی کیونکہ زیادہ تر ادارے صرف اس کے نام سے واقف تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور میں اس نے کرائے کے مکان میں رہائش اختیار کر رکھی تھی جہاں اس کی والدہ، بھابی اور ایک بچہ بھی موجود تھے۔ اسی گھر میں قائم ایک مبینہ خفیہ لیبارٹری میں بیرونِ ملک سے حاصل کی گئی کوکین کو مزید طاقتور اور مہلک بنایا جاتا تھا۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ نے اپنے نام سے منسوب خصوصی برانڈنگ کے ساتھ کوکین کی پیکنگ بھی شروع کر رکھی تھی جبکہ اس کی پیکجنگ اور پرنٹنگ عام مارکیٹ سے کروائی جاتی تھی۔

دوسری جانب نجی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انمول پنکی کے نیٹ ورک میں خواتین، پولیس اہلکار اور مسافر کوچوں کے ڈرائیور بھی شامل تھے۔ ذرائع کے مطابق ڈیفنس اور کلفٹن کے تعلیمی اداروں میں عدیل عرف وکی نامی شخص منشیات فروخت کرتا تھا جو براہ راست انمول پنکی سے رابطے میں تھا۔

رپورٹس کے مطابق تعلیمی اداروں میں نیٹ ورک کو آگے چلانے کے لیے ’بےبو‘ اور ’حرا‘ نامی خواتین سرگرم تھیں۔ اسی کیس میں المکہ کوچ سروس کے ڈرائیور سرور اور عبدالمجید کو بھی گرفتار کیا گیا جبکہ ان سے منشیات وصول کرنے والے مبینہ سپلائر نادر خان کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گینگ میں کامران نامی ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا جو مبینہ طور پر منشیات کی ترسیل میں کردار ادا کرتا تھا، تاہم پولیس اب تک اسے گرفتار نہیں کرسکی۔

کراچی سے گرفتار ہونے والی مبینہ کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی کی ایک پولیس افسر سے شادی اور اس سے جڑی مالی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انمول نے لاہور میں ایک ڈی ایس پی سے دوسری شادی کی تھی جبکہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے پولیس افسر نے دو بنگلے بھی خریدے۔

نجی چینل کی رپورٹ کے مطابق ملزمہ نے دورانِ تفتیش بتایا کہ ایک ادارے کے اہلکار احسان نے اس کے بھائی کو حراست میں لیا اور بعد ازاں اس پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ انمول کے مطابق ابتدا میں 50 لاکھ روپے دیے گئے جبکہ بعد میں ہر ماہ کبھی 25 لاکھ اور کبھی 30 لاکھ روپے وصول کیے جاتے رہے۔

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ماضی میں لاہور میں ایک پولیس افسر نے انمول کو گرفتار کیا تھا، بعد میں اسی ڈی ایس پی نے اس سے شادی کرلی۔ ذرائع کے مطابق ملزمہ کے پیسوں سے اس کے شوہر نے دو رہائشی بنگلے خریدے۔

تحقیقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق انمول کا پہلا شوہر ملائیشیا میں مقیم ہے اور مبینہ طور پر اسی نے اسے کوکین تیار کرنے کا طریقہ سکھایا تھا۔ بعد ازاں انمول نے خود منشیات کی تیاری شروع کردی اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ ایک لیبارٹری بھی قائم کر رکھی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے تمام گاہک براہ راست اس سے رابطے میں رہتے تھے اور منشیات آن لائن آرڈرز کے ذریعے مخصوص پتوں تک پہنچائی جاتی تھی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ رات انمول پنکی کو ساؤتھ پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا جبکہ آج اسے عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں وہ بغیر ہتھکڑی کے موجود تھی۔ اس حوالے سے سوال کیے جانے پر حکام کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ملزم چاہے خاتون ہو یا مرد، عدالت میں پیشی کے دوران ہتھکڑی لگائی جانی چاہیے تھی۔

واضح رہے کہ عدالت نے پولیس کی جانب سے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ انمول پنکی کے خلاف دو مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں ایک سندھ کنٹرول نارکوٹکس ایکٹ جبکہ دوسرا سندھ آرمز ایکٹ کے تحت غیرقانونی اسلحہ رکھنے سے متعلق ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات انمول پنکی کو ساؤتھ پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا جبکہ عدالت میں پیشی کے دوران اسے بغیر ہتھکڑی پیش کیے جانے پر بھی سوالات اٹھے۔ بعد ازاں عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ملزمہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

ملزمہ کے خلاف سندھ کنٹرول نارکوٹکس ایکٹ اور سندھ آرمز ایکٹ کے تحت دو الگ مقدمات درج کیے گئے ہیں، جن میں منشیات فروشی اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات شامل ہیں

ثناء اللہ خان احسن

12/04/2026

امریکا، ایران مذاکرات ناکام کیوں ہوئے؟
آگے کیا ہوگا
پاکستان کو فائدہ یا نقصان۔

۔
۔
۔
Raasta Iqrar Ul Hassan Syed Ghafar Shah #پاکستان #تعلیم

08/04/2026
05/04/2026

انڈیا کی مشہور ایلومیناتی شخصیات
۔
۔
۔
Raasta #انڈیا

05/04/2026

ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ، یورپی یونین کے ممالک اور جاپان ہر سال لاکھوں ٹن الیکٹرونک کچرا پیدا کرتے ہیں اس کچرے کو ٹھکانے لگانا مہنگا عمل ہے، اس لیے اسے اکثر ترقی پذیر ممالک کی طرف بھیج دیا جاتا ہے جہاں ماحولیاتی قوانین اتنے سخت نہیں ہوتے۔

زیادہ تر الیکٹرونک کچرا ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں بھیجا جاتا ہے، خاص طور پر کراچی کے علاقوں میں پرانے کمپیوٹرز اور مانیٹرز بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ اس کے علاؤہ پاکستان کے کئی علاقوں میں بھی پرانا الیکٹرونکس سامان خریدا جاتا ہے۔

گھانا کا علاقہ اگبوگبلوشی (Agbogbloshie) دنیا کا سب سے بڑا ای ویسٹ ڈمپ یارڈ مانا جاتا ہے، نائجیریا میں الیکٹرونکس کی ری سائیکلنگ بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔

ویتنام اور تھائی لینڈ میں بھی بڑی مقدار میں ویسٹ پروسیس کیا جاتا ہے، ہمارا دوست ملک چین ماضی میں سب سے بڑا مرکز تھا لیکن اب وہاں قوانین سخت کر دیے گئے ہیں۔

جہاں الیکٹرونکس کے پرانے سامان سے قیمتی دھاتیں سونا، چاندی، تانبا (Copper) اور پیلیڈیم جیسی قیمتی دھاتیں نکالی جاتی ہیں وہیں اس پرانے سامان سے استعمال شدہ پرزے ملتے ہیں جنہیں مارکیٹ میں دوبارہ سستے داموں فروخت کر دیا جاتا ہے اور یہ سامان ریپیرنگ میں استعمال کیا جاتا ہے،

اس کام سے جہاں مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے وہیں سرکٹ بورڈز کو جلانے سے سیسہ (Lead)، پارہ (Mercury) اور کیڈمیم جیسی زہریلی گیسیں خارج ہوتی ہیں جو کہ انسانی صحت کیلئے خطرناک ہوتی ہیں،

جن علاقوں میں یہ کام کیا جاتا ہے وہاں رہنے والوں کو پھیپھڑوں کی بیماریاں، کینسر اور بچوں میں ذہنی نشوونما کی کمی جیسے مسائل ہوتے ہی یہ زہریلا فضلہ زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی اور مٹی کو بنجر اور زہریلا بنا دیتا ہے۔

مہر نوید

30/03/2026

یااللہ توبہ
کیمیکل ملا نقلی دودھ کیسے بنتا ہے۔ دیکھ کر دنگ ره گیا ۔ ہم میں ذرا بھی انسانیت ہے کہ نہیں ۔

29/03/2026

ایک ٹک ٹاکر خاتون نے شوہر اور بچوں کو کسی دوسرے مرد کی خاطر چھوڑ کر اس سے شادی کرلی۔

ایک خاتون لائیو ٹرانسمیشن میں کال کر کے پوچھتی ہے کہ مجھے آفس میں کوئی اور مرد پسند آگیا ہے شوہر سے طلاق لے کر اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔کیا کروں؟

کچھ عرصے سے شادی شدہ عورتوں کی بے وفائی کے واقعات سننے میں آرہے ہیں۔میں ایسی عورتوں کو ایک پیغام دینا چاہتی ہوں جو بلاوجہ شوہروں کو چھوڑ کر دوسرے مردوں کے ساتھ گھر بسانے کے خواب دیکھ رہی ہیں۔

جب کوئی عورت کسی شادی شدہ مرد سے اس کی بیوی کو طلاق دلوا کر اس سے شادی کرتی ہے تو وہ سمجھتی ہے یہ مرد مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے جس نے میری خاطر اپنی بیوی چھوڑ دی۔ لیکن مردوں میں یہ معاملہ بالکل الٹ ہوتا ہے۔ جب کسی مرد کے ورغلانے پر عورت شوہر کو چھوڑ کر اس کو اپنا لیتی ہے تو وہ پہلے کے ساتھ ساتھ دوسرے مرد کی نظروں میں بھی گر جاتی ہے۔ مرد کبھی بھی بے وفا عورت کو عزت دیتا ہے نہ محبت کرتا ہے۔بھلے عورت نے اسی کے کہنے پر شوہر کو دھوکا دیا ہو۔ یہ بات عجیب تو ہے لیکن سو فیصد سچ ہے۔ دوسرا مرد بھی ایسی عورتوں کو کبھی زندگی بھر کے لیے نہیں اپناتا بلکہ اسے عورت سے مال یا حسن جس چیز کی بھی حرص ہو اسے پورا کرکے عورت کو طلاق دے کر آزاد کر دیتا ہے یا کسی بے وقعت چیز کی مانند زندگی کے کسی کونے میں پڑا رہنے دیتا ہے۔

عورت دوسری عورت کے ساتھ بے وفائی کرنے والے مرد کو اپنا سکتی ہے لیکن مرد کبھی اس عورت کو قبول نہیں کرتا جس نے کسی محبت کرنے والے شوہر کو چھوڑا ہو۔۔۔۔۔

سوشل میڈیا کے اس دور میں عورتوں کو ایسے بے شمار ورغلانے والے مل جاتے ہیں۔میری یہ تحریر ہر اس عورت کے لیے ہے جس کے دل میں کوئی نامحرم ذرا سی بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوچکا ہو۔۔۔۔نکال باہر پھینکو اسے یہ نامحرم کی محبت سوائے رسوائی کے کچھ نہیں۔۔۔۔
اللہ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔

کاپی
Raasta #تعلیم #پاکستان

28/03/2026

یہ لاہور کے لیڈی ولنگٹن ہسپتال کی ویڈیو ہے۔ دو خواتین کے ڈلیوری (سی سیکشن) آپریشن ہو رہے ہیں۔ آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹروں کی دو ٹیمیں یہ آپریشن کر رہی ہیں۔ کچھ ڈاکٹر ویڈیو بنا رہے ہیں کہ دیکھتے ہیں پہلے کون آپریشن مکمل کرتا ہے۔ مقابلہ چل رہا ہے۔ ویڈیو بنانے والوں کو شرم نہ آپریشن کرنے والوں کو کہ یہ کیا بیہودگی کر رہے ہو۔ پروفیشنل ضابطہ اخلاق؟ قانون؟ مریض کی پرائیویسی؟ ڈاکٹروں کے دوران ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر پابندی کا قانون۔ چہ جائیکہ کہ عین آپریشن تھیٹر جیسی حساس جگہ پر جبکہ مریض زندگی موت کی کشمکش میں ہو اور اوپر ویڈیو بنا کر ہلہ گلہ کیا جا رہا ہو۔ مریض مر جاتا ہے اور ڈاکٹر ہاتھ جھاڑ کر نکل جاتے ہیں کہ جی اللہ کو یہی منظور تھا۔
ویڈیو میں آپریشن والی مریض خواتین کی شناخت موجود نہیں ہے۔ اسلئے ویڈیو شیئر کر رہا ہوں کہ متعلقہ حکام تک پہنچے اور نوٹس لیا جائے۔
ہمارے یہاں کچھ سال کیلئے سکول، کالج، یونیورسٹی کے بچوں کو روٹین کی کتابیں ختم کر کے صرف بنیادی اخلاقیات کی تعلیم اور تربیت دینی چاہئے۔ بڑی سے بڑی ڈگری بھی فضول ہے جب تک بنیادی تمیز، تہذیب کی سیکھ نہیں۔
آپ اندازہ لگائیں کہ مریضہ کا پیٹ کھولا ہوا ہے۔ ذرا سی غفلت اس کی اور بچے کی زندگی ختم کر سکتی ہے اور یہ ویڈیو بنا کر مقابلہ کر رہی ہیں کہ دیکھتے ہیں پہلے
کون آپریشن کرتا ہے۔ توبہ۔ حیوانیت۔

طاہر چوہدری

23/03/2026

ہتھیاروں کی مخالفت میں ساری زندگی کرتا رہا، پستول ہو، بندوق ہو، حتیٰ کہ لائسنس یافتہ ہی کیوں نہ ہو، میرا خیال تھا کہ انسان کو اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھنا چاہیے۔

دل سے سمجھتا تھا کہ کسی ملک کو بھی زیادہ اس دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہیے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اندر سے وائلنس کے خلاف تھا، اب بھی ہوں۔

لیکن اس سوچ کے ساتھ ایک مسئلہ تھا۔

عدم تشدد کے اس پورے فلسفے میں ایک بہت اہم بات فراموش ہو گئی تھی جس کا احساس مجھے پچھلے ایک دو سال میں چند بڑے واقعات کے بعد ہوا۔

پہلا واقعہ پاکستان پر انڈیا کا حملہ، دوسرا غزہ میں اسرائیل کی جارحیت، تیسرا ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ اور چوتھا ٹرمپ کا بیٹھے بٹھائے گرین لینڈ مانگ لینا۔
ان چاروں واقعات نے جنگ، ہتھیاروں، ایٹم بم اور کسی ملک کی جارحانہ فارن پالیسی پر میری سوچ بدل دی۔

وہ اہم بات یہ تھی کہ مجھ جیسوں نے سمجھ لیا تھا کہ اگر ہم تشدد نہیں کریں گے، جارحیت نہیں کریں گے، ایٹم بم نہیں بنائیں گے تو دوسرا بھی ایسا نہیں کرے گا۔ ہم امن چاہیں گے تو سب امن کی طرف آئیں گے۔ یہ ایسی سوچ تھی جسے اب میں دیکھتا ہوں تو اعتراف کرتا ہوں کہ میں احمقوں کی جنت میں رہ رہا تھا۔

موجودہ حالات میں اگر پاکستان جنگ سے محفوظ ہے، خاص طور پر گذشتہ ایک ڈیڑھ سال کے واقعات کے دوران، تو اس کے پیچھے ایک بنیادی وجہ اس کی سٹریٹیجک مضبوطی ہے، اور لاریب اس کی بنیاد ایٹمی طاقت ہونا ہے۔

یہ ایٹم بم کیسے بنا، مخالفت کس نے کی اور حمایتی کون تھا، یہ سب الگ بحثیں ہیں۔ ہر انسان کے پاس اس حوالے سے اپنا نظریہ ہے۔ لیکن میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں شامل تھا جو سرے سے ان چیزوں کو جائز ہی نہیں جانتے تھے اور اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی۔

ریاستی سطح پر آپ جتنے مرضی پرامن ہوں، اپنی بقا کے لیے طاقت کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔

آپ گرین لینڈ والے معاملے کو دیکھ لیجیے، اس کے بعد پورے یورپ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ امریکہ کی وہ چھتری، جس کے نیچے وہ اپنی سکیورٹی کے لیے بیٹھے ہوئے تھے، عین بارش میں اڑ گئی۔

ہر وہ ملک جو سکیورٹی کے لیے امریکہ پر منحصر تھا آج دوبارہ سوچ رہا ہے۔

پاکستان کی خاص بات یہ تھی کہ دانشورانہ سطح پر کوئی پذیرائی نہ ہونے کے باوجود اس کی سکیورٹی پالیسی بڑی باریک حد تک اپنی ہوا کرتی تھی، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کئی شدید بحرانوں سے گزرنے کے باوجود اب تک بچا رہا۔

میری پوری نسل، جو خود کو ترقی پسند سمجھتی تھی، جسے اکثر ’لبرل‘ کہا جاتا تھا، وہ اس معاملے میں غلط تھی۔

جنگ یقیناً ایک بری چیز ہے۔ ہتھیار کبھی انسان دوست نہیں ہو سکتے۔ لیکن جہاں بقا کا سوال ہو، جہاں یہ خطرہ ہو کہ کوئی طاقت کسی بھی وقت لاکھوں لوگوں کو ایک غیر ضروری سنگین بحران میں مبتلا کر سکتی ہے، وہاں اپنی حفاظت کے لیے سب بندوبست جائز ہیں۔

اسی طرح اگر کوئی ریاست یہ کہے کہ بس ہمارے پاس ایٹم بم ہے، باقی کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے، تو یہ بھی انصاف نہیں ہے۔ سب کے پاس ہو یا پھر نہ ہو۔ اس معاملے میں کوئی یکطرفہ پالیسی آپ کو تباہی سے نہیں بچا سکتی، سوری!

آج اقوام متحدہ کا کردار دیکھ لیں اور جمہوریت کے دعویدار ملکوں کا بھی۔
ایک جمہوری ملک یہ کر رہا ہے کہ اگر کسی ملک کا صدر پسند نہیں تو اسے اٹھا لو، کسی گروہ سے اختلاف ہے تو اس کے سکول تک تباہ کر دو، اس کے رہائشی علاقوں پر حملے کرو، اور یہ سب فیصلے ایسے لوگ کرتے ہیں جو عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کے آئے ہیں؟ کیا فرق ہے ان میں یا کسی وار لارڈ میں؟

اب بھی یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ کیا واقعی جمہوریت، اقوام متحدہ، غیر ایٹمی دنیا اور عدم تشدد کے فلسفے وہی ہیں جو ہمیں پڑھائے گئے تھے؟ یا اصل نظام یہاں کچھ اور ہے؟

میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ انسان کی بنیادی فطرت آج بھی وہی ہے جو ہزاروں سال پہلے تھی فرق صرف اتنا آیا ہے کہ آج اس سارے عمل میں ٹیکنالوجی شامل ہو گئی ہے۔

فلسفہ یا کتابیں، عدم تشدد، اہنسا اور امن کی بہت سی خوبصورت باتیں بتاتے رہے لیکن اب ایڑھی گھما کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ زندگی کا بڑا حصہ نری خوش فہمی میں گزار دیا۔ محفوظ یہاں وہی ہے جس کے پاس طاقت ہے!

آخری بات یہ کہ اکثر کہا جاتا ہے جتنی مرضی جنگ کر لو فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہونا ہے۔ یہ بھی درست نہیں ہے۔

مذاکرات کی میز پر بیٹھنے والے دو سربراہ کس حالت میں وہاں پہنچے ہیں، ان کی طاقت، ان کی پوزیشن کیا ہے، یہی چیز مذاکرات کے نتیجے کا تعین کرتی ہے۔

تو جنگ یقیناً بری چیز ہے، امن واقعی بہت ضروری ہے لیکن کوئی ملک کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھا رہے اور آخر میں سوچے کہ وہ بچ جائے گا، یہ خطرناک حماقت ہے۔

باقی، اگر ایک انسان دشمن دار معاشرے میں نہیں رہتا، قبائلی ماحول میں نہیں ہے تو محض اس خیال سے کہ شاید کبھی کوئی ایک چور گھر کے اندر آ جائے گا، اس لیے اپنے پاس پستول رکھ لینا، یہ مجھے اب بھی ٹھیک نہیں لگتا، یاد رکھیں، بندوق ہے تو اس نے چلنا بھی ہے، کہانی میں کوئی کردار بے مقصد نہیں ہوتا!

۔۔۔۔۔

جنگ ہو یا ہتھیاروں کا پھیلاؤ، میں احمقوں کی جنت میں رہتا تھا
حسنین جمال
انڈپینڈنٹ اردو

23/03/2026

اگر ایران اسرائیل جنگ جاری رہتی ہے تو آنے والے وقت میں کیا ہوگا۔
جانیں اس ویڈیو میں۔

14/03/2026

مزاحمت، زندہ باد!!

ایران یہ جنگ جیت رہا ہے۔

یہ جملہ عجیب لگتا ہے۔ ایک ملک جس کے شہر جل رہے ہیں، جس کا سپریم لیڈر قتل ہو چکا ہے، جس پر بی ٹو بمبار بلا روک ٹوک اڑ رہے ہیں، وہ جیت رہا ہے؟

ہاں۔ کیونکہ جنگ صرف بموں سے نہیں جیتی جاتی۔ جنگ اس وقت جیتی جاتی ہے جب سامنے والا یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ اب آگے کیا کروں۔ ٹرمپ آج یہی سوچ رہا ہے۔ اور جب طاقتور سوچنے لگے تو سمجھ لیجیے کہ کمزور نے اپنا کام کر دیا۔

آبنائے ہرمز۔ یہ نام یاد رکھیے۔ کیونکہ اس تنگ سے راستے میں آج دنیا کی قسمت پھنسی ہوئی ہے۔

باضابطہ طور پر آبنائے ہرمز بند نہیں ہوئی۔ لیکن عملی طور پر تجارتی بحری جہازوں کے لیے بند ہے۔ اکیس ملین بیرل تیل روزانہ اس راستے سے گزرتا تھا۔ دنیا کے تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ۔ لیکن آج انشورنس کمپنیاں کروڑوں ڈالر کے جہازوں پر ڈرونز، راکٹوں اور بارودی سرنگوں کا خطرہ قبول کرنے کو تیار نہیں۔ امریکی بحریہ، اپنی تمام تر طاقت کے باوجود، تجارتی جہازوں کی حفاظت کا کوئی طریقہ نہیں نکال سکی۔

دنیا کو اس کے سب سے اہم ایندھن سے کاٹنے اور نہ کاٹنے کے درمیان صرف ایک پائپ لائن کھڑی ہے۔ سعودی عرب سے گزرنے والی پائپ لائن جو پوری صلاحیت پر ستر لاکھ بیرل روزانہ بہا سکتی ہے۔ یو اے ای کی ایک اور پائپ لائن ہے جو پندرہ لاکھ بیرل سنبھال سکتی ہے۔ دونوں ایرانی ڈرون حملوں کی زد میں ہیں۔

امریکہ کا اسٹریٹیجک ریزرو روزانہ چوالیس لاکھ بیرل مارکیٹ میں ڈال سکتا ہے۔ باقی دنیا مزید بیس لاکھ بیرل کا اضافہ کر سکتی ہے۔ لیکن اس رفتار سے ذخائر نوے دنوں میں ختم ہو جائیں گے۔ اور جس لمحے منڈیوں کو محسوس ہوا کہ وقت ختم ہونے لگا ہے، اس لمحے تباہی آئے گی۔ منڈیاں حقیقت کا انتظار نہیں کرتیں۔ منڈیاں خوف کا انتظار کرتی ہیں۔

اور یہ صرف تیل نہیں۔ دنیا کی بیس فیصد ایل این جی بند۔ دنیا کی پچیس فیصد یوریا سپلائی بند جو کھاد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ خلیجی ریاستوں کی معیشتیں لڑکھڑا رہی ہیں۔ یو اے ای اور قطر کے ایوی ایشن سیکٹر دباؤ میں ہیں۔

ٹرمپ کو اگلے ایک مہینے میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہاز گزارنے ہیں ورنہ مکمل معاشی بحران آئے گا۔ لیکن راستے بند ہو رہے ہیں۔

"سر کو نشانہ بناؤ اور دھڑ گر جائے گا۔" یہ حکمتِ عملی تھی۔ سپریم لیڈر قتل کر دیا گیا۔ سینئر رہنما ختم کیے گئے۔ لیکن جسم نہیں گرا۔ نظام بغیر سر کے چل رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای جانشین مقرر ہو گئے۔ وہ آدمی جس کے باپ کو امریکہ نے مارا ہے۔ وہ ان لوگوں کے سامنے نہیں جھکے گا جنھوں نے اس کے باپ کا خون بہایا۔ یہ وینزویلا کی ڈیلسی روڈریگز نہیں جو تخت قبول کر لے کٹھ پتلی ملکہ بن کر۔ یہ خون کا حساب ہے اور خون کا حساب نسلوں تک چلتا ہے۔

تہران نے پہلا حملہ برداشت کیا اور جوابی حملہ ایسی طاقت سے کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ ایران کا مقصد واضح ہے اور حاصل کرنے کے قابل ہے: امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو اتنا معاشی نقصان پہنچاؤ کہ آنے والا کوئی بھی امریکی صدر کبھی ایران سے الجھنے کی جرأت نہ کرے۔ یہ حکومت اس جنگ کو اپنی ابدی سلامتی کا ضامن بنانا چاہتی ہے۔ اور اس مقصد کے لیے ایرانی فوج کو امریکی فوج کو شکست دینے کی ضرورت نہیں۔ صرف اتنی قیمت وصول کرنی ہے کہ جنگ ناقابلِ برداشت ہو جائے۔

ٹرمپ خود تسلیم کر چکا ہے کہ نشانے ختم ہو گئے۔ مارنے کو کچھ نہیں بچا۔ تو ایران میزائل اور ڈرون داغتا رہے گا۔ جب تک سانس ہے، داغتا رہے گا۔ تہران کو یقین ہے کہ وہ اس افراتفری میں وائٹ ہاؤس سے زیادہ دیر ٹک سکتا ہے۔ ایران کو نومبر میں مڈ ٹرم الیکشن نہیں لڑنے۔ ٹرمپ کو لڑنے ہیں۔ اور یہ فرق ہی فیصلہ کن ہے۔

تو اب ٹرمپ کے پاس کیا بچا؟

پہلا راستہ: کمزوری کی حالت میں جنگ بندی قبول کرے۔ شرائط تہران کی ہوں گی۔ ذلت آمیز واپسی ہو گی۔ البتہ ٹرمپ کی ایک صلاحیت بے مثال ہے، وہ اپنی شکست کو بھی اپنے حامیوں کو فتح کے طور پر بیچ سکتا ہے۔ یہ ہنر اس کے علاوہ کسی کے پاس نہیں۔

دوسرا راستہ: آبنائے ہرمز کو اتنا محفوظ بنائے کہ انشورنس کمپنیاں خطرہ قبول کریں۔ لیکن یہ ایرانی سرزمین پر فوج اتارے بغیر ممکن نہیں دکھتا۔ اور جس دن ایرانی زمین پر امریکی بوٹ پڑا، اس دن دلدل شروع ہو گی۔ وہ دلدل جس سے نہ عراق نکل سکا، نہ افغانستان۔

ٹرمپ نے یہ جنگ اس یقین سے شروع کی تھی کہ دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ پلان بی نہیں تھا۔ آج بھی نہیں ہے۔ ایرانی نظام گرنے کے آثار نہ آج ہیں نہ مستقبلِ قریب میں دکھائی دیتے ہیں۔

تو سوال وہی ہے جو اس جنگ کے پہلے دن سے ہے اور آج بھی بے جواب ہے:

اگر ایران لڑنا چاہے تو ٹرمپ واپس کیسے جائے گا؟

یہ سوال ٹرمپ کا نہیں۔ یہ سوال ہر اس طاقت کا ہے جو جنگ شروع کرتے وقت یہ بھول جاتی ہے کہ جنگ شروع کرنا آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ختم کرنا کبھی نہیں ہوتا۔

افغانی روسیوں کو کہتے تھے، تمہارے پاس گھڑی ہے، ہمارے پاس وقت ہے. اب یہی وقت ایران کے پاس ہے. اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ٹرمپ کی گھڑی کتنی مہنگی ہے. بس اس کے پاس وقت نہیں ہے.

عارف انیس

Want your school to be the top-listed School/college in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Faisalabad