20/09/2026
🕌Hadith Of The Day
🔰جانوروں پر ظلم کی ممانعت اور حُسنِ سلوک کا درس
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْھُمَا عَنْ اَبِيْهٖ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ، فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهٖ، فَرَأَيْنَا حُمَرَةً مَّعَهَا فَرْخَانِ، فَاَخَذْنَا فَرْخَيْهَا، فَجَآءَتِ الْحُمَرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرِشُ، فَجَآءَ النَّبِیُّ صَلَّى اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَنْ فَجَعَ هٰذِهٖ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوْا وَلَدَهَا اِلَيْهَا. وَرَاٰى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا، فَقَالَ: مَنْ حَرَّقَ هٰذِهٖ؟ قُلْنَا: نَحْنُ، قَالَ: اِنَّهُ لَا يَنْۢبَغِیْ اَنْ يُّعَذِّبَ بِالنَّارِ اِلَّا رَبُّ النَّارِ.
(سنن ابی داؤد: رقم الحدیث2675، حکمِ حدیث صحیح)
ترجمہ:
حضرت عبد الرحمٰن اپنے والد حضرت سیّدنا عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وآله وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وآله وسلم اپنی حاجت کے لئے تشریف لے گئے۔ ہم نے ایک چڑیا دیکھی جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے۔ ہم نے اس کے دونوں بچوں کو پکڑ لیا۔ وہ چڑیا آئی اور اپنے پروں کو (زمین پر) پھیلانے لگی۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وآله وسلم تشریف لائے اور (یہ دیکھ کر) ارشاد فرمایا: اس کے بچوں کی وجہ سے اِسے کس نے بے قرار کیا ہے؟ اس کے بچے اسے واپس کر دو۔ اور آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وآله وسلم نے چیونٹیوں کی ایک بستی دیکھی جسے ہم نے جَلا دیا تھا۔ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وآله وسلم نے پوچھا: اس کو کس نے جَلایا ہے؟ عرض کیا: ہم نے۔ آپ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک آگ کے ذریعے عذاب دینا صرف آگ کے مالک کے سِوا کسی کو زیب نہیں دیتا۔
تخریج:
(سنن ابی داؤد: كتاب الجهاد، باب فی كراهية حرق العدو بالنار، جلد04، صفحہ481، رقم الحدیث2663، الطبعۃ الاولی، مطبوعہ دار التاصیل القاہرۃ، مصر)
نوٹ:
یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں اسلام کی جامع تعلیمِ رحمت اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کا درس دیتی ہے کہ ہر جاندار کے ساتھ شفقت اور نرمی کا معاملہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں جانوروں کے ساتھ بے رحمی اور انہیں بِلا وجہ تکلیف دینے کے واقعات کے پیشِ نظر ہمیں ان کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ کسی جانور کے بچوں کو بِلا وجہ اس کی ماں سے جدا کرنا یا اسے خوف و اذیت میں مبتلا کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسی طرح کسی جاندار کو آگ کے ذریعے عذاب دینا بھی جائز نہیں، کیونکہ آگ سے عذاب دینا اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام انسانوں کے ساتھ ساتھ بے زبان مخلوق کے لئے بھی رحم و شفقت اور حسنِ سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔
لہٰذا ہمیں اپنے معاشرے میں جانوروں کے ساتھ نرمی، ان کی حفاظت اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا شعور عام کرنا چاہیے۔ کیونکہ مخلوق پر رحم کرنا اسلامی اخلاق کا تقاضا ہے اور یہی رحمت و شفقت ایک پُرامن اور مہذب معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
-----------------------------------------------------