14/01/2023
پرسنل ڈیٹا آپ کی گیلری میں موجود آپکی تصاویر ہیں یا کچھ اور ؟؟؟۔🧐
گوگل یا کوئی بھی کمپنی آپکے پرسنل ڈیٹا تک رسائی حاصل کیوں کرنا چاہتا ہے ؟👀
اس سے آپکو کتنا فائدہ یا نقصان ؟ 🤔
☆پرسنل ڈیٹا انفارمیشن☆
بہت سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پرسنل ڈیٹا سے مراد ہماری تصویریں، ویڈیوز،فون نمبر، ایڈریس وغیرہ ہیں تو یہ بلکل بے بنیاد اور غلط سوچ ہے۔۔۔
ایپس اور ویب سائٹ جو پرسنل ڈیٹا ایک دوسرے سے شیئرکرتی ہیں اس سے مراد صارف کی پسند نا پسند کے متعلق معلومات لینا ہوتا ہے نہ کہ پرسنل تصویریں یا ویڈیوز وغیرہ۔۔۔
سب سے پہلا سوال تو یہ بنتا ہے کہ ان کمپنیز نے ہماری بنائی گئی ویڈیوز یا تصویروں سے کیا کرنا ہے جو ان کو چوری کرنی پڑیں۔۔۔
پرسنل ڈیٹا سے مراد ہر صارف کی ذاتی پسند یدہ ٹیگز، کی ورڈ، سرچنگ لسٹ، اشیاء، پروڈکٹس، ہابیز ہوتی ہے کہ نہ کہ پرسنل ڈیٹا سے مراد ذاتی تصویریں، ویڈیوز یا کنٹیکٹ ہوتی ہیں۔۔۔
پرسنل ڈیٹا انفارمیشن سے مراد ہوتا ہے " کوکیز"
اب یہ کوکیزہوتی کیا ہیں؟؟؟
ایچ ٹی ٹی پی کوکیز، ویب کوکیز، انٹرنیٹ کوکیز، براؤزر کوکیز ان سب کا کام ایک ہی ہے۔۔۔
آسان الفاظ میں کوکیز کا مطلب ہے رہنماء، مانیٹر یا مشیر۔۔۔
آپ نے نوٹ کیا ہوگا ہم گوگل پر کوئی چیز سرچ کرتے ہیں، کسی پسندیدہ پروڈکٹ کو تلاش کرتے ہیں تو ہمارے فیس بک، انسٹاگرام، ٹیوٹر وغیرہ پر اسی پروڈکٹس کے متعلق اشتہارات آنے لگتے ہیں۔۔۔
پرسنل ڈیٹا سے مراد بھی یہی ہے کہ کوکیز دیکھتی ہیں کہ اس بندے نے کیا سرچ کیا، اس کی پسندیدہ اشیاء کون سی ہیں، اس نے کون کون سے کی ورڈ سرچ کئے، کون کون سی پروڈکٹ آرڈر کی، اس کو کس طرح کی ویڈیوز پسند ہیں، یہ زیادہ تر کون سی ویب سائٹ استعمال کرتا ہے، اس کا پسندیدہ برانڈ کو ن سا ہے، پسندیدہ کھانا کون سا ہے، باہمی چیٹ میں کون کون سے کی ورڈ استعمال ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔۔۔
آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہم گوگل، یوٹیوب یا کسی بھی جگہ کوئی چیز بار بار سرچ کرتے ہیں تو اگلی بار اسی متعلق اور اسی کیٹاگری کی اشیاء سامنے آتی ہیں اور ساتھ لکھا ہوتا ہے کہ اسی کیٹاگری اور طرح کی مزید اچھی پروڈکٹس اور ویڈیوز یہ بھی ہیں۔۔۔
اب ہوتا یہ ہے کہ ہر ویب سائٹ کی اپنی کوکیز ہوتی ہیں اور وہ کوکیز اپنے متعلقہ اشیاء کو ہی ٹارگٹ کر کے صارف کو انفارمیشن دیتی ہیں ہر ویب سائٹ اوپن کرنے کے بعد آپ کو ایکسپٹ کوکیز ، الاؤ کوکیز، ایگری کوکیز کا پاپ اپ کھلتا ہے کہ یہ ویب سائٹ آپ کی کوکیز تک رسائی چاہتی ہے۔۔۔
مثال کے طور پر آپ امازون پر کوئی پروڈکٹ تلاش کرتے ہیں توامازون کی اپنی کوکیز ہوں گی جو کسٹمر کو پروڈکٹ تلاش کرنے میں اور مزید ریکمنڈڈاور سملر پرودکٹس کی طرف رسائی کو آسان بناتی ہے۔۔۔
آپ کسی ویب سائٹ پر لاگن ہوتے ہیں اپنا یوزر نام ، پاسوڑد دیتے ہیں تو اس ویب سائٹ کی کوکیز آپ کو آپشن دیتی ہیں کہ آپ ایک بار اپنا پاسورڈ اور یوزر نیم اس ویب سائٹ پر سیو کر لیں تاکہ ہر بارلاگن کرنے کے لئے آپ کو باربار پاسورڈ نہ دینا پڑے، اسی طرح کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ کا بھی سیم آپشن آتا ہے کہ ایک بار متعلقہ بنک یا کمپنی کی کوکیز آپ کے یوزر نیم اور پاسورڈ کو سیو کرلیتی ہیں۔۔۔
ان کوکیز کے فائدے بھی ہیں اور کچھ معاملات میں نقصان بھی ہے۔۔۔
فائدہ ایسے کہ آپ کا وقت بچ جاتا ہے، مزید پرودکٹس یا مطلوبہ اشیاء تلاش کرنے اور زیادہ بہتر چیز ملنے میں کوکیز مدد کرتی ہیں قابل اعتماد اور بھروسہ مند ویب سائٹ اور کمپنیز کبھی بھی اپنے کسٹمر کی کوکیز کو تھرڈ پارٹی سے بچانے کے لئے ویری سائن یا دوسری سیکورٹی کمپنیز کی مدد لیتی ہیں جن میں ہر ویب سائٹ کی کوکیز پرٹریکنگ سیکورٹی لگی ہوتی ہے ۔۔۔
لیکن نقصان تب ہوتا ہے جب تھرڈ پارٹی آپ کی کوکیز چوری کرنے کے لئے آپ کو مختلف طریقوں سے بلاتی ہیں مثلاً آپ کسی ڈاؤن لوڈایبل ویب سائٹ پر جا کر من پسند ویڈیو یا کوئی چیز ڈاؤ ن لوڈ کرتے ہیں تو ایک نیو پاپ اپ کھلتا ہے جو آپ کو کوکیز الاؤ کے لئے مجبور کرتی ہیں یہاں احتیاط کی ضرورت ہے کہ جس کمپنیز یا ویب سائٹ کے ساتھ آپ کا تعلق نہیں، آپ کا اس ویب سائٹ پر اکاؤنٹ نہیں تو کبھی بھی اس کی کوکیز الاؤ یا ایکسپٹ نہ کریں۔۔۔
اس لئے آن لائن بنک، آن لائن پیمنٹ، آن لائن آرڈر کے لئے گوگل کروم ، فائر فاکس یا مائکروسافٹ کا اپنا انٹرنیٹ براؤزر استعمال کریں۔۔۔
رہی بات ہماری پرائیویسی کی تو آن لائن فیلڈ میں کسی بندے کی پرائیوسی محفوظ نہیں ہے۔۔۔
ہم اپنی معلومات اپنا پرسنل ڈیٹا بہت پہلے سے سب کو دے چکے ہیں اور گوگل، فیس بک، ٹیوٹر، انسٹاگرام، گوگل پلے سٹور وغیرہ ہمارا ڈیٹا سے بہت اچھی طرح واقفیت رکھتا ہے۔۔۔
یہ سب کمپنیز صارفین کا ڈیٹا ایک دوسرے سے اس لئے شیئر کرتی ہیں کہ اشتہارات، ایڈواٹائزنگ کے لئے اپنے مطلوبہ صارف تک رسائی حاصل کی جاسکے۔۔۔
جس بندے کو اپنی پرائیوسی کی زیادہ فکر ہو تو اس کو چاہئے وہ نہ تو سمارٹ فون استعمال کرے، نہ ہی کمپیوٹر لیپ ٹاپ پر نیٹ استعمال کرے۔۔۔
ظاہر سی بات ہے جب آپ کوئی موبائل یا کمپیوٹر خریدتے ہیں اور موبائل، یا کمپیوٹر استعمال کرنے کے لئے آپ کو ایک عدد جی میل آئیڈی کی ضرورت رہتی ہے اس کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہیں تو آپ سب سے پہلے گوگل کو ہی اپنی معلومات فراہم کر دیتے ہیں گوگل کا اکاؤنٹ تب ہی بنے گا جب آپ اس کی ٹرمز اینڈ کنڈیشن ایکسپٹ کریں گے اور اس کی ٹرمز اینڈکنڈیشن میں یہ بات واضح طور پر لکھی ہوئی ہے کہ گوگل آپ کے ڈیٹا کی رسائی کرے گا۔۔۔
باقی رہی یہ بات کہ فلاں ایپ قابل اعتبار نہیں، فلاں کمپنی ڈیٹا چوری کرتی ہے، فلاں ایپ صحیح نہیں تو بات یہ ہے کہ اس طرح پھر ہمارا موبائل یا کمپیوٹر ہی قابل اعتبار نہیں کیوں کہ سب کام یہیں سے تو شروع ہوتے ہیں۔۔۔
اس لئے یہ بات کہنا کہ واٹس اپ یا فیس بک قابل اعتبار نہیں کیوں کہ یہ ہمارا ڈیٹا شیئر کرتی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس دن آپ نے جی میل آئیڈی بنائی تھی، جس دن موبائل لیا تھا، جس دن اس میں پلے سٹور یا یوٹیوب چلایا تھا تب سے ہی آپ کی معلومات تمام کمپنیز ایک دوسرے سے شیئر کر رہی ہیں۔۔۔
ایک بار دوبارہ ذہن نشین کر لیں کہ اس پرسنل ڈیٹا سے مراد ہمارے موبائل میں موجود تصویریں، ویڈیوز،کنٹیکٹ لسٹ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کمپنیز کو آپ کے موبائل میں موجود ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی ضرورت ہے نہ ایسا ہوسکتا ہے، اس پرسنل ڈیٹا سے مراد آپ کی پسند نا پسند آپ کی سرچنگ ہسٹری ہے بس۔۔۔
خواہ مخواہ فیس بکی دانشوروں اور ادھر ادھر کی غیر مصدقہ خبروں اور لوگوں کی باتوں میں نہ آیا کریں۔۔۔
بلکہ ہر معاملے کی خود چھان بین کریں، گوگل کر لیا کریں، ٹیکنالوجی کے ماہرین سے پوچھ لیا کریں۔۔۔
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو
حامد حسن
.pk
10/11/2022
آن لائن لاکھوں روپےچند دنوں میں کمانے والی بات کنفرم جھوٹ اور فراڈ ہے
کسی بھی سکل سکھانے والے بندے کا اگریہ دعوی ہے کہ فلاں سکل سیکھو اورسکل سیکھتے ہی لاکھوں روپے کمانے لگ جاؤ گے تو یہ بات سوفیصد بالکل جھوٹ پر مبنی ہے۔۔۔
آن لائن فیلڈ میں کوئی بھی ایسی سکل نہیں، ایسی کوئی ٹپس اینڈ ٹرکس اور شارٹ کٹ نہیں ہے جسے سیکھنے کے فوراً بعدہی لاکھوں روپے ملنا شروع ہوجائیں گے اور ڈالرز کی برسات شروع ہوجائے گی۔۔۔
اگر آپ سب کچھ چھوڑچھاڑ کر، نوکری یا لگا لگایا کام کاج چھوڑ کر کوئی ڈیجیٹل سکل یہ سوچ کر سیکھ رہے ہیں کہ چلو دو چار ماہ سختی کے برداشت کر کے سکل سیکھتے ہیں کیوں کہ سیکھتے ہی فوراً ہی کمانے لگ جائیں گے تو آپ بالکل غلط راستے پر ہیں آپ لگے ہوئے رزق کو ٹھکرا رہے ہیں اور آپ کو غلط گائیڈ کیا جا رہا ہے۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
ایک بات ذہن نشین کر لیں
ڈیجیٹل فیلڈ کی ہر سکل میں دوسری عام نوکریوں اور کاموں سے زیادہ اچھی انکم تو ہے لیکن اس کے لئےاچھی خاصی سٹرگل اور محنت درکار ہوتی ہے۔۔۔ چاہے کوئی بھی سکل ہو اسے جب تک پروفیشنل لیول پر نہیں سیکھا جائے گا وہ سکل بے فائدہ ہے اور اچھی انکم کبھی نہیں دے سکتی۔۔۔
جب تک اچھا پورٹ فولیو نہیں ہوگا، سابقہ کلائنٹس کے اچھے ریووز نہیں ہوں گے اورکام کریٹیو اور پروفیشنل نہیں ہوگا اس سکل کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ جب تک اس سکل کو مارکیٹ ڈیمانڈ کے مطابق نہیں سیکھیں گے جب تک اس فیلڈ کی باریکیاں نہیں سمجھیں گے کوئی خاص فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔۔۔
کسی بھی سکل سے اچھا کمانے کے لئے اس سکل کو بیسک ٹو ایڈوانس سیکھنا ہوگا۔۔۔ اس سکل کو موجودہ اور آنے والے ٹرینڈز کے مطابق سیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔۔۔ کلائنٹس کی ڈیمانڈ اور کمپٹیشن رینکنگ کے مطابق سکل کو پالش کرنا ہوگا۔۔۔ اس سکل کی تمام باریکیوں اور ٹپس اینڈ ٹرکس سمیت سیکھنا ہوگا۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
مثال کے طور پر
ڈیجیٹل فیلڈ میں ایک گرافکس ڈیزائنر جو نیا ہو اچھا کام سیکھ گیا ہو اسے 15،20 ہزار والی جاب ملے گی یا اگر وہ اپنا کام کرے گا تو اس کے ایک ڈیزائن کا معاوضہ پانچ، چھ سو ہوگا۔۔۔ یہی ڈیزائنر ایک ڈیڑھ سال مزید محنت کرے سکل پالش کرے اور برینڈ لیول کا کام سیکھ جائے تو کسی ادارے یا کمپنی میں اسے40 ہزار سے 60،70 ہزار تک جاب ملے گی اور اپنا کام کرے گا تو ایک دن کا پندرہ سو دو ہزار کمائے گا۔۔۔
ایک وقت ہوتا ہے کہ بندے کے ڈیزائن کا کوئی 2،3 سو بھی بمشکل دیتے ہیں۔۔۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب اسی ڈیزائنر کا کام دوسروں سے منفرد ہوجاتا ہے اس کا کام کریٹیو ہوجاتا ہے تو لوگ منہ مانگا معاوضہ بھی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔۔۔ دو تین سال بعد یہی ڈیزائنرفیلڈ کو سمجھ چکا ہوتا ہے، سکل اچھی پالش ہوچکی ہوتی ہے، برینڈ لیول پروفیشنل کام کے قابل ہو جاتا ہے تو فری لانسنگ یاآن لائن جاب سے اس سے بھی اچھا کمانے لگ جاتا ہے۔۔۔ صرف ڈیزائننگ کی مثال دی ہے دوسری تمام سکلز کی مثال بھی ایسی ہی ہے۔۔۔
پاکستان کے بڑے شہروں جیسے کراچی، اسلام آباد، لاہور وغیرہ کے سافٹ وئیر ہاؤس اور ڈیجیٹل سروسز کمپنیز میں پروفیشنل سکل ہولڈرز کو 20ہزار سے 70،80 ہزار تنخواہ پر جاب ملتی ہے۔۔۔ اگر تجربہ اور سکل میں مہارت ہو تو اس سے زیادہ تنخواہ ہوتی ہے لیکن اسی حساب سے کام بھی لیا جاتا ہے۔۔۔ اگر اپنا کام کیا جائے جیسے ڈیزائننگ شاپ تو ماہانہ 70،80 ہزار کمانے کے لئے آس پاس کے کمپٹیٹرز سے زیادہ اور بہتر کام کرنا پڑتا ہے پھر جا کر کہیں دال گلتی ہے۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
اس فیلڈ کی گروتھ
اسی طرح پروفیشنل اور کریٹیو سکل ہولڈرز کو دوسرے ممالک میں فی گھنٹہ اچھا معاوضہ تو دیا جاتا ہے لیکن اس کے لئے تجربہ اور اپنی سکل میں کمال مہارت ہونا ضروری ہے۔۔۔ ظاہر سی بات ہے کہ تجربہ اور مہارت تب ہی آئے گی جب بھرپور محنت کی جائے گی، بار بار پریکٹس ہوگی، خوب شوق لگن سے کام کیا جائے گا تو سکل پالش ہوتی جائے گی۔۔۔
محنت کرتے کرتے، پریکٹس اور بھرپور لگن شوق اور اپنے کام سے عشق و جنون کی بھٹی میں رہنے کے بعداپنے فیلڈ کا کندن بن جاتا ہے۔۔۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کام خود بولتا ہے کمپنیاں اور کلائنٹ اس سے ڈیل کر کے منہ مانگا معاوضہ دینے کو تیار ہوتی ہیں اور اس کی سوچ سے کہیں زیادہ معاوضہ دینے کو بخوشی و رضا تیار ہوتی ہیں۔۔۔
ڈیجیٹل کمپنیز اور پروفیشنل کلائنٹ کسی ایرے غیرے بندے کو کبھی ہائر نہیں کرتے وہ ٹھونک بجا کر دیکھتے ہیں جسے فیلڈ کی باریکیاں معلوم ہوں۔۔۔ فیلڈ کی گہرائیاں اور ٹرینڈ کو سمجھتا ہو اسے دیکھ بھال کر کے پہلے ٹرائل بیس پر رکھا جاتا ہے اسے خوب پرکھا جاتا ہے جب معلوم ہوجائے کہ بندہ قابل اور ان کی سوچ کے موافق ہے تو پھر اچھے معاوضے پر ڈیل کی جاتی ہے۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
یاد رکھیں
ڈیجیٹل دنیا کی کوئی بھی سکل ہو اسے بیسک ٹو ایڈوانس سیکھنے کے لئے 3،4 ماہ کم سے کام چاہئیں۔۔۔ پھر اس سکل میں ماہر ہونے کے لئے مزید 3،4 ماہ کی پریکٹس چاہئے۔۔۔ اور اسی سکل میں کمال مہارت اور طاق ہونے کے لئے ایک ڈیڑھ سال کی عرق ریزی اور ریاضت درکار ہوتی ہے۔۔۔
آپ کے آس پاس ڈیجیٹل سکلز میں اپنی سکل سے اچھا کمانے والوں کا اگر جائزہ لیں تو یہ سب لوگ جو اپنی فیلڈ کے ماہر ہیں انہیں کم سے کم بھی ایک ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ ہی ہوا ہوگا۔۔۔ کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہیں ملے گا جس نے بس سکل سیکھی اور ا س سے کمانے لگ گیا ہو۔۔۔
ایسی کوئی سکل نہیں ایسی کوئی ٹپس اینڈ ٹرکس یا شارٹ کٹ نہیں جسے سیکھتے ہی کمائی شروع ہوجائے گی۔۔۔ کوئی بھی سکل سکھانے والا، موٹیویشن دینے والا بندہ اگر یہ کہتا ہے کہ فلاں سکل سیکھو اور بس فورا ً کمانے لگ جاؤ گے تو وہ بالکل جھوٹ بول رہا ہے اوریہ بات سراسر غلط بیانی پر مشتمل ہے۔۔۔
ــــــــــــــــــــ
ایک ضروری بات
اگر آپ کوئی بھی سکل سیکھنا چاہتے ہیں تو اپنے ذہن میں یہ بات بٹھا لیں کہ آپ کو پہلے اس فیلڈ کو خوب سمجھنا ہوگا۔۔۔ اس فیلڈ میں کھپنا ہوگا۔۔۔اس فیلڈ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانا ہوگا۔۔۔ اس فیلڈ سے عشق کرنا ہوگا۔۔۔ اس فیلڈ کو اپنا جنون بنانا ہوگا۔۔۔ پھر ہی حاصلِ مطلوب ہوسکتا ہے۔۔۔
کبھی بھی لگی لگائی جاب یا کام اس سکل کو سیکھنے اور پھر اس سے کمانے کے چکر میں مت چھوڑیں۔۔۔ کیوں کہ اس سکل کو بیسک ٹو ایڈوانس اور کمانے کے لیول تک سیکھنے کے لئے کم سے کم بھی 5،6 ماہ کا وقت درکار ہے۔۔۔ تواگر نوکری یا کام چھوڑ کر سکل میں ہی کھپیں گے تو اتنا عرصہ کھائیں گے کہاں سے اور دال روٹی کہاں سے لائیں گے۔۔۔ البتہ اگر والدین ساتھ دے رہے ہیں تو پھر الگ بات ہے۔۔۔
یہ یقینی بات ہے کہ موجودہ دور اور آنے والے وقتوں میں ڈیجیٹل فیلڈ میں بہت اچھی انکم ہے اور اسی فیلڈ کا سکوپ ہے۔۔۔ لیکن اس کے لئے ایک تو خود کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہوگااپنے اندر شوق لگن محنت اور جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔۔۔بھرپور اور خوب محنت کرنی ہوگی اور اس فیلڈ میں خود کو پروفیشنل لیول کا ماہر بنانا ہوگا۔۔۔
کبھی بھی ایک دم فیصلہ مت کریں۔۔۔ کبھی لگی لگائی نوکری یا جاب چھوڑ چھاڑ کر سکل سیکھنے نہ لگ جائیں۔۔۔ شروع میں آپ جو بھی کام کر رہے ہیں اس کے فارغ اوقات کو قیمتی بنائیں۔۔۔ پارٹ ٹائم اس کام کو سیکھیں۔۔۔ جب پروفیشنل لیول پر کام سیکھ لیں اور اچھی انکم شروع ہوجائے تو پھر نوکری چھوڑ کر اسی فیلڈ کے ہوکر رہ جائیں۔۔۔
یہ بات کنفرم ہے کہ ڈیجیٹل فیلڈ میں دوسری عام جابز یا کام سے اچھی انکم ہے۔۔۔ اس لئے اپنی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق خود کو اپرو کریں۔۔۔ اپنے آپ کے لئے باقاعدہ پلاننگ کر کے کوئی ایک سکل بھرپور محنت، لگن ، شوق اور جذبے سیکھیں۔۔۔ ان شاء اللہ العزیز یہ سکل عمر بھر آپ کو بہترین انکم دے گی اور شاندار مستقبل کی ضامن ہوگی۔۔۔
۔کاپیڈ۔
حافظ محمد عادل شاہد
29/06/2022
*آج کے دور میں ویڈیو ایڈیٹنگ ' کریئر کا ایک بہت اچھا آپشن ہے*
انٹرنیٹ کے دور میں لوگ اپنے موبائل، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا ٹی۔ وی پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ لامحدود ویڈیوز پوری دنیا میں روزانہ کئی زبانوں اور کئی موضوعات میں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جاتی ہیں۔ ویڈیوز آج کی ڈیجیٹل دنیا کا بہت اہم حصہ بن گئی ہیں۔
جب بھی ہم آرام کرتے ہیں،کالج جاتے ہیں، آفس سے واپس آتے ہیں یا ہم اپنا وقت گزارنا چاہتے ہیں، ہم ہمیشہ مختصر یا طویل ویڈیوز دیکھتے ہیں کیونکہ اس سے ہمارا وقت گزر جاتا ہے۔ بچے چاہے کچھ سیکھنا چاہتے ہوں، وہ یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں، یا پھر اگر بچے امتحان کی تیاری کرنا چاہتے ہوں تو وہ مضمون کے لحاظ سے تعلیمی ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ کوئی اچھی ریسیپی بنانی ہوتو یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ اس لیے آج کے دور میں ویڈیوز کی قدر بہت ہی زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
ویڈیو ایڈیٹنگ کیا ہے؟
ویڈیو ایڈیٹنگ آج کے دور میں کریئر کا ایک بہت اچھا آپشن بن گیا ہے کیونکہ آج کل لوگ اتنی زیادہ ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں کہ ان کے پاس اپنی ویڈیوز کو ایڈیٹ کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ ایک اچھا ویڈیو ایڈیٹر تلاش کرنا چاہتے ہیں، جو بجٹ میں اپنا کام کر سکے۔ویڈیو شوٹنگ کے بعد ویڈیو ایڈیٹنگ سب سے اہم چیز ہے۔ اسے ویڈیو ایڈیٹنگ بھی کہا جاتا ہے۔ ہر نیوز چینل، پروڈکشن ہاؤس اور فلم پروڈکشن اسٹوڈیو میں ایڈیٹرز کا کام اہم ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیشہ ویڈیو ایڈیٹر کی مانگ رہتی ہے۔ ایک فلم ایڈیٹر کسی فلم کو ایڈٹ کرنے کے بعد فائنل کرتا ہے۔
آسان طریقے میں سمجھا جائے تو جب کوئی ویڈیو شوٹ ہوتی ہے تو وہ ویڈیو ایک ایڈیٹر تک پہنچتی ہے اور پھر اس ویڈیو کو اچھی طرح سے ایڈجسٹ کیا جاتا ہے۔ یعنی جس حصے میں غلطی ہوتی ہے اسے ہٹایا جاتاہے۔ پھر اس پر بہت سارے فلٹرز لگاتے ہیں، جو اس ویڈیو کو اور بھی بہتر بناتے ہیں
ویڈیو سے غلطیاں نکالنے اور مختلف فلٹرز لگانے کے بعد اچھی ویڈیو تیار ہوتی ہے۔
اب آپ سوچیں گے کہ ویڈیو ایڈیٹنگ کیا ہوتی ہے؟ دراصل، ویڈیو ایڈیٹنگ کے کام میں، ویڈیو کے ساؤنڈ کو ایڈٹ کرکے مؤثر اور پیش کرنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ ویڈیو شوٹ کرنے اور ریکارڈ کرنے میں چند گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ لیکن ویڈیو ایڈیٹنگ کے ذریعے اس ویڈیو میں صرف انتہائی اہم اور بامعنی ویڈیو سین اور آواز شامل کی جاتی ہے۔
جب ہم کوئی ویڈیو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک بات کا احساس ہوتا ہے کہ ایک ہی ویڈیو میں کتنے مناظر بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل اکٹھے ہوتے رہتے ہیں۔ آواز بھی ویڈیو کے مناظر سے بالکل میل کھاتی ہے۔ چاہے یہ ویڈیو 5 منٹ کی ہو یا 15یا20 منٹ کی ، یا اس سے بھی زیادہ دورانیے کی ہو۔ سب سے اہم چیز اس ویڈیو کی مؤثر پیشکش ہے۔ اس کا اصل کریڈٹ ویڈیو ایڈیٹنگ کے کام کو جاتا ہے۔
درحقیقت، ویڈیو ایڈیٹنگ ریکارڈ شدہ ویڈیو میں ساؤنڈ ٹریک کو اچھی طرح سے فٹ کرنے کا کام بھی کرتی ہے اور پھر آپ ایک مؤثر آڈیو ویڈیو تیار ہوجاتی ہے۔ آج کل یوٹیوبرز کئی بار اپنی پسند کا موضوع منتخب کرکے ویڈیوز بناتے ہیں اور پھر اپنی ویڈیو کی ایڈیٹنگ خود کرتے ہیں۔ اگر ویڈیو ایڈیٹنگ مؤثر نہیں ہے تو ناظرین ویڈیو کو پسند نہیں کریں گے اور پھر آپ مختلف سوشل میڈیا پر لائکس، شیئرز حاصل نہیں کر پائیں گے۔
ویڈیو ایڈیٹر کیسے بنیں؟
اس کے لیے آپ کو ویڈیو ایڈیٹنگ کے شعبے میں کورس کرنا ہوگا اور ایک بہترین ویڈیو ایڈیٹر بن سکتے ہیں۔ ویڈیو ایڈیٹر بننے کے لیے ہمیں وہ تمام کورسز جاننا ہوں گے، جن کے ذریعے ہم ویڈیو ایڈیٹر بن سکتے ہیں۔
تعلیمی قابلیت:
٭ ویڈیو ایڈیٹنگ اور ویڈیو گرافی میں تعلیم کی کوئی قید نہیں ہوتی یہ ہنر ان پڑھ بھی سیکھ سکتے ہیں
ویڈیو ایڈیٹر کےکام:
٭ ساؤنڈ ٹریک، فلم اور ویڈیو کی موشن پکچرز کے لیے ایڈیٹنگ کرنا۔
٭ کسی بھی ویڈیو کے سین کو دوبارہ ترتیب دیںنے اور اس میں موسیقی، آواز اور خصوصی اثرات شامل کرنے کےلیے ایڈیٹنگ کرنا۔
٭ بصری میڈیا کی تعریف کے ساتھ ساتھ اسے بامعنی بنانا۔
٭ ضرورت کے مطابق ویڈیو میں ترمیم کرنا۔
٭ ویڈیو فوٹیج کو بہتر بنانا۔
ویڈیو ایڈیٹنگ میں جاب کے مواقع:
جب آپ ویڈیو ایڈیٹر کا کورس مکمل کر لیتے ہیں تو آپ نیوز، انٹرٹینمینٹ چینل، پروڈکشن ہاؤس، ویب ڈیزائننگ کمپنی وغیرہ میں کام کر سکتے ہیں۔ آپ ویڈیو ایڈیٹنگ میں فری لانسر کے طور پر بھی کام کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ پوسٹ پروڈکشن اسٹوڈیوز، ٹیلی ویژن کمپنیوں وغیرہ میں کام کر سکتے ہیں۔ آپ ویڈیو ایڈیٹنگ میں مختصر مدت کے معاہدے کی بنیاد پر کام بھی کر سکتے ہیں۔
ویڈیو ایڈیٹر کی کمائی:
اگر آپ ویڈیو ایڈیٹنگ میں اپنا کرئیر بنانا چاہتے ہیں تو اس میں آپ کی بہت زیادہ کمائی ہے۔ شروع میں آپ کو تھوڑی کم تنخواہ ملے گی، کیونکہ جب تک آپ تجربہ کار نہیں بن جاتے، آپ کی تنخواہ کم رہتی ہے اور کوئی آپ کو جلدی کام نہیں دیتا۔ابتدا میں آپ کو مختصر ویڈیوز جیسے یوٹیوب کلیدی ویڈیوز میں ترمیم کرنا سیکھنا پڑے گا اور مزید کچھ کرنا پڑے گا تاکہ آپ کی مہارتوں میں بہتری آئے اور آپ انہیں نمونے کے طور پر جاب پروفائل میں دکھا سکیں۔
ایک اچھا ویڈیو ایڈیٹر ایک مہینے میں لاکھوں کما سکتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسی کمپنی میں کام کرتے ہیں جس نے آپ کو ایک چھوٹے سے ویڈیو ایڈیٹر میں رکھا ہوا ہے تو شروع میں آپ کو 20 سے 30 ہزار تنخواہ ملے گی۔ لیکن آہستہ آہستہ تجربے کے ساتھ، آپ اس سے 200000 روپے تک حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ فری لانسر کےطور پر اپنا کام کرنا چاہتے ہیں تو اس میں آپ لاکھوں کروڑوں روپے کما سکتے ہیں۔آپ کو ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھنے کے لیے بہت محنت کرنی پڑے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ سوچیں گے اور سیکھ جائیں گے۔ اس کے لیے آپ کو بہت محنت کرنی پڑے گی، تب جاکر آپ سیکھ سکیں گے۔ چھوٹی چھوٹی ویڈیو سے شروعات کرتےجائیں گے، تو بہ آسانی جلد سیکھ سکیں گے۔
اگر آپ ویڈیو ایڈیٹنگ کی بدولت نوکری وغیرہ یا پھر فری لاسنگ وغیرہ نہیں بھی کرنا چاہتے تو پھر بھی ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھنا لازمی ہے کیونکہ ہر بندے کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی ریکارڈڈ شدہ ویڈیوز بہت اچھی ہوں آپ کی ویڈیوز تب اچھی ہونگی جب آپ ویڈیو ایڈیٹنگ سیکھیں گے
کاپی۔
29/06/2022
بڑے بچوں اور نوجوانوں کو ان چھٹیوں میں یہ 40 سے زیادہ کام ضرور سکھانے کی کوشش کریں۔
1۔ بنیادی اسلامی باتیں سیکھنا۔
2۔ فرسٹ ایڈ۔
3۔ گوگل سرچنگ۔
4۔ گارڈننگ اینڈ فارمنگ۔
5۔ کمپیوٹر آپریٹنگ۔
6۔ گرافک ڈیزائننگ۔
7۔ ویڈیو ایڈیٹنگ۔
8۔ کپڑوں کی سلائی۔
9۔ دیواروں کو پینٹ کرنا۔
10۔ مختلف اوزاروں کا استعمال۔
11۔ کھانا پکانا۔
12۔ کپڑے دھونا۔
13۔ کپڑے استری کرنا۔
14۔ مہمانوں کو کھانا پیش کرنا۔
15۔ شیشے (ونڈوز وغیرہ) صاف کرنا۔
16۔ ڈسٹنگ اور صفائی کرنا۔
17۔ چیک بک بھرنا۔
18۔ اے ٹی ایم کارڈ کا استعمال۔
19۔ سائیکل چلانا۔
20۔ موٹر سائیکل کی ٹریننگ۔
21۔ گاڑی کا تیل پانی چیک کرنا۔
22۔ گاڑی کا ٹائر بدلنا۔
23۔ تیراکی، گھڑ سواری۔
24۔ تیر اندازی، چھرے والی گن چلانا۔
25۔ دیہاڑی یا ملازمت کرنا۔
26۔ پبلک ڈیلنگ۔
27۔ ڈرائنگ، پینٹنگ۔
28۔ ویٹر یا ڈلیوری بوائے بننا۔
29۔ کوئی چھوٹا موٹا بزنس چلانا، خرید و فروخت۔
30۔ کوئی نئی زبان سیکھنا۔
31۔ فلاحِ عامہ کے کام کرنا۔
32۔ بنیادی کھیتی باڑی کا کام۔
33۔ گائے بھینس کا دودھ دوہنا۔
34۔ ٹریکٹر چلانا۔
35۔ مسواک خود بنانا، دانتوں کی صفائی، ٹیتھ برش۔
36۔ ناخن تراشنا جسم کے غیر ضروری بال صاف کرنا۔
37۔ صاف ستھرے کپڑے پہننے کا فن، شو پالش کرنا۔
38۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا۔
39۔ مرغیاں، خرگوش، بطخیں، مچھلیاں یا گھریلو جانور پالنا۔
40۔ اپنے بہترین سگنیچر بنانا سیکھنا اور مشق کرنا۔
سوچیں تو اور کئی کام بھی ہو سکتے ہیں۔
12/05/2022
دنیا میں آن لائن بزنس کو امازون اور علی بابا نے نیا موڑ دیا دنیا کو ایک نئی دوڑ اور مقابلے پر لگا دیا۔۔۔
امازون پر ایک کروڑ بیس لاکھ سے زائد پروڈکٹس،تقریبا 30 کروڑ کے لگ بھگ ایکٹیو کسٹمر اور 8 لاکھ سے زائد ملازمین ہیں۔۔۔
علی بابا پر ایک کروڑ کے لگ بھگ بَلک پروڈکٹس، تقریباً 19 کروڑ سے زائدہول سیل ایکٹیو کسٹمرز اور 2 لاکھ سے زائد ملازمین ہیں۔۔۔
اسی طرح بہت ساری دوسری ای کامرس کمپنیاں بھی اسی میتھڈز کے ساتھ زبردست کام کر ہی جیسے امازون/ علی بابا/ علی ایکسپریس/ای بے/وال مارٹ/اٹس اے/ راکوٹین/ میرکاڈو/ ہوم ڈیپوٹ/ٹارگٹ/ بیسٹ بے/ وے فیر/ میکیس/ لویز /الیگرو/ فلپ کارٹ/امریکنس/ مریکری/ وائفار/ میکی ایس/ ڈی ایم ایم/ زوزوٹاؤن/ ارگوس/ اوٹو/ ٹیسکو/ نیگسٹ وغیر وغیرہ جیسی کروڑوں ڈالرز کمانے والی کمپنیاں ہیں۔۔۔ اس کے علاوہ سینکڑوں معروف و غیرمعروف ایک کامرس سٹورز نیشنل اور انٹرنیشنل سطح پر کام کر رہی ہیں۔۔۔
کیا آپ جانتے ہیں ان کمپنیز اور بزنس کی کامیابی کا راز کیا ہے؟۔۔۔
ان کی کامیابی کا راز ٹیم ورک اور باہمی اعتماد و تعلق ہے جتنی بڑی ٹیم ہوگی اتنا زیادہ فائدہ ہوگا، جتنے زیادہ لوگ ہوں گے اتنا بزنس گروتھ کرے گا۔۔۔۔
امازون کے مالک" جیف بیزوز" نے 5 دوستوں کی ٹیم بنا کر کام شروع کیا اور علی بابا کےمالک "جیک ما"نے 17 دوستوں کی ٹیم بنا کر کام کی ابتداء کی۔۔۔
دنیا بھر میں آن لائن جتنی کامیاب کمپنیز ہیں ان سب کی کامیابی کا بڑا سیکریٹ یہ ہے کہ مارکیٹ میں کچھ نیا اور منفردلاؤ اور کسٹمر کو اعتماد دلاؤ کیوں کہ جتنا اعتماد بڑھے گا اتنے کسٹمر بڑھتے جائیں گے ۔۔۔
-----------
کیا آپ جانتے ہیں صرف پاکستان میں ایک محدود اندازے کے مطابق 7 کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور کم سے کم 4 کروڑ لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایکٹیو رہتے ہیں۔ اسی طرح تقریبا5ارب افراد دنیا بھر سے سوشل میڈیا کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔اس سے آپ اندازہ لگائیں کہ آن لائن مارکیٹ کتنی وسیع ہے اور کتنا بڑا کام ہوسکتا ہے۔۔۔
سوشل میڈیا مارکیٹنگ ایک باقاعدہ فیلڈ اور وسیع رینج پلیٹ فارم ہے اور اس پر کام کر کے بہترین بزنس کیا جا سکتا ہے۔۔۔
اس کے لئے سب سے پہلے تو مارکیٹ کا جائزہ لیں کہ کس پروڈکٹ کی مانگ ہے اور کون سی پروڈکٹس میں کمپٹیشن نہیں ہے اگر کمپٹیشن پر کام کرنا ہے تو اپنے کمپٹیٹر کے مقابلے میں کچھ منفرد اور نیا لایاجائے۔۔۔
اپنے بزنس پرموشن اور گروتھنگ کے لئے باقاعدی کیس سٹڈی کریں اور کامیابی ناکامی کی وجوہات ڈھونڈ یں۔۔۔
آپ کے پاس جو پروڈکٹس یا سروس ہے اس کو بھرپور انداز کے ساتھ مارکیٹ میں لائیں اس کے لئےباقاعدہ کمپین چلائیں۔۔۔
سوشل میڈیا آپٹمائزینشSMOاور سوشل میڈیا مارکیٹنگSMM کو سمجھیں سوچیں اور بھرپور انداز سے کام کریں۔۔۔
آپ کے پاس جو پروڈکٹس یا سروس ہےجو بھی کام ہےاس کو برانڈ بنا کر کام کریں۔۔۔
برانڈنگ کے لئے سب سے اہم چیز"ویب سائٹ" جو آپ کے بزنس کی پہچان ہے لازمی بنائیں۔۔۔
آپ اپنے بزنس کو بطور فرد نہیں بلکہ بطور کمپنی کام کریں۔۔۔
ٹیم ورک کو ترجیح دیں اور اپنی ٹیم میں بااعتماد، سنجیدہ اور مخلص دوست شامل کریں۔۔۔
ایفیلیٹ مارکیٹنگ اور بزنس ٹوبزنس اور بزنس ٹو کنزیومر کو ترجیحاً بنیاد پر کریں۔۔۔
کسٹمر چاہے ایک سو روپے کا ہو یا ایک لاکھ کا دونوں کو برابر عزت اور توجہ دیں ۔۔۔
کسٹمر کی شکائت اوراعتراض کو تحمل سے سنیں سمجھیں اور مطمئن کریں۔۔۔
اپنے کسٹمر کا اعتماد اور بھروسہ حاصل کریں۔۔۔
کسٹمر کو پروڈکٹس اور رقم کا اطمینان دلائیں۔۔۔
ریٹ مناسب رکھیں اور معیار کو برقرار رکھیں۔۔۔
مال پسند نہ آنے کی صورت میں رقم واپسی یا مال تبدیلی کا آپشن رکھیں۔۔۔
کسٹمر کو مطمئن کرنے لئے اس کے ہر سوال کا تسلی سے جواب دیں ۔۔۔
اپنے کام کو منفرد اور جاندار بنانے کے لئے اس کے ظاہرکو جتنا خوبصورت بنا سکتے ہیں اس پر توجہ دیں اپنے برانڈ کے لئے بہترین قسم کی گرافکس ڈیزائننگ کریں ۔ لوگو، کلر سکیم، تھیم زبردست کر کے بنائیں۔۔۔
برانڈ بنا کر کام کرنے کے لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی آڈیئنس کو ٹارگٹ کریں جیسے فیس بک، ٹیوٹر، انسٹاگرام، پینٹریسٹ، لینکڈان، یاہو وغیرہ۔۔۔
بزنس بوسٹنگ اور پرموشن کے لئے اسی سے متعلق آڈیئنس سلیکٹ کریں اگر آپ بوسٹنگ کرتے ہیں تو ایریا، آڈیئنس، ایج، اور مارکیٹ کو سامنے رکھ کر کمپین چلائیں۔۔۔
جب آپ آن لائن بزنس میں آ ہی چکے ہیں تو تسلی اور اطمینان رکھیں، صبر و تحمل سے کام لیں، جلد بازی میں کبھی کوئی فیصلہ نہ کریں۔۔۔
-----------
ہمارے بہت سارے دوست احباب اپنی فیس بک آئی ڈی سےمختلف اشیاء بیچ رہے ہیں، اپنی فیس بک آئی ڈی پر پروڈکٹس کی تصویروں تحریروں کے ساتھ تعریف بھری پوسٹیں لگا کرمختصر سی دکانداری کو سوشل میڈیا مارکیٹنگ یا آن لائن بزنس سمجھتے ہیں جب کہ یہ بڑی غلط فہمی اور لاعلمی ہے۔۔۔
مثال کے طور پر ایک بندے کی فیس بک فرینڈ لسٹ میں 5ہزار فرینڈز ہیں اور10ہزار فالور ہیں اور وہ اپنی وال پر اپنی پروڈکٹس بیچنا چاہتا ہے، اس کی مثال ایسے ہے جیسے آپ ٹرین میں سفر کر رہے ہوں راولپنڈی سے کراچی آپ والے ڈبے میں ایک بندہ بار بار آکر اپنی کوئی چیز بیچنے کے لئے آواز لگاتا ہے آپ ایک بار خرید لیں گےیا دو بار وہ بندہ کراچی تک بار بار آپ کے ڈبے میں آکر ایک ہی چیز کی بار بار تعریف کرتا ہے آواز لگاتا ہےتو کتنے نئے خریدار بنیں گے یا اس کا کتنا بزنس پھیلے گا، اس کی حد صرف ٹرین کے گنے چنے مسافر ہیں وہ کب تک انہی کو اشیاء کو بار باربیچے گا اور یہ لوگ کب تک اس کی اشیاء خریدیں گے۔ یہی مثال فیس بک کی ہے کہ اپنے فرینڈ لسٹ میں موجود افراد کو کب تک پروڈکٹس بیچتے رہیں گے۔اس کی حد اور پہنچ صرف اپنی فرینڈ لسٹ کے فالورز اور فرینڈز ہیں جو کہ محدود تعداد میں ہیں۔۔۔
اپنی فیس بک آئی ڈی پرپروڈکٹس بیچنا کوئی بڑی بات نہیں ہے فیس بک آئی ڈی کی مثال ایک قطرے جیسی ہے اور سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی مثال سمندر جیسی۔۔۔
یقین مانیں اس مارکیٹ میں بہت زیادہ سکوپ ہے اور اگر آن لائن بزنس کو سمجھ کر کیا جائے تو بہت زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔۔۔
اس لئے اپنے بزنس کو برانڈ بنا کر محنت کریں اور سوشل میڈیا مارکیٹ کی مانگ کو دیکھ کر پروڈکٹس لانچ کریں۔۔۔
آپ کے پاس جو پروڈکٹس یا سروس ہے اس کو معیاری بنائیں اپنے معیار پر کبھی کمپرومائز نہ کریں۔۔۔
ان تمام ہدایات پر عمل کر کے سوشل میڈیا پر بزنس کریں ان شاء اللہ العزیز ضرور بہ ضرور فائدہ ہوگا۔۔۔
حافظ محمدعادل شاہد