دربار حضرت بابا شاہ منصور ولی چشت نگر ایمن آباد شریف

  • Home
  • Pakistan
  • Eminabad
  • دربار حضرت بابا شاہ منصور ولی چشت نگر ایمن آباد شریف

دربار حضرت بابا شاہ منصور ولی چشت نگر ایمن آباد شریف منبعء سر نبوت ھم ولایت حیدری۔۔۔۔
آفتاب چشتیاں مخدوم صابر کلئیری۔۔۔۔

حق فرید یا صابر

خادم الفقراء
صاحبزادہ سید احمد محمود شاہ چشتی صابری

It is all About Tassawuf (Sufism) and IshQ-e-Haqeeqi.۔Spreading Taaleemaat e Silsila Aaliya Chishtiya Saabriya. Ba Faizaan-e-Nazar Mere DADA G or Peer o Murshid Peer-e-Tareeqat Rehbar-e-Shariyat Khawaja SYED MAHMOOD AHMAD SHAH Gellani Chishti Saabri RehmatuLLAH Alaihy.. Admin Banda-e-Haqeer Faqeer Pur-taqseer Ghulam-e-KHAWAJGAAN, Syed Ahmad Mahmood Shah Gellani Chishti Saabri

https://www.facebook.com/Malang.Shah786

حکایت: خود پسندی میں مبتلا مرید کی اصلاح:ولی کامل، حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کا ایک مرید ہر راتخواب م...
14/09/2026

حکایت: خود پسندی میں مبتلا مرید کی اصلاح:
ولی کامل، حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کا ایک مرید ہر رات
خواب میں دیکھتا کہ فرشتے اسے شاہی سواری پر بٹھا کر جنت کی سیر کرا رہے ہیں اور
طرح طرح کے میوے بھی کھلا رہے ہیں۔ یوں وہ خود پسندی میں مبتلا ہو کر خود کو
باکمال سمجھنے لگا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہونا چھوڑ دیا۔ آپ
رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جب کافی دن اسے مجلس میں غیر حاضر پایا تو سوچ کر کہ ہو سکتا ہے بیمار ہو گیا ہو، اس کی مزاج پرسی کے لیے اس کے پاس تشریف لے گئے۔ جب
آپ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہ تو نہایت ہی شان و شوکت کے ساتھ بیٹھا ہوا ہے۔
آپ نے اُس سے اُس کی کیفیت کے متعلق دریافت فرمایا تو اُس نے بڑے فخر سے اپنے بلند مقام و مرتبہ اور روز ہونے والی جنتی سیر کا ذکر کیا۔ آپ فوراً سمجھ گئے اور اُس سے ارشاد فرمایا: ”آج جب جنت میں جاؤ تو میوے کھانے سے پہلے
لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ پڑھ لینا۔“ اُس نے کہا: ”بہت اچھا۔“
چنانچہ حسب معمول جب وہ جنت میں پہنچا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا فرمان یاد آ گیا
اور جیسے ہی اس نے لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ پڑھا تو عین اسی لمحے ایک زور دار چیخ سنائی دی اور وہ جنت کچرے کے ڈھیر میں بدل گئی جس میں جگہ جگہ انسانی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں۔ یہ دیکھ کر اس مرید کی سمجھ میں آیا کہ وہ شیطان کے جال خود پسندی میں پھنس چکا تھا، اسی وقت روتے ہوئے اپنے پیر و مرشد حضرت
سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کی خدمت میں حاضر ہوا، اپنے رویہ پر نادم
ہوا تو بہ کی اور دوبارہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی تربیت میں رہنے لگا۔

کشف المحجوب از حضور داتا گنج بخش رح ، باب آدابھم فی الصحبۃ ، صفحہ 377

آخرت میں شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی ...
11/09/2026

آخرت میں شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا تو دستی کا حصہ آپ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی کا گوشت بہت پسند تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دانتوں سے کاٹ کاٹ کر تناول فرمانے لگے پھر ارشاد فرمایا : قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا۔ تمہیں معلوم ہے وہ کون سا دن ہوگا؟ اس دن ﷲ تعالیٰ دنیا کی ابتداء سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع فرمائے گا کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی اور سورج بالکل قریب ہو جائے گا۔ پس لوگوں کی پریشانی اور بے قراری اس حد تک پہنچی ہو گی جس کی انہیں نہ طاقت ہو گی اور نہ وہ برداشت کر پائیں گے۔ لوگ کہیں گے : کیا دیکھتے نہیں ہو کہ تمہیں کس طرح کی پریشانی لاحق ہو گئی ہے؟ کیا کوئی ایسا برگزیدہ بندہ نہیں ہے جو اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے؟

’’بعض لوگ بعض سے کہیں گے : تمہیں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلنا چاہیے۔ لہذا سب لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : آپ تمام انسانوں کے جدِ امجد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اپنی طرف سے آپ میں روح پھونکی اور اس نے فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا لہذا آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کر دیجئے۔ آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہم کس حال کو پہنچ چکے ہیں؟ حضرت آدم علیہ السلام کہیں گے : بے شک میرا رب آج انتہائی غضب ناک ہے، اس سے پہلے اتنا غضب ناک وہ کبھی نہ ہوا تھا اور نہ بعد میں کبھی اتنا غضب ناک ہوگا۔ رب العزت نے مجھے درخت سے روکا تھا تو میں نے اس کا حکم نہ مانا، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے نوح! آپ (طوفان کے بعد) سب سے پہلے رسول ہیں جو اہل زمین کی طرف بھیجے گئے تھے اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے شکر گزار بندہ کا خطاب دیا ہے، آپ ہی ہمارے لئے اپنے رب کے حضور شفاعت کر دیجئے۔ کیا آپ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ گئے ہیں؟ حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے : میرا رب آج اتنا غضب ناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک نہیں ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی اتنا غضب ناک ہو گا، مجھے ایک مقبول دعا عطا کی گئی تھی جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ مجھے اپنی فکر ہے، مجھے اپنی فکر ہے، مجھے تو اپنی فکر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔

’’سب لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور روئے زمین میں اﷲ کے خلیل ہیں، آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی کہیں گے : آج میرا رب بہت غضب ناک ہے۔ اتنا غضب ناک وہ نہ پہلے ہوا تھا اور نہ آج کے بعد ہوگا۔ میں نے (بظاہر نظر آنے والے) تین جھوٹ بولے تھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے : اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعہ فضیلت دی۔ آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کریں۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : آج اللہ تعالیٰ بہت غضب ناک ہے، اتنا غضب ناک وہ نہ پہلے کبھی ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی ہو گا، میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا حالانکہ اللہ کی طرف سے مجھے اس کا حکم نہیں ملا تھا، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے مریم کی طرف القاء کیا تھا اور اللہ کی طرف سے روح ہیں، آپ نے بچپن میں گہوارے میں لوگوں سے کلام کیا تھا، (لہذا آپ) ہماری شفاعت کیجئے، کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہماری کیا حالت ہو چکی ہے؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی کہیں گے : میرا رب آج اس درجہ غضب ناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ہو گا اور آپ کسی لغزش کا ذکر نہیں کریں گے (صرف اتنا کہیں گے مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، مجھے اپنی پڑی ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ہاں محمد حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ۔

’’سب لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کریں گے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ اللہ کے رسول اور سب سے آخری پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے اور بعد کے تمام گناہوں سے معصوم رکھا ہے، آپ اپنے رب کے حضور ہماری شفاعت کیجئے۔ کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں؟ (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ) میں آگے بڑھوں گا اور عرش تلے پہنچ کر اپنے رب عزوجل کے حضور سجدہ میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور حسن تعریف کے ایسے دروازے کھولے گا کہ مجھ سے پہلے کسی اور پر اس نے نہیں کھولے تھے۔ پھر کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنا سر اٹھائیے، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا اور شفاعت کیجئے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس میں اپنا سر اٹھا کر عرض کروں گا : میرے رب میری امت! میرے رب میری امت ! میرے رب میری امت ! کہا جائے گا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب و کتاب نہیں ہے جنت کے دائیں دروازے سے داخل کیجئے ویسے انہیں اختیار ہے کہ جس دروازے سے چاہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جنت کے دروازے کے دونوں کناروں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں ہے یا جتنا مکہ اور بصری میں ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے۔

البخاری في الصحيح، کتاب : التفسير، باب : ذرّيّة من حملنا مع نوح إنه کان عبداً شکوراً، 4 / 1745.1747، الرقم : 4435، وأيضاً في کتاب : الأنبياء، باب قول اﷲ : ولقد أرسلنا نوحاً إلی قومه، 3 / 1215 - 1216، الرقم : 3162، وأيضاً في کتاب : الأنبياء، باب قول اﷲ تعالی : واتّخذ اﷲ إبراهيم خليلاً، 3 / 1226، الرقم : 3182، ومسلم في الصحيح، کتاب : الإيمان، باب : أدنی أهل الجنة منزلة فيها، 1 / 184، الرقم : 194، والترمذی في السنن، کتاب : صفة القيامة، باب : ما جاء في الشفاعة، 4 / 622، الرقم : 2434، وقال : هذا حديث حسن صحيح، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 435، الرقم : 9623، إسناده صحيح علی شرط الشيخين.’

شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وس...
26/08/2026

شان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
’’حضرت جابر بن عبد اللہ رضی ﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھے ایسی پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں : ایک ماہ کی مسافت تک رعب سے میری مدد فرمائی گئی، میرے لئے تمام زمین مسجد اور پاک کرنیوالی (جائے تیمم) بنا دی گئی لہذا میری امت میں سے جو شخص جہاں بھی نماز کا وقت پائے وہیں پڑھ لے، میرے لئے اموال غنیمت حلال کر دیئے گئے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت عطا کی گئی، پہلے ہر نبی ایک خاص قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا جبکہ مجھے تمام انسانیت کی طرف مبعوث کیا گیا۔‘‘

اس حدیث کو امام بخاری، مسلم، نسائی، ابن حبان، دارمی، ابن ابی شیبہ اور دیگر بہت سے ائمہ نے روایت کیا ہے۔

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : التيمم، باب قول ﷲ : فلم تجدوا ماءً فتيمّمُوا صعيداً طيباً، 1 / 128، الرقم : 328، وأيضاً في کتاب : الصلاة، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : جُعِلَتْ لِيَ الأرضُ مسجدًا وطهورًا، 1 / 168، الرقم : 427، ومسلم في الصحيح، کتاب : المساجد ومواضع الصلوة، 1 / 370، الرقم : 521، والنسائي في السنن، کتاب : الغسل والتيمم، باب : التيمم بالصعيد، 1 / 210 - 211، الرقم : 432، وابن حبان في الصحيح، 14 / 308، الرقم : 6398، والدارمي في السنن، 1 / 374، الرقم : 1389، وابن أبي شيبة في المصنف، 6 / 303، الرقم : 31642، وأبوعوانة في المسند، 1 / 330، الرقم : 1173، وعبد بن حميد في المسند، 1 / 349، الرقم : 1154، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 329، 6 / 291، وأيضاً في شعب الإيمان، 2 / 177، الرقم : 1479.

20/08/2026
حضور گنج شکر سیدنا بابا فرید الدین رح بیان فرماتے ہیں ۔۔ خواجہ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ العزیز جب مصلی (جائے نماز) پر بی...
20/07/2026

حضور گنج شکر سیدنا بابا فرید الدین رح بیان فرماتے ہیں ۔۔
خواجہ جنید بغدادی قدس اللہ سرہ العزیز جب مصلی (جائے نماز) پر بیٹھ کر یاد حق میں مشغول ہوتے اور کوئی آجاتا تو چھوڑ چھاڑ کر اس سے باتیں کرنے لگتے اور باتوں ہی میں جس حاجت کے لیے آتا پوری کرتے۔ جب وہ واپس چلا جاتا تو آپ تلاوت میں مشغول ہو جاتے۔
بعد ازاں فرمایا کہ صاحب سجادہ بزرگوں پر واجب ہے کہ تلاوت میں مشغول ہوں۔ جب کوئی آئے تو تلاوت چھوڑ کر اس میں مشغول ہو جائیں۔ اس واسطے کہ مذہب سلوک کے بموجب حاجت مندوں کی حاجت روائی ورد و وظائف سے افضل ہے۔ کیونکہ حاجت روائی کا ثواب ایک سال کی عبادت کا سا ہوتا ہے۔

( اسرار الاولیاء ، ملفوظات بابا فرید رح ، صفحہ نمبر 88 )

Address

Eminabad
52460

Telephone

+923054159071

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when دربار حضرت بابا شاہ منصور ولی چشت نگر ایمن آباد شریف posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to دربار حضرت بابا شاہ منصور ولی چشت نگر ایمن آباد شریف:

Shortcuts

Share

Category