DiR Youth OrganizatioN

DiR Youth OrganizatioN

Share

To create peace & to Develop Education

Photos from Haripur Hazara Overseas Community's post 01/07/2019
19/03/2019


" گورنمنٹ ھائی سکول میدان بندئی میں میٹرک کا امتحان"

02/06/2018
22/04/2018

کمبڑ کی مین بازار کی چوک میں ایک ادمی تازہ مچھلی پکڑتے ہوۓ ۔

واہ لوئیر دیر اتنی ترقی پر ماشاءاللہ

Photos 01/04/2018

شہید چوک تیمرگرہ کے لے ایسا پلای اور چاہیے...راے سے متفق ہو تو شیر کرے

20/03/2018

Da zamanga da Lal Qalla Hospital halat di

Photos from DiR Youth OrganizatioN's post 17/02/2018
Photos from DiR Youth OrganizatioN's post 17/02/2018

ظلم ؛ درندگی اور سفاکی کی انتہا !
دو مہینے قبل ضلع دیر لوئر سکنہ کڈ تحصیل بلامبٹ علاقہ میدان سے لاپتہ ہونے والے چار سالہ اس بچے کا نام زید ولد رحیم اللہ ہے ، گاؤں کے قریب ایک باغ میں اسکی سڑی ہوئ مسخ شدہ بوری بند #لاش ملی ہے ۔ بچے کے والدین انتہائی غریب لوگ ہیں۔ بچے کی والدین انصاف کے منتظر اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ضلع دیر لوئر کے لوکل گورنمنٹ اور پختونخوا حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس بچے کے قاتل کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے اور بچے کی والدین کو انصاف دیا جائے۔کیا ہمارے بچے اسی طرح روز اغوا ہوتے رہینگے اور والدین ان کی لاشیں وصول کرتے رہینگے؟
قاتلوں کو فی الفور گرفتار کرکے سرعام پھانسی دی جائے۔


ماں نے دروازے سے سر نکال کر ادھر ادھر زید کو دیکھا۔۔ پھر آواز لگائی
"زیدہ ...اے زیدہ۔۔ راشہ چائے می پوخ کڑے چائے اوسکہ۔"
ماں کا خیال تھا زید یہاں آس پاس ہی ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا ہوگا ابھی آجائیے گا۔۔
سورج پیلا پڑ گیا تو ماں کے وسوسے بھی بڑھنے لگے۔۔۔ اندیشے سے دل میں اتر نے لگے۔۔ پھر سے دروازے میں آئی ۔ گلی میں کھیلتے بچوں سے پوچھا
"یہ وڑو۔۔۔ زید نہ وو۔۔ ۔۔۔۔؟ نہ ترور مونگ نہ دے لیدلے"
ماں کے دل سے آہ نکل گئی۔۔ "خدائے دی میرات نہ کی چرتہ ورک دے دا ر سوھلے ۔۔ چائے تی سوڑ سمخت شو آؤ الک نشتہ"
سورج پہاڑ کے آؤٹ میں چھپنے کے لیے قریب ہوا تو پریشان ماں سے مزید صبر نہ ہو سکا۔۔۔ بڑی سی چادر لے کر محلے کے دور قریب ھر گر کا دروازہ کٹکٹایا ۔۔ اپنے جگر گوشے کا پوچھا۔۔ سب خدشات وسوسے اور شیطانی خیالات کو ذھن سے جھٹکتے ہوئے زید کو ممکنہ حد تک خود ڈھونڈا مگر " خدائے خبر کمبخت چرتہ تلے۔۔"
سورج غروب ہوا۔۔ مغرب کی اذان ہوئی زید گھر نہیں آیا ۔۔ تو محلے کے لڑکوں نے تلاش شروع کردی۔۔ موہوم امید پر ڈھولتی ماں جس کے وسوسے اب اسے سانپوں کی طرح ڈسنے لگے تھے۔۔ اسے یاد آیا کل اس نے اسے مارا تھا۔۔ خالہ کے گھر جانے کی ضد پر۔۔ اچانک اسے ایک خیال سا ایا۔۔
"یہ وڑو۔۔ تاسو ئی ھغہ ترور تہ ٹیلیفون اوکئی چرتہ ھلتہ خو نہ دے تلے۔۔؟؟
فون ملایا گیا۔۔ اور بجتے گنٹھی کے ساتھ اس کے دل کے دھڑکنیں تیز ہوتی گئیں ۔۔
"ھیلو۔۔ ہاں زید دغلتہ دے۔۔ نہ دے درغلے۔۔ آؤ خیر وو۔۔ مازیگر نہ ورک دے۔۔۔۔۔۔۔"
ماں کے آنسو رخسار سے ڈھلک گئے۔۔ اس کا زید نہیں تھا وہاں بھی۔۔۔
ماں نے وہ شام کیسی کاٹی۔۔ نماز پڑھی یا نہیں۔۔ رات گہری ہوتی گئی امیدیں دم توڑتی گئیں۔۔ وہ عشاء کی نماز کے لیے کھڑی ہوئی ۔۔ تو رب العالمین سے سرپا سوال ہوئی۔۔
"زما بچے زما زوے زید دی سہ کو۔۔" لیکن یہ در بھی ہر در کی طرح زید کے لیے خاموش تھا۔۔۔رات آنکھ میں کٹی ۔۔یا پل پل ماں کو امید اور نا امیدی کی آریوں سے کاٹتی رہی ۔۔ابھی صبح نہیں ہوئی لیکن زید کی تلاش شروع ہوئی۔۔
اور یہ دن بھی مایوسی ہی لائی۔۔۔ ماں ہر آنے والے کی آہٹ پر دروازے کو لپکتی اور پھر چارپائی کی پائنتی پر بیٹھ جاتی۔۔کل سے اس کے گلے سے آنکھوں کا نمکین پانی ہی اترا تھا لیکن اسے ہوش کہاں تھ۔۔ جس کا زندہ سلامت زید غائب ہو۔۔ وہ کچھ کھا پینے کا ہوش کہاں سنبھالتی۔۔۔

دو مہینے بعد
"پہ حیا سیرئ کے د مالٹو پہ باغ کے پہ غار کے یو مڑے دے خلق وائ چی زید دے"
"نہ خراب شوے دے۔۔ خو جامی ئی د زید پہ شان دی۔"
"خلق وائ چی سیزلے یئ ھم دے"
یہ خبر سن کر اس ماں پر کیا گزری ہوگی۔۔۔ وہ جو پچھلے دو مہینے سے سولی پر لٹک رہی تھی۔۔۔ امید اور نا امیدی کی چکی میں پس رہی تھی۔۔ وہ اس ایک لمحے میں کتنی بار مری ہوگی۔۔۔
اس کے زید پر کیا گزری ہوگی۔۔ اسے سوچنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔۔۔ اس ننے فرشتے نے جب موت کے فرشتے کو دیکھا ہوگا تو اس کی معصوم آنکھوں نے کتنے سوال کیے ہونگے۔۔۔
اس نے خدا سے سوال نہیں کیا ہوگا کہ آپ کی خدائی میں مجھ پر کیا ظلم تھا جو نہیں ڈھایا گیا۔۔۔ لیکن کیسی آپ کی خدائی ہے دو مہینے سے خاموش کیوں ہے۔۔۔کوئی کچھ بولتا کیوں نہیں۔۔۔۔
خدا کی بے آواز لاٹھی تو تب چلی گی جب ضمیر کی آواز دبائی جائگی۔۔۔
اس ماں کو اس خاندان کو اب صبر اللہ ہی دی سکتا ہے لیکن ہم انہیں فوری انصاف دلا کر اس کے کلیجے کو تھوڑی سی ٹھنڈک ضرور دے سکتے ہیں۔۔۔

کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی آواز اٹھائیں۔۔۔ زید کو انصاف دلائیں۔۔

05/02/2018

Raise ur voice against this corruption..Join us in this movement..!!
|| Tag || Share || Inform ||

Want your school to be the top-listed School/college in Dir?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Dir

Telephone

Website

Address


Dir