Dua online Quran Academy

Dua online Quran Academy خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ‏"‏‏.‏
"Your journey to understanding the Quran starts here.

Online classes, flexible timings, and expert teachers."

21/08/2026

🌸 Assalamu Alaikum!

Welcome to Dua Online Quran Academy 📖

We offer:
✅ Quran Nazra with Tajweed
✅ Quran Translation & Tafseer
✅ Basic Islamic Studies
✅ Namaz, Duas & Kalmas
✅ Classes for Kids, Sisters & Adults

👩‍🏫 Qualified Female Quran Teacher
🎓 Shahadat-ul-Aalamia (M.A. Islamiat & Arabic Equivalent)

📩 Admissions Open Now!
For fee details, class timings, and free trial class, please send a message.

JazakAllah Khair 🌷 🌸 Learn Quran Online from Home 🌸

Nazra, Translation, Tafseer, Kalmas, Duas & Islamic Knowledge for Kids and Sisters.

📩 Message us for a free trial class.

20/08/2026

🌸 Assalamu Alaikum!

Welcome to Dua Online Quran Academy 📖

We offer:
✅ Quran Nazra with Tajweed
✅ Quran Translation & Tafseer
✅ Basic Islamic Studies
✅ Namaz, Duas & Kalmas
✅ Classes for Kids, Sisters & Adults

👩‍🏫 Qualified Female Quran Teacher
🎓 Shahadat-ul-Aalamia (M.A. Islamiat & Arabic Equivalent)

📩 Admissions Open Now!
For fee details, class timings, and free trial class, please send a message.

JazakAllah Khair 🌷 TeachingQuran Alhamdulillah QuranJourney IslamicEducation

20/08/2026

🌸 Assalamu Alaikum!

Welcome to Dua Online Quran Academy 📖

We offer:
✅ Quran Nazra with Tajweed
✅ Quran Translation & Tafseer
✅ Basic Islamic Studies
✅ Namaz, Duas & Kalmas
✅ Classes for Kids, Sisters & Adults

👩‍🏫 Qualified Female Quran Teacher
🎓 Shahadat-ul-Aalamia (M.A. Islamiat & Arabic Equivalent)

📩 Admissions Open Now!
For fee details, class timings, and free trial class, please send a message.

JazakAllah Khair 🌷 Quran, One Verse at a Time. 🤍📖

Start Your Quran Journey Today ✨

Online Quran Classes for All Ages 🌸

Every Letter Brings Reward. 📚🤍

Join Our Quran Academy Today 🌙

ایک تلخ حقیقت، ایک سوالمجھے آج بہت افسوس ہوا… بلکہ دل دکھ گیا۔اپنی آنکھوں کے سامنے گلی میں، مسجد کے عین سامنے سے گزرتے ہ...
14/08/2026

ایک تلخ حقیقت، ایک سوال

مجھے آج بہت افسوس ہوا… بلکہ دل دکھ گیا۔

اپنی آنکھوں کے سامنے گلی میں، مسجد کے عین سامنے سے گزرتے ہوئے بچوں کے ایک گروہ کو باجے بجاتے اور شور کرتے دیکھا تو دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھا:

جس مسجد میں اعلان کرنے تک پر پابندی ہو، اسی مسجد کے سامنے اس قدر شور و ہنگامے پر ہماری کوئی ذمہ داری نہیں؟

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کے سکون کا خیال رکھنے میں بھی کتنے بے حس ہو گئے ہیں۔
دوسرے ممالک میں اگر گھر کے اندر سے آنے والی آواز بھی پڑوسیوں، مریضوں یا آس پاس کے لوگوں کے سکون میں خلل ڈالے تو شکایت پر جرمانے تک ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ آپ کی آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے دوسرے کے سکون کا حق شروع ہوتا ہے۔

اور ہم؟
ہمارے ہاں اگر کسی گھر میں مریض ہو، بزرگ آرام کر رہا ہو یا کوئی بچہ سو رہا ہو، ہمیں اکثر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ہمیں اپنا سکون چاہیے۔ کبھی تو بچوں کے ہاتھ میں باجے اور شور کرنے والی چیزیں پکڑا کر انہیں باہر بھیج دیتے ہیں کہ بچے باہر جا کر شور کریں اور ہمارا گھر پُرسکون رہے۔

مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس سکون کے لیے ہم اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیج رہے ہیں، وہی سکون کسی دوسرے گھر کے مریض، بزرگ یا بچے کو بھی چاہیے ہوگا۔

بات صرف 14 اگست منانے یا بچوں کے خوش ہونے کی نہیں ہے۔
بات اس تربیت اور شعور کی ہے جو ہم اپنی آنے والی نسل کو دے رہے ہیں۔

ہم نے شاید اپنے بچوں کو یہ بتایا ہی نہیں کہ 14 اگست صرف جھنڈیاں، باجے، شور اور چھٹی کا نام نہیں۔
انہیں یہ نہیں بتایا کہ یہ ملک آسانی سے حاصل نہیں ہوا تھا۔
اس آزادی کے پیچھے کتنی ہجرتیں تھیں، کتنے اجڑے ہوئے گھر تھے، کتنے بچھڑے ہوئے رشتے تھے، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، کتنے بچوں نے اپنے والدین سے جدائی دیکھی اور کتنے لوگوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک آزاد وطن کی طرف ہجرت کی۔

شاید آج بھی وہ لوگ جو 80 سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں، اس درد اور اس احساس کو ہم سے کہیں زیادہ سمجھتے ہیں… کیونکہ ان کے دلوں پر وہ تاریخ صرف لکھی ہوئی نہیں، گزری ہوئی ہے۔

ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت کی فکر تو کسی حد تک کرتے ہیں، مگر افسوس کہ بیٹوں کو اکثر ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
پھر وہی بچے بڑے ہو کر معاشرے کا حصہ بنتے ہیں۔

بیٹوں کو بھی سکھانا ہوگا کہ مسجد کی حرمت کیا ہے، شور کہاں کرنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے، آزادی کا مطلب کیا ہے، اور خوشی منانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔

آزادی بے حسی کا نام نہیں۔
جشن بدتمیزی کا نام نہیں۔
اور خوشی دوسروں کے سکون اور عبادت میں خلل ڈالنے کا نام نہیں۔

ایک تلخ حقیقت، ایک سوالمجھے آج بہت افسوس ہوا… بلکہ دل دکھ گیا۔اپنی آنکھوں کے سامنے گلی میں، مسجد کے عین سامنے سے گزرتے ہ...
14/08/2026

ایک تلخ حقیقت، ایک سوال

مجھے آج بہت افسوس ہوا… بلکہ دل دکھ گیا۔

اپنی آنکھوں کے سامنے گلی میں، مسجد کے عین سامنے سے گزرتے ہوئے بچوں کے ایک گروہ کو باجے بجاتے اور شور کرتے دیکھا تو دل میں ایک عجیب سا سوال اٹھا:

جس مسجد میں اعلان کرنے تک پر پابندی ہو، اسی مسجد کے سامنے اس قدر شور و ہنگامے پر ہماری کوئی ذمہ داری نہیں؟

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم دوسروں کے سکون کا خیال رکھنے میں بھی کتنے بے حس ہو گئے ہیں۔
دوسرے ممالک میں اگر گھر کے اندر سے آنے والی آواز بھی پڑوسیوں، مریضوں یا آس پاس کے لوگوں کے سکون میں خلل ڈالے تو شکایت پر جرمانے تک ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ آپ کی آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے دوسرے کے سکون کا حق شروع ہوتا ہے۔

اور ہم؟
ہمارے ہاں اگر کسی گھر میں مریض ہو، بزرگ آرام کر رہا ہو یا کوئی بچہ سو رہا ہو، ہمیں اکثر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بس ہمیں اپنا سکون چاہیے۔ کبھی تو بچوں کے ہاتھ میں باجے اور شور کرنے والی چیزیں پکڑا کر انہیں باہر بھیج دیتے ہیں کہ بچے باہر جا کر شور کریں اور ہمارا گھر پُرسکون رہے۔

مگر ہم یہ نہیں سوچتے کہ جس سکون کے لیے ہم اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیج رہے ہیں، وہی سکون کسی دوسرے گھر کے مریض، بزرگ یا بچے کو بھی چاہیے ہوگا۔

بات صرف 14 اگست منانے یا بچوں کے خوش ہونے کی نہیں ہے۔
بات اس تربیت اور شعور کی ہے جو ہم اپنی آنے والی نسل کو دے رہے ہیں۔

ہم نے شاید اپنے بچوں کو یہ بتایا ہی نہیں کہ 14 اگست صرف جھنڈیاں، باجے، شور اور چھٹی کا نام نہیں۔
انہیں یہ نہیں بتایا کہ یہ ملک آسانی سے حاصل نہیں ہوا تھا۔
اس آزادی کے پیچھے کتنی ہجرتیں تھیں، کتنے اجڑے ہوئے گھر تھے، کتنے بچھڑے ہوئے رشتے تھے، کتنی ماؤں نے اپنے بیٹے کھوئے، کتنے بچوں نے اپنے والدین سے جدائی دیکھی اور کتنے لوگوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ایک آزاد وطن کی طرف ہجرت کی۔

شاید آج بھی وہ لوگ جو 80 سال یا اس سے زائد عمر کے ہیں، اس درد اور اس احساس کو ہم سے کہیں زیادہ سمجھتے ہیں… کیونکہ ان کے دلوں پر وہ تاریخ صرف لکھی ہوئی نہیں، گزری ہوئی ہے۔

ہم اپنی بیٹیوں کی تربیت کی فکر تو کسی حد تک کرتے ہیں، مگر افسوس کہ بیٹوں کو اکثر ان کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔
پھر وہی بچے بڑے ہو کر معاشرے کا حصہ بنتے ہیں۔

بیٹوں کو بھی سکھانا ہوگا کہ مسجد کی حرمت کیا ہے، شور کہاں کرنا ہے اور کہاں خاموش رہنا ہے، آزادی کا مطلب کیا ہے، اور خوشی منانے کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں۔

آزادی بے حسی کا نام نہیں۔
جشن بدتمیزی کا نام نہیں۔
اور خوشی دوسروں کے سکون اور عبادت میں خلل ڈالنے کا نام نہیں۔

آج بچوں کو دیکھ کر غصہ کم اور اپنے بڑوں کی خاموشی پر افسوس زیادہ ہوا۔

کیونکہ بچے تو بچے ہیں…
انہیں جس طرح ہم سکھائیں گے، وہ ویسے ہی سیکھیں گے۔

ہمیں اپنی نسل کو صرف آزاد ملک نہیں دینا،
بلکہ آزادی کی قدر، دین کا ادب، مسجد کی حرمت اور اپنی تاریخ کا شعور بھی دینا ہے۔

ورنہ ڈر ہے کہ کہیں ہم آزادی کی وہ قیمت ہی نہ بھول جائیں،
جس کی وجہ سے یہ وطن ہمیں ملا تھا۔

14 اگست ہمیں صرف جشن نہیں، شکر، ذمہ داری اور اپنی نسل کی تربیت بھی یاد دلائے۔ 🇵🇰
🇵🇰

کبھی کبھی student یا parents کی طرف سے صرف ایک چھوٹا سا message آتا ہے:"آپ کے پڑھانے سے بہت فائدہ ہوا، اب پہلے سے بہتر ق...
12/08/2026

کبھی کبھی student یا parents کی طرف سے صرف ایک چھوٹا سا message آتا ہے:
"آپ کے پڑھانے سے بہت فائدہ ہوا، اب پہلے سے بہتر قرآن پڑھنے لگی ہے۔"
یا:
"ہمیں آپ کا پڑھانے کا انداز بہت پسند ہے، بچہ خوشی سے کلاس لیتا ہے۔"
شاید لکھنے والے کے لیے یہ صرف چند الفاظ ہوں،
لیکن ایک teacher کے لیے یہ الفاظ پورے دن کی تھکن ختم کر دیتے ہیں۔ 🥺🤍
قرآن پڑھانے میں سب سے خوبصورت reward صرف فیس نہیں ہوتی…
کسی کے قرآن میں بہتری دیکھنا، اس کا confidence بڑھتا دیکھنا اور اپنی محنت کا فائدہ محسوس کرنا بھی ایک بہت بڑی خوشی ہے۔
ایسے feedback teacher کو صرف خوش نہیں کرتے،
بلکہ مزید اخلاص اور محبت کے ساتھ پڑھانے کی ہمت دیتے ہیں۔ 🌸📖
اللہ ہر teacher کی محنت قبول فرمائے اور ان کے ذریعے لوگوں کو قرآن سے جوڑ دے۔ آمین۔ 🤲🏻

بچوں کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں 🤍آج کے حالات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم کہاں اور...
12/08/2026

بچوں کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں 🤍

آج کے حالات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم کہاں اور کس ماحول میں دی جا رہی ہے۔

اسکول ہو، مدرسہ ہو، مسجد ہو، وین ہو یا کوئی اور جگہ…
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کے ماحول پر بھی نظر رکھیں۔

اسی لیے Online Education ایک محفوظ اور آسان ذریعہ بھی بن سکتی ہے، جہاں بچہ گھر کے محفوظ ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور والدین بھی اس کی کلاس کے قریب موجود رہ سکتے ہیں۔

خاص طور پر قرآنِ پاک کی تعلیم کے لیے بچوں کو ایک محفوظ، بااعتماد اور بااخلاق ماحول دینا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 🤍

اپنے بچوں کو تعلیم بھی دیں، اعتماد بھی دیں اور اپنی حفاظت کرنا بھی سکھائیں۔

🌸 Stay Safe • Stay Home • Keep Learning 🌸

SafeLearning QuranEducation بچوں_کی_حفاظت

بچوں کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں 🤍آج کے حالات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم کہاں اور...
12/08/2026

بچوں کی حفاظت صرف گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں 🤍

آج کے حالات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم کہاں اور کس ماحول میں دی جا رہی ہے۔

اسکول ہو، مدرسہ ہو، مسجد ہو، وین ہو یا کوئی اور جگہ…
والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم کے ماحول پر بھی نظر رکھیں۔

اسی لیے Online Education ایک محفوظ اور آسان ذریعہ بھی بن سکتی ہے، جہاں بچہ گھر کے محفوظ ماحول میں رہ کر تعلیم حاصل کر سکتا ہے اور والدین بھی اس کی کلاس کے قریب موجود رہ سکتے ہیں۔

خاص طور پر قرآنِ پاک کی تعلیم کے لیے بچوں کو ایک محفوظ، بااعتماد اور بااخلاق ماحول دینا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ 🤍

اپنے بچوں کو تعلیم بھی دیں، اعتماد بھی دیں اور اپنی حفاظت کرنا بھی سکھائیں۔

🌸 Stay Safe • Stay Home • Keep Learning 🌸

12/08/2026

🌸 Learn Quran Online from Home 🌸

Nazra, Translation, Tafseer, Kalmas, Duas & Islamic Knowledge for Kids and Sisters.

📩 Message us for a free trial class.

NazraQuran KidsQuranClass FemaleQuranTeacher DuaOnlineQuranAcademy OnlineIslamicClasses

Address

Dipalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dua online Quran Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Dua online Quran Academy:

Shortcuts

Share

Category