29/10/2024
سنکی
یہ دنیا عجب و غرابت سے بھری ہے۔
میں آپ کو اپنے دیرینہ دوست جمال کا ایک عجیب و غریب قصہ سنانے جا رہا ہوں، قصہ سن کے آپ کو دانتوں تلے پسینہ آ جائے گا۔
یوں ہے کہ آج جمال سے برسوں بعد ملاقات ہوئی۔ جمال انتہاء کا پڑھا لکھا ہے۔
دین ہو کہ دنیا، سماج ہو کہ سیاست، فلسفہ ہو کہ تاریخ، نفسیات ہو کہ سائنس ہر ہر معاملے میں جمال اپنی منطقی رائے رکھتا ہے، لیکن کچھ کچھ سنک کا مارا ہوا بھی ہے۔ ظاہر ہے اتنا لکھ پڑھ کے کچھ نہ کچھ سنک کا پیدا ہونا اک لازمی امر ہے۔
میں جانتا ہوں کہ جمال اپنے والد سے سخت نفرت کرتا ہے، اور اپنی دوستی کے دنوں میں مَیں جمال کے والد کا ذکر ش*ذ ہی کیا کرتا تھا۔
اپنی والدہ کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد جمال باہر چلا گیا۔ اس کا باہر جانا دراصل زندگی کی تلخیوں سے فرار تھا۔
زندگی آگے بڑھ گئی۔
آج برسوں بعد جمال سے ملاقات ہوئی تو ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد میں رسماً لیکن ڈرتے ڈرتے جمال کے والد کی خیر خیریت دریافت کی۔ جمال نے شکوہ کناں آنکھوں سے مجھے دیکھتے ہوئے حسب توقع بڑا روکھا سا جواب دیا۔
جمال کو اپنی والدہ سے والہانہ عشق تھا اور ان کے بارے میں وہ پہروں باتیں کر سکتا تھا۔
اپنے سوال کے نتیجے میں پیدا ہوئی سختی کو کم کرنے کے لئے میں نے ماں جی کا ذکر چھیڑ دیا۔ پرانا دوست ہونے کے سبب میں جانتا تھا کہ جمال کی والدہ نے بہت تلخ زندگی گزاری تھی،۔ جمال کا والد بظاہر ایک پڑھا لکھا شخص تھا اور سرکاری ملازم تھا لیکن اپنی بیوی یعنے جمال کی والدہ پر ظلم کے پہاڑ توڑا کرتا تھا۔ وہ اتنا تشدد کرتا کہ جمال کی والدہ کو لہو لہان کر دیتا تھا۔ اور ایک دفعہ تو اس نے جمال کی والدہ پر اتنا تشدد کیا کہ ان کے ناک کی ہڈی ہی توڑ دی۔ جمال اور اس کے باقی بہن بھائی تب اتنے چھوٹے تھے کہ ماں کو باپ کے ظلم سے نہیں بچا سکتے تھے۔ بس دھو کے چپ کر جاتے تھے، اور والد کے خلاف بددعائیں کر کے سو جاتے تھے۔ بددعا کمزور کا ہتھیار ہے حالانکہ اس سے ہوتا ہواتا کچھ بھی نہیں۔
تو یہ رہا جمال کا پس منظر۔
اس تمہید کے بعد اب آتے ہیں اصل قصے کی طرف۔
جب ہم اکٹھے پڑھتے تھے تو کسی کی بھی ماں یا ماں بحیثیت ایک آفاقی کردار کے کا ذکر چھڑتا تو جمال خاموش ہو جاتا اور خلاؤں میں گھورنے لگتا۔
آج بھی جب ماں جی کا ذکر چھڑا تو جمال سگریٹ سلگا کے گہرے گہرے کش لینے لگا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ چند ثانیے خاموش رہنے اور سگریٹ کے گہرے کش لینے کے بعد وہ کنویں میں سے آتی ہوئی آواز میں بولا:
"یار، میں سوچ رہا ہوں کہ ماں جی کی طرف سے خلع کا مقدمہ دائر کر دوں۔"
"کیا کہا، کونسا کا مقدمہ دائر کر دوں؟" اس کی بات سن کے میں گڑبڑا گیا، مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔
"میں نے کہا ہے کہ اپنی مرحومہ والدہ کی طرف سے اپنے والد پر خلع کا مقدمہ دائر کر دوں" اس نے مجھ پر اپنے دیدے پھیلاتے ہوئے کہا۔ اس کی آنکھوں کی تپش میرے چہرے پر ناقابل برداشت تھی۔
"کیا بکواس کر رہے، یہ کس قسم کی بیہودگی ہے!" میں نے اس سے نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔ اس کی بات سن کے میرا دماغ اک دم ماؤف ہو رہا تھا۔
جمال نے یقیناً میری کیفیت بھانپ لی تھی، لہذا نسبتاً نرم لہجے میں بولا:
"ہاں یار، یہ مجھ پر اپنی ماں کا قرض ہے۔ تب میں کم عمر اور نحیف ہونے کی وجہ سے ماں جی کے لئے کچھ کر نہیں پایا تھا۔ میں بچہ ہی سہی لیکن ہر وقت روتی اپنی ماں کی آنکھیں پڑھ سکتا تھا، وہ اس قہر سے نجات چاہتی تھیں لیکن مائیکے سمیت کہیں سے امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی تھی۔ نتیجے میں ماں جی نے اپنے مائیکے جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ میری ماں مر جانا چاہتی تھی اور پھر چند روزہ بیماری کا بہانہ کر کے چٹکیوں میں اس جہاں سے فرار ہو گئی۔"
"تمھارا بچپن کا دوست ہونے کی وجہ سے میں یہ سب جانتا ہوں۔ لیکن یہ کس قسم کا قرض ہے، ماں جی کو فوت ہوئے عرصہ ہوا اور اب تمھیں بیٹھے بٹھائے یہ بکواس سوجھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ایسے کسی مقدمے کی کوئی نظیر پوری دنیا میں نہیں ہے۔ اک تماشا بن جائے گا۔ ملاں تمھارے پیچھے پڑ جائیں گے۔" میں نے تلملاتے ہوئے کہا۔
"نہ ہو، میرا مقدمہ ہی چلو پہلی نظیر بن جائے گا۔ تمھیں یہ تو معلوم ہی ہو گا کہ بہت سے ملزموں کو پس مرگ جرم ثابت ہونے پر سزا دی جاتی ہے، اسی نوعیت کا ایک مقدمہ یہ بھی سہی۔" جمال بدستور ہموار اور پختہ لہجے میں بولا۔
"یعنے تم اک نیا تماشا کھڑا کرنا چاہتے ہو، اک ایسا تماشا جس کا کوئی سر پیر نہیں ہے!"
"نہیں، میرے لئے یہ بڑا سنجیدہ مسلہ ہے۔ تم یا دنیا والے چاہے اسے تماشا ہی سمجھیں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ میری ماں کو اس سے قبر میں سکون ضرور ملے گا۔ اور میرے باپ کی بگلا بھگتی دنیا کے سامنے عیاں ہو گی۔"
اتنا کہہ کر سلام لئے بغیر وہ ڈرائنگ روم سے اٹھ گیا۔
میں نے دیکھا کہ اسے روکنے کی ہمت مجھ میں نہیں رہی تھی۔
محمد نعیم دیپالپور