17/07/2024
اسلامی تاریخ میں ایک اہم اور مقدس دن ہے
اس دن کی اہمیت اور فضیلت درج ذیل نکات میں واضح کی جا سکتی ہے
1 حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کی نجات**: یوم عاشورہ کے دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ اس واقعے کی یاد میں حضرت محمد ﷺ نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو اس دن کا روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔
2 حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی**: ایک روایت کے مطابق، اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی طوفان کے بعد کوہ جودی پر آ کر ٹھہری تھی۔
3. **حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ**: ایک اور روایت کے مطابق، حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ بھی اسی دن قبول ہوئی تھی۔
1حق و باطل کی جنگ
دس محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی عظیم قربانی پیش کی گئی۔ انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف اور حق و انصاف کے لیے اپنی جانیں نچھاور کر دیں۔
2 عظیم قربانی کی یاد
کربلا کا واقعہ مسلمانوں کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے اور حق کے لیے قربانی دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے مسلمانوں کو عدل و انصاف کے لیے کھڑے ہونے کی ترغیب دی۔
1 سنت نبوی
نبی کریم ﷺ نے یوم عاشورہ کے روزے کی بہت فضیلت بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یوم عاشورہ کا روزہ پچھلے ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے (صحیح مسلم)۔
2 دو دن کا روزہ
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ عاشورہ کا روزہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک دن پہلے یا بعد کا روزہ بھی رکھیں تاکہ یہود کی مخالفت کی جائے (صحیح مسلم)۔
1 اتحاد و یگانگت
یوم عاشورہ مسلمانوں کو ایک مشترکہ تاریخی اور روحانی ورثے کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے اور اتحاد و یگانگت کا پیغام دیتا ہے۔
2 خیرات اور صدقات
بہت سے مسلمان اس دن خیرات دیتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں، جس سے معاشرے کے ضرورت مند افراد کی مدد ہوتی ہے اور ان میں خوشی تقسیم ہوتی ہے۔
1. **ماتم اور مجالس**: شیعہ مسلمان یوم عاشورہ کو غم و اندوہ کے ساتھ مناتے ہیں۔ وہ کربلا کے شہداء کی یاد میں ماتم، نوحے، اور مجالس برپا کرتے ہیں۔
2. **جلوس اور تعزیہ**: شیعہ برادری جلوس نکالتی ہے اور تعزیہ بناتے ہیں، جن میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔
#نتیجہ
دس محرم الحرام کی اہمیت اور فضیلت مسلمانوں کے ایمان، تاریخ، اور عقیدے کا اہم حصہ ہے۔ یہ دن ہمیں اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں، انبیاء کی قربانیوں، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شجاعت و استقامت کی یاد دلاتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس دن کی عبادات، روزے، اور نیک اعمال کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔
پرنسپل: محمد اویس صاحب