08/11/2024
*استاد کیا کرے؟؟؟؟*
تمام ذی وقار تعلیم دانوں سے اساتذہ کرام پنجاب کا ایک سوال ہے کہ اگر کوئی استاد اپنا کام نہیں کرتا تو آپ اس کے خلاف کاروائی کرتے ہیں ، پھر شکایت آ جائے تو سخت سے سخت ایکشن لینے کا کہا جاتا ہے ۔
*لیکن اساتذہ کو بتایا جائے کہ وہ کیا کریں ؟؟ جب*
1) بچے کو ہوم ورک دیا جائے وہ نہ کرے۔
2) بچے کو ٹیسٹ دیا جائے وہ تیار نہ کرے۔
3) بچے کو چھٹی نہ کرنے کا کہا جائے وہ ہر ہفتے چھٹی کرے ۔
*لیکن*
4) اگر بچے کو سزا دے تو استاد قصور وار۔
5) سکول سے نکال دے تو استاد قصور وار۔
6) جرمانہ کرے تو استاد قصور وار ۔
7) والدین کو بچے کے چھٹی کرنے یا کام نہ کرنے پہ کال کرے تو والدین تعاون کی بجائے ناراض۔
8) بچہ کام نہ کرے تو رزلٹ برا آنے پر پھر استاد قصور وار ۔
*کیونکہ بچہ جانتا ہے کہ میرے استاد*
1) مجھے سکول سے نہیں نکال سکتے اگر میں 1 مہینہ بھی نہ آئوں ۔۔۔
2) مجھے مار نہیں سکتے۔۔۔
3) مجھے صرف زبانی کلامی کہہ سکتے ہیں ، تو اس سے مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔
پالیسیاں ترتیب دیتے وقت اس چیز کو ملحوظ خاطر ضرور رکھیں کہ ہمارے معاشرے کے کیا حالات ہیں ۔ گورنمنٹ سکولز میں معاشرے کا سب سے غریب طبقہ زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہا ہے۔ اسلامی معاشرے میں استاد ، روحانی باپ کی حیثیت بھی رکھتا ہے ۔ نئے پاکستان میں استاد سے یہ حق چھینا نہ جائے بلکہ استاد کو اس کے لیے تیار کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو بہتر اور اچھا پاکستانی اور بہتر اور اچھا مسلمان بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ۔
اس قوم کی بہتری کے لیے اساتذہ کرام کا کردار سب سے اہم ہے- اگر انہیں معاشرے کا سب سے گنہگار اور ظالم فرد پیش کیا جانے لگے گا ( جب کہ حقیقت میں ایسا نہ ہے) تو معاشرے میں برائیاں بڑھیں گی اور تربیت کا پہلو متاثر ہوگا۔۔۔۔
یہ کہاں کا انصاف ہے کہ استاد اپنا کام روزانہ کرے اور بچوں سے پوچھ بھی نہ سکے کہ انہوں نے اپنا کام کیا ہے یا نہیں ۔۔۔ ارباب اختیار سے استدعا ہے کہ وہ ہمیں بتا دیں کہ بچے کی رہنمائی اور تربیت کیسے کرنی ہے؟ کہ آپ کی بنائی ہوئی پالیسیوں پر بھی عمل ہو جائے اور بچے بھی ہونہار اور تربیت یافتہ ہو جائیں ، وہ بھی 100 فیصد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*خدارا ! چہرے نہیں نظام کو بدلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
بشکریہ مستعار از Saeed Ahmad Gujjar