23/08/2026
تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا
پھر کبھی تو تجھے ملا ہوتا
کاش میں سنگ در تیرا ہوتا
تیرے قدموں کو چومتا ہوتا
تو چلا کرتا میری پلکوں پر
کاش میں تیرا راستہ ہوتا
ذرہ ہوتا جو تیری راہوں کا
تیرے تلووں کو چھولیا ہوتا
لڑتا پھرتا تیرے عدووں سے
تیری خاطر میں مر گیا ہوتا
تو کبھی تو مجھے بھی تک لیتا
تیرے تکنے پے بک گیا ہوتا
تیرے مسکن کے گرد شام و سحر
بن کے منگتا میں پھر رہا ہوتا
ہوتا طاہر تیرے فقیروں میں
تیری دہلیز پر پڑا ہوتا