ماشاءاللہ بہت ہی اعلیٰ
Gohar Zaman Gandapur
Professor
❝ ہمارا ماحول خراب ہے، تو ہم نیک کیسے بن سکتے ہیں؟ ❞
✦ صرف یہ کہنا کہ "ماحول سازگار نہیں" استقامت چھوڑنے کا کوئی عذر نہیں۔
✦ دنیا کی سب سے بدترین فضا فرعون کا گھر تھا،
مگر اسی گھر سے ایک عظیم عورت (آسیہؓ) نکلی،
✦ اللہ تعالیٰ نے اسی کو ایمان والوں کے لیے مثال بنایا!
━━━━━━━━━━━━━━━━━━━
استقامت ماحول سے زیادہ نیت، ہمت اور ایمان کی محتاج ہے۔
* تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن حق ہیں۔*
*پہلا قانون فطرت:*
اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے....
اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔ یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔
*دوسرا قانون فطرت:*
جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔ ۔ ۔
* خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔
* غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔
* عالم "علم" بانٹتا ہے۔
* دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔
* خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔
*تیسرا قانون فطرت:*
آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لۓ کہ۔ ۔ ۔
* کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔
* مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔
* بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔
* تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔
* مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔
* غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔
* اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" خطرات" میں اضافہ ہوتا ہے۔
*اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں*
خوش رہیں۔۔۔خوشیاں بانٹیں۔۔۔۔
22/04/2025
الحمداللہ
دیارِ غیر کی دوڑ، انا للہ واناالیہ راجعون
نوید مسعود ہاشمی
آج بڑی تیزی سے اہل اسلام یوروپ اورمسیحی ممالک کی طرف ہجرت کر رہے ہیں۔ پہلے بھی کرتے رہے ہیں؛ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ بنیاد مضبوط نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نسلیں ان کے ہاتھوں سے نکل رہی ہیں اور کنبے کا کنبہ مرتد ہوتا چلا جارہا ہے۔ معروف مصری عالم شیخ علی الطنطاوی کی پوتی مومنہ العظام کی اس سلسلے میں ایک چشم کشا، فکر انگیز اور دل و دماغ جھنجھوڑ دینے والی ایک رپورٹ پڑھیے، وہ کہتی ہیں کہ:
میرے داداشیخ طنطاوی نامور عالم و فاضل ہونے کے ساتھ بڑے روشن دماغ اور مستقبل شناس تھے۔ دادا کی عالمی شہرت کی وجہ سے ہمارے پاس یوروپ جانے کے بہت سے مواقع تھے، آسانی سے ویزے مل سکتے تھے؛ لیکن وہ ہمیں ہمیشہ دیارِ غیر میں جانے سے روکتے تھے۔ مجھے بڑا غصہ آتا تھا کہ یہ کیا دقیانوسیت ہے، سارے لوگ ہجرت کررہے ہیں، زندگی کی آسائشوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں؛ مگر ہمارے مذہبی خاندان نے عجیب قسم کی پابندی ہمارے اوپر لگا رکھی ہے۔
لیکن جب میں بڑی ہوئی، یوروپ کے دورے کیے،اور بہت سارے مہاجر خاندانوں سے ملاقات کا اتفاق ہوا تو دادا جان کے لیے دل سے دعائیں نکلیں اور ان کی دور اندیشی کو سلام کرنا پڑا؛ کیوں کہ ان کا خدشہ صد فی صد حقیقت ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ "کفر کی زمینوں پر رہنا، اور کافرانہ ملکوں میں بودوباش اختیار کرنا پیش آمدہ نسلوں کے ایمان وعقیدہ کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ ہوسکتاہے آپ اپنے بچوں کے ایمان کو بچالیں، لیکن ان کے بعد کیا ہوگا، اور پھر ان کے پوتوں کے پوتوں پر کیا بیتے گی اس کی کوئی ضمانت نہیں لے سکتا"!۔
بہت سے مذہبی لوگ یہ دعوے کرتے ہیں کہ الحمدللہ ہمارا گھرانہ بڑا کٹر دینی ہے، کہیں جائے اور کسی زمین پر رہے فرق نہیں پڑتا۔مگر نہیں صاحب ایسا نہیں ہے، وقت گزرنے کے ساتھ فرق پڑتا ہے اور بہت بڑا فرق پڑتا ہے۔
مومنہ العظام کہتی ہیں کہ ایک دہائی قبل مجھے مہاجر خاندانوں خصوصا مشہور بیروتی مذہبی ’’رمضان خاندان‘‘ کی تحقیقات پر مامور کیا گیا۔ جب میں نے ریسرچ شروع کی، ان کے شجرات کھنگالے اور دنیا جہان میں پھیلے اس خاندان کے افراد کا جائزہ لیا تو قریبا پانچ ہزار لوگوں کا سراغ ملا۔ لیکن ان کی نسلوں کی مذہبی تباہی کی داستان بڑی دلخراش اور جگرشگاف تھی۔ پھر انھوں نے یوروپ ہجرت کرجانے والے خاندانوں کا ایک گوشوارہ تیار کرتے ہوئے یہ انکشاف کیا کہ
100سال قبل ہجرت کرجانے والوں کی پشتوں میں قریباً 96% غیرمسلم ہوچکے ہیں۔
80 سال قبل ہجرت کرجانے والوں کی پشتوں میں قریباً 75% مرتد ہوچکے ہیں۔
60 سال قبل ہجرت کرجانے والوں کی پشتوں میں قریباً 40% عیسائی ونصرانی بن چکے ہیں۔
40 سال قبل ہجرت کرجانے والوں کی پشتوں میں قریباً 25% اسلام چھوڑ چکے ہیں۔
قریباً اَسّی سال قبل ایک مشہور شیخ نے جنوب امریکہ کے ایک شہر ’ایکویڈر‘ کی طرف ہجرت کی، اور وہاں سب سے پہلی مسجد کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے گھر کا ماحول مذہبی رکھا اور بچوں کو سختی سے دینی تعلیم بھی دی۔ لیکن آج بدقسمتی سے ان کے پوتوں میں کوئی بھی مسلم نہیں۔ ایسا ہی کچھ معاملہ بیشتر مہاجر خاندانوں کے ساتھ ہے۔
دور کہاں جانا، ہم لوگ قریباً چالیس سال سے امریکہ میں مقیم اور یہاں کے شہری ہیں، اور خود میرے دادا شیخ علی الطنطاوی کے پوتے پوتیوں میں سولہ غیرمسلم ہوچکے ہیں۔
ایکویڈر میں رمضان خاندان کے انٹھانوے لوگ آباد ہیں۔ ان کے آباو اجداد ۱۹۲۳ میں ہجرت کرکے یہاں پہنچے تھے۔ آج وہ سارے کے سارے عیسائی بن چکے ہیں، جن میں سے میں نے جورج، کرسچین، اور امیلیو رمضان سے ملاقات بھی کی۔ان کو میں نے ان کا تابناک خاندانی پس منظر بتایا اور ہر طرح سے مدد کرنے کی کوشش بھی کی کہ کسی طرح گھر واپسی کرلیں، لیکن نعوذ باللہ کوئی رضامند نہ ہوا۔
یہ رپورٹ میں نے کئی سال قبل پڑھی تھی، اور پڑھ کر بڑا دکھ ہواتھا کہ دنیا میں کیسے کیسے حادثا ت وواقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔پھر ذہن سے بات نکل گئی تھی۔ ابھی چند روز قبل قنوج میں منعقد احیاے تصوف کانفرنس کے لیے جانا ہوا تو وہاں ایک شیخ سے ملاقات ہوئی، اور باتوں ہی بات میں انھوں نے حیدر آباد کے ایک معروف عالم -کہ جن کی لکھی کتاب آج بھی درسِ نظامی کی ابتدائی جماعت میں پڑھائی جاتی ہے- کے بچوں کے امریکہ ہجرت کر جانے کا ایک دلخراش واقعہ سنایا تو برسوں قبل پڑھی ہوئی مذکورہ رپورٹ کا نقشہ ذہن میں گھوم گیا۔
شیخ صاحب نے بتایا کہ مولاناکے دو بچے ایک زمانے سے امریکہ میں رہتے تھے، وہیں کے شہری بن گئے، وہیں ان کی اولادیں بھی ہوئیں، گھر سے انھوں نے کوئی تعلق نہیں رکھا۔ مدتوں بعد ابھی حال ہی میں جب انھیں اپنی مٹی کی یاد آئی تو ان میں سے ایک ہندستان گھومنے آیا۔ اس نے جب اپنے امریکی خاندان کی روداد سنائی تو سامعین پر سکتہ طاری ہوگیا کہ اس کے اپنے دو بیٹے دائرۂ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں: ایک عیسائی بن گیا اور دوسرا ایتھیسٹ۔ آج وہ بہت بچتا رہا تھا لیکن "اب بچھتاوے کا ہووت جب چڑیا چگ گئی کھیت"
واقعی اولاد کی تربیت اور ان کے قدموں کو دین پر جمائے رکھنا سب سے مشکل، صبر آزما اور اہم ترین کام ہے۔ مگر کیا کیجیے گا کہ ہمیں جب اپنے دین وایمان کی فکر ہی نہیں تو اپنی اولاد اور اولادوں کی اولاد کے ایمان وعقیدے کی فکر کیا ہوگی!۔ جب کہ اپنی اولادوں کے ایمان وعقیدہ کے بارے میں فکرمند ہونا اور انھیں بہترین دینی واسلامی ماحول فراہم کرکے جانا یہ انبیاے کرام کی سنت ہے۔
اللہ جل مجدہ ہمارے حال زار پر رحم فرمائے اور ایمان وعقیدہ صحیحہ کی روشنی ہماری نسلوں میں باقی رکھے۔ آمین یا رب العالمین۔
کچھ رہے یانہ رہے بس یہ دعا ہے کہ امیر
نزع کے وقت سلامت میرا ایمان رہے۔
افغان باقی،کہسار باقی۔۔۔۔الحکم اللہ،الملک اللہ
From the wall of Qamar Abbas bhai
"شارٹ ویڈیوز اور ذہن کی بربادی"
انسٹا گرام (Instagram)، ٹِک ٹاک (TikTok) سمیت دیگر تمام Apps جو مختصر دورانیہ کی ویڈیوز والے فیچر پر مشتمل ہیں، یہ انسانی ذہن کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔
انسان کے سوچنے کی صلاحیت کا سارا دارومدار اس کے Concentrate اور Focus کرنے کی صلاحیت پر ہوتا ہے جسے ہم Attention Spam بھی کہ سکتے ہیں۔ یہ مختصر ویڈیوز والا فیچر Attention Spam کو تیزی سے تباہ کر رہا ہے۔
ہر 5 سیکنڈ، 10 سیکنڈ یا ایک منٹ کے بعد نئی آنے والی ویڈیو کا Content پچھلی ویڈیو سے یکسر مختلف ہوتا ہے اور ایک گھنٹے تک Short Videos دیکھنے والے انسان کا دماغ کم از کم سو سے زیادہ موضوعات پر Jump کرتا ہے اور اس شدید بھاگ دوڑ والے ایک گھنٹے بعد جب موبائل اسکرین سے نظر ہٹائیں تو دماغ تقریباً سُن ہو چکا ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک دوسرا خطرناک نتیجہ جو ان Apps کے بے دریغ استعمال سے برآمد ہو رہا ہے، وہ انسانی جذبات کا قتلِ عام ہے۔ یعنی دس سیکنڈ کی انتہائی سنجیدہ ویڈیو کے فوری بعد اگلی دس سیکنڈ کی ویڈیو کسی اسٹیج ڈرامے کے Clip پر مبنی ہوتی ہے اور انسان محض دس سیکنڈ کے اندر انتہائی سنجیدہ موڈ سے نکل کر ہنسی مذاق کے موڈ میں داخل ہو جاتا ہے اور یہ عمل ایک نشست میں درجنوں مرتبہ دہرایا جاتا ہے۔ اس سے زیادہ دیر تک ایک ہی احساس کو برقرار رکھنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوتی ہے۔
اس کے براہ راست نتائج جو سامنے آ رہے ہیں وہ یہ ہیں کہ ہم کسی ایک طرح کی Situation میں بہت جلدی Bore ہونے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ انسان ترقی کی جس معراج پر آج موجود ہے، اس مقام تک پہنچنے میں سب سے بڑا کردار انسان کی گھنٹوں ایک ہی موضوع پر مرتکز رہنے کی دماغی صلاحیت کا ہے۔
نہ جانے کتنے فلسفیوں اور سائنسدانوں نے اپنی پوری پوری زندگیاں ایک ایک مسئلے کو سلجھانے میں گزاریں۔ تب جا کر ہم موجودہ مقام پر پہنچ پائے ہیں۔
لیکن اس وقت انسانی دماغ کی ارتکاز کی صلاحیت کے ساتھ جو کھلواڑ مذکورہ Apps کے ذریعے ہو رہا ہے۔
یہ مستقبل میں انسانوں کو Mentally Zombies میں بدل دے گا۔
ایسے Zombies جنہیں اپنے اردگرد موجود مسائل سے نہ تو کوئی سروکار ہو گا اور نہ ہی ان کو حل کرنے کی صلاحیت موجود ہوگی۔ سوچیں اور غور و فکر کریں، آپ خود آدھے ایک گھنٹہ میں تھک جائیں گے اور بوریت محسوس کریں گے اور خود کو تھکا تھکا محسوس کریں گے۔
بہتر ہے ایسی ویڈیو اور شاٹ سے پرہیز کریں ورنہ آگے چل کر آپ کسی بھی طرح کے فیصلہ لینے اور کرنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ مطلب آپ کی Decision-Making Power کمزور ہو جائے گی۔ ہلکے Dose میں یہ بھی کسی دجالی فتنے سے کم نہیں ہے اور اُنکا Plan ہے کہ پہلے انسان کے دماغ سے کھیلا جائے اور اُنکو Freeze کر دیا جائے جو آجکل دیکھنے کو عام ہے کہ ہم ایک ماحول میں آدھے ایک گھنٹہ سے زیادہ رہ نہیں پاتے ہیں جو کہ ہمارے لیے بہت خطرناک ہے اور یہ ہمارے دماغ کو کمزور کردیگا ۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں خوش و خرم سلامت رکھے اور سوچنے سمجھنے کی قوت عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
• انتخاب و ترتیب: محمد زمان (نفسیات دان)
افسوس اے خطیب حرم
خطبہ حج پڑھ کر سنایا گیا۔ بہت سے احباب اس کی تعریف کررہے ہیں۔ حالانکہ اس عالمگیر اجتماع میں حسب سابق نہ مسلمانوں کے اجتماعی سلگتے مسائل کا کوئی ذکر، نہ قبلہ اول کی طرف کوئی اشارہ، نہ غزہ کی لاشوں پہ کوئی جملہ، نہ روہنگیا اور سوڈان پہ کوئی افسوس۔ حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف وکرم کا تو بیان، لیکن دشمن پہ آپ کا رعب و دبدبہ غائب، حجۃ الوداع پہ خوب روشنی، لیکن نبی الملاحم کے ستائیس غزوات پہ پردہ، حکام کی اطاعت پہ تو زور، لیکن دجال سے نمٹنے کی بات معدوم، رحماء بینھم کی تاکید، لیکن اشداء علی الکفار نسیا منسیا، آپس میں اتفاق کی ہدایت، لیکن غیروں سے مقابلہ طاق نسیاں کی زینت۔ امت محمدیہ کے تڑپتے بلکتے بچوں پہ خامشی، آہیں بھرتی ماؤں اور آنسو بہاتی بہنوں سے اغماض، کیا اہل اسلام کے اس سب سے بڑے اجتماع کا وہ مرکزی خطبہ ایسا ہی ہونا چاہئے جسے 20 چینلز پہ براہ راست دکھایا جاتا ہے اور کروڑوں افراد بالواسطہ سنتے ہیں اور لاکھوں بلاواسطہ؟
بشکریہ ضیاء چترالی
The world is a very dangerous place to live in, not because of the abundance of bad people in it, but because of the silence of the last ones about what the bad people do...
مولانا توصیف الحسن کے وال سے۔
ہم پیسے یا وقت بچانے کی خاطر بعض اوقات جسمانی بیماری کو چھوٹا سمجھ کر بروقت علاج نہیں کرتے ، پھر بیماری بڑھ جاتی ہے ۔ پیسے بھی زیادہ لگتے ہیں اور وقت الگ سے ضائع ہوتا ہے ۔
گاڑی یا بائیک کا چھوٹا موٹا کام نہیں کراتے ، نتیجتاً کوئی بڑا کام نکل آتا ہے ۔ اور زیادہ رقم اور زیادہ وقت خرچ ہوتا ہے ۔
اسی طرح ہم اپنی چھوٹی موٹی روحانی بیماریوں کا علاج نہیں کرتے ، ہلکی سی غیبت ، ہلکی سی حق تلفی ، ہلکی سی بدنظری وغیرہ میں مبتلا ہوتے ہیں ۔
یہ بیماری بڑھتے بڑھتے بڑا روگ بن جاتی ہے ۔ پھر اس سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ اس لیے روح کا بروقت اور ساتھ ساتھ علاج بہت ضروری ہے ۔
اصلاح کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ مزاج کی بغاوت ہے ۔ مزاج کو باغی نہ ہونے دیں ۔ طبیعت کو عاجزی و انکساری کی راہ پر گامزن کریں ۔
26/04/2024
Dear friends you are always welcome to share your thoughts and ideas on my page
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Kulachi
Dera Ismail Khan