Suffa science Acedmy kirri shamozai

Suffa science Acedmy  kirri shamozai

Share

Education center

All Previous Results :: BISEP 23/07/2025

😊🌟 ڈیرہ اسماعیل خان بورڈ کا رزلٹ آ گیا ہے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کرو اور اپنا رزلٹ معلوم کریں ۔۔۔۔*خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کے رزلٹ لنکس ایک جگہ!* 🌟
📢 *طلبہ و طالبات، والدین، اساتذہ اور تمام متعلقہ افراد کے لیے آسانی پیدا کرنے کی ایک چھوٹی سی کاوش۔*

📚 *ذیل میں تمام KPK بورڈز کے رزلٹ چیک کرنے کے لنکس دیے جا رہے ہیں:*
8️⃣ *BISE ڈی آئی خان*
🔗 https://www.bisedik.edu.pk/results

1️⃣ *BISE پشاور*
🔗 https://www.bisep.edu.pk/allresults/

2️⃣ *BISE مردان*
🔗 https://web.bisemdn.edu.pk/

3️⃣ *BISE کوہاٹ*
🔗 https://www.bisekt.edu.pk/results

4️⃣ *BISE بنوں*
🔗 https://www.biseb.edu.pk/results.php

5️⃣ *BISE سوات*
🔗 https://bisess.edu.pk/site/home/results-section

6️⃣ *BISE مالاکنڈ*
🔗 https://www.bisemalakand.edu.pk/result

8️⃣ *BISE ڈی آئی خان*
🔗 https://www.bisedik.edu.pk/results

📌 *رزلٹ چیک کرنے کے لیے بس لنک پر کلک کریں اور اپنا رول نمبر درج کریں۔*

📬 *مزید معلومات یا رہنمائی کے لیے میسج کریں۔ دعاؤں میں یاد رکھیں!*

All Previous Results :: BISEP Board of Intermediate & Secondary Education Peshawar is an Education Examination Conducting Body at SSC & HSSC Levels covering Peshawar, Charsadda, Chitral, Khyber and Mohmand districts under its jurisdiction

11/07/2023

Inshallah 🤲🤲

28/05/2023

(سمر کیمپ کا آغاز )جیسا کہ آپ جانتے ہیں خیبر پختونخوا
میں سکولوں کی موسم گرما کی چھٹیوں کا آغاز یکم جون سے ہو رہاہے۔تو اس سلسلے میں صفہ سائنس اکیڈمی کڑی شموزئی صبح کے اوقات کار میں کلاسز کا آغاز کرنے جارہی ہے ۔۔تاکہ گرمیوں کے ان تین ماہ میں طلبا کی نصابی سرگرمیوں کو جاری رکھا جاے اور طلبا کے قیمتی ٹائم کو بچایا جاسکے ۔۔مناسب فیس اور ٹائم کو مدنظر رکھتے ہوے۔
کلاسز ٹائمنگ صبح 7 بجے سے لے کر صبح 10 بجے تک ۔
مین بازار قمر زمان مارکیٹ کڑی شموزئی میں ۔
بہترین اساتذہ کی زیر نگرانی میں
ماسٹر ظہور احمد
ماسٹر محمد آصف شاہ۔
کلاسز 1 ون سے کلاس 10 تک ۔
تمام بنیادی مضامین پڑھائے جائیں گے۔۔
۔صفہ سائنس اکیڈمی دسمبر سے اب تک اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہے ۔۔📚📚🎒🏫🎒🎒

26/04/2023

محترم والدین
(صفہ سائنس اکیڈمی)میں عید کی چھٹیاں گزرنے کے بعد `آج سے کلاسز کا آغاز ہوگا بعد از نماز مغرب ۔شکریہ۔

11/04/2023

Study skill how we can learn fastly .

11/04/2023

پڑھنا زندگی کی کَمیوں کے خلاف احتجاج ہے.

ماریو ورگاس لوسا

09/04/2023

We our Pre 9 Matric students to the beginning of a new academic session and look forward to a great year ahead!

26/03/2023

Copied

رٹّا اسکولنگ سسٹم -

شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ " سپر پاور " امریکا 20ویں نمبر پر ہے۔
2020ء تک فن لینڈ دنیا کا واحد ملک ہوگا جہاں مضمون ( سبجیکٹ ) نام کی کوئی چیز اسکولوں میں نہیں پائی جائے گی۔ فن لینڈ کا کوئی بھی اسکول زیادہ سے زیادہ 195 بچوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ 19 بچوں پر ایک ٹیچر۔ دنیا میں سب سے لمبی بریک بھی فن لینڈ میں ہی ہوتی ہے، بچے اپنے اسکول ٹائم کا 75 منٹ بریک میں گزارتے ہیں، دوسرے نمبر پر 57 منٹ کی بریک نیو یارک کے اسکولوں میں ہوتی ہے جبکہ ہمارے یہاں اگر والدین کو پتہ چل جائے کہ کوئی اسکول بچوں کو " پڑھانے" کے بجائے اتنی لمبی بریک دیتا ہے تو وہ اگلے دن ہی بچے اسکول سے نکلوالیں۔

خیر، آپ دلچسپ بات ملاحظہ کریں کہ پورے ہفتے میں اسکولوں میں محض 20 گھنٹے " پڑھائی " ہوتی ہے۔ جبکہ اساتذہ کے 2 گھنٹے روز اپنی " اسکلز " بڑھانے پر صرف ہوتے ہیں۔ فن لینڈ میں ٹیچر بننا ڈاکٹر اور انجینئیر بننے سے زیادہ مشکل اور اعزاز کی بات ہے۔ پورے ملک کی یونیورسٹیز کے " ٹاپ ٹین " ماسٹرز کیے ہوئے طالبعلموں کو ایک خصوصی امتحان کے بعد اسکولوں میں بطور استاد رکھا جاتا ہے۔ سات سال سے پہلے بچوں کے لیے پورے ملک میں کوئی اسکول نہیں ہے اور پندرہ سال سے پہلے کسی بھی قسم کا کوئی باقاعدہ امتحان بھی نہیں ہے کہ جس میں ماں باپ بچے کی نیندیں حرام کردیں۔ ان کے کھیلنے اور بھاگنے دوڑنے پر پابندی لگ جائے، دروازے کھڑکیاں بند کر کے انہیں گھروں میں " نظر بند " کردیا جائے۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے ملنے تک پر پابندی عائد کردی جائے اور گھر میں مارشل لاء اور کرفیو کا سا سماں بندھ جائے۔ پورے ملک میں تمام طلبہ و طالبات کے لیے ایک ہی امتحان ہوتا ہے۔ ریاضی کے ایک استاد سے پوچھا گیا کہ آپ بچوں کو کیا سکھاتے ہیں تو وہ مسکراتے ہوئے بولے " میں بچوں کو خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا سکھاتا ہوں، کیونکہ اس طرح وہ زندگی کہ ہر سوال کو با آسانی حل کرسکتے ہیں

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے " پبلشرز " بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو " کوڑھ مغز " اور " کند ذہن " کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔س
آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔ ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو " سوشل اسٹڈیز " پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا " سوشل " ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس " رٹتے " گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی " سائنس دان " نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس " سیکھنے " کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی " رٹّا" لگواتے ہیں۔س

آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس " پاسنگ مارکس " 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔س

میرا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو " طوطا " بنانے کے بجائے " قابل " بنانے کے بارے میں سوچیں۔ یہ اکیسویں صدی ہے دنیا چاند پر پہنچ رہی ہے اور ہم ابھی تک " رٹّا سسٹم " کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔

20/03/2023

ماہ رمضان کو مدنظر رکھتے ہوے صفہ سائنس اکیڈمی میں کلاسز کی ٹائمنگ 23مارچ سے 3.15pm سے 5.30pmبجے کی جاتی ہے۔۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Kirri Shamozai
Dera Ismail Khan
429