27/10/2024
Islamic International Public School Daraban Khurd Dera Ismail Khan
Islamic International Public School Provide the following Facilities
1. Free education for Poor and Deserving Stud
27/10/2024
مولانا عمادالدین اکرام مسلم
مسلمانوں کا قدر ہمارے دل میں ہو
فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے دل میں کسی دوسرے کی کمی آگئی تو اللہ کے ہاں مردود ہو گیا
دوسرے کو کم سمجھنا، دوسرے کو گنہگار سمجھنا، دوسرے کے گناہوں اور عیبوں کو دیکھنا، یہ شیطان کا فعل ہے شیطان نے کہا تھا میں آدم علیہ سلام سے اچھا ہو یہ مٹی سے پیدا ہوا ہے اور میں آگ سے پیدا ہوا ہوں میں اچھا ہوں تو اللہ نے فرمایا نکل جا تو مردود ہے
اس لیے ہم کسی کو اپنے سے کمتر نہ سمجھے ورنہ اللہ کے ہاں مردود ہو جائیں گے
قرآن میں لوہے کے متعلق پیشن گوئیاں اور قرآن کا معجزہ
سائنسانوں کا کہنا ہے کہ لوہا اس زمین اور نظام شمسی کا حصہ نہیں ہے۔ کیونکہ لوہے کے پیدا ہونے کے لئے ایک خاص درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمارے نظام شمسی کے اندر بھی موجود نہیں۔ لوہا صرف سوپر نووا supernova کی صورت میں ہی بن سکتا ہے۔ یعنی جب کوئی سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ پھٹ جائے اور اس کے اندر سے پھیلنے والا مادہ جب شہاب ثاقب meteorite کی شکل اختیار کرکے کسی سیارے پر گر جائے جیسا کے ہماری زمین کے ساتھ ہوا۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ ہماری زمین پر بھی لوہا اسی طرح آیا۔ اربوں سالوں پہلے اسی طرح شہاب ثاقب meteorites اس دھرتی پر گرے تھے جن کے اندر لوہا موجود تھا۔اللہ سبحان وتعالی نے یہی بات قرآن میں بیان فرمائی ہے، 1400 سال پہلے اس بات کا وجود تک بھی نہیں تھا کہ لوہا کیسے اور کہاں سے آیا۔
عرب کے صحراؤں میں تو لوہے کا استعمال بھی صرف تلوار اور ڈھال کے لئے ہوتا تھا۔
قرآن کی 57 ویں سورة کا نام الحدید ہے جس کا مطلب لوہا ہے۔ لوہے کے نام پر پوری سورة موجود ہے اور اسی سورة کی آیت میں اللہ فرماتا ہے کہ:
"اور ہم نے لوہے کو اتارا، اس میں سخت قوت اور لوگوں کے لئے فائدے ہیں۔” (سورة الحدید، آیت نمبر 25) سبحان اللہ۔
قرآن میں موجود یہ سائنسی حقائق اس بات کی دلیل ہے کہ یہ رب کا سچا کلام ہے۔ جو اس آخری پیغمبر پر نازل ہوا جو اُمی یعنی پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔
سورہ حدید آیت 4
﴿۴﴾ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ جو چیز زمین میں داخل ہوتی اور جو اس سے نکلتی ہے اور جو آسمان سے اُترتی اور جو اس کی طرف چڑھتی ہے سب اس کو معلوم ہے۔ اور تم جہاں کہیں ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالی اس کو دیکھ رہا ہے
یعنی اللہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتی ہے اور جو اس سے نکلتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ حیران کر دینے والی بات یہ ہے کہ لوہا زمین کے بالکل درمیان میں ہے۔ اور لوہے کی بدولت مقناطیسی لہریں زمین کے گرد پیدا ہوتی ہیں جس سے زمین پر سورج کی الٹرا ریز اثر انداز نہیں ہو سکتی اور یہ وائرلیس کمیونیکیشن میں بھی مدد فراہم کرتی ہے۔
اب حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ قرآن میں 114 سورتیں ہیں اور سورہ الحدید کا نمبر 57 ہے یعنی سورت حدید عین قرآن کے بیچ میں ہے۔ اور لوہا اسی طرح زمین کے درمیان ہے۔ یعنی اللہ نے اس سورہ کی ترتیب بھی اسی حساب سے رکھی جو کہ ایک موجزے سے کم نہیں۔
یہ بات حقیقت ہے کہ لوہے کہ بنا زمین پر زندگی تقریبا نا ممکن تھی۔ لوہا ہیموگلبن کی صورت میں ہمارے خون میں موجود ہے۔ جو کہ خون میں آکسیجن کو پورے جسم پہنچانے کام کرتا ہے۔
عربی زبان کے ٢٨ حروف ہیں اور ہر حرف سے کوئی عدد منسوب ہے.حروف کو مختلف ترتیب سے لکھا جاتا ہے.
سب سے زیادہ عام طریقہ درج ذیل ہے
ا ب ج د ہ و ز ح ط
1 2 3 4 5 6 7 8 9
ی ک ل م ن س ع ف ص
10 20 30 40 50 60 70 80 90
ق ر ش ت ث خ ذ ض ظ
100 200 300 400 500 600 700 800 900
غ
1000
ا کے لئے 1 ب کے لئے 2 کا عدد ہے ج کے لئے 3 اور د کے لئے 4
اسی طرح الحدید میں ا ل ح د ی د الفاظ ہیں۔ اسکے ابجد الفاظ درج زیل ہیں۔
1 + 30 + 8 + 4 + 10 + 4 = 57
الحدید سورت کا نمبر بھی 57 ہے۔
اب آتے ہیں لفظ حدید کی طرف۔ حرف حدید میں چار الفاظ ہیں ح د ی د۔ اسکا ابجد نمبر ہے
8+ 4 + 10 + 4 = 26
اب آپ سوچیں گے کہ اب 26 کیا چیز ہے؟؟؟
جی جناب یہ لوہے کا ایٹومک نمبر ہے۔
Atomic number of iron is 26
سورہ حدید میں رکوع کی تعداد 4 ہے جبکہ آئرن کے آئسوٹوپس کی تعداد بھی 4 ہے
ہماری زمین میں سب سے زیادہ لوہا زمین کی سب سے اندرونی تہہ (inner core) میں پایا جاتا ہے. Inner core 80% لوہے اور 20% نکِل پر مشتمل ہے. زمین کی اس تہہ یعنی inner core کی پیمائش(موٹائی) 2475 کلومیٹر ہے جبکہ سورہ حدید میں حروف کی تعداد بھی 2475 بنتی ہے.
سورہ حدید قران مجید کی 57 ویں سورت ہے جبکہ سائنسدانوں کے مطابق inner core کا درجہ حرارت بھی 5700 کیلون یعنی5427 ڈگری سنٹی گریڈ ہے. جبکہ آئرن کے ایک آئسوٹوپ کا ماس نمبر بھی 57 ہے.
ایک ستارا کا ایندھن ہائیڈروجن گیس ہوتی ھے اور گریوٹی کی وجہ سے ستارا کے رکز میں فیوزن ری ایکشن شروع ہوتا ھے اور ہائیڈروجن ایٹم دوسرے ایٹم سے ملکر ہیلیئم بناتی ھے جب کسی ستارا کہ تمام ہائیڈروجن ختم ہو جاتی ھے تو اس کا ایندھن ہیلیئم ہوتا ھے اور ہیلیئم کے آئیٹم فیوزن ری ایکشن سے نائیٹروجن اور پھر آکسیجن بناتے پھر اور آخر میں لوہا بنتا ھے جب کسی ستارا میں لوہا پیدا ہونا شروع ہو جائے تو وہ ستارا مر جاتا ھے اور بلاسٹ کر کے لوہا کائنات میں چھوڑ دیتا ھے۔
زمین پر موجود لوہا کس مرے ہوئے ستارے سے آیا۔ جس کو قرآن نے 1400 سال سے بھی پہلے بیان کر دیا۔
اسلام اور قرآن کی حقانیت جدید سائنس دن بدن عیاں کر رہی ھے مگر پھر بھی ھم اللہ کو راضی کرنے کے بجائے دنیا کے پیچھے پڑے ہیں
بیشک قرآن حکیم ایک ذندہ و جاوید معجزہ ھے💖
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کےسوا کوئی نہیں جانتا۔اور خشکی اور سمندر میں جوکچھ ہے وہ اس سےواقف ہے۔ کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جس کا اسےعلم نہ ہو،اور زمین کی اندھیریوں میں کوئی دانہ یا کوئی خشک یا تر چیز ایسی نہیں ہےجو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔
﴿الانعام،۵۹﴾
❤️ﺳﻮ ال ﺗﮭﺎ کہ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ کس مذہب کے لوگ داخل کیے جائیں گے ۔ ﯾﮩﻮﺩﯼ ؛ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ یا پھر ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟ اس سوال کے جواب کے لئے تینوں مذاہب کے علماء کو مدعو گیا گیا ۔
مسلمانوں کی طرف سے بڑے عالم امام ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ۔؛
ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ کی طرف سے ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼﺍﻭﺭﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ کی طرف سے ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺭﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺎ گیا :
🌴ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟؟؟🌴
ﯾﮩﻮﺩﯼ، ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ پھر ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟۔
🕌. ⛪ 🏛
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺪﻟﻞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ تمام ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺭﺑﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﯿﮑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ.
ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ، ﺟﺎﻣﻊ، معقولیت سے بھرپور ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ کے ساتھ رواداری ﮐﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﻗﻊ تھا. ان کے جواب نے سارے ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ یہ ﺑﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ.
"ﺁﭖ ﻧﮯ فرمایا:
🔺🔻🔺🔻
ﺍﮔﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ.اور انہیں اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر نبی معبوث کیا ۔
⚖
ﺍﮔﺮ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ بھی ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ. اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی مخلوق کی رہبری اور ہدائیت کے لئے نبی معبوث کیا ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪﷻﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ،
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ اکرم
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ مصطفےٰﺻﻠﯽ اللّٰہﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ نہ ﮨﯽ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ.*
🕌صلی اللٰہ علیہ وآلہ وسلم🕌
انشاءاللہ سوموار سے کلاسوں کا باقاعدہ آغاز ۔
جمعہ - فضائل، مسائل اور احکام
از: مولانا محمد نجیب قاسمی، ریاض
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبّ الْعَالَمِیْن، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِیمِ وَعَلٰی اٰلِہِ وَاَصحَابِہ اَجْمَعِین․
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی․․․․ سات دن بنائے ، اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ جمعہ کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی، ان شاء اللہ۔
سورہٴ جمعہ کا مختصر بیان:
سورہٴ جمعہ مدنی ہے۔ اس سورہ میں ۱۱ آیات اور ۲ رکوع ہیں۔ اس کی ابتدا اللہ جل شانہ کی تسبیح اور تعریف سے کی گئی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی چارصفتیں بیان کی گئی ہیں:
(۱) الملک (بادشاہ) حقیقی ودائمی بادشاہ، جس کی بادشاہت پر کبھی زوال نہیں ہے۔
(۲) القدوس (پاک ذات) جو ہر عیب سے پاک وصاف ہے۔
(۳) العزیز (زبردست) جو چاہتا ہے کرتا ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، ساری کائنات کے بغیر سب کچھ کرنے والا ہے۔
(۴) الحکیم (حکمت والا) اُس کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی رسالت ونبوت کا ذکر کیا گیا ہے کہ ہم نے ناخوانداہ لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا، جو اُنھیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا ہے ، اُن کو پاک کرتا ہے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ پھر یہود ونصاری کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس سورہ کی آخری ۳ آیتوں میں نمازجمعہ کا ذکر ہے:
”اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے پکارا جائے، یعنی نماز کی اذان ہوجائے، تو اللہ کی یاد کے لیے جلدی کرو۔ اور خرید وفروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔ ﴿آیت ۹﴾ اور جب نماز ہوجائے تو زمین میں پھیل جاوٴ اور اللہ کا فضل تلاش کرو یعنی رزق حلال تلاش کرو۔ اور اللہ کو بہت یاد کرو؛ تاکہ تم کامیاب ہوجاوٴ۔ ﴿آیت ۱۰﴾ جب لوگ سودا بکتا دیکھتے ہیں یا تماشہ ہوتا ہوا دیکھتے ہیں، تو اُدھر بھاگ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ تو فرمادیجیے جو اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے، تماشے سے اور سودے سے، اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں“۔ ﴿آیت ۱۱﴾
آخری آیت (نمبر ۱۱) کا شان نزول : ابتداء ِاسلام میں جمعہ کی نماز پہلے اور خطبہ بعد میں ہوتا تھا؛ چنانچہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کی نماز سے فراغت کے بعد خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک وحیہ بن خلیفہ کا قافلہ ملک ِشام سے غلّہ لے کر مدینہ منورہ پہنچا۔ اُس زمانے میں مدینہ منورہ میں غلّہ کی انتہائی کمی تھی۔ صحابہٴ کرام نے سمجھا کہ نمازِ جمعہ سے فراغت ہوگئی ہے اور گھروں میں غلّہ نہیں ہے، کہیں سامان ختم نہ ہوجائے؛ چنانچہ خطبہٴ جمعہ چھوڑکر باہر خرید وفروخت کے لیے چلے گئے، صرف ۱۲ صحابہ مسجد میں رہ گئے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
حضرت عراک بن مالک جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکرلوٹ کر مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہوجاتے اور یہ دعا پڑھتے:
اللّٰہُمَّ اِنّی اَجَبْتُ دَعْوَتَکَ، وَصَلّیْتُ فَرِیْضَتَک، وَانْتَشَرْتُ کَمَا اَمَرْتَنِی فَارْزُقْنِی مِنْ فَضْلِک وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِین۔
اے اللہ! میں نے تیری آواز پر حاضری دی، اور تیری فرض نماز ادا کی، پھر تیرے حکم کے مطابق اس مجمع سے اٹھ آیا، اب تو مجھے اپنا فضل نصیب فرما ، تو سب سے بہتر روزی رساں ہے۔ (ابن ابی حاتم) تفسیر ابن کثیر۔ اس آیت کے پیش نظر بعض سلف صالحین نے فرمایا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن نمازِ جمعہ کے بعد خرید وفروخت کرے، اسے اللہ تعالیٰ ستر حصے زیادہ برکت دے گا۔ (تفسیر ابن کثیر)۔
اذانِ جمعہ:
جس اذان کا اس آیت میں ذکر ہے، اس سے مراد وہ اذان ہے، جو امام کے منبر پر بیٹھ جانے کے بعد ہوتی ہے۔ نبیِ اکرمﷺ کے زمانے میں یہی ایک اذان تھی۔ جب آپ حجرہ سے تشریف لاتے، منبر پر جاتے، تو آپ کے منبر پر بیٹھنے کے بعد آپ ﷺکے سامنے یہ اذان ہوتی تھی۔ اس سے پہلے کی اذان حضور اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے زمانے میں نہیں تھی۔ حضرت عثمان بن عفان کے زمانے میں جب لوگ بہت زیادہ ہوگئے تو آپ نے دوسری اذان ایک الگ مکان (زوراء) پر کہلوائی تاکہ لوگ نماز کی تیاری میں مشغول ہوجائیں۔ زوراء: مسجد کے قریب سب سے بلند مکان تھا۔
ایک اہم نقطہ:
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا: ”جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے“ ”جب نماز سے فارغ ہوجائیں“ یہ اذان کس طرح دیجائے؟ اس کے الفاظ کیاہوں؟ نماز کس طرح ادا کریں؟ یہ قرآن کریم میں کہیں نہیں ہے، البتہ حدیث میں ہے۔ معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کریم سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
جمعہ کا نام جمعہ کیوں رکھا گیا:
اس کے مختلف اسباب ذکر کیے جاتے ہیں:
(۱) جمعہ ”جمع“ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: جمع ہونا؛ کیونکہ مسلمان اِس دن بڑی مساجد میں جمع ہوتے ہیں اور امت ِمسلمہ کے اجتماعات ہوتے ہیں ، اِس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۲) چھ دن میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور تمام مخلوق کو پیدا فرمایا۔ جمعہ کے دن مخلوقات کی تخلیق مکمل ہوئی یعنی ساری مخلوق اس دن جمع ہوگئی؛ اس لیے اِس دن کو جمعہ کہا جاتا ہے۔ (۳) اِس دن یعنی جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے، یعنی اُن کو اِس دن جمع کیا گیا۔
اسلام کا پہلا جمعہ:
یوم الجمعہ کو پہلے ”یوم العروبہ“ کہا جاتا تھا۔ نبیِ اکرم ﷺ کے مدینہ منورہ ہجرت کرنے اور سورہٴ جمعہ کے نزول سے قبل انصار صحابہ نے مدینہ منورہ میں دیکھا کہ یہودی ہفتہ کے دن ، اور نصاریٰ اتوار کے دن جمع ہوکر عبادت کرتے ہیں؛ لہٰذا سب نے طے کیا کہ ہم بھی ایک دن اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہوں؛ چنانچہ حضرت ابو امامہ کے پاس جمعہ کے دن لوگ جمع ہوئے، حضرت اسعد بن زرارة نے دو رکعت نماز پڑھائی۔ لوگوں نے اپنے اِس اجتماع کی بنیاد پر اِس دن کا نام ”یوم الجمعہ“ رکھا ؛ اس طرح سے یہ اسلام کا پہلا جمعہ ہے (تفسیر قرطبی)
نبی اکرم ﷺ کا پہلا جمعہ:
نبی اکرم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت مدینہ منورہ کے قریب بنو عمروبن عوف کی بستی قبا میں چند روز کے لیے قیام فرمایا۔ قُبا سے روانہ ہونے سے ایک روز قبل جمعرات کے دن آپ ﷺ نے مسجد قبا کی بنیاد رکھی۔ یہ اسلام کی پہلی مسجد ہے، جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ جمعہ کے دن صبح کو نبی اکرم ﷺ قُبا سے مدینہ منورہ کے لیے روانہ ہوئے۔ جب بنو سالم بن عوف کی آبادی میں پہونچے تو جمعہ کا وقت ہوگیا، تو آپ ﷺ نے بطنِ وادی میں اُس مقام پر جمعہ پڑھایا جہاں اب مسجد (مسجد جمعہ) بنی ہوئی ہے۔ یہ نبی اکرم ﷺ کا پہلا جمعہ ہے(تفسیر قرطبی)۔
جمعہ کے دن کی اہمیت:
یہودیوں نے ہفتہ کا دن پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہیں ہوئی تھی، نصاری نے اتوار کو اختیار کیا، جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتدا ہوئی تھی۔ اور اِس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب سے پیچھے ہیں؛ لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں ہوگا (ابن کثیر)۔
جمعہ کے دن کی اہمیت کے متعلق چند احادیث:
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں :
(۱) اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔
(۲) اِسی دن اُن کو زمین پر اتارا۔
(۳) اِسی دن اُن کو موت دی۔
(۴) اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں؛ بشرطیکہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔
(۵) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے؛ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی (ابن ماجہ)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے (صحیح ابن حبان)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا : مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو (طبرانی، مجمع الزوائد)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔
$ اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام کی سورہٴ بروج میں﴿وشاھد ومشہود﴾ کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ شاہد سے مراد جمعہ کا دن ہے یعنی اِس دن جس نے جو بھی عمل کیا ہوگا،یہ جمعہ کا دن قیامت کے دن اُس کی گواہی دے گا۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نزدیک سب سے افضل نماز‘ جمعہ کے دن فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا ہے (طبرانی ، بزاز)۔
$ جہنم کی آگ روزانہ دہکائی جاتی ہے؛ مگر جمعہ کے دن اس کی عظمت اور خاص اہمیت وفضیلت کی وجہ سے جہنم کی آگ نہیں دہکائی جاتی ۔ (زاد المعاد ۱ / ۳۸۷)۔
جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کی تعیین :
$ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا : اس میں ایک گھڑی ایسی ہے، جس میں کوئی مسلمان نماز پڑھے، اور اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو عنایت فرمادیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے (بخاری)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ گھڑی خطبہ شروع ہونے سے لے کر نماز کے ختم ہونے تک کا درمیانی وقت ہے (مسلم)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی ہوتی ہے کہ مسلمان بندہ جو مانگتا ہے، اللہ اُس کو ضرور عطا فرمادیتے ہیں۔ اور وہ گھڑی عصر کے بعد ہوتی ہے (مسند احمد)۔ مذکورہ حدیث شریف اوردیگر احادیث کی روشنی میں جمعہ کے دن قبولیت والی گھڑی کے متعلق علماء نے دو وقتوں کی تحدید کی ہے: (۱) دونوں خطبوں کا درمیانی وقت، جب امام منبر پر کچھ لمحات کے لیے بیٹھتا ہے۔ (۲) غروبِ آفتاب سے کچھ وقت قبل۔
نماز ِجمعہ کی فضیلت:
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ کی نماز پچھلے جمعہ تک اور رمضان کے روزے پچھلے رمضان تک درمیانی اوقات کے گناہوں کے لیے کفارہ ہیں؛ جب کہ اِن اعمال کو کرنے والا بڑے گناہوں سے بچے (مسلم)۔ یعنی چھوٹے گناہوں کی معافی ہوجاتی ہے۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر جمعہ کی نماز کے لیے آتا ہے، خوب دھیان سے خطبہ سنتا ہے اور خطبہ کے دوران خاموش رہتا ہے تو اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک ، اور مزید تین دن کے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں (مسلم) ۔
جمعہ کی نماز کے لیے مسجد جلدی پہنچنا :
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن جنابت کے غسل کی طرح (اہتمام کے ساتھ) غسل کرتا ہے پھر پہلی فرصت میں مسجد جاتا ہے تو گویا اس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے اونٹنی قربان کی۔ جو دوسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے گائے قربان کی۔ جو تیسری فرصت میں مسجد جاتا ہے گویا اس نے مینڈھا قربان کیا۔ جو چوتھی فرصت میں جاتا ہے، گویا اس نے مرغی قربان کی۔جو پانچویں فرصت میں جاتا ہے، گویا اس نے انڈے سے خدا کی خوشنودی حاصل کی۔ پھر جب امام خطبہ کے لیے نکل آتا ہے توفرشتے خطبہ میں شریک ہوکر خطبہ سننے لگتے ہیں (بخاری، مسلم)۔ یہ فرصت(گھڑی) کس وقت سے شروع ہوتی ہے، علماء کی چند آراء ہیں؛ مگر خلاصہٴ کلام یہ ہے کہ حتی الامکان مسجد جلدی پہونچیں، اگر زیادہ جلدی نہ جاسکیں تو کم از کم خطبہ شروع ہونے سے کچھ وقت قبل ضرور مسجد پہنچ جائیں۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجد کے ہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں، پہلے آنے والے کا نام پہلے، اس کے بعد آنے والے کا نام اس کے بعد لکھتے ہیں(اسی طرح آنے والوں کے نام ان کے آنے کی ترتیب سے لکھتے رہتے ہیں)۔ جب امام خطبہ دینے کے لیے آتا ہے تو فرشتے اپنے رجسٹر (جن میں آنے والوں کے نام لکھے گئے ہیں) لپیٹ دیتے ہیں اور خطبہ سننے میں مشغول ہوجاتے ہیں (مسلم)۔
خطبہٴ جمعہ شروع ہونے کے بعد مسجد پہونچنے والے حضرات کی نمازِ جمعہ تو ادا ہوجاتی ہے، مگر نمازِ جمعہ کی فضیلت اُن کو حاصل نہیں ہوتی ۔
خطبہٴ جمعہ:
جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ نماز سے قبل دو خطبے دئے جائیں؛ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیشہ جمعہ کے دن دو خطبے دئے (مسلم)۔ دونوں خطبوں کے درمیان خطیب کا بیٹھنا بھی سنت ہے(مسلم)۔ منبرپر کھڑے ہوکر ہاتھ میں عصا لے کر خطبہ دینا سنت ہے۔
دورانِ خطبہ کسی طرح کی بات کرنا؛ حتی کہ نصیحت کرنا بھی منع ہے:
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے روز دورانِ خطبہ اپنے ساتھی سے کہا (خاموش رہو ) اس نے بھی لغو کام کیا(مسلم)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے کنکریوں کو ہاتھ لگایا یعنی دورانِ خطبہ اُن سے کھیلتا رہا (یا ہاتھ ، چٹائی، کپڑے وغیرہ سے کھیلتا رہا) تو اس نے فضول کام کیا (اور اس کی وجہ سے جمعہ کا خاص ثواب ضائع کردیا) (مسلم)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ کے دوران گوٹھ مارکر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے (ترمذی)۔ (آدمی اپنے گھٹنے کھڑے کرکے رانوں کو پیٹ سے لگاکر دونوں ہاتھوں کو باندھ لے تو اسے گوٹھ مارنا کہتے ہیں) ۔
$ حضرت عبد اللہ بن بسر فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا، ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپﷺ نے ارشاد فرمایا: بیٹھ جا، تونے تکلیف دی اور تاخیر کی (صحیح ابن حبان)۔
نوٹ: جب امام خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر آگے جانا منع ہے،پیچھے جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔
جمعہ کی نماز کا حکم: جمعہ کی نماز ہر اُس مسلمان، صحت مند، بالغ ،مردپر فرض ہے جو کسی شہر یا ایسے علاقے میں مقیم ہو جہاں روز مرہ کی ضروریات مہیّا ہوں۔ معلوم ہوا کہ عورتوں، بچوں، مسافر اور مریض پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے؛ البتہ عورتیں، بچے، مسافر اور مریض اگر جمعہ کی نماز میں حاضر ہوجائیں تو نماز ادا ہوجائے گی۔ ورنہ اِن حضرات کو جمعہ کی نماز کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرنی ہوگی۔
اگر آپ صحراء میں ہیں جہاں کوئی نہیں ، یا ہوائی جہاز میں سوار ہیں توآپ ظہر کی نماز ادا فرمالیں۔
نماز ِجمعہ کی دو رکعت فرض ہیں، جس کے لیے جماعت شرط ہے۔ جمعہ کی دونوں رکعت میں جہری قراء ت ضروری ہے۔ نمازِ جمعہ میں سورة الاعلیٰ اور سورہٴ الغاشیہ، یا سورة الجمعہ اور سورة المنافقون کی تلاوت کرنا مسنون ہے۔
جمعہ کے چند سنن وآداب :
جمعہ کے دن غسل کرنا واحب یا سنت ِموٴکدہ ہے،یعنی عذرِ شرعی کے بغیر جمعہ کے دن کے غسل کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ پاکی کا اہتمام کرنا، تیل لگانا ، خوشبواستعمال کرنا، اور حسب ِاستطاعت اچھے کپڑے پہننا سنت ہے۔
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کے دن کا غسل ‘ گناہوں کو بالوں کی جڑوں تک سے نکال دیتا ہے (طبرانی ، مجمع الزوائد)۔ یعنی صغائر گناہ معاف ہوجاتے ہیں، بڑے گناہ بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے؛ اگر صغائر گناہ نہیں ہیں تو نیکیوں میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، جتنا ہوسکے پاکی کا اہتمام کرتا ہے اور تیل لگاتا ہے یا خوشبو استعمال کرتا ہے، پھر مسجد جاتا ہے، مسجد پہنچ کر جو دو آدمی پہلے سے بیٹھے ہوں ان کے درمیان میں نہیں بیٹھتا، اور جتنی توفیق ہو جمعہ سے پہلے نماز پڑھتا ہے، پھر جب امام خطبہ دیتا ہے اس کو توجہ اور خاموشی سے سنتا ہے تو اِس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے گناہ کو معاف ہوجاتے ہیں (بخاری)۔
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، پھر مسجد میں آیا، اور جتنی نماز اس کے مقدر میں تھی ادا کی، پھرخطبہ ہونے تک خاموش رہا اور امام کے ساتھ فرض نماز ادا کی، اس کے جمعہ سے جمعہ تک اور مزید تین دن کے گناہ بخش دئے جاتے ہیں (مسلم)۔
$ نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتا ہے، اگر خوشبو ہو تو اسے بھی استعمال کرتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے، اس کے بعدمسجد جاتا ہے ، پھر مسجد آکر اگر موقع ہو تو نفل نماز پڑھ لیتا ہے اور کسی کو تکلیف نہیں پہونچاتا۔ پھر جب امام خطبہ دینے کے لیے آتا ہے، اس وقت سے نماز ہونے تک خاموش رہتا ہے یعنی کوئی بات چیت نہیں کرتا تو یہ اعمال اس جمعہ سے گزشتہ جمعہ تک کے گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہو جاتے ہیں (مسند احمد)۔
سننِ جمعہ :
مذکورہ بالا احادیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز سے قبل بابرکت گھڑیوں میں جتنی زیادہ سے زیادہ نماز پڑھ سکیں ، پڑھیں۔ کم از کم خطبہ شروع ہونے سے پہلے چار رکعتیں تو پڑھ ہی لیں جیسا کہ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ صفحہ ۱۳۱) میں مذکور ہے: مشہور تابعی حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضراتِ صحابہ کرام نمازِ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے (نماز پیمبر صفحہ ۲۷۹)۔
نمازِ جمعہ کے بعد دو رکعتیں یا چار رکعتیں یا چھ رکعتیں پڑھیں، یہ تینوں عمل نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت ہیں۔ بہتر یہ ہے کے چھ رکعت پڑھ لیں تاکہ تمام احادیث پر عمل ہوجائے اور چھ رکعتوں کا ثواب بھی مل جائے؛ اسی لیے علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہئیں، اور حضراتِ صحابہ کرام سے چھ رکعات بھی منقول ہیں (مختصر فتاوی ابن تیمیہ، صفحہ ۷۹) (نماز پیمبر صفحہ ۲۸۱)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے (مسلم)۔
$ حضرت سالم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے (مسلم)۔
$ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن عبد اللہ کو جمعہ کے بعد نماز پڑھتے دیکھا کہ جس مصلیٰ پر آپ نے جمعہ پڑھا، اس سے تھوڑا سا ہٹ جاتے تھے، پھر دو رکعتیں پڑھتے، پھر چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر کو کتنی مرتبہ ایسا کرتے دیکھا؟ انھوں نے فرمایا کہ بہت مرتبہ۔ (ابو داوٴد)۔
نمازِ جمعہ چھوڑنے پر وعیدیں:
$ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جمعہ نہ پڑھنے والوں کے بارے میں فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ کسی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں پھر جمعہ نہ پڑھنے والوں کو اُن کے گھروں سمیت جلاڈالوں (مسلم)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : خبردار! لوگ جمعہ چھوڑنے سے رک جائیں یا پھر اللہ تعالیٰ اُن کے دلوں پر مہر لگادے گا، پھر یہ لوگ غافلین میں سے ہوجائیں گے (مسلم)۔
$ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے تین جمعہ غفلت کی وجہ سے چھوڑ دئے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا (نسائی، ابن ماجہ، ترمذی، ابوداوٴد)۔
جمعہ کی نماز کے لیے پیدل جانا :
$ حضرت یزید بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے پیدل جارہا تھا کہ حضرت عبایہ بن رافع مجھے مل گئے اور فرمانے لگے تمہیں خوشخبری ہو کہ تمہارے یہ قدم اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہیں۔ میں نے ابو عبس کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس کے قدم اللہ کے راستہ میں غبار آلود ہوئے تو وہ قدم جہنم کی آگ پر حرام ہے (ترمذی)۔ اسی مضمون کی روایت کچھ لفظی اختلاف کے ساتھ صحیح بخاری میں بھی موجود ہے۔
جمعہ کے دن یا رات میں سورہٴ کہف کی تلاوت:
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص سورہٴ کہف کی تلاوت جمعہ کے دن کرے گا، آئندہ جمعہ تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی (نسائی، بیہقی، حاکم)۔
$ سورہٴ کہف کے پڑھنے سے گھر میں سکینت وبرکت نازل ہوتی ہے۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک صحابی نے سورہٴ کہف پڑھی، گھر میں ایک جانور تھا، وہ بدکنا شروع ہوگیا، انہوں نے غور سے دیکھا کہ کیا بات ہے؟ تو انھیں ایک بادل نظر آیا جس نے انھیں ڈھانپ رکھا تھا۔ صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: سورہٴ کہف پڑھا کرو۔ قرآن کریم پڑھتے وقت سکینت نازل ہوتی ہے۔ (صحیح البخاری،فضل سورة الکہف۔ مسلم،کتاب الصلاة)۔
جمعہ کے دن دُرود شریف پڑھنے کی خاص فضیلت:
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اِس دن کثرت سے دُرود پڑھاکرو؛کیونکہ تمہارا دُرود پڑھنا مجھے پہونچایا جاتا ہے (مسند احمد، ابوداوٴد، ابن ماجہ، صحیح ابن حبان )۔
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کثرت سے دُرود پڑھا کرو، جو ایسا کرے گا، میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا (بیہقی)۔
جمعہ کے دن یا رات میں انتقال کرجانے والے کی خاص فضیلت:
$ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں انتقال کرجائے، اللہ تعالیٰ اُس کو قبر کے فتنہ سے محفوظ فرمادیتے ہیں (مسند احمد ، ترمذی)۔
$ $ $
اسکول مندرجہ ذیل سہولیات فراہم کرتا ہے
1. غریب اور مستحق طلبہ کے لیے مفت تعلیم
2. مفت Tution اکیڈمی
3۔ مفت انگریزی گرامر کی کلاسز
4. مفت داخلہ
5. مناسب ماہانہ فیس
صوبائی وزیرتعلیم اکبر ایوب خان نے کہا ہے کہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو ہم محکمہ ایلمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے ساتھ مماثل ڈیپارٹمنٹ کے طور پر چلانا چاہتے ہیں کیونکہ اس میں غریب، نادار اور دوردراز کے علاقوں کے سکولوں سے باہر بچوں کے لئے بہت زیادہ مواقع ہے کہ ہم تعلیم کے زیور سےان کو آراستہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ اب باقاعدہ طور پر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ ہوگی اور جو بھی نمائندہ مسلسل تین اجلاسوں میں غیر حاضر رہےگا تو ان کو بورڈ سے نکال دیا جائے گا۔ اکبر ایوب خان نے کہا کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت تینوں اسکیمیں گرلز کمیونٹی سکولز، اقراء فروغ تعلیم واؤچر اسکیم اور نیو سکول انیشیٹیو کو موجودہ اضلاع کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ اضلاع میں بھی وسعت دی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو سکولوں میں میں داخل کرایا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے بارے میں بریفنگ لیتے ہوئے کی۔ اس موقع پر سیکرٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ندیم اسلم چوہدری، مینیجنگ ڈائریکٹر ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن عرفان اللہ خان اور دیگر حکام موجود تھے۔ اجلاس میں وزیر تعلیم کوایم ڈی عرفان اللہ خان نے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے کام،موجودہ صورتحال اور کارکردگی کے بارے میں مکمل بریفنگ دی۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ ایک انتہائی مفید اور مثبت فاؤنڈیشن ہیں جوکہ فروغ تعلیم کے لیے کام کر رہی ہے اور ہم اس کو اور بھی موثر بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گے۔ اکبر ایوب خان نے ہدایت جاری کی کہ اس فاؤنڈیشن کا سارا ڈیٹا محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی ویب سائیٹ پر آویزاں کیا جائے اور اس کا ایک الگ سے ویب بھی بنایا جائے تاکہ اس پر بھی اس کے معلومات کو مسلسل share کیا جاسکے کے تاکہ عوام کے سامنے اس کے کے مثبت امیج کو لایا جاسکے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے جتنے بھی پرائیویٹ اسکولز کھولے ہیں یا جو بھی نئے اسکول شروع کیے جائیں گے ان کو پرائیویٹ سکولز اتھارٹی کے ساتھ رجسٹر کیا جائے تاکہ ہر ششماہی محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ جیل لیٹریسی پروگرام کو تمام اضلاع کے جیالوں تک توسیع دی جائے اور اس کے طریقہ کار کو آسان اور شفاف بنایا جائے جائے تاکہ مسائل سے بچا جا سکے۔ صوبائی وزیر تعلیم نے مرج ایریا ایجوکیشن فاؤنڈیشن (MaEF) کو بھی ہدایت جاری کی کہ وہ نئے ضم شدہ اضلاع میں تعلیمی اصلاحات لانے کے لئے ہمارا ساتھ دے اور ہر ہفتے ان اضلاع کے تعلیمی امور کو میرے دفتر میں میرے سامنے پیش کیے جائیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Multan Road, Daraban Khurd
Dera Ismail Khan
29001
Opening Hours
| 09:00 - 17:00 |