The City Of Wisdom High School And Academy

The City Of Wisdom High School And Academy

Share

This page is creat for publishing the school

18/04/2026

Correct options for DIK-SSC-X-2026 (A-I) English 10th, Section-A:

*Correct Answers:*
- *i.* Neither of the boys *is* absent today → *C*
_Why_: "Neither" takes a singular verb. The marked "A" (are) is wrong.

- *ii.* The train passed *through* the tunnel → *B* ✓
_Marked correct_

- *iii.* "transgenic" refers to *Genetically modified organisms* → *C* ✓
_Marked correct_

- *iv.* If it rains, we *will* stay at home → *C*
_Why_: First conditional = If + present, will + base verb. The marked "A" (would) is wrong.

- *v.* She said that *she was feeling unwell* → *B* ✓
_Marked correct_

- *vi.* "squander" most nearly means *Waste* → *B*
_Why_: Squander = waste money/time recklessly. The marked "C" (Collect) is wrong.

- *vii.* "Opportunity" highlights *Persistence* → *C* ✓
_Marked correct_

- *viii.* Passive: *The car was repaired by the mechanic* → *B* ✓
_Marked correct_

- *ix.* *Waking* early is a good habit → *C* ✓
_Marked correct - gerund as subject_

- *x.* "Water Scarcity in Pakistan" discusses *Shortage of water* → *C* ✓
_Marked correct_

- *xi.* "In Spite of War" encourages people to *Remain hopeful* → *C* ✓
_Marked correct_

- *xii.* "If you work hard, you will succeed" is *Complex* → *C*
_Why_: One dependent clause "If you work hard" + one independent clause. The marked "B" (Compound) is wrong.

- *xiii.* She *had been waiting* for two hours before help arrived → *C* ✓
_Marked correct - past perfect continuous_

- *xiv.* "The Champions" promotes *Brotherhood and cooperation* → *C* ✓
_Marked correct_

- *xv.* This is the *best* solution to the problem → *B* ✓

17/04/2026

یورپ میں1940ء تک عورتوں کے (Bikini) بکنی پہننے کا کوئی تصور موجود نہیں تھا۔ بکنی عورتوں کے انتہائی مختصر لباس کو کہا جاتا ہے جو یورپ اور امریکہ میں عام ہے۔ جولائی 1946ء میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ ایک ماڈل کو فرانس میں بکنی پہنا کر عوام کے سامنے پیش کیا گیا تو اُس پر عوام کا ردِ عمل شدید ترین تھا، عوام کے ساتھ ساتھ مقامی میڈیا نے بھی اس ڈریس پر بہت تنقید کی اور یوں عوام اور میڈیا نے مل کر بکنی کو مسترد کر دیا۔ بات صرف عوام اور میڈیا تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ چرچ کو بھی اس معاملے میں کودنا پڑا اور پوپ نے بھی اس ڈریس کو بے ہودہ اور شرمناک قرار دے دیا۔

مگر بکنی کو بنانے والے اور اس کو عوام میں مقبول بنانے کیلئے جو قوتیں پیچھے کار فرما تھی وہ باز نہ آئی۔ 1951ء میں پہلی مرتبہ عالمی مقابلہ حسن میں ایک ماڈل نے بکنی کو زیب تن کیا، لیکن عوامی ردِ عمل کی وجہ سے مقابلہ حسن میں بکنی پہنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

پھر 1953ء میں منعقد ہونے والے کینز فلم فیسٹیول میں ایک اداکارہ نے بکنی پہن کر Beach پر فوٹو شوٹ کروایا، اس اداکارہ کو میڈیا میں تو خوب پذیرائی ملی مگر عوام نے ایک بار پھر سے اسے مسترد کر دیا۔ کچھ عرصہ خاموشی کے بعد مردوں کیلئے مخصوص میگزینز میں بکنی پہنے ماڈلز کی تصویریں شائع ہو نا شروع ہو گئی اور اس کے بعد 1962ء میں آنے والی جیمز بانڈ کی ایک فلم میں اداکارہ کو پکنی پہنے سمندر میں سرفنگ (Surfing) کرتا دکھایا گیا، پھر 1966ء میں آنیوالی ایک اور ہالی ووڈ فلم میں بھی ایک اداکارہ کو بکنی پہنے دکھایا گیا۔ 1946 ء سے لیکر 1966 ء تک 20 سالوں میں عوامی ردِ عمل، چرچ اور پوپ کی مخالفت اور میڈیا کی تنقید کے باوجود بھی بکنی کو عوام کے سامنے کسی نہ کسی صورت میں پیش کیا جاتا رہا۔

وقت کے ساتھ ساتھ عوامی ردِ عمل کم ہوتا گیا اور عام ذہن نے اس کو آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیا۔ آج بکنی مغربی دنیا کے کلچر کالازمی حصہ ہے اور عورتوں کے (Beaches)"سمندر کنارے "جانے کیلئے تو بکنی لازم و ملزوم ہیں بلکہ اب تو اگر کسی عورت نے بکنی نا پہنی ہو تو اسے Beach پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

کوئی بھی انسانی ذہن یا معاشرہ بے حیائی اور جنسی نمائش کو آسانی سے قبول نہیں کرتا، وہ شروع میں اس کی مخالفت کرتے ہیں مگر اگر بے حیائی اور جنسی نمائش متواتر منظم طریقے سے اور وقفے وقفے سے جاری رہے تو انسان اور معاشرہ اس کو آہستہ آہستہ قبول کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایساز ہر ہے جسے وقفے وقفے سے اور تھوڑا تھوڑا مگر متواتر معاشرے کی رگوں میں انجیکٹ کیا جاتا ہے، تاکہ معاشرہ اس کا عادی ہو جائے اور اتنا عادی ہو جائے کہ ایک وقت آنے پر معاشرے کو یہ برائی لگنا ہی بند ہو جائے اور جو اس زہر کے خلاف بولے اسے دقیانوس، پرانے خیالات اور ترقی مخالف بول کر چپ کروا دیا جاتا ہے۔

آج کل یہی زہر پاکستانی معاشرے کی رگوں میں بھی انجیکٹ کیا جارہا ہے۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بہتات نے یہاں پہلے ہی TRP کے چکر میں پاکستانی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رکھی ہے۔ Content کے نام پر سالی اور بہنوئی کے درمیان تعلقات، بھا بھی اور دیور کے درمیان تعلقات جیسے غلیظ موضوعات پر ڈرامے بنائے جارہے ہیں۔ شادی شده مرد اور عورتوں کے نامحرم مردوں اور عورتوں کے ساتھ تعلقات دکھائے جارہے ہیں اور طلاقوں کو Glorify کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں طلاقوں کی شرح بڑھ رہی ہے۔ باقی رہی سہی کسر ہمارے ٹی وی شوز کی اینکرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز پوری کر رہے ہیں۔

ہر سال Tik Tok پاکستان میں ایک سالانہ شو کا انعقاد کرتا ہے جس میں نئےابھرتے ہوئے نوجوان انفلوئنسرز کی حوصلہ افزائی کیلئے ایوارڈز دیئے جاتے ہیں۔ اس سال مارچ کے مہینے میں یہ شو منعقد ہوا تھا۔ اس شو میں آپ یقین نہیں کریں گے کہ 14، 15 اور 16 سال کی چھوٹی بچیوں کو ایوارڈز دیئے گئے۔۔ کیوں؟ کیونکہ یہ بچیاں ٹک ٹاک پر Contentبناتی ہے۔ اور Content کیا ہوتا ہے ، انڈین گانوں پر بے ہودہ ڈانس۔ یقین کرے پاکستان میں ایسا Content بنانے پر نوجوان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔

ایسے Content پر لوگوں کے جس طرح کے کمنٹس ہوتے ہیں، لوگ لڑکیوں کے جسم کے مخصوص حصوں کو لیکر جس طرح کی بے ہودہ باتیں کرتے ہیں اگر کوئی غیرت مند انسان پڑھ لے تو شرم سے مر جائے۔ مگر آپ بد قسمتی ملاحظہ کریں کہ انہی بچیوں کے ماں باپ ایوارڈز شو میں موجود تھے۔ وہ بھی یقیناً یہ سب کمنٹس پڑھتے ہونگے مگر بے حسی کا لیول چیک کریں کہ اب انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایسے Content کو آج کل کیریئر کا نام دیا جاتا ہے اور ماں باپ اپنے بچوں کو اس میں مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔

آپ آج سے صرف 15 سال پہلے والے پاکستان میں واپس چلے جائیں ، جن باتوں کو آج کل نارمل سمجھا جا رہا ہے، انہی باتوں پر 15 سال پہلے قتل ہو جایا کرتے تھے۔ آج آپ دیکھ لیں کہ صرف 15سالوں میں ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔
یہی حال ہمارے ٹی وی شوز کا ہے۔ یہاں بھی TRP کے چکر میں اخلاق سے گِری ہوئی حرکتیں کی جا رہی ہے۔ فضا علی کی یہ تیسری شادی ہے ۔ پہلی دو کیوں ناکام ہوئی ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ شو میں فضا کی بیٹی صوفے پر براجمان ہے۔ فضا کا شوہر لائیو ٹی وی پر بیٹی کے سامنے فضا کو کندھوں پر اٹھا لیتا ہے اور کیمرے کے سامنے انتہائی بے ہودہ پوز کرتا ہے جبکہ فضا کی بیٹی خوشی سے I Love It چلا رہی ہوتی ہے۔ عام پاکستانی گھر میں ایسا تصور تک نہیں کیا جاسکتا جو ٹی وی پر عام دکھایا جا رہا ہے۔

کوئی اپنے گھر میں جو چاہے مرضی کرتا رہے لیکن ساری دنیا کے سامنے ایسی حرکتوں کو کسی بھی طور پرJustify نہیں کیا جا سکتا۔ ہم کبھی بھی یہ سب ڈسکس نا کرتے اگر یہ لوگ آج کل کی نوجوان نسل کے رول ماڈل نا ہوتے۔ لوگوں کی بڑی تعداد خاص کر نوجوان نسل ان کو بہت فالو کرتی ہے اور یہی ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے۔

ہم نے بحیثیت مجموعی قوم کبھی اپنے ہیروز کی قدر نہیں کی۔ کبھی کسی کرکٹر ، سائنسدان اور ڈاکٹر کو وہ عزت نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے اسلیے آج ہمارے بچے سائنس، میڈیکل یا مصنوؑعی ذہانت میں اپنا نام نہیں بنانا چاہتے بلکہ وہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ریلز بنا کر دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں۔

دکھ کی بات تو یہ کہ یہ سب یہاں رکنے والا نہیں ذرا اس آنے والی نئی نسل کے بارے میں سوچئے کہ جن کہ بزرگ ہمارے آج کے جین زی ہونگے۔

تحریر: محمد سعید ارشد

17/04/2026
15/04/2026
15/04/2026

God help those who Help themselves.
😎

14/04/2026

Admission open

14/04/2026

The Knowledge is power.

13/04/2026



Contact
03449025871
03429631459
Main Street Dinpur Dera
Ismail Khan.

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ismail Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Dinpur
Dera Ismail Khan