شہنشاہ نقشبند حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی حبیبی سعیدی غفاری

  • Home
  • Pakistan
  • Dera Ghazi Khan
  • شہنشاہ نقشبند حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی حبیبی سعیدی غفاری

شہنشاہ نقشبند حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی حبیبی سعیدی غفاری اللہ اللہ کئیے جانے سے اللہ نہ ملے
اللہ والے ہیں جو اللہ سے ملا دیتے ہیں

20/09/2026

پیرِ کامل کامل و اکمل خواجہ خواجگان حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم صاحب نقشبندی مجددی حبیبی سعیدی غفاری زیدہ مجدہ المعروف پیر مِٹھا سائیں شادن لُنڈ شریف ضلع ڈیرہ غازی خان

16/09/2026

سبحان الله
جس پیر کے مرید کو حضور خاتم النبیین ﷺ لو سلام اور پیغام بھیجیں اس پیر کا کیا مقام ہوگا
یہ واقعہ ہے پیر طریقت رہبرِ شریعت فخر نقشبند شہنشاہ نقشبند خواجہِ خواجگان حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم صاحب نقشبندی مجددی حبیبی سعیدی مدظلہ العالی کے ایک خلیفہ کا جو مقبوضہ کشمیر میں اپنے مرشد کے فیض کو پھیلا رہے ہیں۔ الله تعالیٰ تا قیامت ہمارے مرشد کریم کے فیض کو جاری و ساری رکھے آمین ثم آمین
یہ واقعہ خود حضرت صاحب قبلہ عالم کی زبانی سنیں ان شاء الله ایمان تازہ ہوگا

انشاء اللّٰهَ
05/09/2026

انشاء اللّٰهَ

28/08/2026

12 ربیع الاول 1448ھ
شیخِ طریقت ، ریحانِ ملت ، پروانہ شمعِ رسالت ، پیکر رشد و ہدایت ، فخرِ اہلسنت ، واقفِ اسرارِ حقیقت ، مخزنِ علم و حکمت ، عارفِ شریعت و طریقت ، غوثِ زماں حضور شہنشاہِ نقشبند خواجہ خواجگاں الشیخ حضور خواجہ صوفی محمد اسلم صاحب نقشبندی مجددی حبیبی سعیدی غفاری دامت برکاتہم العالیہ گی زہر صدارت و زیر قیادت جشن عید میلاد النبی ﷺ کے سلسلے میں خانپور شریف مونج والہ ضلع جام پور میں عظیم الشان ریلی نکالی گئی جس میں ملک بھر سے عاشقان رسول ﷺ نےشرکت فرمائی سبحان اللہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ھم اور ھمارے علاقے کا ھر فرد میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر تشریف لانے...
20/08/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ھم اور ھمارے علاقے کا ھر فرد میلادالنبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت پر تشریف لانے والے معزز مہمانوں کی خدمت کے لیے تیار ہیں
آپ تشریف لاکر ھمیں خدمت کا اعزاز بخشیں
جزاکم اللہ خیر

ان شاء اللہ
18/08/2026

ان شاء اللہ

زندگی کی رفتار جتنی بھی تیز ہو جائے، اپنے شیخ سے تعلق کی ڈور کبھی کمزور نہ ہونے دیں۔ دنیا کی مصروفیات کبھی ختم نہیں ہوتی...
24/07/2026

زندگی کی رفتار جتنی بھی تیز ہو جائے، اپنے شیخ سے تعلق کی ڈور کبھی کمزور نہ ہونے دیں۔ دنیا کی مصروفیات کبھی ختم نہیں ہوتیں، مگر دل کا سکون، روح کی تازگی اور راہِ حق پر استقامت مرشد کی نسبت ہی سے نصیب ہوتی ہے۔

اگر کبھی غفلت یا دنیا کی مشغولیات اس تعلق میں فاصلے پیدا کر دیں، تو بلا جھجک اپنے مرشد کے آستانے کی طرف پلٹ آئیے۔ یہ وہ در ہے جہاں ملامت سے بڑھ کر محبت، ناراضی سے بڑھ کر خیرخواہی، اور فاصلے سے بڑھ کر دعا و اصلاح نصیب ہوتی ہے۔

اپنی کوتاہیوں کو واپسی کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ مرشدِ کامل کی نگاہ اپنے مرید کے لیے امید، شفقت اور تربیت کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ اخلاص کے ساتھ اٹھنے والا ایک قدم، بسا اوقات برسوں کی دوری کو بھی لمحوں میں سمیٹ دیتا ہے۔

یاد رکھیے! شیطان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ انسان سے لغزش ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسے اپنے مرشد کے در پر لوٹنے سے بھی ہچکچانے لگے۔

اپنے شیخ سے وابستگی کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ بنائے رکھیے، کیونکہ یہی نسبت دلوں کو زندہ، قدموں کو ثابت اور روح کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے شیخِ کریم کی سچی محبت و وابستگی نصیب فرمائے آمین

حضرت خواجہ محمد سراج الدین نقشبندی رحمۃ الله  عليه (1879-1915)حضرت خواجہ محمد سراج الدین نقشبندی رحمۃ الله عليه ساوتھ ای...
23/07/2026

حضرت خواجہ محمد سراج الدین نقشبندی رحمۃ الله عليه
(1879-1915)

حضرت خواجہ محمد سراج الدین نقشبندی رحمۃ الله عليه ساوتھ ایشیا کے ایک نامور مذہبی سکالر اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے عظیم روحانی پیشوا اور صوفی بزرگ تھے آپ رحمۃ الله تعالیٰ علیہ موسیٰ زیئ شریف ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہوئے آپ کا فیضان اور آپ کی تعلیمات آپ کے پیروکاروں اور خلفاء کے ذریعے پوری دنیا میں پھیلے ہوے ہیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے خلیفہ خاص مشہور صوفی بزرگ غریب نواز حضرت خواجہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ ہیں

آبروئے نقشبند، شمعِ وادیِ ہدایتخواجۂ خواجگان، شیخ المشائخ، محبوبِ الٰہی حضرت پیر محمد فضل علی قریشی نقشبندی مجددی قدس س...
21/07/2026

آبروئے نقشبند، شمعِ وادیِ ہدایت

خواجۂ خواجگان، شیخ المشائخ، محبوبِ الٰہی
حضرت پیر محمد فضل علی قریشی نقشبندی مجددی قدس سرہ العزیز

سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ کے تابناک آفتاب، وادیِ سلوک کے مرشدِ کامل اور لاکھوں دلوں کی دھڑکن کے روحانی رہنما کا اسمِ گرامی حضرت پیر محمد فضل علی شاہ قریشی قدس سرہ العزیز ہے۔ آپ دنیا بھر میں "حضرت پیر فضل علی قریشی" کے مقدس نام سے معروف ہوئے۔
حق تعالیٰ نے آپ کو علومِ ظاہر و باطن، بحرِ تقویٰ، اخلاصِ بے مثال، سچی عشقِ مصطفوی ﷺ اور ذکرِ الٰہی کا وہ نور عطا فرمایا تھا جس نے ایک عالم کو منور کر دیا۔ آپ اپنے عہد کے مجدد، بے بدل مربی اور وقت کے عظیم الشان روحانی پیشوا تھے۔

آپ کا نسبِ پاک قریش کے نہایت معزز و مکرم خاندان سے جا ملتا ہے۔ آپ کے آباؤ اجداد نے دیارِ عرب سے ہجرت فرما کر پہلے سندھ کی بابرکت زمین اور بعد ازاں داؤد خیل (ضلع میانوالی) کو اپنا مسکن بنایا۔ اسی مقدس نسبتِ سیادت و شرافت کی بنا پر آپ کا خاندان "قریشی" کے نام سے ممتاز ہوا۔

آسمانِ ولایت کا یہ چمکتا ہوا ستارہ *1270 ہجری (بمطابق 1853ء/1854ء)* میں داؤد خیل، ضلع میانوالی (پنجاب، پاکستان) کی سرزمین پر طلوع ہوا۔
آپ کے والدِ گرامی حضرت مراد علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے نہایت پارسا، متقی اور خدا رسیدہ انسان تھے۔ انہی کی آغوشِ تربیت میں اس عظیم گوہر نے پرورش پائی، جس نے آگے چل کر گمراہ دلوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ بننا تھا۔
ابتدائی تعلیم و تحصیلِ علم
بچپن ہی سے آپ کی جبیںِ ہمت پر سعادت مندی اور بندگی کا نور چمکتا تھا۔ ابتدائی تعلیم کے بعد آپ علمی تشنہ لبوں کی سیرابی کے لیے کالاباغ تشریف لے گئے۔ وہاں عربی، فارسی اور علومِ اسلامیہ کی عمیق تحصیل کی۔ مولانا قمر الدین صاحب سے ابتدائی علوم و فنون سیکھے، جبکہ وقت کے نامور عالم مولانا احمد علی صاحب سے دورۂ حدیث مکمل کر کے درسِ نظامی کی سندِ فراغت حاصل کی۔
تحصیلِ علمِ ظاہر کے بعد آپ کے قلبِ مطہر میں معرفتِ الٰہی اور تصفیۂ باطن کی تڑپ نے بے چین کر دیا۔ روایت ہے کہ ایک دن آپ نے شوق میں طوطا پالنے اور اسے بولنا سکھانے کا ارادہ فرمایا، مگر اسی لمحے غیب سے ایک تنبیہِ ربانی دل پر وارد ہوئی:
> *"فضل علی! پنجرے کے طوطے کو سکھانے کے بجائے اپنے دل کے طوطے کو ذکرِ خدا سے آباد کرو!"*
>
اس ایک غیبی جلوے نے آپ کی دنیا بدل دی۔ آپ مسندِ دنیا کو خیرباد کہہ کر مرشدِ کامل اور باطنی طبیب کی تلاش میں نکل پڑے۔

آپ سب سے پہلے عظیم نقشبندی شیخ حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، مگر ان کی شدید علالت کے باعث بیعت کا سلسلہ بند تھا۔ حضرت دامانی نے آپ کو اپنے خلیفۂ ارشد *حضرت سید لعل شاہ ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ* کے سپرد فرما دیا۔
آپ نے حضرت سید لعل شاہ ہمدانی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور ان کی نظرِ کیمیا اثر سے منازلِ سلوک طے کر کے خرقتِ خلافت سے سرفراز ہوئے۔
1313ھ میں اپنے مرشدِ اول کے وصال کے بعد، آپ نے باطنی فیوض کے لیے *حضرت خواجہ سراج الدین قندھاری رحمۃ اللہ علیہ* کے دستِ مبارک پر بیعتِ ثانی فرمائی۔ حضرت خواجہ سراج الدین نے آپ کو "دائرۂ لا تعین" تک کا عظیم سلوک طے کرایا، خلافتِ مطلقہ عطا فرمائی اور خلقِ خدا کی ہدایت کے لیے مسندِ ارشاد پر جلوہ افروز فرمایا۔

تقریباً 1892ء میں آپ نے ضلع مظفرگڑھ کی دھرتی پر "فقیر پور شریف" کے نام سے ایک عظیم الشان روحانی مرکز کی بنیاد رکھی۔ یہ آستانہ ذکرِ خدا، زہد و تقویٰ اور نفوس کی پاکیزگی کا وہ مرکز بنا جہاں سے حکمت و معرفت کے چشمے پھوٹنے لگے۔

بعد ازاں، مخلوقِ خدا کی سہولت اور احکامِ الٰہی کے تحت آپ نے شہرِ سلطان کے قریب ایک اور دلکش خانقاہ قائم کی، جسے "مسکین پور شریف" کا نام دیا گیا۔ یہی بقعۂ نور بعد میں آپ کا مرکزی آستانہ، اشاعتِ اسلام کا محور اور آپ کی آخری آرام گاہ قرار پایا۔

آپ کی پوری زندگی اتباعِ سنت اور اشاعتِ دینِ مصطفوی ﷺ کے لیے وقف تھی۔ آپ نے پنجاب، سندھ اور برصغیر ہند کے گلی کوچوں میں حق کا پیغام پہنچایا۔ سوانح نگار رقم طراز ہیں کہ آپ نے اپنی حیاتِ مبارکہ کے ایام خانقاہ کی مسند پر کم اور تبلیغی سفر کے کٹھن راستوں میں زیادہ بسر فرمائے۔

آپ کا اندازِ تربیت محض الفاظ کا مرہونِ منت نہ تھا بلکہ آپ عمل کے مجسمہ تھے۔ ذکرِ الٰہی، اتباعِ سنت، اخلاص، اور خدمتِ خلق آپ کے ہر عمل سے ظاہر تھی۔ آپ مریدین کے ساتھ خود کھیتوں میں ہل چلاتے، خانقاہ کی تعمیر میں اینٹیں اٹھاتے اور لنگر خانے میں کام کرتے، تاکہ سالکین میں عجز، انکساری اور محنت کی روح بیدار ہو۔

آپ کی نظرِ فیض میں وہ تاثیر تھی کہ پتھر دل موم بن جاتے تھے۔ علماء، مشائخ اور عام و خاص آپ کی محفل میں بیٹھ کر بادۂ عرفان سے سیراب ہوتے۔ آپ کے باطنی رعب اور علمی و روحانی جلال کی وجہ سے آپ کو "شیخ العرب والعجم" اور "مولویوں کا پیر" کے عظیم القاب سے یاد کیا جاتا تھا۔

آپ کے چند مبارک مریدین نے ایک مرتبہ ایک ایسا ایمان افروز واقعہ روایت فرمایا جو خانقاہی تربیت کی روح کو واضح کرتا ہے:
> "ایک مرتبہ ہم خانقاہِ مسکین پور شریف میں، قطبُ الاقطاب، خواجہ پیر فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمتِ اقدس میں حاضر تھے۔ حضرت مرشدِ پاک نے اپنے دستِ مبارک سے ہمارے سامنے کھانا پیش فرمایا اور کمالِ شفقت سے ارشاد فرمایا:
> 'فقیرو! یہ روٹی زمین میں دانہ ڈالنے سے لے کر اب تک وضو کے ساتھ تمھارے سامنے آئی ہے۔'**
> یعنی جب زمین میں ہل چلایا گیا تو وضو کے ساتھ،
> پانی دیا گیا تو وضو کے ساتھ،
> بیج بویا گیا تو وضو کے ساتھ،
> فصل کٹی تو وضو کے ساتھ،
> گندم پیسی گئی تو وضو کے ساتھ،
> آٹا گوندھا گیا تو وضو کے ساتھ،
> روٹی پکائی گئی تو وضو کے ساتھ،
> اور جب یہ دسترخوان پر تمہارے سامنے لائی گئی، تب بھی وضو کے ساتھ!
> سبحان اللہ!
> پھر کمالِ نصیحت سے فرمایا: 'اب آگے تمہاری مرضی، تم اس طاہر نعمت کا حق ادا کرو یا نہ کرو!'
>
سبحان اللہ! یہی وہ راز تھا کہ جب رزق کی پرورش نورِ طہارت اور تقویٰ کی فضاؤں میں ہوتی ہے، تو وہ خانقاہیں صرف اینٹ گارے کی عمارتیں نہیں رہتیں، بلکہ "ولایت کا مرکز" اور "غوث و قطب ڈھالنے کی یونیورسٹیاں بن جاتی ہیں۔
آپ نے بے شمار نفوسِ قدسیہ کو خلافت و اجازت سے نوازا، جنہوں نے آگے چل کر برصغیر میں ہدایت کا پرچم بلند کیا۔ آپ کے معروف ترین خلفاء درج ذیل ہیں:
غوثِ اعظم حضرت خواجہ محمد عبد الغفار نقشبندی مجددی المعروف "پیر مٹھا سائیں" (رحمت پور شریف، لاڑکانہ، سندھ) — جو اپنے وقت کے بے مثل روحانی رہنما اور سندھ و پنجاب کے عظیم الشان مرشد بنے۔
حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب (مسکین پور شریف)
حضرت خواجہ حافظ کریم بخش صاحب (بہاولپور)
حضرت مولانا عبدالجبار صاحب (ملتان)

آپ کا سلسلۂ فیض حضرت پیر مٹھا سائیں کی بدولت سندھ اور پنجاب میں بپھرے ہوئے سمندر کی طرح پھیلا۔ پیر مٹھا سائیں نے ہزاروں نفوس کو ولایت کے درجے پر پہنچایا، جن میں حضرت خواجہ حبیب الرحمن نقشبندی مجددی (سنانواں شریف) اور آپ کے اپنے داماد و بھتیجے قیومِ زماں حضرت خواجہ صوفی محمد سعید احمد نقشبندی مجددی شامل ہیں، جنہیں ملتان شہر ہجرت کا حکم ملا۔
بعد ازاں، شہنشاہِ نقشبند خواجہ خواجگان الشیخ حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی مجددی حبیبی سعیدی غفاری— جو پہلے خواجہ حبیب الرحمن صاحب کے مرید تھے اور ان کے وصال کے بعد خواجہ سعید احمد صاحب کے دستِ مبارک پر بیعت ہوئے آپ کو خلافت سے سرفراز کیا گیا، جنہوں نے اس فیضِ قریشی کو ملک کے گوشے گوشے میں عام فرمایا اور مزید فرما رہے ہیں

پیر فضل علی قریشی کو 84 برس کی مبارک عمر میں، ایک تبلیغی سفر کے دوران فالج کا حملہ ہوا۔ اسی عالمِ بیماری میں آپ کو مسکین پور شریف لایا گیا۔
بالآخر بدھ، 1 رمضان المبارک 1354 ہجری (بمطابق 28 نومبر 1935ء) کو آپ کا روحِ مبارک اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

درگاہِ عالیہ مسکین پور شریف، ضلع مظفرگڑھ (پنجاب، پاکستان) میں مرجعِ خلائق ہے۔ جہاں روزانہ اور ہر سال سالانہ عرسِ مبارک پر ہزاروں عقیدت مند حاضری دے کر اپنے قلوب کو انوار و برکات سے معطر کرتے ہیں۔

حضرت خواجہ پیر فضل علی قریشی قدس سرہ العزیز کی حیاتِ مبارکہ عشقِ الٰہی، محبتِ رسول ﷺ اور خدمتِ خلق کا ایک سنہرا باب ہے۔ آپ کی خانقاہ سے نکلنے والے فیض کے دریا نے برصغیر کی روحانی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا۔ آپ کا اسمِ گرامی رہتی دنیا تک تقویٰ، اخلاص اور باطنی پاکیزگی کے استعارے کے طور پر زندہ رہے گا۔
copy paste

Address

Dera Ghazi Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when شہنشاہ نقشبند حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی حبیبی سعیدی غفاری posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to شہنشاہ نقشبند حضرت خواجہ صوفی محمد اسلم نقشبندی حبیبی سعیدی غفاری:

Shortcuts

Share

Category