24/12/2022
مذاق دید سے نا آشنا نظر ہے مری
تری نگاہ ہے فطرت کی راز داں، پھر کیا
رہین شکوہ ایام ہے زبان مری
تیری مراد پہ ہے دور آسماں، پھر کیا
رکھا مجھے چمن آوارہ مثل موج نسیم
عطا فلک نے کیا تجھ کو آشیاں، پھر کیا
فزوں ہے سود سے سرمایہ حیات ترا
مرے نصیب میں ہے کاوش زیاں، پھر کیا
ہوا میں تیرے پھرتے ہیں تیرے طیارے
مرا جہاز ہے محروم بادباں، پھر کیا