مذاق دید سے نا آشنا نظر ہے مری
تری نگاہ ہے فطرت کی راز داں، پھر کیا
رہین شکوہ ایام ہے زبان مری
تیری مراد پہ ہے دور آسماں، پھر کیا
رکھا مجھے چمن آوارہ مثل موج نسیم
عطا فلک نے کیا تجھ کو آشیاں، پھر کیا
فزوں ہے سود سے سرمایہ حیات ترا
مرے نصیب میں ہے کاوش زیاں، پھر کیا
ہوا میں تیرے پھرتے ہیں تیرے طیارے
مرا جہاز ہے محروم بادباں، پھر کیا
Ajji Baloch
بندہ ناچیز
خاموشیوں کا اختتام مظالم کا خاتمہ ہے۔
اور تمہیں صبح کو جگاتا کوئی نہیں، اور کوئی تمہارا رات کو انتظار نہیں کرتا، تُم جو چاہو کرسکتے ہو، اور تم اِسے کیا کہتے ہو؟ آزادی یا تنہائی؟
اپنا وطن سنبھلتا نہیں اور انہیں کشمیر کو آزاد کرانا ہے۔
ہم ہمیشہ سے یہی غلطی کرتے آرہے ہیں، حق انسانوں کے بھی کھاتے ہیں لیکن معافی صرف خدا سے مانگتے ہیں۔
علم سے لاعلمی تو ختم کی جا سکتی ہے مگر منافقت نہیں۔
میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے خدا کو پہچانا ہے۔
انسان سویا ہوا ہے۔ مرتے ہی جاگ اٹھے گا۔
سیاست کے چکر میں ہماری عورتیں اپنی حیا اور ہمارے مرد اپنا وقار بھول ہیں۔
ریاست مدینہ میں نام تبدیل کرنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا۔
اپنا مال بچانے کا بہترین طریقہ: اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔
جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کا مولا ہے۔
ہمارے شیعہ بھائی غدیر خم کی اس حدیث کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیاء کے سردار ہیں تو مولا علی علیہ السلام بھی انبیاء علیہ السلام کے سردار ہیں اور اس سے یہ بھی کہتے ہیں کہ مولا علی علیہ السلام تمام انبیاء سے بھی افضل ہیں۔ تو دیکھیں دین میں اس امت کو جو کچھ بھی سکھایا اور بتایا گیا وہ صرف اسی امت کیلئے ہے نہ کہ پچھلی تمام امتوں کیلئے۔ پچھلی امتوں کی تعلیمات، عبادات اور سب ہم سے مختلف تھا۔
غدیر خم کے موقع پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث بیان کرنے سے پہلے سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 6 بیان فرمائی:
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیادہ حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں اور رشتہ دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیادہ حقدار ہیں ( ہاں ) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو یہ حکم کتاب ( الٰہی ) میں لکھا ہوا ہے ۔ (الاحزاب 6)
اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس طرح اس امت پر میں (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں، علی علیہ السلام بھی اسی طرح ان کی جانوں سے بھی زیادہ ان پر حق رکھتے ہیں، اس حدیث میں پچھلی امتوں اور پچھلے انبیاء کا کوئی تعلق نہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Dera Ghazi Khan