Govt. M.C City High School DGKhan

Govt. M.C City High School DGKhan

Share

Enter to Learn, Leave to Serve

03/09/2020
20/04/2020

*" استاد نے کلاس کے سب بچوں کو ایک خوب صورت ٹافی دی اور پھر ایک عجیب بات کہی۔*
*’’سنو بچو! آپ سب نے دس منٹ تک اپنی ٹافی نہیں کھانی۔‘‘*
*یہ کہہ کہ وہ کلاس روم سے نکل گئے ۔*
*چند لمحوں کے لیے کلا س میں خاموشی چھاگئی ،ہر بچہ اپنے سامنے پڑی ٹافی کو بے تابی سے دیکھ رہا تھااور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے لیے خود کو روکنا مشکل ہورہا تھا۔ دس منٹ پورے ہوئے اور استاد نے آ کر کلاس روم کا جائزہ لیا۔پوری کلاس میں سات بچے ایسے تھے، جن کی ٹافیاں جوں کی توں تھیں، جب کہ باقی تمام بچے ٹافی کھا کر اس کے رنگ اور ذائقے پر تبصرہ کر رہے تھے۔استاد نے چپکے سے ان سات بچوں کے نام اپنی ڈائری میں نوٹ کیے اور پڑھانا شروع کردیا۔*

*اس استاد کا نام پروفیسر والٹر مشال تھا.*
*کچھ سالوں بعد استاد نے اپنی وہی ڈائری کھولی اور ان سات بچوں کے نام نکال کر ان کے بارے میں تحقیق شروع کی ۔ کافی جدوجہد کے بعد ان کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اپنی زندگی میں کامیابی کے کئی زینے طے کر چکے ہیں اور ان کا شمار کامیاب افراد میں ہوتا ہے۔پروفیسر والٹر نے اپنی کلاس کے باقی طلبہ کا بھی جائزہ لیا،معلوم ہوا کہ ان میں اکثریت ایک عام سی زندگی گزار رہی تھی، جب کہ کچھ افراد ایسے بھی تھے، جنھیں سخت معاشی اور معاشرتی حالات کا سامنا تھا۔*

*اس تمام تر کاوش اور تحقیق کا نتیجہ پروفیسر والٹر نے ایک جملے میں نکالا اور وہ یہ تھا.*
*’’جو انسان دس منٹ تک صبر نہیں کرسکتا، وہ زندگی میں ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘*

*اس تحقیق کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی اور اس کا نام ’’مارش میلو تھیوری‘‘ پڑ گیا، کیوں کہ پروفیسر والٹر نے بچوں کو جو ٹافی دی تھی، اس کا نام ’’مارش میلو‘‘تھا. یہ فوم کی طرح نرم تھی ۔*
*اس تھیور ی کے مطابق دنیا کے کامیاب ترین افراد میں اور بہت ساری خوبیوں کے ایک ساتھ ایک خوبی ’’صبر‘‘ کی بھی پائی جاتی ہے، کیوں کہ یہ خوبی انسان کی قوتِ برداشت کو بڑھاتی ہے، جس کی بدولت انسان سخت حالات میں بھی مایوس نہیں ہوتا اور یوں وہ ایک غیر معمولی شخصیت بن جاتا ہے۔"*
Copied

31/03/2020
16/09/2019

ہمارے محلے میں ابو سلمان نامی ایک بزرگ فوت ہوگئے، عمر رسیدہ تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔
خیر ساتھ والی مسجد میں ان کی نماز جنازہ اور پھر تدفین کے بعد تابوت واپس لایا گیا۔

رات کا وقت تھا مسجد بند ہونے کے باعث تابوت کو مسجد کے دروازے کے سامنے رکھا گیا تاکہ صبح خادم اٹھا کر اسے اپنی جگہ رکھے گا.

رات کوئی ساڑھے تین بجے کا ٹائم ہوگا کہ ایک شخص مسجد آیا۔

مسجد کا دروازہ بند تھا، وہ شخص کچھ دیر انتظار کرتا رہا۔ سردیوں کے دن تھے، اسے سردی لگ گئی۔

اس نے تابوت کھولا اور اندر سوگیا۔ آدھا گھنٹہ بعد خادم آگیا۔

خادم نے ایک نمازی کی مدد سے تابوت کو محراب کے ساتھ بنی مخصوص جگہ پر رکھ دیا۔

نیند کی غنودگی کی وجہ سے انہیں تابوت کے وزن کا بھی اندازہ نہ ہوا۔

مؤذن نے اذان دی۔ لوگ نماز کے لیے پہنچے۔ جماعت کھڑی ہوگئی۔

پچاس کے قریب نمازی جماعت میں شامل تھے۔ میں پہلی صف میں کھڑا تھا اور دوسری رکعت تھی کہ سامنے تابوت پہ میری نظر پڑی۔

عجب خوفناک منظر دیکھا کہ تابوت ہل رہا ہے۔ میرے جسم میں سنسنی خیز ایک لہر دوڑ اٹھی۔ میں نے آنکھیں بند کر لیں۔

تابوت بدستور ہل رہا تھا۔
شاید میت کا ہیولا کھڑا ہو۔
اتنے میں وہ شخص اٹھا اس نے تابوت سے سر باہر نکال کر پوچھا "تم لوگوں نے نماز پڑھ لی "؟

*اللہ معاف کرے،*
لوگوں کی دوڑیں لگ چکی تھیں۔ میں تو الٹے پیر ہزار کی سپیڈ سے گھر کی طرف دوڑا۔

گھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ میں ننگے پیر ہی گھر پہنچا ہوں۔

امام صاحب تو پہلے ہی بے ہوش ہو کر زمین پہ گر پڑے تھے،
کچھ لوگ دوڑتے ہوئے دیواروں سے ٹکرانے کی وجہ سے گرے ہوئے تھے،

کچھ میری طرح ننگے پیر باہر بھاگ رہے تھے،
کچھ وضو خانوں کے پاس پھسل کر گر چکے تھے،
سب اندھا دھند بھاگ رہے تھے،

جو شخص تابوت میں تھا وہ پیچھے سے دوڑ رہا تھا۔
اس کی بھی سمجھ میں نہیں آ ارہا تھا کہ ہوا کیا ہے..

😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂

16/09/2019

Saba Akhter
کابل کے ایک پروفیسر کی کہانی ان کی زبانی

پشتو سے ترجمہ

پڑھنے کیلئے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اس لئے زمین فروخت کرکے پڑھا ، فارن سے پی ایچ ڈی کرلی ،
واپس کابل آیا ، سوچ رہا تھا اتنا سارا پڑھ لیا ہے اب تو صدر کے بعد سب سے بڑی کرسی مجھے ملے گی !
کافی عرصہ نوکری کیلئے دفتروں کی خاک چھانی ، نوکری نہیں ملی ۔کچھ تو کرنا تھا اس لئے ایک کار سروس سٹیشن کھولا ، رشتہ داروں نے خوب مذاق اڑایا مگر میں اپنے اپ کو اور گھر والوں کو تسلی دیتا رہا کہ سب بہتر ہوجائے گا ۔سروس سٹیشن بہت خستہ حال تھا ۔شیشوں کے بجائے پلاسٹک کا سہارا لیا ، کابل کی یخ بستہ اور تیز و تند ہوائیں آئے روز پلاسٹک اڑا لے جاتیں اور مجھے ہر روز نئے پلاسٹک خریدنے پڑتے ۔
چچا زاد بھائیوں کو میرے نئے کام سے کافی راحت محسوس ہوتی تھی ۔
آئے روز خوبصورت کاریں لاتے اور مجھ سے دھلاتے تھے اگرچہ میرے ساتھ اور بھی لوگ کام کرتے تھے مگر ان کی کاریں ہمیشہ میں خود صاف کرتا تھا ۔
سخت سردی کا موسم تھا ۔ کابل کی یخ بستہ ہوائیں جسم کے آر پار گزرتی تھیں۔ میں پلاسٹک والی کھڑکی سے باہر کا منظر دیکھ رہا تھا ۔چچا زاد آئے گاڑی کھڑی کی اور صفائی کا کہا

گاڑی اندر سے پوری طرح گوبر ، گھاس سے بھری پڑی تھی ۔
خدا جانے مگر میرا گمان یہ تھا کہ یہ انھوں بےخود ہی جان بوجھ کے گندی کی ہے تاکہ میں صاف کروں اور وہ دیکھ کر سکون پائیں!
میرے ساتھ کام کرنے والے گاڑی کی طرف لپکے ، میں نے انھیں منع کیا،مطلب یہ تھا کہ اب چچا زاد بھائی ہے وہ تو صرف اس لئے آئے ہیں کہ مجھے صفائی کرتے ہوئے دیکھیں ۔ میں نے بھائی کو بٹھایا اور ان کیلئے چاہے کا آرڈر دیا ۔
اور خود گاڑی کو واش کرنے لگا ۔
کام بہت سخت تھا ، میری آنکھیں بھر آئیں ۔مگر کام کرتا رہا اور ان کی گندی گاڑی صاف کی ۔

چچا زاد بھائی چائے کا کپ ہاتھ میں پکڑے باہر آئے اور کہا اچھی طرح صاف کرنا ! اگر سچ پوچھئے تو بہت ہی کھٹن حالت تھی مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ بھائی کی امیدوں پر پانی پھیروں

کچھ دنوں بعد ۔۔۔۔۔میں نے

کار اچھی طرح دھوئی ، کار کا مالک کافی مضطرب تھا ، میں نے سوچا شائد گاڑی اچھی طرح صاف نہیں ہوئی ہے ، میں نے پوچھا بھائی کیا بات ہے اپ اتنے پریشان کیوں ؟ انھوں نے کہا میں طالب علم ہوں اور میرا امتحان ہے
عجیب بات یہ تھی کہ وہ معاشیات کا طالب علم تھا اور دوسری طرف میں نے معاشیات میں پی ایچ ڈی کر رکھی تھی
میں نے پوچھا کس مضمون کا پرچہ ہے ؟
انھوں نے کہا “ اکاونٹنگ”
میں نے کہا تم سامنے اس روم میں جاؤ میں آتا ہوں
میں نے انھیں چھ ماہ کا سبق پندرہ منٹ میں سمجھا دیا !
کہا وہ گاڑی اپ نے دھوئی ؟
میں نے کہا ہاں جی ! زندگی ہے کام تو کرنا ہے نا !
میں نے انھیں اپنی پڑھائی کے بارے میں بتایا
وہ حیران تھا !
اب وہ ضد کرنے لگا کہ اپ کو میرے ساتھ چلنا ہوگا ، ہماری یونیورسٹی کے وی سی میرے دوست ہیں
میں ان سے بات کرتا ہوں وہ اپ کو ضرور نوکری دیں گے۔
میں ان کے ساتھ چلنے لگا تو انھوں نے میرے میلے کچیلے کپڑے دیکھ کر استفسار کیا کوئی اور کپڑے نہیں ہے اپ کے پاس ؟
میں نے کہا نہیں ، مجھے پتہ ہے نوکری کسی نے دینی نہیں یہ تو بس اپ ضد کررہے ہیں اس لئے تمہارے ساتھ جانے لگا ہوں
گیلے کپڑے زیب تن کئے ہوئے میں وی سی آفس کے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا ۔آفس میں قیمتی فرنیچر رکھا ہوا تھا مگر میرا دل نہیں کررہا تھا کہ اس پر بیٹھو ں
وی سی مجھے مستری سمجھا ، میں نے ایک کپڑا لیا صوفے پر رکھا اور بیٹھ گیا ۔
طالب علم نے میری کہانی انھیں سنائی ۔ انھوں نے تمسخرانہ نظروں سے مجھے گھورا ۔
جان چھڑانے کی خاطر انھوں نے کہا تم ڈیمو کیلئے تیاری کرو ہم تمہیں کال کریں گے ۔
میں نے کہا میں ابھی بھی ڈیمو کیلئے تیار ہوں !
انھیں میرا یہ انداز اچھا نہیں لگا مگر پھر بھی انھوں نے فون اُٹھایا ، سب ٹیچرز کو اس کلاس روم میں بلاؤ ۔ کہو ڈیمو ہے !
انھوں نے مجھے ایک مارکر پکڑایا میں نے دو مارکر اور مانگے ۔
کلاس پوری طرح بھری تھی ۔میں نے سلام کیا ۔ میرے کپڑے دیکھ کر تمام طلبہ مسکرا رہے تھے ۔ حکم ہوا اپ ڈیمو شروع کریں
میں نے کہا کس موضوع پر لیکچر دوں ؟
کہا اپ کی مرضی !
میں نے معاشیات کے دس موضوعات بورڈ پر لکھے
میری خوبصورت لکھائی بورڈ پر کافی بھلی دکھائی دے رہی تھی ،۔
میں نے کہا اس میں کونسے موضوع پر بات کروں
انھوں نے دوسرے نمبر والا ٹاپک چنا
میں نے اس موضوع کو مزید کلاسفیائی کیا ۔پھر ان کی طرف دیکھ کر کہا اب ان میں کونسا موضوع ٹھیک رہے گا
پورا بورڈ بھر دیا ۔دو ساتھ جوڑے ہوئے بورڈ بھر گئے ۔
اچانک تالیاں بجنے لگیں ۔میں نے مڑ کے پیچھے دیکھا پوری کلاس کھڑی تھی اور تالیاں بجارہی تھی اور ان کے سامنے میں ، میلے کپڑوں میں کھڑا تھا ۔
وی سی نے کہا ! ہاں بھائی بتاؤ کتنی تنخوا لو گے ؟
اور مجھے نوکری مل گی
میں نے مشین کی طرح کام کیا ۔ماہ کے آخر میں مجھے یونیورسٹی بیسٹ ٹیچر کے ایوارڈ کے ساتھ اچھی خاصی تنخوا ملی ۔سب سے زیادہ تنخوا اس یونیورسٹی میں پچاس ہزار افغانی تھی ۔ پر مجھے ایک لاکھ بیس ہزار پر رکھ لیا گیا ۔اس کے بعد امریکہ یونیورسٹی ، فنانس منسٹری ، بین الاقوامی کانفرنسوں اور دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں کام کرنے کے مواقع ملے ۔ میری سروس سٹیشن کا ایک سال کنٹریکٹ ابھی ختم نہیں ہوا تھا اور میں نے تیس ممالک دیکھ لیے ۔ میں آج بھی اپنے چچازادوں کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا ہوں
وہ بھی میرا بہت احترام کرتے ہیں اور نام کے ساتھ “صاحب” ضرور کہتے ہیں
میں خدا سے خوش ہوں ۔
زندگی کے سامنے کبھی ہتھیار مت ڈالیں ۔زندگی کے بہت سارے جہت ہیں ہمیشہ آنے والے کل کیلئے پرامید رہیں ۔ کبھی کوئی کام کرتے ہوئے شرماتے نہیں

(زندگی میں کوئی کام چھوٹا اور بڑا نہیں ہوتا ، البتہ کام کے طریقے چھوٹے اور بڑے ضرور ہوتے ہیں)

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Dg Khan
Dera Ghazi Khan
32200