22/02/2018
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابلیس چالیس ہزار برس تک جنت کا خزانچی رہا،
اور اَسّی ہزار برس تک ملائکہ کا ساتھی رہا،
اور بیس ہزار برس تک ملائکہ کو وعظ سناتا رہا،
اور تیس ہزار برس تک مقربین کا سردار رہا،
اور ایک ہزار برس تک روحانین کی سرداری کے منصب پر رہا،
اور چودہ ہزار برس تک عرش کا طواف کرتا رہا.
پہلے آسمان میں اس کا نام عابد،
اور دوسرے آسمان میں زاہد،
اور تیسرے آسمان میں عارف،
اور چوتھے آسمان میں ولی،
اور پانچویں آسمان میں تقی،
اور چھٹے آسمان میں خازن،
اور ساتویں آسمان میں عزازیل تھا،
اور لوح محفوظ میں اس کا نام ابلیس لکھا ہوا تھا اور یہ اپنے انجام سے غافل اور خاتمہ سے بے خبر تھا۔
لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا تو ابلیس نے انکار کردیا اور حضرت آدم علیہ السلام کی تحقیر اور اپنی بڑائی کا اظہار کر کے تکبر کیا اسی جرم کی سزا میں خداوند ِ عالم نے اس کو مردود ِ بارگاہ کر کے دونوں جہان میں ملعون فرما دیا اور اس کی پیروی کرنے والوں کو جہنم میں عذاب ِ نار کا سزاوار بنادیا۔
چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہوا کہ:
(سورہ اعراف:12۔18)
ترجمہ قرآن: فرمایا کس چیز نے تجھے روکا کہ تونے سجدہ نہ کیا جب میں نے تجھے حکم دیا تھا بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے بنایا اور اسے مٹی سے بنایا۔ فرمایا تو یہاں سے اتر جا تجھے نہیں پہنچتا کہ یہاں رہ کر غرور کرے نکل تو ہے ذلت والوں میں بولا مجھے فرصت دے اس دن تک کہ لوگ اٹھائے جائیں فرمایا تجھے مہلت ہے بولا تو قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں ضرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے اور داہنے اوربائیں سے اور تو ان میں اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا فرمایا یہاں سے نکل جا رد کیا گیا راندہ ہوا ضرور جو ان میں سے تیرے کہے پر چلا میں تم سب سے جہنم بھر دوں گا۔
قرآن مجید کے اس عجیب واقعہ میں عبرتوں اور نصیحتوں کی بڑی بڑی درخشندہ اور تابندہ تجلیاں ہیں اسی لئے اس واقعہ کو خداوند قدوس نے مختلف الفاظ میں اور متعدد طرز بیان کے ساتھ قرآن مجید کے سات مقامات میں بیان فرمایا ہے یعنی سورہ بقرہ، سورہ اعراف، سورہ حجر، سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف، سورہ طٰہٰ، سورہ ص میں اس دل ہلا دینے والے واقعہ کا تذکرہ مذکور ہے
تمام واقعات کا نچوڑ صرف اتنا ہےکہ شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو بوجہ تخلیق مٹی خود سے حقیر جانا؟ شیطان کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے آگ کے شعلے آگ کا ٹمپریچر چونکہ اوپرکو اٹھتا ہے جبکہ مٹی میں عاجزی ہے مٹی کو جتنی بلندی سے چھوڑا جاۓ یہ نیچےکو ہی آتی ہے حتی کہ پانی میں بھی مٹی نیچے بیٹھ جاتی ہے تکبرکی بنیاد پر شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو حقیرجانا جبکہ اللہ کو آدم سے اس قدر محبت تھی کہ ادھر شیطان نے حضرت آدم علیہ السلام کو حقیرجانا ادھر اللہ پاک کی غیرت جوش میں آئی اور اس نے شیطان کو لعین قرار دے کر ہمیشہ کےلیے اپنے در سے دھتکار دیا تعجب کی بات ہےکہ اللہ نے شیطان کو اپنے بندے سے دشمنی کی بنیاد اپنے گھر سے ہمیشہ کےلیے نکال دیا اور ایک اس کے بندے ہیں جو شیطان کو دشمن خدا جانتے اور سمجھتے ہوے بھی اسے اپنے دل میں بساۓ بیٹھے ہیں؟