Fun, Facts & Study

Fun, Facts & Study

Share

https://www.facebook.com/English with Professor khan/app/212104595551052/

31/08/2025

📚 ** ایک حیرت انگیز حقیقت!** 📚

کیا آپ جانتے ہیں؟ 🤔

آج کی دلچسپ حقیقت: جب آپ کسی کو سکھاتے ہیں تو آپ خود بھی بہتر سیکھتے ہیں! 👨‍🏫✨
دراصل، کسی چیز کو دوسروں کو سمجھانے سے آپ کا دماغ اس معلومات کو اور بھی اچھی طرح سے ترتیب دیتا ہے اور آپ کا کنسیپٹ مکمل طور پر کلئیر ہو جاتا ہے۔

**اس سے ملتی جلتی اسٹڈی ٹِپ:**
آج ہی کسی دوست یا گروپ اسٹڈی میں شامل ہوں اور ایک دوسرے کو پڑھائی گئی چیزیں سمجھانے کی کوشش کریں۔ یہ آپ کی یاداشت اور سمجھ دونوں کے لیے بہترین ہے!

**سوال آپ کے لیے:**
آخری بار آپ نے کون سی ایسی چیز کسی کو سکھائی تھی جس سے آپ خود بھی بہتر سیکھے؟ 👇
ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں!

30/08/2025
30/08/2025

🧠 **دماغ کی بتی جلانے والا فن فیکٹ!** 🧠

سوچتے ہیں پڑھائی بہت سیریس کام ہے؟ پھر یہ دیکھیں! 🤯

آج کا رینڈم فیکٹ: کیا آپ کو پتا ہے کہ ہمارا دماغ ورزش کے بعد زیادہ بہتر طریقے سے سیکھتا ہے؟ 🏃‍♂️📚 حقیقت یہ ہے کہ جسمانی سرگرمی دماغ میں نئے کنکشنز بنانے میں مدد کرتی ہے۔ تو اگلے 45 منٹ پڑھائی کے بعد، تھوڑی دیر کی واک ضرور کریں!

**پرو اسٹڈی ٹِپ اِس فیکٹ سے:**
اگلی بار جب آپ کوئی مشکل باب پڑھ رہے ہوں، اُس کے بعد 15-20 منٹ کی واک پر جائیں۔ یہ آپ کو کنسیپٹ بہتر یاد رکھنے میں مدد کرے گی!

**آپ کا پسندیدہ مضمون کون سا ہے؟ اور آج آپ نے کیا نیا سیکھا؟ ہمیں Comments میں بتائیں! 👇**

30/08/2025

Sochte hain padhai bohat serious kaam hai? Phir yeh dekhein! 🤯

Aaj ka Random Fact: Kya aap ko pata hai ke humara dimag exercise ke baad zyada achi tarah seekhta hai? 🏃‍♂️📚 Haqeeqat yeh hai ke physical activity dimaag mein naye connections banane mein madad karti hai. Toh agley 45 minute padhai ke baad, thodi der ki walk zaroor karein!

**Pro Study Tip Is Fact Se:**
Next time jab aap koi difficult chapter parh rahe hon, uske baad 15-20 minute ki walk pe jayein. Yeh aap ko concept better remember karne mein madad karegi!

**Aap ka favourite subject kon sa hai? Aur aaj aap ne kya naya seekha? Humein comments mein batayein! 👇**

29/08/2025

اردو ميں جسے ہم “بيوی ” بولتے هيں قرآن مجيد ميں اس کے لئے تین لفظ استعمال ہوئے ہیں
1- إمراءة
2- زوجة
3- صاحبة

إمراءة :
امراءة سے مراد ايسی بيوی جس سے جسمانی تعلق تو ہو مگر ذہنی تعلق نہ ہو
زوجة :
ايسی بيوی جس سے ذہنی اور جسمانی دونوں تعلقات ہوں يعنی ذهنی اور جسمانی دونوں طرح ہم آہنگی ہو
صاحبة :
ايسی بيوی جس سے نه جسمانی تعلق ہو نہ ذہنی تعلق ہو
اب ذرا قرآن مجيد كی آيات پر غور كيجئے :

1- امراءة
حضرت نوح اور حضرت لوط عليهما السلام كی بيوياں مسلمان نہیں ہوئی تھيں تو قرآن مجيد ميں ان كو
" امراءة نوح " اور " امراءة لوط " كہہ كر پكارا هے،

اسی طرح فرعون كی بيوی مسلمان هو گئی تھی تو قرآن نے اسكو بھی
" وامراءة فرعون" کہ كر پكارا هے

(ملاحظه كريں سورة التحريم كے آخری آيات ميں)

یہاں پر جسمانی تعلق تو تھا اس لئے کہ بيوياں تهيں ليكن ذهنی ہم آہنگی نہیں تھی اس لئے کہ مذہب مختلف تھا

2- زوجة :
جہاں جسمانی اور ذہنی پوری طرح ہم آہنگی ہو وہاں بولا گيا جيسے

( ﻭﻗﻠﻨﺎ ﻳﺎ آﺩﻡ ﺍﺳﻜﻦ ﺃﻧﺖ ﻭ ﺯﻭﺟﻚ ﺍﻟﺠﻨﺔ )

اور نبی صلی اللّٰہ عليه و سلم كے بارے فرمايا

( يأيها النبي قل لأزواجك .... )

شايد اللّٰہ تعالٰی بتانا چاہتا ہے کہ ان نبيوں كا اپنی بيويوں كے ساتھ بہت اچھا تعلق تھا

ایک عجيب بات هے زكريا علیہ السلام كے بارے کہ جب أولاد نہیں تھی تو بولا
( و امراتي عاقرا .... )

اور جب أولاد مل گئی تو بولا

( ووهبنا له يحی و أصلحنا له زوجه .... )

اس نكته كو اهل عقل سمجھ سكتے هيں

اسی طرح ابولهب كو رسوا كيا يہ بول کر

( وامرءته حمالة الحطب )

كہ اس کا بيوی كے ساتھ بھی كوئی اچھا تعلق نہیں تھا

3- صاحبة :
جہاں پر كوئی کسی قسم کا جسمانی يا ذہنی تعلق نہ ہو

اللّٰہ تعالٰی نے اپنی ذات كو جب بيوی سے پاک کہا تو لفظ "صاحبة" بولا اس لئے كه یہاں كوئی جسمانی يا ذہنی كوئی تعلق نہیں ہے

(ﺃﻧﻰ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻭﻟﺪ ﻭﻟﻢ ﺗﻜﻦ ﻟﻪ ﺻﺎﺣﺒﺔ)

اسی طرح ميدان حشر ميں بيوی سے كوئی جسمانی يا ذہنی كسی طرح كا كوئی تعلق نہیں ہو گا تو فرمايا

( ﻳﻮﻡ ﻳﻔﺮ ﺍﻟﻤﺮﺀ ﻣﻦ ﺃﺧﻴﻪ ﻭﺃﻣﻪ وﺃﺑﻴﻪ ﻭﺻﺎﺣﺒﺘﻪ ﻭﺑﻨﻴﻪ )

كيونکہ وہاں صرف اپنی فكر لگی ہو گی اس لئے "صاحبته" بول
اردو ميں:
امراءتي , زوجتي , صاحبتي سب كا ترجمة " بيوی" ہی كرنا پڑے گا

ليكن ميرے رب كے كلام پر قربان جائيں جس كے ہر لفظ كے استعمال ميں كوئی نہ كوئی حكمت پنہاں ہے

copied

Want your school to be the top-listed School/college in Dera Ghazi Khan?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


D. G. KHAN
Dera Ghazi Khan
32100