25/01/2024
Hoor Aur Aurat Hoor Aur AuratJoin us in a soul-enriching exploration of " Hoor Aur Aurat" – Unveiling the Divine Status of Women in Paradise. In this deeply insightful vide...
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sekho Bolo with Saqlain, Tutor/Teacher, Dera Ghazi Khan.
25/01/2024
Hoor Aur Aurat Hoor Aur AuratJoin us in a soul-enriching exploration of " Hoor Aur Aurat" – Unveiling the Divine Status of Women in Paradise. In this deeply insightful vide...
23/01/2024
Dirty European Nahana Kufr Kion Samajhty Thay? Dirty European Nahana Kufr Kion Samajhty Thay? "Dirty European Nahana Kufr Kion Samajhty Thay?" embark on a fascinating journey back in time with us as we ex...
22/01/2024
Global Applause for Imran Khan | World Leaders Share Why Imran Khan Stands Out Welcome to Sarab Saya! Dive into a world of admiration as international personalities express their appreciation for Pakistan's Prime Minister, Imran Khan! J...
السلامُ علیکم!
عید مبارک!
اللہ پاک آپ پر ہمیشہ اپنی رحمت فرماے۔ آمین
محمد ثقلین سرکانی ایڈووکیٹ ہاییکورٹ
السلامُ علیکم!
عید مبارک!
جملہ عبادات مبارک!
اللہ پاک آپ پر ہمیشہ اپنی رحمت فرماے۔ آمین
محمد ثقلین سرکانی ایڈووکیٹ ہاییکورٹ
شیشم (ٹالی)
پاکستان کے مقامی درخت۔ شیشم کی کہانی
سال 1865 ہے، انگریز سرکار نے اپنی سب سے امیر کالونی ہندوستان کے وسائل تک بہتر رسائ کے لیے، اسٹیم انجن کی طاقت سے دوڑتے ریلوے کے نظام کو پورے ہندوستان میں بچھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مگر اس نظام کی کامیابی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ رکاوٹ اسٹیم انجنون کو رواں رکھنے والے ایندھن( جلنے والی بہترین لکڑی) کی بروقت، مسلسل اور وافر مقدار میں سپلائ کا نہ ہونا ہے۔
اسی ایندھن کی ضرورت کی وجہ سے انگریز سرکار نے 1866 میں ضلع لاہور اور قصور کے مضافات میں ایک مصنوعی جنگل بسانے کا فیصلہ کیا ہے۔ (اسی جنگل کا نام دو ڈاکو بھائیوں کی وجہ سے بعد میں چھانگا مانگا پڑا)
اس جنگل میں تقریباً 12 ہزار ایکڑ پر بہترین لکڑی اور تیزی سے اگنے کی صلاحیت کے حامل درختوں کو ترجیحی بنیادوں پر لگاۓ جانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ان خصوصیات کے حامل درختوں کی فہرست میں برصغیر کے مقامی اشجار کے علاوہ ایک دوسرے دیس کا پردیسی شجر بھی شامل ہے۔
یہ پردیسی، نیپال کے دیس کا ایک شجر ہے جیسے اردو میں شیشیم، پنجابی میں ٹاہلی، سنسکرت میں ششپا، گجراتی میں سیسم- عربی میں سا سم انگریزی میں انڈین روزوڈ ( Indian rosewood) اور نباتات میں ڈال بارجیا سیسو (Dalbergia Sissoo) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہ شیشم کے شجر کا پاک و ہند کی دھرتی سے پہلا باقاعدہ تعارف تھا۔
شیشم کے نباتاتی نام کا پہلا حصہ ڈال بارجیا، مشہور سویڈش ماہر نباتات نکولس ڈال بارجیا (Nicholas Dalbergia) کے نام پر رکھا گیا ہے، جبکہ دوسرا حصہ سیسو، ہندوستانی نام کی ایک بگڑی ہوئ شکل ہے۔
شیشم کا آبائ وطن کوہ ہمالیہ کا دامن ہے۔ یہ نیپال سے افغانستان تک اور ایران، انڈونیشیا میں قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ اب شیشم اپنی بہترین لکڑی کی وجہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں کاشت بھی کیا جاتا ہے۔
شیشم ایک درمیانے قد کاٹھ کا درخت ہے اور یہ اونچائ میں 25 میٹر (82 فٹ) تک بڑھ سکتا ہے۔ بالغ صحت مند شجر کے تنے کا قطر 2 سے 3 میٹر (6 فٹ 7 انچ سے 9 فٹ 10 انچ) تک ہوتا ہے، ۔کھلے میں اگنے پر تنے اکثر ٹیڑھے ہو جاتے ہیں۔ تنے پر ہلکے بھورے سے گہرے بھوری رنگ کی کھردری چھال ہوتی ہے، جو کہ 2.5 سینٹی میٹر (0.98 انچ) تک موٹی ہو سکتی ہے،
پتے تقریباً 15 سینٹی میٹر (5.9 انچ) لمبے ہوتے ہیں۔ جوان ٹہنیاں نیچے اور جھکی ہوئی ہوتی ہی
حکومت پاکستان نے وکلاء کے تحفظ کا بل 2023 منظور کرلیا۔
1-وکلاء پر حملہ کرنا دہشتگردی کے ذمرہ میں آئے گا۔
2- وکلاء کو کام کے دوران ہراساں کرنا یا حملہ کرنا قابل دست اندازی جرم ہوگا جسکی سزا 3 سال قید تک ہوگی۔
3-کام کے دوران وفات پانے والے وکلاء کے لواحقین کو حکومت گریڈ 18 کے آفیسر کے برابر مراعات دے گی۔
4-پاکستان میں رجسٹرڈ ہونے والی ہر کمپنی کم از کم ایک وکیل بطور لیگل ایڈوائزر رکھے گی۔
5-وکلاء کی طرف سے درج مقدمات کی تفتیش کم سے کم انسپکٹر کے درجہ کا آفیسر کرے گا۔
6-وکلاء سے اسکے کلائنٹس یا مقدمات کی تفصیل پاکستان کی پولیس یا خفیہ ایجنسی اگر لینے کی کوشش کرئے گی تو متعلقہ آفیسر کو قید کی سزا ہوسکتی ہے
28/03/2023
*روزے کے دوران ہمارے جسم کا ردعمل*
*کیا ہوتا ہے اس بارے کچھ ء دلچسپ معلومات*
*پہلے دو روزے* :-👇👇
پہلے ہی دن بلڈ شگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کا درجہ کم ہو جاتا ہے۔ دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بی پی گر جاتا ہے ۔اعصاب جمع شدہ گلائ کوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے ۔ زہریلے مادوں کی صفائی کے پہلے مرحلہ میں نتیجتا سر درد ۔ چکر آنا ۔ منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد کےجمع ہوتا ہے
*تیسرے سے ساتویں روزے* تک :-👇👇
جسم کی چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلہ میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنا ہو جاتی ہے ۔جسم بھوک کا عادی ہونا شروع کرتا ہے اور اس طرح سال بھر مصرف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی ۔خون کے سفید جرسومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جا تا ہے ۔ ہو سکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائ کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔ انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔ انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہو نا شروع ہو جاتا ہے ۔
*آٹھویں سے پندھدریویں روزے تک* :-👇👇
آپ پہلے سے توانا محسوس کرتے ہیں ۔ دماغی طور پر چست اور ہلکا محسوس کرتے ہیں ۔ہو سکتا ہے پرانی چوٹ اور زخم محسوس ہو نا شروع ہوں ۔ اس لیے کہ اب آپ کا جسم اپنے دفاع کے لیےپہلے سے زیادہ فعال اور مضبوط ہو چکا ہے ۔ جسم اپنے مردہ یا کینسر شدہ سیل کو کھانا شروع کر دیتا ہے جسے عمومی حالات میں کیموتھراپی کے ساتھ مارنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اسی وجہ سے خلیات سے پرانی تکالیف اور درد کا احساس نسبتا بڑھ جاتا ہے ۔اعصاب اور ٹانگوں میں تناؤ اس عمل کا قدرتی نتیجہ ہوتا ہے ۔ یہ قوت مدافعت کے جاری عمل کی نشانی ہے ۔روزانہ سحری یا افطاری کے کے کچھ وقت بعد نمک کے غرارے اعصابی اکڑاؤکا بہترین علاج ہے ۔
*سولہویں سے تیسویں روزے تک* :-👇👇
جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کا عادی ہو چکا ہے ۔ آپ اپنے آپ کو چست ۔ چاک و چو بند محسوس کرتے ہیں ۔ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہو جاتی ہے ۔ سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے ۔ جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔ نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہے ۔ جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے۔بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ بیس روزوں کے بعد دماغ اور یاد داشت تیز ہو جاتے ہے ۔ توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے ۔ بلا شک بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے ۔
*یہ تو دنیا کا فائدہ رہا*👇👇
جو بے شک ہمارے خالق نے ہماری ہی بھلائی کے لیے ہم پر فرض کیا ۔ مگر دیکھیے اس کی رحمت کا انداز کریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کر دیا ۔
*مگر یہ سب اسوقت ہوتا ہے*👇👇 جب ایک روزہ دار عام اور سادہ غذا استعمال کرے نہ کہ ہرقسم کی غذا ایک وقت میں جسم اور معدہ میں ٹھونس دے
فتبٰرك الله اَحسنُ الخالقين
سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم
قلعہ ہرنڈ۔
ہری نند قلعہ
ضلع راجن پور میں واقع شہر راجن پور سے تقریبا 90 کلومیٹر دور مغرب کی جانب اور داجل سے 30 کلومیٹر قلعہ ہری نند موجود ہے جِسے اب قلعہ ہڑند کہا جاتا ہے
قلعہ کے جنوب مغرب میں ہزاروں سال پرانی مہر گڑھ کی تہذیب اور جنوب مشرق میں ہزاروں سال قدیم موہنجو داڑو کے کھنڈرات اپنی تاریخی شان و شوکت کے ساتھ مخدوش تعلقات کا راستہ دکھاتے ہیں۔
اس قلعہ کو قبل از مسیح راجہ ہرناکس اور اس کے بیٹے لوک بھگت نے تعمیر کروایا
سکندر نامہ کتاب جو کہ سکندر اعظم کی داستانیں سناتی ہے اس کتاب میں
مورخ کہتے ہیں کہ یہ وہی قلعہ ہے جہاں سکندر اعظم نے مقامی شہزادی رخسانہ سے شادی کی جو دارا یوش کی بیٹی تھی۔
یہ قلعہ چھوٹی مربع اینٹ سے تعمیر کیا قلعہ مربع شکل میں سولہ مسدس برجوں اور دو بڑے دروازوں پہ مشتعمل تھا اس قلعہ کے اندر افقی اور نشیبی راہداریاں بھی ہیں جو خفیہ سرنگوں سے ملحقہ غاروں کے اندر کُھلتی ہیں۔ارد گرد چٹیل میدان تھا مگر آج کل کھجوروں کے باغات نظر آتے ہیں
یہ قلعہ گورچانی بلوچ قباٸل کے زیر استعمال بھی رہا۔
سرحدی تعلق تو اس علاقے کا پنجاب سے ملتا ہے مگر جغرافیائی اور تاریخی تعلق سرزمین سندھ سے ہے۔
یہ وہ قلعہ ہے جس نے تاریخ کے بے انتہا ستم سہے کبھی یونانی، ایرانی اور عرب فاتحین نے اس قلعہ کو فتح کرنے کے خواب دیکھے اور کشت و خون میں نہلانے کے بعد فتح بھی کِیا۔
محمد بن قاسم کی یلغار کے سامنے یہ قلعہ اور اس کے مکین نہ ٹِک سکے گویا تیز ہوا کے سامنے تنکہ ہو۔اس قلعہ پر سکندر اعظم سے لیکر محمد بن قاسم، محمود غزنوی، احمد شاہ ابدالی تک سب حکمرانوں نے اپنا قبضہ رکها۔
احمد شاہ ابدالی نے 1747ء کو یہ دو علاقے ہڑند اور داجل خان اف قلات نصیر خان کو بطور تحفہ دئیے جس کے بعد راجہ رنجیت سنگھ کی فوجوں نے پھر اس پر حملہ کر کے اپنے قبضے میں لے لیا اور راجہ رنجیت سنگھ کی ہدایت پر اس کی تزئین و آرائش کا کام شروع کروایا مگر مقامی قبیلہ گورچانی کی مزاحمت پر کچھ برس تعطل آیا مگر سکھا شاہی میں ہی اس کی مرمت مکمل ہوئی۔
لیکن وقت کے تھیڑے پھر سے پہ یلغار ہوۓ جسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں پھر سے جنگ میں نہلایا گیا اور سِکھوں سے واپس چِھینا گیا جس سے قلعہ ایک مرتبہ پھر شکستہ حال بوڑھے کیطرح بے بسی اور لاچاری کی حالت میں چلا گیا اور افسردگی کی تصویر بن گیا اس کے بعد وقت نے اس بوڑھے قلعہ کی ہڈیوں سے رعنائی کا رس نچوڑ لیا۔ہر 20 سے 30 سال بعد ہوۓ حملوں نے اس قلعہ کو تحس نحس کر دیا اور یہ قلعہ اپنی تمام رعناٸیاں کھو گیا
آج یہ قلعہ وقت اور حکمرانوں کی بےحسی اور اپنی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے چولستان میں موجود باقی قلعوں کی طرح تاریخی ستم اور حکومتی بے حسی کی تصویر بنے دیکھا جا سکتا ہے ۔
ہم نے مانا کے تغافل نا کرو گے لیکن
خاک ہو جاٸیں گے تجھ کو خبر ہونے تک۔
کاش کے ہمارے محکمے خواب غفلت سے جاگیں قدرت کی عطا کردہ نعمتوں کو تحفہ سمجھیں ان کی حفاظت کریں
خواتین
کبھی بھی اپنے خاوند کو اس کی خامیوں اور کوتاہیوں پر تنقید نہ کریں۔
انہی خامیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے تو اس کو آپ سے بہتر بیوی نہیں ملی۔
اگر خاوند perfect ہوتا تو اس کی شادی بہتر جگہ پر ہونی تھی۔