18/10/2024
کالج شاید واپس بن جائے مگر میں کیسے واپس آ پاؤں گا؟ کیا میں اب پڑھا پاؤں گا؟ مجھے نہیں لگتا کہ میں اب عرصے تک اپنے حواس میں واپس آ پاؤں گا۔
اب بوئے گل نہ باد صبا مانگتے ہیں لوگ
وہ حبس ہے کہ لو کی دعا مانگتے ہیں لوگ
آج ہمارے کالج پہ بلوا ہوا۔ میں اس وقت کالج میں تھا۔ کالج انتظامیہ کو لگتا تھا بچے شاید ٹیچروں کی لاج رکھ لیں مگر ان کا خیال غلط تھا۔
یہ لمحے میری زندگی کے ناقابلِ فراموش لمحے تھے جو آج صبح میں نے گزارے۔ شاید آدھا گھنٹا تھا مگر لگ رہا تھا جیسے آدھی عمر گزار آیا ہوں۔ وہ اذیت تھی جسے میں بھول نہیں سکتا۔
زرا تصور میں لائیے وہ منظر کہ آپ اندر گھر میں بند ہیں اور باہر ایک ہجوم جمع ہے جس کے ہاتھ میں پتھر ہیں؛ لاٹھیاں ہیں؛ ہونٹوں پہ گالیاں ہیں؛ نعرے ہیں۔ وہ سب کچھ توڑ چکے ہیں اور اب آپ کی ہڈیاں توڑنا چاہتے ہیں۔
ایک لمحے کو رکیے!
اب ذہن میں یہ لائیے کہ اس ہجوم میں وہ بھی ہیں جن کے لیے آپ سب کچھ کرتے رہے؛ جنھیں آپ اپنی اولاد سمجھتے تھے۔
اذیت اور درد کی وہ لہر آپ کے رگ و پے میں سرایت کرے گی کہ آپ بلبلا اٹھیں گے۔ بس اس وقت یہی حالت ہے۔
آج قوم کا ایک استاد ہار گیا اور انتشاری جیت گئے۔ میں قوم سے شرمندہ ہوں۔
ظہیر سقراط