Mohsin Mughal

Mohsin Mughal

Share

This page only for edu purpose

11/08/2025

کبھی کبھی ہم وہ بھی کھو دیتے ہیں جو ہم بڑے مان سے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ یہ صرف میرا ہے۔ دراصل یہ دنیا ایک خواب ہے اور یہ خواب ہی رہ جائے گا۔ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں، وقت بیت جاتا ہے، لوگ بدل جاتے ہیں! محسن 🖋️

17/06/2023

Jumma Mubarak 💓

10/06/2023

Mammu ki Jaan 😇 ❤️
Faizan Ahmad

14/10/2022

✨‏جب آپ کسی کو بُجھتا ہوا دیکھیں تو اس کے سامنے اس کی خوبیاں بیان کریں... اُسکےاچھے دنوں اور یادوں کا تذکرہ کریں تاکہ وہ پھر سے جی اٹھے....
میں نے آج تک جتنے لوگوں کو ٹُوٹتے دیکھا ہـے... اُس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ھوتی ہـے کہ اردگرد لوگوں کا ہجوم ہوتےہوئے ایک شخص بھی حوصلہ دینے والا نہیں ہوتا۔۔۔۔🥀🍂

26/02/2022

اسلام علیکم!

لوگوں کی دی هوئی تکالیف نہیں محبتیں یاد رکھو، پر سکون رھو گے،مسکراہٹ درد کی شکست اور چہرے کی رونق ھے.اللہ رب العزت آپ کو ھمیشه هنستا مسکراتا سدا خوش آباد رکھے.
*آمين*

16/12/2021

بہت سے دکھ ہماری قسمت میں لکھے ہوتے ہیں وہ ہمیں ملنے ہوتے ہیں۔ بعض سچائیاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ چاہے ہمیں جتنی بھی ناگوار لگیں مگر ہمیں انہیں قبول کرنا پڑنا ہے۔ انسان ہر وقت خود پر ترس کھاتا رہے اپنی زندگی میں آنے والے دکھوں کے بارے میں سوچتا رہے تو وہ دکھ اس پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ پھر اگر اس کی زندگی میں خوشیاں آتی بھی ہیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں پاتا۔
انسان کو ہر حال میں راضی با رضا ، پر امید اور خوش رہنا چاھیے یہ ہی شکر ہے الحمدللہ علٰی کٗلِ حالٍ
🖤
 Muhammad Ali PTI

05/08/2021

ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﺴﺎ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮧ ﺑﮭﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺗﺎ.ﺟﺐ ﺗﮏ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ. ﻣﻮﺳﯽ ﻭﺍﭘﺲ ﮬﻮ ﻟﺌﮯ. ﻭﺍﭘﺴﯽ ﭘﺮ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻗﺤﻂ ﺯﺩﮦ ﺑﺴﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﮑﯿﻨﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ.ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﻮ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮬﻮ ﮐﮧ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺳﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﭨﻞ ﺟﺎﺋﮯ.ﺗﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺗﻼﺵ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﻭ. ﺑﺴﺘﯽ ﮐﮯ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻧﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ.ﺟﺐ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻭﺳﯿﻊ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﻧﮯ ﻗﺤﻂ ﺍﻭﺭ ﻋﺘﺎﺏ ﺍﻟﮩﯽ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺑﺴﺘﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ. ﺍﺩﮬﺮ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻨﯽ ﺗﻮ ﻟﺮﺯ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ. ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺫﻟﺖ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﺎ .ﻭﮦ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎ .ﺗﺐ ﺍﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻭﮨﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﺑﺴﺘﯽ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ.ﻭﮦ ﺍﭨﮭﻨﮯ ﮨﯽ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺷﺮﻣﻨﺪﮔﯽ ، ﺫﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮯ ﺟﺎﻥ ﺳﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ. ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﭦ ﭘﮭﻮﭦ ﮐﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﺎ.ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮔﻨﺎﮦ ﺍﻭﺭ ﻧﺪﺍﻣﺖ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﯽ ﮐﺜﺮﺕ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﺍﻣﻦ ﺑﮭﯿﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﮬﺮ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﺑﺎﺩﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﺩﮬﺮ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺩﮬﺮ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﮔﮭﭩﺎﺅﮞ ﻧﮯ ﺑﺴﺘﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﺳﯽ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯽ ﺟﻞ ﺗﮭﻞ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺑﺴﺘﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﻣﻮﺳﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻼ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ؟ ﺍﺩﮬﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻨﮧ ﺑﮑﻞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ ﺗﻮ ﺑﺎﺭﺵ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﮬﻮ ﮈﺍﻟﮯ.ﻣﻌﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻠﮑﺎ ﺩﯾﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﻨﮧ ﭼﮭﭙﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺑﺎﺭﺵ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﭙﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻟﻮﭦ ﮔﺌﮯ. ﺍﮔﻠﮯ ﺭﻭﺯ ﻣﻮﺳﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺷﮑﻮﮦ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺍﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺭﺵ ﮨﯽ ﺑﺮﺳﺎﻧﯽ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﮩﻠﻮﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ؟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﻮﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺻﻞ ﺑﺎﺕ ﯾﮧ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺳﺮﮐﺸﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﺍﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺳﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻧﻨﮕﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ. ﺗﻮ ﺍﺏ ﺟﺐ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ. ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ﺗﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﻭﻧﺎ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺭﻭﻧﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ.
# peace #2021

02/07/2021

20/06/2021

*اللہ کا چناؤ دنیا کے چناؤ جیسا تھوڑی ہے*۔۔۔وہ
اپنے دین کے لیے جب کسی کو چنتا ہے۔۔تو اسکی شکل و صورت، اسکا سٹیٹس ، اسکی ڈگریز نہیں دیکھتا ۔۔۔کسی کی فصاحت اسکا حسن نہیں دیکھتا۔۔۔

اس دین کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں،۔۔۔اللہ نے موسی علیہ السلام کو چنا۔۔۔جن سے غلطی سے قتل ہو چکا۔۔جنکو اپنی بات سمجھانے میں مشکل ہوتی تھی۔ حالانکہ انکے بھائی ہارون علیہ السلام جو کہ فصیح اللسان تھے اور یہ انکے چھوٹے بھائی تھے۔۔مگر اللہ نے انھیں ہی چنا اس دنیا کے سب سے متکبر شخص کے سامنے جا کر اللہ کا پیغام پہنچانے کے لیے۔۔۔
یہ اللہ کا چناؤ تھا۔۔۔
پھر اسلام کی تاریخ میں دیکھیں۔۔۔جنت میں نبی کے آگے چلنے والے کا دنیاوی سٹیٹس،اسکا حسن اسکا مال۔۔کیا تھا۔۔۔وہ ایک حبشی غلام تھے۔ مگر سبحان اللہ۔۔میرے رب نے ان غلام کے آقا کی بجائے ان غلام کو ہدایت کے لیے چنا۔۔

پتہ کیا۔۔۔ *رب اندر دیکھتا ہے*۔۔۔دنیا باہر دیکھتی ہے۔۔۔تو اگر اللہ نے تمھیں دین کے لیے چنا ہے نا۔۔۔تو کبھی خود کو دنیا کی نظر سے نہ دیکھنا۔۔۔اس رب کی نظر سے دیکھنا۔۔وہ تم سے محبت کرتا ہے *اسی لیے تو اس دین کے لیے،اس ہدایت کے لیے،اس قرآن کے لیےچنا۔۔۔ورنہ تمھارے آس پاس لوگوں کی کمی تھوڑی ہے*۔۔۔۔۔۔۔۔۔

29/04/2021

حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ایک صحابی رضی الله تعالی عنہ تھے جن کا نام حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ تھا وہ بھی غلام تھے حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ دیہات سے سبزی لاتے اور مدینہ منورہ میں بیچا کرتے تھے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ کو مدینہ منورہ شہر کی اشیاء ہدیہ کرتے تھے

ایک دن حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ مدینہ منورہ کے بازار میں سبزیاں بیچ رہے تھے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم خاموشی سے گئے اور پیچھے سے جا کر حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیا حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم آنکھیں دبا رہے ہیں مگر حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ خاموش ہیں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے ہاتھوں کی خوشبو مبارک سے حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ کو پتہ چل چکا تھا کہ میری آنکھوں پر حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے دست مبارک ہیں

حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ نے تھوڑا پیچھے کی طرف جھک کر اپنی کمر کو حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم چھاتی مبارک کے ساتھ مس یعنی رگڑنا شروع کر دیا حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ کی آنکھوں کو دبا رہے ہیں کہ وہ مجھے بتائیں کہ میں کون ہوں لیکن وہ خاموش ہیں بولتے ہی کچھ نہیں

سپنے دے وچ ماہی ملیا تے میں گل اچ پا لیا باہواں
ڈر دی ماری میں انکھ نہ کھولاں کتھے فیر وچھڑ نہ جاواں

حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے خود ارشاد فرمایا کون ہے جو اس غلام کو خریدے گا حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ نے عرض کیا یاسیدی یارسول اللہ صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم مجھے کس نے خریدنا ہے میں تو بہت سستا ہوں حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا ظاہر رضی الله تعالی عنہ اے ذولیدین دو ہاتھوں والے آپ اللہ کے ہاں بہت مہنگے ہو ایک نے صحابہ کرام رضوان الله عنہم اجمعین سے پوچھا ذولیدین کہاں ہے اس کے بعد حضرت ظاہر رضی الله تعالی عنہ کا نام ذولیدین مشہور ہو گیا کسی نے حضرت ذولیدین رضی الله تعالی عنہ سے پوچھا آپ رضی الله تعالی عنہ کا اصل نام کیا ہے ؟ حضرت ذولیدین رضی الله تعالی عنہ نے فرمایا میرا نام ذولیدین رضی الله تعالی عنہ ہی ہے جس دن سے حضور نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے مجھے ذولیدین کے نام سے پکارا ہے بس اسی دن سے میرا نام ذولیدین رضی الله تعالی عنہ ہی ہے
❤️😘❤️😘❤️😘❤️😘❤️❣️😘❤️❣️😘❤️❣️

Want your school to be the top-listed School/college in Daska?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Stadium Road Daska Sialkot Pakistan
Daska
51510