Danda Shah Bilawal Science College For Boys and Girls

Danda Shah Bilawal Science College For Boys and Girls Educational institute

09/05/2023

*Important Notice*

This is notified for all concerned that as per directions received from SED, all Public and Private Schools shall *remain closed* tomorrow on 10.5.23.

SSC exams tomorrow's paper is also postponed and will be held later.

However all offices of the Distt. Education Authority (CEO, DEOs and Dy.DEOs) shall remain open as usual.

Dr.Javaid Awan
CEO.DEA.CHAKWAL

09/05/2023
18/10/2022

ایک دانا آدمی کی گاڑی گاوں کے قریب خراب ہوگئی اس نے سوچا کہ گاوں سے کسی سے مدد لیتا ہوں
وہ جیسے ہی گاوں میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا ہے اور اس کے قریب مرغیاں دانہ چگ رہی ہیں ان مرغیوں میں ایک باز کا بچہ بھی ہے جو مرغیوں کی طرح دانے چگ رہا ہے وہ حیران ہوا اور اپنی گاڑی کو بھول کر
اس بوڑھے شخص سے کہنے لگا کہ یہ کیسے خلاف قدرت ممکن ہوا کہ ایک باز کا بچہ زمین پر مرغیوں کے ساتھ دانے چگ رہا ہے
تو اس بوڑھےشخص نے کہا دراصل یہ باز کا بچہ صرف ایک دن کا تھا جب یہ پہاڑ پر مجھے گرا ہوا ملا میں اسے اٹھا لایا یہ زخمی تھا میں نے اس کو مرہم پٹی کرکے اس کو مرغی کے بچوں کے ساتھ رکھ دیا جب اس نےپہلی بار آنکھیں کھولیں تو اس نے خود کو مرغی کے چوزوں کے درمیان پایا یہ خود کو مرغی کا چوزہ سمجھنے لگا اور دوسرے چوزوں کے ساتھ ساتھ اس نے بھی دانہ چگنا سیکھ لیا
اس دانا شخص نے گاوں والے سے درخواست کی کہ یہ باز کا بچہ مجھے دے دیں تحفے کے طور پر یا اس کی قیمت لے لیں میں اس پر تحقیق کرنا چاہتا ہوں
اس گاوں والے نے باز کا بچہ اس دانا شخص کو تحفے کے طور پر دے دیا
یہ اپنی گاڑی ٹھیک کروا کر اپنے گھر آ گیا
وہ روزانہ باز کے بچے کو چھت سے نیچے پھینک دیا کرتا مگر باز کا بچہ مرغی کی طرح اپنے پروں کو سکیڑ کر گردن اس میں چھپا لیتا
وہ روزانہ بلاناغہ باز کے بچے کو اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھاتا اور اس کہتا کہہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر
اسی طرح اس نے کئی دن تک اردو پنجابی سندھی سرائیکی پشتو ہر زبان میں اس باز کے بچے کو کہا کہ تو باز کا بچہ ہے مرغی کا نہیں اپنی پہچان کر
اپنے آپ کو پہچاننے کی کوشش کرو
آخر کار وہ دانا شخص ایک دن باز کے بچے کو لے کر ایک بلند ترین پہاڑ پر چلا گیا اور اسے کہنے لگا کہہ خود کو پہچاننے کی کوشش کرو تم باز کے بچے ہو اور اس شخص نے یہ کہہ کر باز کے بچے کو پہاڑ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا
باز کا بچہ ڈر گیا اور اس نے مرغی کی طرح اپنی گردن کو جھکا کر پروں کو سکیڑ لیا اور آنکھیں بند کر لیں تھوڑی دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں تو اس نے دیکھا کہ زمین تو ابھی بہت دور ہے تو اس نے اپنے پر پھڑ پھڑائے اور اڑنے کی کوشش کرنے لگا
جیسے کوئی آپ کو دریا میں دھکا دے دے تو آپ تیرنا نہیں بھی آتا تو بھی آپ ہاتھ پاؤں ماریں گے
تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنے آپ کو بیلنس کرنے لگا کیونکہ باز میں اڑنے صلاحیت خدا نے رکھی ہوتی ہے
تھوڑی ہی دیر میں وہ اونچا اڑنے لگا
وہ خوشی سے چیخنے لگا اور اوپر اور اوپر جانے لگا
کچھ ہی دیر میں وہ اس دانا شخص سے بھی اوپر نکل گیا اور نیچے نگاہیں کرکے اس کا احسان مند ہونے لگا
تو دانا شخص نے کہا اے باز میں نے تجھے تیری شناخت دی ہے اپنے پاس سے کچھ نہیں دیا
یہ کمال صلاحیتیں تیرے اندر موجود تھیں مگر تو بے خبر تھا
یہی معاملہ ہم لوگوں کے ساتھ ہے

🇵🇰ہماری ایک خاص شناخت ہے

🕋 ہم ایک خاص امت کے ارکان ہیں

🚀 ہم ایک ایٹمی ملک کے شہری ہیں

ہمارے اندر اللہ رب العزت نے بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں

مگر پرابلم یہ ہے کہ ہمارے ارد گرد بے شمار مرغیاں ہیں جن میں ہمارے ٹی وی چینل اور اخبارات بھی شامل ہیں

جو مسلسل ہم کو بتاتے ہیں کہ ہم باز کے بچے نہیں مرغی کے بچے ہیں

جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم سپر پاور نہیں ہو سپر پاور کوئی اور ہے

جو مسلسل بتاتے ہیں کہ تم بہادر اور طاقتور نہیں ہو بلکہ بزدل اور کمزور ہو

تمھاری تو قوم ہی ایسی ہے

تم دہشتگرد ہو تم لوگ آگے نہیں بڑھ سکتے

کامیابی کی شرط یہ ہے کہ ہم خود کو پہچاننے کی کوشش کریں تاکہ ہم ایک بہترین امت اور بہترین قوم بن کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

15/10/2022

ٹیکساس کی ایک جیل میں 37 سالہ کارلا فے ٹکر کو موت کا انجکشن لگایا گیا ، ڈیتھ بیڈ پر لیٹے اس نے ھنس کے آنکھیں بند کر لیں ، ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور موت کا اعلان کر دیا اور کہا " ایسی پرسکون موت میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی"
کارلا دھندہ کرنے والی عورت تھی ، بچپن ھی سے وہ اپنی ماں کے ساتھ آتی جاتی اور نشے پر لگ گئی پھر آھستہ آھستہ ماں کے نقش قدم پر چلنے لگ پڑی ، 10 سال بعد اُسے خیال آیا کہ اُسے اس دھندے کو چھوڑ کے کچھ اور کرنا چاھیئے ، سو اس نے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ گاڑی چھیننے کی سکیم بنائی ، موقعہ واردات پر مزاحمت ھوئی اور کارلا اور اس کے بوائے فرینڈ نے امریکی جوڑے کو گھبرا کے قتل کر دیا ، کچھ دنوں بعد دونوں پکڑے گئے اور عدالت نے سزائے موت سنا دی ، پھیر اپیلوں کے چکروں میں کافی عرصہ گزرتا گیا ، اس دوران جیل کے عملے نے دیکھا کہ کارلا جو کہ شرابی اور بد زبان عورت تھی اس نے اچانک سب کچھ چھوڑ کر بائبل کی سٹڈی شروع کر دی ، اس کی زبان صاف ھو گئی اور اخلاق بہت اچھا ھو گیا ، وہ اکثر اپنے سیل میں بائبل پڑھتی رھتی ، ملنا جلنا اور بات چیت ختم کر دی۔
ایک سال بعد وہ مبلغہ بن گئی اور ایسی مبلغہ جس کے الفاظ میں تاثیر تھی ، اس نے جیل میں ھی تبلیغ شروع کر دی ۔ عبادت و ریاضت کو اپنا معمول قرار دے دیا اور جیل میں کئی لوگوں کی زندگیاں ھی بدل دیں۔ وہ لوگ جو اسے قاتلہ اور سنگ دل کہتے تھے وہ اس کے پیچھے چلنے لگے اور جیل میں ایک روحانی انقلاب آ گیا ۔ اس بات کی خبر جب میڈیا کو پہنچی تو وہ جیل پر ٹوٹ پڑے ، پھر ھر اخبار میں کارلا کی ھیڈ لائن لگی ۔ ھر شخص نے اس کے فوٹو اُٹھائی اور اسے معاف کرنے کے لیئے مظاھرے ھونے لگے ، حقوق انسانی کی تنظیموں نے امریکہ میں " کارلا بچاؤ" تحریک شروع کر دی اور احتجاج یہاں تک بڑھا کہ زندگی میں پہلی بار پوپ جان پال نے عدالت کو سزا معافی کی باقاعدہ درخواست دے دی لیکن عدالت نے ٹھکرا دی
سزائے موت سے پندرہ دن قبل کنگ لیری نے CNN کے لئیے اس کا انٹرویو جیل میں کیا اس انٹرویو کے بعد پورے امریکہ نے کہا کہ نہیں یہ وہ قاتلہ نہیں یہ معصوم ھے۔ لیری نے پوچھا " تمھیں موت کا خوف محسوس نہیں ھوتا" ، کارلا نے پر سکون انداز میں جواب دیا " نہیں بلکے میں اس رب کو ملنا چاھتی ھوں جس نے میری پوری زندگی ھی بدل دی"
امریکی شہریوں نے متفرقہ رحم کی اپیل "ٹیکساس بورڈ آف پارڈن اینڈ پیرول" کے سامنے پیش کی ۔ بورڈ نے سزا معافی سے انکار کر دیا ، فیصلہ سن کر عوام ٹیکساس کے گورنر جارج بُش کے گھر کے سامنے آ گئے اور احتجاج کرنے لگے ۔ امریکہ کے سب سے بڑے پادری جیکی جیکسن نے بھی کارلا کی حمایت کر دی ، بُش نے درخواست سنی اور فیصلہ کیا کہ مجھے کارلا اور جیکی جیکسن سے ھمدردی ھے لیکن مجھے گورنر قانون پر عمل داری کے لئیے بنایا گیا ھے سزا معاف کرنے کے لئیے نہیں ، وہ اگر فرشتہ بھی ھوتی تو قتل کی سزا معاف نہ ھو سکتی"
موت سے دو روز قبل کارلا کی رحم کی اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو جج نے یہ کہہ کر درخواست واپس کر دی " اگر آج پوری دنیا بھی کہے کہ یہ عورت کارلا نہیں کوئی مقدس ھستی ھے تو بھی امریکن قانون میں اس کے لئیے ریلیف نہیں جس عورت نے قتل کرتے ھوئے دو انسانوں کو رعایت نہیں دی اسے دنیا کا کوئی قانون رعایت نہیں دے سکتا ھم خدا کے سامنے اُن دو لاشوں کے جوابدہ ھیں جنہیں کارلا نے مار ڈالا"
جب میں یہ سوچتا ھوں کہ وہ کیا معجزہ ھے جو امریکہ جیسے بیمار اور سڑے ھوئی معاشرے کو زندہ رکھے ھوئے ھے تو مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا وہ قول یاد آ جاتا ھے " معاشرے کفر کے ساتھ زندہ رہ سکتے ھیں لیکن نا انصافی کے ساتھ نہیں "

Address

Danda Shah Bilawal

Telephone

+923002463513

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Danda Shah Bilawal Science College For Boys and Girls posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Danda Shah Bilawal Science College For Boys and Girls:

Shortcuts

Share

Category