علم کی فضیلت ، اہمیت و افادیت ، حضور سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ
علم، ادب ، محنت ، صحت ، تحقيق
سبق پڑھ صداقت کا، شجاعت کا، عدالت کا، لیا جائیگا کام تج? Introduction of Roohani Talaba Jamaat
Roohani Talaba Jamaat was founded in 05th Oct. 1975.
Today it has its branches all around Pakistan. Its head office is located at Allah Abad Sharif Kandyaro. The students associated with this organization have in them strictness of Shariat. Students of school, colleges and Universities are the members of this organization. These students are very prominent in their manners. Following Sunnah and the basics of Islam have great importance in their live
24/11/2021
18/03/2021
موسمياتي تبديلي ۽ سنڌ جي زراعت ---
گذريل 2 ڏھاڪن کان موسمياتي تبديلين دنيا کي ڪافي تبديل ڪري ڇڏيو آھي ۽ ان متاثرن م پاڪستان به شامل آھي ھيل موسميات کاتي جي پيشگي اڳڪٿي موجب سنڌ م معمول کان وڌيڪ برسات پوندي ۽ کنوڻ جي واقعن م تيزي ايندي
1. زمين مان اسين صدين کان اپت کڻون ٿا ڪمايون ٿا مگر موٽ م ڏيون ڪجھ به نٿا جنھن ڪري زمين جي زرخيزي گھٽجي وئي آھي ڪيميائي ڀاڻن جو سھارو ورتوسين مگر ھاڻ حالت اھا آھي جو اھي به اثر نٿا ڪن ڇاڪاڻ ته ھڪ نقلي آھن ان لا۽ نھايت ضروري آھي ته اسين وٿاڻ جو ڀاڻ استعمال ڪيون ان سان زمين بھتر ٿيندي فصل سٺو ٿيندو ڪلر کي ختم ڪرڻ لا۽ جپسم جو استعمال ڪجي ۽ ماھرن کان مشورو ڪجي
2.ٻج. اسان وٽان ديسي ٻج گم ٿي ويو آھي اسان جو سمورو دارومدار ھائبرڊ تي آھي ضروري آھي ته اسان ديسي ٻج ھٿ ڪيون محفوظ ڪيون ھاڻ ته مارڪيٽ م ميون ڀاڃين فصلن لا۽ ھائبرڊ م نئون قسم جي.ايم.او اچي پيو جنھن م جنياتي تبديلي ڪئي وئي آھي مگر دنيا جي ملڪن انکي رد ڪيو آھي ڇاڪاڻ ته اھي صحت لا۽ نقصانڪار آھن
3. پاڻي اسان لا۽ فصلن جانورن پکين لا۽ لازم آھي ۽ فصل کي به اسان جيان مٺو پاڻي کپي ان لا۽ پھرين فضول پاڻي کي روڪڻو پوندو فصل کي گوڏي جيترو پاڻي ڏئي اسين سمجھون ٿا ته ايئن صيحح آھي مگر اھو غلط آھي تيلي ٻجن م سرنھن سورج مکي ڄانڀو تر دالين م مڱ مسور چڻا وغيره انکان علاوه اسپنگر سونف ڪلونجي جوئر ٻاجھري ۽ ٻٻر جون ھڙيون لڳائي سٺو منافعو ڪمائجي سگھجي ٿو
4. ھر شئ لا۽ موسم ضروري آھي ھن وقت دنيا م گرمي پڌ م اضافو ٿيو آھي ان جا ڪافي سبب آھن بيدردي سان وڻن جي واڍي گاڏين ملز جو دونھون ٻيلن کي باھيون ڪوئلي جو استعمال گرمي م واڌ جو سبب بڻيو آھي ان لا۽ ضروري آھي ته وڻ لڳائجن سار سنڀال ڪجي وڻڪاري ڪجي
5. اسان کي ماھرن جي مشوري سان اھڙا فصل لڳائڻ کپن جن تي زرعي بيماريون حملو نه ڪن انکان علاوه زرعي زھر جو استعمال بند ڪرڻ کپي ۽ نم ڦودني تماڪ ٿوم جو محلول تيار ڪري اسپري ڪرڻو پوندو
تحرير------* ڊاڪٽر اسلام الدين مجيداڻو
چونڊ------* راجا حيدر علي ٿيٻو
🇵🇰🌳🐿️🐈🦜🙏🇵🇰
29/09/2020
؎
مَیں تجھ کو بتاتا ہُوں، تقدیرِ اُمَم کیا ہے
شمشیر و سَناں اوّل، طاؤس و رُباب آخر
اُس کی عمر اس وقت صرف چھبیس برس تھی جب اس نے 2005ء میں اپنے ملک کے چند بیوروکریٹس کو ایک ائیر فیلڈ پر مدعو کیا اور اپنے گھریلو ساختہ ڈرون طیارے کی اڑان بھرنے، پرواز کرنے اور کامیابی سے واپس اتارنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔۔اور پھر اسی جگہ انہیں قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ اگر اس کے پراجیکٹ کے لیے وسائل فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف مکمل طور پر ملکی ساختہ ڈرون تیار کر سکتا ہے بلکہ اس کا ملک اس شعبے میں دنیا کی سربراہی کر سکتا ہے اور یہ سب کچھ فقط پانچ سال کے عرصے میں ممکن ہے۔۔لیکن وہاں موجود کوئی بھی شخص اس پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھا۔
اس واقعہ کے ایک سال بعد ہی اس کی چھوٹی سی کمپنی نے ملکی سطح پر ایک مقابلہ جیتا اور اسے ترکش آرمی کے لیے پہلا کنٹریکٹ مل گیا۔۔
اور یوں اس کے لئے ترکی کے ڈرون پروگرام کا حصہ بننے کی راہ ہموار ہو گئی۔۔
2010ء وہ سال تھا جب ایک طرف امریکہ نے اسرائیل سے کشیدہ تعلقات کی بنا پر ترکی کو آرمڈ پریڈیٹر ڈرون دینے سے انکار کر دیا اور دوسری طرف چھ سال قبل شروع کئے گئے ترکی کے ڈرون پروگرام کے تحت پہلا تیار کردہ ڈرون پرواز کے پندرہ منٹ بعد ہی کریش لینڈنگ سے دوچار ہوا۔۔اگلے چند سال مزید ناکامیوں کے نہیں تھے لیکن کامیابی بھی کہیں موجود نہ تھی۔۔
دو ہزار پندرہ میں اسی نوجوان انجنیر سلجوق بےرکتار نے اپنی کمپنی کے تیارکردہ ٹی بی ٹو نامی ڈرون سے سولہ ہزار فٹ کی بلندی سے راکٹ کے زریعے اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا مظاہرہ کیا۔۔
یہ ترکی کی پہلی اسلحہ بردار ڈرون پرواز تھی۔۔ شام میں اپنے تینتیس فوجیوں کے جانی نقصان کے بعد ترکی نے اپنے ڈرونز کے زریعے مسلسل پانچ روز یوں جوابی کاروائی کی کہ روسی صدر کو ترکی کی شرائط پر براہ راست سمجھوتہ کرنا پڑا اس کے بعد لیبیا اور اب آذربائیجان میں ترکی کی ڈرون ٹیکنالوجی اپنا لوہا منوا رہی ہے۔۔
بے رکتار کی کمپنی کی طرف سے تیار کردہ دوسرا ایڈوانس ڈرون اپنی ابتدائی ٹیسٹ پروازیں مکمل کر چکا ہے اور اس سال کے آخر تک یہ ترکش آرمی کے آپریشنز کا حصہ ہو گا۔۔مذکورہ طیارہ چالیس ہزار فٹ کی بلندی تک پرواز کرنے کے علاوہ اپنے پیشرو طیارے سے پانچ گنا اضافی پے لوڈ لے جا سکتا ہے۔۔
ترکی کے ان مسلح ڈرونز کے خریداروں میں یوکرین اور قطر کے علاوہ تیونس بھی شامل ہے جسکا ترکی کے ساتھ ڈھائی سو ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے۔۔۔
وہ نوجوان انجنیر جس کی صلاحیتوں پر کوئی بیوروکریٹ اعتماد کرنے کو تیار نہیں تھا ٹھیک گیارہ سال بعد اس پر اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ترکی کے صدر محترم رجب طیب اردگان نے اسے اپنا داماد بنالیا اور اپنی بیٹی سمعیہ اردگان کی شادی اس نوجوان سے کردی۔۔۔
اب آتے ہیں اصل مدعے کی طرف۔۔۔
ترکی کے ڈرون پروگرام کے اس چیف آرکیٹیکٹ کو استنبول ٹیکنکل یونیورسٹی میں دوران تعلیم ہی یونیورسٹی آف پینسلوانیا کی طرف سے اسکالر شپ کی پیشکش ہوئی،، یہاں سے ماسٹرز ڈگری لینے کے فورا بعد ہی اسے میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے دوسری اسکالر شپ دی۔۔دوسرے ماسٹرز کی تکمیل کے بعدانہوں نے جارجیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پی ایچ ڈی مکمل کی اور واپس ترکی آگئے ۔۔
اس کے بعد کامیابیوں کی ایک نہ ختم ہونے والی داستان ہے۔۔۔
برین ڈرین تو سنتے آئے ہیں یہ برین ری گین کی کہانی تھی۔۔
اب ایک کڑوی کسیلی بات بھی سنتے جائیں۔۔گیلپ کے گزشتہ سال کے سروے کے مطابق دو تہائی پاکستانی بیرون ملک ملازمت کے خواہشمند ہیں اور ان کی نصف تعداد کبھی واپس پاکستان لوٹنے کا ارادہ نہی رکھتی۔۔ 🤔
1984ء میں اسی قسم کے کئے گئے سروے کے مطابق صرف سترہ فیصد افراد بیرون ملک سکونت اختیار کرنے کے خواہشمند تھے۔۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اگر بھول گئے ہوں تو پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے ڈاکٹر سعید اختر کا حشر تو یاد ہی ہوگا۔۔
دفعہ کریں سب حقیقت ٹی وی دیکھیں اور پاپا جونز کا پیزا کھائیں ۔باقی سب کچھ سبز چوغوں والے بابوں پر چھوڑ دیں۔
تحریر : برادرم قاضی نصیر عالم
19/07/2020
#صحت
جب معدے میں موجود اجزاء اور تیزاب وغیرہ غذائی نالی یا ایسوفیگس کی طرف آتے ہیں تو اس کیفیت کو GERD کہتے ہیں۔
یہ عام طور پر معدے کے مُنہ اور غذائی نالی کے ملنے کی جگہ کے پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے ہوتی ہے۔بار بار تیزابی مواد کے اوپر آنے کی وجہ سے یہ مقام کمزور ہوجاتا ہے۔
اس کی عام علامات میں سینے میں جلن،سینے کی ہڈیوں کے نیچے اور کندھے کی ہڈیوں کے درمیان شدید درد ہونا اور رات کو لیٹتے ہوئے بے چینی اور کھٹے ڈکار وغیرہ آنا ہیں۔
اس کی عام وجوہات میں جو چیزیں قابل ذکر ہیں وہ یہ ہیں
۱۔کھانا کھانے میں بے قاعدگی
۲۔کھانا جلدی جلدی کھانا
۳۔ کھانے می چکنائی کا زیادہ استعمال
۴۔رات کا کھانا دیر سے کھانا
۵۔ کھانا کھانے کے بعد لیٹ جانا
۶۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنا
۷۔شراب نوشی کی کثرت
۸۔ ذہنی دباؤ کا شکار ہونا
۹۔ موٹاپا
۱۰۔ دوران حمل بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں
اپنے معالج سے مشورہ کے ساتھ ساتھ اپنا لائف اسٹائل تبدیل کرنے سے اس بیماری سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔
لائف اسٹائل میں تبدیلی کیلئے آپ
۱۔ ورزش کریں
۲۔ بالکل چت نہ لیٹیں ۔۔۔ کروٹ میں لیٹیں ۔۔ سرکو پاؤں سے چند انچ اُونچا رکھیں۔
۳۔کھاناکھانے کے بعد جھٹکے یا وزن اُٹھانے سے گُریز کریں۔
۴۔صبح کی سیر کو اپنے معمولات میں شامل کر لیں۔
۵۔ تنگ اور چست لباس پہننے سے اجتناب کریں۔
۳۔ ایسی اشاء جو اس بیماری میں اضافے کا سبب بنتی ہیں جیسے کافی، چائے، باہر سے کھانا، شراب نوشی اور کھٹی اشیاء سے بچیں۔
مزید معلومات کیلئے اپنے معالج سے رجوع کریں۔
19/07/2020
دوست نے چھیانوے ہزار روپے کا آئی فون خریدا تو سب نے کہا “واؤ! پارٹی کب دوگے؟”
ایک اور دوست نے پچیس لاکھ کی گاڑی خریدی۔ دوستوں نے خوب مبارکباد دی اور پارٹی کے لیے مجبور کرنے لگے۔
ایک اور دوست نے تین کروڑ میں ایک کنال کا گھر واپڈا ٹاؤن میں تعمیر کیا اور دوستوں کی دعوت کی خوب دوستوں نے انجوائے کیا اور اللہ نصیب کرے کی دعائیں دی۔
لیکن جب میں نے پچیس ہزار روپے کا قربانی کا بکرا خریدا تو کئی چیخ اُٹھے " وَٹ دا ہیل اِز دِس؟ تمہارے ہمسائے کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں، کھانے کو کھانا نہیں، بچوں کے سکول کی فیس نہیں، کرونا کی وجہ سے لوگ بھوکے ہیں اور تم پیسے قربانی پر لگا رہے ہو۔ تمہیں چاہیے کہ غرباء میں نقدی تقسیم کردو۔
بندہ ان بگڑے ہوئے لوگوں سے پوچھے کہ موبائل، گاڑی، کروڑوں روپے کے گھر خريدتے وقت تمہاری خدمتِ خلق کہاں جاتی ہے؟؟؟
اور ان کو کون بتائے قربانی سے کتنے غرباء گوشت سے مستفیض ہوتے ہیں جن کو سال بھر گوشت میسر نہیں ہوتا۔🤔
01/06/2020
اوکاڑہ میں ایک تنظیم کی طرف سے ٹڈی کے تدارک کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے، انہوں نے لوگوں سے بیس روپے فی کلو کے حساب سے ٹڈیاں خرید کر مرغیوں اور مچھلیوں کی خواراک بنانے والے کارخانوں کو بیچی ہیں۔ صرف ایک رات میں ٹڈیاں اکٹھیاں کرنے والوں نے فی بندہ بیس ہزار روپے کمائے ہیں۔۔۔
اب حساب لگا لیں کہ ایک بندہ تیس دنوں میں تقریبا چھ لاکھ روپیہ کما سکتا ہے۔ ٹڈی صرف دن کو پرواز کرتی ہے، رات کے وقت یہ درختوں یا زمین پر جھنڈ کی شکل میں اکٹھا ہو جاتی ہے اور بےحس و بےحرکت ہوتی ہے لہذا اسے پکڑ کر تھیلوں میں اکٹھا کرنا بہت ہی آسان ہے۔۔۔
پاکستان امریکا سے سویابین درآمد کرتا ہے جس کا تیل نکالنے کے بعد اسکا بُھس مرغیوں کی خوراک بنانے والی کمپنیاں خریدتی ہیں۔ سویا بین کے بھس میں پروٹین کی مقدار پینتالیس فیصد ہوتی ہے جبکہ ٹڈی میں پروٹین کی مقدار ستر فیصد ہوتی ہے جو مرغیوں اور مچھلیوں کے لئے نہایت قوت بخش غذا ثابت ہو گی۔۔۔
مرغیوں کی خوراک کے لئے سویا بین کی بجائے ٹڈی کے استعمال سے زرمبادلہ کی بچت بھی ہو گی، مرغیوں کی خوراک کے لئے ٹڈی کو سکھا کر پاوڈر بنانے کا خرچہ ملا کر اسکی کل قیمت تیس روپیہ فی کلو پڑتی ہے جو سویا بین کی نوے روپے کلو قیمت سے کہیں کم ہے۔۔۔
کرونا کے بحران کی وجہ سے بیروزگار افراد کے لئے ٹھیک ٹھاک آمدنی کا یہ بہترین موقع ہے، اس سے معیشت کو بھی سہارا ملے گا، لوگوں کو روزگار بھی میسر ہو گا، فصلیں بھی نقصان سے بچیں گی، زر مبادلہ کی بچت بھی ہو گی، پولٹری فیڈ بنانے والوں کو سستا خام مال میسر ہو گا۔۔۔
ٹڈی کو تلف کرنے کے لئے حکومت کوکیڑے مار کیمیکلز اسپرے کے اخراجات بچانے میں مدد ملے گی اور ماحول کی بھی ان زہریلے کیمیکلز کے اثرات سے بچت ہو گی۔ حکومت کو چاہیئے کہ فوری طور اس منصوبے کو ضلعی انتظامیہ کی مدد سے نافذ کرے کہ اس میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔۔۔
17/05/2020
پچھلے مہینے 24 اپریل کو ان دو ڈاکٹرز نے ایک پچاس منٹ کی پریس کانفرنس کی، جس میں کرونا وائرس اور ہسپتالوں کے متعلق کچھ انکشافات کئے جو ڈبلیو ایچ او، میڈیا کے ذریعے اکثریت کے دماغ میں ٹھونسے جانے اور زبان زد عام کئے جانے والے موقف کے بلکل برعکس تھے.
ان کے موقف کے خلاف ACEP اور AAEM کے ڈاکٹرز نے سخت رد عمل دکھا کر ان کی مذمت کی. نتیجتاً ان ڈاکٹرز کی پریس کانفرنس کو یوٹیوب سے ہٹا کر آئندہ کے لئے BAN کر دیا گیا. اب کسی بھی پلیٹ فارم پر ان کی پریس کانفرنس کی تشہیر کی اجازت نہیں ہے.
ڈاکٹر ڈین اریکسن، بیکرزفیلڈ کیلیفورنیا کے ہسپتال میں پچھلے سولہ سال سے شعبہ ایمرجینسی میں کام کر رہے ہیں. جبکہ ڈاکٹر آرٹن مسیحی بھی آٹھ سال سے ان کے ساتھ اسی شعبے سے وابستہ ہیں. اپنے تعارف میں ان کا کہنا تھا کہ وہ Biochemistry، Immunology، اور Microbiology میں بیس، بیس سال کا تجربہ رکھتے ہوئے اپنے موقف کا اظہار کر رہے ہیں. ان کا کہنا تھا کہ:
١- دل کے امراض، کینسر اور دیگر جان لیوا بیماریوں میں مبتلا مریض اپنے علاج کے لئے بھی ہسپتالوں میں جانے سے خوف زدہ ہیں.
٢- کیلیفورنیا میں کرونا سے اموات کی شرح 0.03 فیصد ہے.
٣- کرونا وائرس کسی بھی طرح شرح اموات میں انفلوئنزا اے اور بی سے زیادہ مہلک نہیں ہے.
٤- انفلوئنزا بھی مہلک ہے، اس سے بھی اموات ہوتی ہیں، اس کی ویکسینیشن بھی موجود ہے. اس کے باوجود کتنے لوگ ویکسینیشن کرواتے ہیں؟
٥- سویڈن میں لاک ڈاؤن نہیں ہے. اس کے باوجود کیسز اور اموات کی تعداد کسی بھی طرح دیگر ممالک سے کم، یا قدرے برابر ہے جہاں مکمل لاک ڈاؤن، حتی کہ کرفیو ہے.
٦- لاک ڈاؤن کے نتیجے میں امریکہ سمیت تمام چھوٹی بڑی ریاستوں کی معیشتوں کو نقصان ہو رہا ہے. اس لئے لاک ڈاؤن، کرفیو فائدہ مند نہیں، نقصان دہ ہے.
٨- کرونا کے دوسرے تناظر کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس میں سماجی علیحدگی(Social Isolation) کے مضر اثرات سامنے آ رہے ہیں، جن میں پریشانی، فکرمندی، نوکری اور گھر بار کے خرچے کی پریشانی شامل ہے. گھروں میں چھوٹے بچے بھی خوف و پریشانی سے متاثر ہو رہے ہیں جس کا ان کی زندگی پر طویل عرصے تک گہرا منفی اثر رہے گا.
٩- دنیا میں خوف اور بےچینی کے باعث شراب نوشی اور خود کشی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے.
١٠- ہماری قوت مدافعت کو مضبوط ہونے کے لئے بیکٹیریا، وائرس اور اینٹی جنز کا سامنا کرنا ضروری ہے. سماجی ملاقات میں بھی بیکٹیریا کی منتقلی سے قوت مدافعت مضبوط ہوتی ہے.
ایک تو آپ نے خود کو تنہا کر لیا، مزید سینٹائیزر کا حد سے زیادہ استعمال شروع کر دیا جس سے تمام وائرسز اور بیکٹیریا ختم ہونا شروع ہوگئے جس سے جسم کی قوت مدافعت مقابلہ کرنے کے بعد خود کو مضبوط کرتی ہے. نتیجتاً جسم کی بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت مزید کمزور ہوگئی.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the school
Website
Address
Madarsa Kanzal Uloom Street
Dadu
76200