24/09/2026
زمانہ بہت تیزی سے بدل جاتا ہے۔
ایک بچہ مسلسل کام کر کے نہیں آ رہا تھا۔ میں نے اس کے والدین کو فون کیا کہ معلوم کر سکوں کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں، یا انہیں یہ بتا سکوں کہ بچہ کام کیوں نہیں کر رہا۔
والدین کے جواب نے مجھے حیران کر دیا۔ انہوں نے کہا:
"سر! بچوں کو لے کر اتنی فکر نہ کیا کریں۔ میں اکثر آپ کی ویڈیوز دیکھتا ہوں، آپ وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے ہیں۔ سر کے بال بھی اڑ رہے ہیں۔ آپ بچوں کو اپنی خوشی سے جتنا پڑھنا ہے، پڑھنے دیا کریں۔"
ان کا یہ جواب سن کر مجھے اپنا زمانہ یاد آ گیا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس دن ہمیں سکول میں سبق یاد نہیں ہوتا تھا، ہمارے محترم اساتذہ ہماری غلطی کی اصلاح کے لیے ہمیں سزا دیتے تھے۔ ہم سزا بھی برداشت کرتے، شرمندہ بھی ہوتے اور پھر سبق بھی یاد کرتے۔ لیکچر ختم ہونے پر استاد محترم سے منت سماجت بھی کرتے کہ "سر جی! آئندہ ہم کام کر کے آیا کریں گے، لیکن مہربانی کر کے گھر والوں کو نہ بتائیے گا کہ ہمیں سبق یاد نہیں تھا۔"
کیونکہ سکول سے ملنے والی سزا تو کچھ بھی نہیں تھی، گھر جا کر والد صاحب سے جو ڈانٹ اور سزا ملتی تھی، وہ اس سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔
وہ بھی ایک زمانہ تھا، جب والدین اور اساتذہ مل کر بچے کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری نبھاتے تھے۔
اور آج کا زمانہ ہے، جہاں بعض اوقات استاد کی فکر، محنت اور سختی کو بھی بچوں پر "زیادتی" سمجھ لیا جاتا ہے۔