Winter Tuition Camp

Winter Tuition Camp

Share

جو یقین کی راہ پہ چل پڑے انہیں منزلوں نے پناہ دی

08/03/2026

عورت مارچ ہر گلی اور محلے میں ہونا چاہیے ؟

تحریر : آفسر خان ، پولیٹیکل سائنس گریجویٹ

ہر 8 مارچ کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین مناتی جاتی ھے۔دنیا بھر میں مختلف پروگرامات اور ریلیاں نکال کر عورتوں کو ان کی موجودگی کا احساس دلایا جاتا ھے،کہ بھائی آپ بھی اس دنیا ہی کا حصہ ہوں۔آپ بھی مرد ہی کے برابر مخلوق ہوں۔عورت ہونا کوئی معیوب بات نہیں۔ آپ کی بھی اپنی الگ شناخت اور سوچ ہوسکتی ھے۔آپ بھی صحیح ہوسکتے ہوں ،ضروری نہیں ہر وقت مرد ہی درست ہو۔آپ کی بھی اپنی کوئی زندگی ھے ، اس کی فیصلے لینے میں آپ کو ہر وقت ایک فیلڈ مارشل کی ضرورت نہیں ۔ ورنہ سال بھر عورت دشمن معاشروں میں زندگی بسر کرتے کرتے خواتین خود بھی بھول جاتی ھے کہ وہ بھی انسانی معاشرے کا ہی حصہ ھے۔ان کی بھی انسانی حقوق ہوسکتی ہیں۔

پاکستان میں عورت مارچ کا یہ دن ہمیشہ سے ایک متنازعہ معاملہ ھے۔باقی دنیا میں یہ دن معمول کے مطابق منائی جاتی ھے،خواتین کی معاشرے میں حیثیت کو تسلیم کیا جاتا ھے ،اس حوالے سے کمی کوتاہیوں کو اجاگر کیا جاتا ھے اور آئندہ ان پر کام کرنے کی عزم کے ساتھ اس دن کا اختتام ہوتا ھے۔مگر پاکستان میں وہ طوفان کھڑا کیا جاتا ھے کہ گویا خواتین کا عالمی دن نہیں بلکہ مردوں کو دنیا بدر کرنی کی کوئی دن منائی جارہی ہوں۔عورت دشمن ذہنیت کا یہ عالم ھے کہ باقاعدہ عدالت سے اجازت نامہ لیکر عورت مارچ کیا جاتا ھے۔اس مارچ میں کونسی بات کرنی ھے ،کیا نعرہ ہونا چاہیے یہ سب ایک مرد جج ان کو بتاتا ھے۔ان حالات کا سامنا کرتے ہوئے کوئی ریلی وغیرہ نکال بھی لے تو سوشل میڈیا پر ان کا وہ مذاق اڑایا جاتا ھے کہ شیطان بھی اپنی وجود پر سوال کرنے پر مجبور ہوتا ھے کہ ان کے ہوتے ہوئے مجھے یہاں ہونا چاہیے کہ نہیں؟

عورت مارچ مخالفین سادہ سا منطق پیش کرتے ھے، کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو کوئی مسئلہ ہی نہیں ھے ،سب کچھ تو چنگا ھے ۔پھر یہ شور شرابا کیوں؟۔بھائی لوگ جو ظلم اور ناانصافی ہمارے معاشرے میں عورتوں پر ھے شاید ہی کہیں ہوں۔حقیقت تو یہ ھے عورتوں کے وجود کو ہی معیوب نظروں سے دیکھا جاتا ھے ۔بیٹی کی پیدائش کا خبر سنتے ہی منہ سیاہ کرنے سے شروع ہونی والی کہانی عزت کی ٹھیکہ کل کے ساتھ عمر بھر جاری ساری رہتی ھے۔مرد حضرات بحیثیت ایک بھائی،باپ یا شوہر اپنے ماتحت خواتین کے ساتھ ایک ڈیکٹیٹر کا سلوک کرتے ہیں ۔بہن،ماں ،بیوی چاہے عمر ،ذہانت اور معاملہ فہمی کتنی اچھی کیوں نہ مگر ان سب کے زندگی کے فیصلے یکطرفہ طور پر ان کے خاندان کے مرد ہی کرینگے ۔چاہیے وہ مرد عقل اور شعور کے معاملے میں کتنے ہی پستی کا شکار کیوں نہ ہوں۔مرد ہونے کی بنیاد پر ایک عالمگیر سرٹیفیکیٹ ہمیں دیا گیا ۔ ہم جب چاہے جو چاہیے اپنی متعلقہ عورت کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ لے سکتے ھے ۔

میں خود بیس بائیس سال کی عمر میں سینکڑوں ایسی خواتین کی زندگیاں محض ان کی گھر والوں کی غلط فیصلے،غیرت کے نام پر برباد ہوتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں۔نہ ہی ان کی شادی میں کوئی ان سے پوچھنے کی زحمت کرتا ھے،نہ ہی شرعیت کا ان کو دیا گیا جائداد میں ان کو حصہ دی جاتی ھے۔ اگر اپنی مرضی سے شادی کرنی کی بات کرے، تو بدکرداری کا لیبل چسپاں کیا جاتا ھے ،جائیداد میں اپنی جائز حصہ مانگے،تو زندگی بھر کے لیے خاندان سے لاتعلق کردیا جاتا ھے۔ نام کے ہم سب مسلمانوں کو خوب پتہ ھے،کہ جائیداد میں مرد کے مقابلے پہلے ہی سے آدھا حصہ خواتین کا شرعی حق ھے۔اوپر سے نکاح کے لیے بھی مرضی لازمی شرط ھے ۔اس میں زور زبردستی ڈال کر قبول ھے قبول ھے منہ سے نکلوانے سے نکاح ہوتی ھے یا نہیں کیسی کو کچھ پتہ نہیں ،اس صورت کے بارے اہل علم ضرور رہنمائی فرمائے،منتظر رہونگا۔

مگر ہمیں سمجھائے تو کون سمجھائے ، کہ محض عورتوں پر حکم جاری کرنا ہی مردانگی نہیں ۔اگر ہم اتنے ہی غیرت مند ھے تو کتنے ہم میں ایسے ھے جنہوں نے نکاح کے بعد اپنی شریک حیات کو اس کا حق مہر پورا پورا ادا کردیا ہو۔حق مہر نکاح کے بعد بیوی کو ادا کرنا اس کا شرعی اور قانونی حق ھے۔مگر جب بات اپنی جیپ پہ آئے تو ہمارا مسلمانیت اور انسانیت گھاس چرنے جاتی ھے۔ہمارے ہاں نکاح کے وقت حق مہر بجلی کی بلوں کی طرح نکاح نامے میں درج تو کی جاتی ھے ۔مگر ادا کرنے کے بارے میں کوئی فکرمند نہیں ہوتا ۔یہ وارثت میں حصہ ، شادی میں مرضی اور نکاح کے بعد حق مہر ہی خواتین کو ملے تو وہ با اختیار ہوسکتی ھے۔ باقی حقوق چھوڑے,صرف یہ تین شرعی حقوق بھی اگر ہمارے نام کے اسلامی معاشرے میں عورتوں کو دلوا دیے جائے، تو ازل سے جاری ان کے ساتھ ناانصافی کا کچھ تو ازالہ شاید ہوسکے ۔اسلام نے تو عورتوں کو حقوق دئیے مگر ہم کب دے رہے بات صرف اتنی سی ھے؟

Photos from Winter Tuition Camp's post 27/02/2026

بروز جمعرات 26 فروری کو ونٹر ٹیوشن کیمپ 6th ایڈیشن کا شاندار اختتامی تقریب ہر سال کی طرح اس سال بھی منعقد ہوا۔اس تقریب کا مقصد ونٹر ٹیوشن کیمپ سے وابسطہ تمام طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی،اسسمنٹ پیپرز کے رزلٹ ڈیکلریشن اور دیگر تعلیمی مقابلوں کا انعقاد کرنا تھا۔اس شاندار پروگرام میں علاقے کے معززین اور طلبہ کے والدین بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔خاص کر مولانا الیاس صاحب ، ریٹائرڈ صوبیدار جلال الدین صاحب،فدا محمد صاحب اور مولانا حفیظ اللہ صاحب بطور مہمان خاص اس تقریب کو رونق بخشی۔تمام مہمانوں نے ونٹر ٹیوشن کیمپ کے چھ سالہ تعلیمی سفر اور کامیابیوں کو علاقے کے لیے ایک نعمت قرار دیا۔تمام طالب علموں کو فکر انگیز باتیں اور نصیحتیں بھی کیں۔ساتھ ہی سب معزز مہمانوں نے ٹیم ٹیوشن کیمپ کے ساتھ اپنے ہر ممکن مدد کی بھی یقین دہانی کرائی۔

دو مہینے کے سیشن کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ،اسسمنٹ پیپرز میں پوزیشن ہولڈرز ،نعت،اردو /انگلش تقریری مقابلوں میں پوزیشن لینے والے طالب علموں کو ہمارے معزز مہمانوں کے ہاتھوں سرٹیفکیٹس ،ایوارڈز،ٹرافی اور کیش پرائزز سے نوازا گیا۔کلاس دہم میں ماہا انور ،نہم میں سہراب احمد ،میڈل کلاسز میں وجیدہ ظفر ، پرائمری کلاسزز مروہ سید نے فرسٹ پوزیشن حاصل کیے۔اس کے علاوہ انگلش تقریر میں مومنہ مراد ، اردو تقریر مروہ سید اور نعت خوانی میں مہوش پہلی انعام کے حقدار ٹھرے۔ پیپرز اور مقابلوں میں دوسری اور تیسری پوزیشن ہولڈرز کو بھی ایوارڈز اور انعامات سے نوازے گئے۔

اس کے علاوہ انفرادی مضامین میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو بھی خصوصی انعامات دے دی گئی،کیونکہ ہمارا ماننا یہ ھے کہ ہر طالب علم میں کم از کم اتنی صلاحیت تو موجود ہوتی ھے کہ انہیں ان موقعوں پر محروم نہ رکھا جائے۔کانفیڈنس بلڈنگ ہوتا ہی اس طرح ھے۔اس لیے ہر سال ورکوپ کے اکثر ہائی اور پرائمری اسکولوں میں سالانہ امتحانات میں پوزیشن ہولڈرز ہمارے ونٹر ٹیوشن کیمپ سے وابسطہ طلبہ ہی ہیں۔ہم دعوے کے ساتھ یہ کہ سکتے ہیں ،اس سال بھی بورڈ امتحانات میں دونوں ہائی اسکول میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طالب علم ہمارے ٹیوشن کیمپ ہی کے ہونگے۔ کیونکہ جن مراحل سے ہم نے انہیں گزار کر تیاری کروائی ھے ،انہیں کامیاب ہونا ہی ہیں۔

اس موقع پر میں خاص پر طور پر دیار غیر میں مقیم اپنے بھائی نصیر احمد اور بھائی شجاع سالار کا خاص طور شکر گزار ہوں ،کہ انہوں نے اس سال بھی ہمیشہ کی طرح تمام ایوارڈز اور انعامات اپنے طرف سے طلب علموں کے لیے مہیا کیں۔آپ دونوں ہمیشہ سے اپنے علاقے کے لیے درد دل رکھنے والے لوگ ہیں۔آپ دونوں کی ہر قسم کی ہمدردیاں روز اول سے اس تعلیمی کیمپ کے ساتھ جڑے ہیں۔ساتھ ہی میں مولانا الیاس اور حفیظ اللہ صاحب کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ ہر وقت ہمارے درمیان موجود ہوکر ہمارا حوصلہ بلند رکھتے ہیں۔ہم اپنی بہن محمودہ فضل اور بھائی سلمان اللہ کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ھے ،جو اس سال اس سفر کا حصہ بن کر بطور ٹیچرز اپنی خدمات سر انجام دی۔ہم ہر اس انسان کے شکر گزار ھے جو اپنے شکوہ ظلمت کے بجائے اپنے حصے کا شمع روشن کرنے پر یقین رکھتا ھے۔اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔۔۔ آمین

25/02/2026

کل بروز جمعرات 26 فروری 2026 کو ونٹر ٹیوشن کیمپ چھٹے ایڈیشن کا گرینڈ سیرمنی منعقد ہوگا۔تقریب میں اسسمنٹ پیپرز کے رزلٹ انوسمنٹ کے ساتھ ساتھ تقریری مقابلے اور دیگر ایونٹس بھی شامل ہونگے۔اس تقریب میں علاقے کے معزز مہمانوں کے ساتھ ساتھ کثیر تعداد میں طلبہ بھی شریک ہونگے۔ ہم ہر خاص و عام کو دعوت دیتے ہیں کہ کل صبح دس بجے گورمنٹ پرائمری اسکول ورکوپ گولامڑی میں اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے۔ انشاء اللہ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ پروگرام ہر لحاظ سے بہترین ہوگا۔

Photos from Winter Tuition Camp's post 21/02/2026

The Winter Tuition Camp Assessment papers kicks off today.This important phase of assessment will run for the next four days.We are pleased to see our students, divided into five clusters, participating diligently in the examination. Best of luck to everyone.💫👌🌏🎉👍

16/02/2026

6th edition of 👌💫🌏

Want your school to be the top-listed School/college in Peshawar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Upper Chitral Tehsil Torkhow Mulkhow
Peshawar