DEDICATED TO ALL TEACHERS
I AM A TEACHER...✍️
I May be a School Teacher,
I May be a College Lecturer,
I May be a University Professor !
Behind That Doctor,
It is Me, a Teacher.
Behind That Engineer,
It is Me, a Teacher.
Behind That Statistician,
It is Me, a Teacher.
Behind That Nuclear Physicist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Mathematician,
It is Me, a Teacher.
Behind That Scientist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Zoologist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Entomologist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Botanist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Economist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Entrepreneur,
It is Me, a Teacher.
Behind That Lawyer,
It is Me, a Teacher.
Behind That Political Scientist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Psychologist,
It is Me, a Teacher.
Behind That Architect,
It is Me, a Teacher.
Behind That Astrologer,
It is Me, a Teacher.
Behind That Astronomer,
It is Me, a Teacher
I Carry the Light Even though they mostly make Fun of Me by their Uncharitable Jokes
But I am a Teacher.
I don't Qualify for a Bungalow or a Villa nor Earn enough to buy an Expensive House or a Car like Corrupt Officers and Corrupt Politicians.
But Yes, I am a Teacher.
Some Think or even Say that I have too many Holidays. They never know that I Spend those Holidays either correcting Papers or Planning what and how I am going to Teach when I go back to Blackboard or Whiteboard ...
Because I am a Teacher.
Sometimes I get Confused and even get Stressed by the Ever-changing Policies over what and how I have to Teach ...
Despite All That, I am a Teacher and I Love to Teach and I am Teaching.
On Pay-days I don't Laugh as Corrupt Officers and Others do, But by the Next day I Love to come with a Smile to those that I Teach ...
Because I am a Teacher 👏
I am a proud teacher no matter what.
Superior Academy Of Sciences Chishtian
M.Phil and PhD teachers.. Multimedia Projector based Lectures.. Superior Academy of Sciences (Chishtian).. Multimedia Projector based Lectures system..
Academy Adress: Near DPS School, (Dr.Azhar Farooq Street) Baldia Road Chishtian.. All the teachers are Experienced and Talented ALHUMDULILLAH.. Girls and Boys separate Classes.. Very reasonable Fee structure.. Weekly and Monthly Tests System.. Notes of Every subject will be provided to students in the academy..
23/10/2024
وہ دوست جو مچھلی 🐠 کھانے کے شوقین ہیں
لیکن پہچان نہیں وہ یہ چارٹ محفوظ کر لیں۔
مچھلی٬ سونے کی قیمت میں ملے تو بھی کھائیں
جیسے ہی سردیوں کے موسم کا آغاز ہوتا ہے تو ہم لوگ سردی سے بچنے کے لئے اپنی خوراک میں طرح طرح کے میوہ جات ،مزے مزے کے سوپ،خوش ذائقہ پکوان اور مچھلی کا استعمال بڑھا دیتے ہیں ۔لیکن آج میرا موضوع مچھلی سے متعلق ہے۔ہمارے ہاں کئی قسم کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں۔ان میں مشہور اقسام بام،رہو،گلفام،ٹراؤٹ ،مشاہیر، سلور،سنگھاڑا اور تھیلہ قابل ذکر ہیں۔خیر مچھلی کی ہر اقسام میں اﷲ تعالیٰ نے ہمارے لئے بے شمار فوائد چھپا رکھے ہیں جن سے ہمیں بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیئے تاکہ ہم تندرست و توانا رہ سکیں۔
مچھلی میں پوٹاشیم، فولاد، آئیوڈین، پروٹین، وٹامن اے،وٹامن 12 ، وٹامن ڈی ،سلینیئم،فاسفورس اور میگنیشئم پایا جاتا ہے۔اس میں پروٹین 60%، فیٹ 10%، وٹامن 181% 12،وتامن اے 50% ، سلینئیم 67% ، فاسفورس 33% اور میگنشیم 16 % موجود ہوتا ہے۔اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مچھلی ہمارے لئے کتنی اہم غذا ہے۔ہمیں اسے سردیوں میں نہیں بلکہ پورا سال ہی ہفتے میں کم از کم ایک بار ضرور استعمال کرنا چائیئے تبھی ہم اس سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں بے شک آپ تھوڑی مقدار میں کھائیں لیکن اسے ہفتے میں ایک بار ضرور کھائیں۔
جب آپ بازار سے مچھلی خریدنے جائیں تو تازہ مچھلی ہی خریدیں کیونکہ باسی مچھلی آپ کی صحت کو خراب کر سکتی ہے۔تازہ مچھلی کی پہچان آپ چند چیزوں پر عمل کر کے دیکھ سکتے ہیں۔پہلے مچھلی کی آنکھیں دیکھیں اگر ان میں چمک ہے تو یہ تازہ مچھلی ہے اس کے علاوہ اس کے جسم کو انگھوٹھے سے دبائیں اگر جسم پر گڑھا پڑ جائے تو یہ تازہ مچھلی نہیں ہے اسی طرح اس کے پروں کو کھینچ کر دیکھیں اگر آسانی سے علیحدہ ہو جائیں تو یہ بھی خراب مچھلی کی نشانی ہے اس کے علاوہ گلپھڑے سے دیکھیں کہ وہ سرخ ہے تو تازہ ہے اور اگر کالا ہے تو باسی مچھلی کی نشانی ہے۔
مچھلی خریدنے کے بعد آپ اس کو نمک ،لیموں اور اجوائن لگا کر تھوڑی دیر کے لئے رکھ دیں جب تمام پانی نکل جائے تب اس کو دھو لیں اب اس پر مصالحے لگا کر تقریباً چوبیس گھنٹوں کے لئے فریزر میں رکھ دیں تاکہ مصالحہ اچھی طرح مچھلی میں جذب ہو جائے اس طرح مچھلی کا ذائقہ دوبالا ہو جائے گا۔اور کھانے میں بھی لطف آئے گا۔مچلی میں انتہائی کم کیلریز ہوتی ہیں اس لئے اس کو ہر کوئی کھا سکتا ہے۔اپنے بچوں کو مچھلی ضرور کھلائیں کیونکہ اس سے ان کی یاداشت اور نظر تیز ہوں گی
ابھی آپ کو مچھلی کے فوائد کے بارے میں بتاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔
مچھلی کے فوائد:
٭ مچھلی کھانا دماغ اور یاداشت کے لئے فائدہ مند ہے۔
٭ مچھلی کھانا دل کے لئے مفید ہے۔
٭ مچھلی ہماری ہڈیوں کو بھی مظبوط بناتی ہے۔
٭الزائمر کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے۔
٭مچھلی کھانے سے آپ ذہنی تناؤ سے بچے رہتے ہیں۔
٭ مچھلی کھانے سے جسم میں خون جمنے نہیں پاتا۔
٭ مچھلی کھانے سے آپ ذیابیطس جیسے مرض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
٭ مچھلی کھانے سے آپ سرطان سے بچ سکتے ہیں۔
٭ مچھلی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے انمول تحفہ ہے۔
٭مچھلی کھانے سے آپ کی جلد چمکدار ہو جاتی ہے۔
٭ مچھلی آپ کے بالوں کی حفاظت کرتی ہے۔
٭ مچھلی کھانے والوں کی عمر طویل ہوتی ہے۔
٭مچھلی آپ کے وزن کو متوازن رکھنے میں مدد گار ہے۔
٭ مچھلی کھانا مرد حضرات کے لئے فائدہ مند ہے۔
٭ مچھلی کھانے سے کولیسٹرول کی سطح نارمل رہتی ہے۔
٭ مچھلی کھانے سے جسم میں خون کی روانی بہتر طریقے سے ہوتی ہے۔
٭ مچھلی کا تیل استعمال کرنے سے سانس کی نالیاں صاف رہتی ہیں۔
٭ مچھلی کا تیل وزن کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔
٭ مچھلی کا تیل مدافعتی نظام کو درست رکھتا ہے۔
٭ مچھلی کے تیل کا استعمال نزلہ و زکام سے بچاتا ہے۔
20/10/2024
دونوں امرود ایک ہی درخت کی ایک ہی شاخ پر لٹک رہے ہیں۔ ان میں سے ایک پہلے ہی پک چکا ہے، جبکہ دوسرے کو پکنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ قدرت ان امرودوں کے ذریعے ہمیں ایک اہم سبق دیتی ہے۔
جب ہم اپنے اردگرد دوسروں کو کامیاب ہوتا دیکھتے ہیں، جبکہ ہم ابھی کامیاب نہیں ہوئے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ناکام ہیں۔ یہ صرف اس بات کی نشانی ہے کہ ہمارا وقت ابھی نہیں آیا۔
لہٰذا، ہمیں صبر کرنا چاہیے، انتظار کرنا چاہیے، اور مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ شاید ہم بھی اپنے پکنے کے مقام سے صرف چند دن دور ہوں۔
یاد رکھیں، ہمارا وقت بھی آئے گا، لیکن اس کے لیے صبر اور محنت کی ضرورت ہے۔
19/10/2024
اگر دودھ خراب ہو جائے تو وہ دہی بن جاتا ہے۔ دہی دودھ سے مہنگا ہوتا ہے۔ اور اگر حالات اور بگڑ جائیں تو دہی پنیر میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو دہی اور دودھ دونوں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر انگور کا رس کھٹا ہو جائے تو وہ شراب بن جاتا ہے، جو انگور کے رس سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔
آپ صرف اس لیے برے انسان نہیں ہیں کہ آپ نے غلطیاں کی ہیں۔ غلطیاں دراصل وہ تجربات ہیں جو آپ کو ایک بہتر اور قیمتی انسان بناتے ہیں۔ کرسٹوفر کولمبس نے ایک نیویگیشن کی غلطی کی، جس نے اسے امریکہ کی دریافت تک پہنچا دیا۔ الیگزینڈر فلیمنگ کی ایک غلطی نے اسے پینسلن کے دریافت تک پہنچا دیا۔ اپنی غلطیوں کو اپنے راستے کی رکاوٹ نہ بننے دیں۔
یاد رکھیں، کمال تجربے سے نہیں بلکہ ان غلطیوں سے آتا ہے جن سے ہم سیکھتے ہیں۔
غلطیوں سے نہ گھبرائیں۔ آپ کے لیے بڑے بڑے قدم منتظر ہیں۔ آگے بڑھتے رہیں۔
🔺 *پنجاب کالج لاہور کے افسوس ناک واقع کے بعد بیٹیوں کو چند نصیحتیں کرنا ضروری ہیں*
📝💎📝
👈🏻 *1* یہ کہ جب کالج یا یونیورسٹی داخل ہوں تو کبھی *اکیلے کلاس روم میں نہ جائیں* جب تک کہ *آٹھ دس بچیاں* کلاس میں موجود نہ ہوں۔
👈🏻 *2* یہ کہ اس بات کا بھی خاص خیال رکھیں کہ *چھٹی کے ٹائم بھی جلد کلاس روم سے نکل جائیں اور ہمیشہ پر ہجوم جگہوں پر اپنے والدین کا انتظار کریں اور کبھی بھی کسی کے کہنے پر اکیلے کہیں نہ جائیں*۔
👈🏻 *3* یہ کہ اگر کالج یا یونیورسٹی میں کوئی آپ کو *بری نظروں* سے دیکھتا ہے یا *آپ کو آتے جاتے محسوس ہو کہ کوئی آپ کو چیک کررہا ہے کہ آپ کس وقت جاتی ہیں تو اپنے والدین کو ضرور آگاہ کریں*۔
👈🏻 *4* والدین بھی کوشش کریں کہ *بچیوں کو سکول ، کالج سے بروقت لینے پہنچ جائیں*۔
🤲🏻 *اللہ رب العزت تمام بہنوں بیٹیوں کی عزت عصمت کی حفاظت فرمائے*۔
*یاد رکھیں*👇🏻
⚠️ *جب بھی شریعت سے ہٹ کر چلیں گے تو مسائل تو پیدا ہوں گے لہذا بچیوں کو ذیادہ اوور فیشن کرنے اور ان رشتہ داروں سے جن سے اللہ نے شرعی پردے کا حکم دے رکھا ہے ان سے پردہ کی ضرور تلقین کریں*۔۔
کہا جاتا ہے کہ اساتذہ پڑھائی کا معیار نہیں بنا پا رہے... اساتذہ اپنی تنخواہ کے بدلے بچوں کو نہیں پڑھا رہے اور ایسے بھی بہت سے اعتراضات جن کو بنیاد بنا کر سکولوں کی نجکاری کے ساتھ ساتھ سکولوں کو غیر ملکی این جی اوز کو ٹھیکے پر دیا جا رہا ہے....
تو اس ضمن میں چند سوال توجہ طلب ہیں جن کے اہل دانش سے جواب مطلوب ہیں...
1- کیا محکمہ پولیس کی کارکردگی سے عوام مطمئن ہے...؟
2- کیا عوام محکمہ صحت سے مطمئن ہے...؟
3- کیا عوام واپڈا کی کارکردگی سے مطمئن ہے...؟
4- کیا عوام محکمہ مال کی کارکردگی سے مطمئن ہے...؟
5- اور کیا عوام محکمہ قانون سے مطمئن ہے...؟
6- کیا عوام عوامی نمائندگان اور سیاسی شخصیات کی کارکردگی سے مطمئن ہے....؟
اگر نہیں تو کیا یہ سب محکمے بھی عوام کی جیبوں پر بوجھ نہیں....؟
استاد کی پہلی اور آخری کرپشن ایک ادنیٰ سے معاوضے کے عوض بہتر طریقے سے پڑھائی نا کروانا ہے ( چند گنے چنے اساتذہ کو چھوڑ کر) جب کہ پڑھائی کے علاوہ بھی ہر کام اس سے مفت میں کروایا جارہا ہے جو کہ اس کی ملازمت سے لگا نہیں کھاتا...
مگر کیا سیاستدان، ججز وکلاء، پٹواری، و دیگر ملازمین اپنے شعبہ سے انصاف کررہے ہیں....؟
آپ کو کھلا چیلنج ہے کہ اساتذہ کے مقابلے میں کسی بھی دیگر شعبہ کے ملازمین کا آڈٹ کروالیں اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کے بعد فقط یہ بتا دیں کے استاد کا رزق کتنا حلال ہے اور دیگر ملازمین کا کتنا حلال ہے....
وزیر اعلی پنجاب کو سرکاری سکولوں کی دگرگوں حالت تو دکھائی دے گئی مگر کیا سکولوں کے علاوہ سب محکمے فرشتوں کے زیر انتظام ہیں....؟
وزیراعلی کبھی ہائی کورٹ کا ایسا ہی چکر تو لگائیں جہاں جج کا جب دل کرے کیس کی سنوائی کر لے وگرنہ اک جنبش قلم سے تاریخ پر تاریخ دے ڈالے..
کبھی محکمہ مال کے پٹواری کا محاسبہ بھی کرتے نظر آئیں جو کسی غریب کی جمع پونجی کو ایک کاغذ کی نذر کرتے ہوئے ہچکچاتا نہیں....
وزیراعلی اور کچھ نہیں تو کبھی ایک دن فقط واپڈا والوں سے یہ ہی پوچھ لیں کہ بلوں پر کاغذ کا بوجھ زیادہ ہے یا پھر ٹیکسوں کا... اور برائے کرم اپنے قانونی مشیر کو ہمراہ ضرور رکھیے گا جو آپ کو واپڈا کے بلوں پر موجود نت نئے ٹیکسوں کی معلومات بہم پہنچا سکے....
ایک اتفاقاً بننے والا حادثاتی استاد بھی اپنی ڈیوٹی یہ سوچ کر حق حلال کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ پیغمبرانہ پیشے سے وابستہ ہے اور اس کو روز محشر اس کا جواب دہ ہونا پڑنا ہے....
جناب آپ کے بچے سٹی سکول اور بیکن ہاؤس میں پڑھ سکتے ہیں کیوں کہ ان کے باپ آپ ہیں مگر وزیراعلی ہر کسی کا بچہ محسن نقوی کے بچوں جیسی قسمت کہاں سے لائے.... ؟ اگر آپ کے پاس کسی ایسی دکان کا پتہ موجود ہے تو آگاہ کیجیے وگرنہ حضور جیسا بھی ہے لولا ہے لنگڑا ہے یہ نظام تعلیم چلتا رہنے دیں....
آپ کو یہ عہدہ مختصر وقت کے لیے ملا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ خود کو عوام الناس کی دعاؤں کا حق دار بناتے ہیں یا بددعاؤں کا....
کبھی فرصت اور تنہائی میں اپنے نفع اور نقصان کا اندازہ ضرور کیجئے گا....
کیوں کہ صاحب بہادر یہ وقت ہے جو یکساں رفتار کے ساتھ آپ کے لیے بھی گزرے گا اور اساتذہ لیے بھی.
جزاک اللّہ
04/10/2024
ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی بوٹی لگا کر دریا میں پھینکی ایک مچھلی اسے کھانے دوڑی وہیں ایک بڑی مچھلی نے اسے روکا کہ اسے منہ نہ لگانا اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ھے جو تجھے نظر نہیں آرہا۔ بوٹی کھاتے ہی وہ کانٹا تیرے حلق میں چبھ جائے گا جو ہزارکوششوں کے بعد بھی نہیں نکلے گا تیرے تڑپنے سے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری سے خبر ہوجائےگی تو تڑپے گی وہ خوش ہوگااس باریک ڈور کے زریعے تجھے باہر نکالے گا، چھری سے تیرے ٹکڑے کریگا، مرچ مسالحہ لگا کر آگ پر ابلتے تیل میں تجھے پکائے گا، 10 ، 10 انگلیوں والے انسان 32 ، 32 دانتوں سے چبا چبا کر تجھے کھائیں گے۔ یہ تیرا انجام ہوگا۔
بڑی مچھلی یہ کہہ کر چلی گئی۔ چھوٹی مچھلی نے دریا میں ریسرچ شروع کردی ، نہ شکاری ، نہ آگ ، نہ کھولتا تیل ، نہ مرچ مسالحہ ، نہ دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان ، کچھ بھی نہیں تھا ۔ چھوٹی مچھلی کہنے لگی یہ بڑی مچھلی انپڑھ جاہل ، پتھر کے زمانے کی باتیں کرنیوالی ، کوئی حقیقت نہیں اسکی باتوں میں ۔ میں نے خود ریسرچ کی ھے ، اسکی بتائی ہوئی کسی بات میں بھی سچائی نہیں ، میرا ذاتی مشاہدہ ھے ، وہ ایسے ہی سنی سنائی نام نہاد غیب کی باتوں پر یقین کیئے بیٹھی ھے ، اس ماڈرن سائنسی دور میں بھی پرانے فرسودہ نظریات لیئے ہوئے ھے۔
چنانچہ اس نے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر بوٹی کو منہ ڈالا ، کانٹا چبھا ، مچھلی تڑپی ، شکاری نے ڈور کھینچ کر باہر نکالا ، آگے بڑی مچھلی کے بتائے ہوئے سارے حالات سامنے آگئے۔
انبیاء علیھم السلام نے انسانوں کو موت کا کانٹا چبھنے کے بعد پیش آنے والے غیب کے سارے حالات و واقعات تفصیل سے بتا دیئے ہیں ۔ بڑی مچھلی کیطرح کے عقلمند انسانوں نے انبیاء کی باتوں کو مان کر زندگی گزارنی شروع کردی۔ چھوٹی مچھلی والے نظریات رکھنے والے انبیاء کا رستہ چھوڑ کر اپنی ظاہری ریسرچ کے رستہ پر چل رہے ہیں ۔___
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد سارے حالات سامنے آجائیں گے___
مچھلی پانی سے نکلی واپس نہ گئی
انسان دنیا سے گیا واپس نہ آیا
بس یہی وقت ہے اگر سمجھ گئے تو
04/10/2024
وہ مولوی نہیں. ڈاکٹر ہے. وہ مقرر نہیں، ریسرچر ہے.
وہ شیعہ، ،سنی، وہابی، دیوبندی یا بریلوی نہیں، بلکہ داعی اسلام ہے.
وہ علاقائی نہیں عالمی نشان ہے.
وہ مسلمانوں کو کافر قرار نہیں دیتا، کافروں کو اسلام سمجھاتا اور مسلمان بناتا ہے.
وہ مسلک کی دکان نہیں اسلام کی لیبارٹری ہے جہاں عالمی مذاہب کو ایکسپیریمنٹ، ٹیسٹ اور پروف کے بعد نقلی اور اسلام کو اصلی ثابت کرتا ہے.
کون کہتا ہے آپ اسے مانیں.
لاکھوں کے مجمع کے سامنے کھڑا ہو کر وہ مناتا ہی نہیں اہل دانش کو انگشت بدنداں ہونے پر مجبور کر دیتا ہے.
بغیر کسی کتاب، کمپیوٹر، معاون کے
قرآن، سورۃ نمبر فلاں، آیت نمبر فلاں تا فلاں ترجمہ یہ ہے. حدیث، فلاں کتاب، فلاں باب، حدیث نمبر......
بائیبل، بک آف.... ، ورس نمبر.... ،
اولڈ ٹیسٹیمنٹ چیپٹر نمبر... ، ورس نمبر.... ، نیو ٹیسٹیمنٹ چیپٹر نمبر... ورس نمبر..... ہیبرو ٹیکسٹ...... انگلش میننگز.....
بھگوت گیتا... شروپا نمبر..... سنسکرت......... انگلش میننگ، ہندی مطلب......
غور کرنا، انصاف سے دیکھنا، خلوص سے سننا،
اسلام و قرآن کا معجزہ بھی دیکھو گے
ہاں دین بائی چوائس والوں کے لئے وہ الرجی ثابت ہو سکتا ہے.
30/09/2024
جس نے بھی اس پلیٹ کو بنایا وہ آرٹسٹ ہے، اس کا پیغام بہت واضح تھا
آپ کے بچ جانے والے کھانے کی بہت سے لوگوں کو ضرورت ہے
28/09/2024
1969 میں پاکستانی سنیما پر دو یادگار فلمیں پیش کی گئیں، جن میں ایک ریاض شاہد کی ’’زرقا‘‘ اور دوسری اے جے کاردار کی ’’قسم اُس وقت کی‘‘۔ دونوں فلموں کو بے حد پسند کیا گیا۔ فلم ’’قسم اُس وقت کی ‘‘ اپنے موضوع اور پروڈکشن کے حوالے سے ایک بہت ہی اعلیٰ معیار کی مقصدی مشن فلم تھی، جو اُس دور میں کثیر سرمائے سے تیار کی گئی تھی۔ فلم کا موضوع جذبۂ حُب الوطنی پر مبنی ہونے کی وجہ سے اُس خفیف لہر کی حیثیت رکھتا ہے جو کسی بڑی موج کی اُٹھان کی محتاج نہیں۔
ایئر فورس پائلٹ کے گرد گھومنے والی یہ کہانی یُوں شروع ہوتی ہے کہ اسکواڈرن لیڈر جاوید (طارق عزیز) کے طیارے کی کرش لیڈنگ سے دکھائی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے پانچ طیارے تباہ کرکے جب واپس آرہا ہوتا ہے، تو اس کا طیارہ کرش ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتا ہے۔
اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے، جہاں اس کی جان بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جاوید کی امی (سورن لتا)، بہن (روزینہ)، محبوبہ (شبنم) اور ان کے دوست محسن امام جو خود بھی پائلٹ ہوتے ہیں، جاوید جو زندگی اور موت کی کش مکش میں تھا، سبھی اس کی طرف پتھرائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ باقی کہانی جنگ کے خون اشام دنوں کی کہانی ہے۔ سایر قوم موت و حیات کی کشمکش سے دوچار ہے۔ اس کے معرکے میں ’’صاحب و بندہ محتاج و غنی‘‘ سب ایک تھے۔
قسم اس وقت کی
اُن درخشاں دنوں کی داستان ہمت اور شجاعت کی وہ سرخ و شہری داستان ہے جو زندگی کے ہر ورق پر لکھی گئی، کبھی میدان جنگ میں، کبھی پاکستانی فضائوں پر اور کبھی ان شہیدوں کے خون سے جو فرض اپنی جانیں نچھاور کرکے باب شہادت کی جاں بخش دہلیز سے گزرے ہوں۔ یہ کہانی فضائیہ کے فرض شناس مجاہدوں کے لیے ایک خراج تحسین ہے۔ یہ پہلی پاکستانی فلم تھی، جس کی فلم بندی اور تیاری میں پاکستان ایئرفورس نے فلمی یونٹ کے ساتھ پورا تعاون کیا۔
نیشنل اسٹوڈیو لمیٹڈ کی اس شاہ کار فلم کے ہدایتکار اے جے کاردار تھے اور انہوں نے ہی فلم کا منظر نامہ تحریر کیا تھا، جب کہ فلم کی کہانی ونگ کمانڈر شاہد حسین اور پروفیسر احمد علی نے لکھی۔ فلم کے مکالمہ نویس میں زیڈ اے بخاری، ونگ کمانڈر شاہد حسین، دائود خان مجلس کے نام شامل ہیں۔ اس فلم کی فوٹو گرافی مارون مارشل جیسے ماہر غیرملکی فوٹو گرافر نے انجام دی۔
جنہوں نے اس فلم کی فوٹو گرافی میں ہالی وڈ فلمز کے انداز کو پہلی بار پاکستانی سینما کے لیے فلم بند کیا۔ ان کی فوٹو گرافی اس دور کی فرسودہ فلمی ماحول میں تازگی کا ایک سانس محسوس ہوتی ہے۔ مارون مارشل کے علاوہ فلم کے بعض مناظر ائیریل فوٹو گرافر اے آر کی بخاری اسکواڈرن لیڈر کی مرہون منت ہے اے جے کاردار نے تمام شعبہ جات میں اپنی بھرپور محنت اور توجہ سے ڈائریکشن دیں، اس کا شمار ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے، جو ہر منظر کو نہایت غورخوض کے بعد فلم بند کرتے ہیں۔ اس فلم کے ہر منظر اور فریم پر ان کے تیکنیکی ذہن کی مہر لگی ہوئی ہے۔ یہ پاکستان کی وہ اولین فلم ہے ، جس میں (Micro cosnic Study) پیش کی گئی ہے، اس فلم کی یہ خوبی اسے دیگر فلموں میں برتری دلاتی ہے۔
اس فلم کا میوزک سہیل رعنا، خان عطاء الرحمن، رفیق غزنوی اور استاد نتھو خان نے ترتیب دیا اور نغمہ نگاری کے لیے فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی، خان عطاء الرحمن اور فیاض ہاشمی کی خدمات لیں گئیں۔ جذبہ حب الوطنی کی تسکین کے لیے اس فلم کے ٹائٹل سونگ ہی کافی ہے۔ اس نغمے کے مختلف حصے موقع کی مناسبت سے ساری فلم میں دوہرا کے جاتے ہیں، جس کے بول یوں ہیں۔’’ قسم اس وقت کی جب زندگی کی کروٹ بدلتی ہے، ہمارے ہاتھ سے دنیا نئے سانحے میں ڈھلتی ہے‘‘ جوش صاب کے لکھے ہوئے اس ترانے کو گلوکار مجیب عالم نے اپنی آواز میں ریکارڈ کروایا تھا۔ اس فلم کے ذریعے تکنیک اور موضوع میں نئے تجربات کیے گئے۔
فلم کی کاسٹ میں طارق عزیز، شبنم، روزینہ، روزی، حسن امام، فریدہ خانم، منیا، پرنس تاج، صاعقہ، اجمل ہدیٰ، سیٹھی، شاہجہ اناور سورن لتا شامل تھیں۔ یہ فلم 12دسمبر 1969ء کو عید الفطر کے روز کراچی کے نشاط سنیما میں ریلیز کی گئی۔فلم کے تقسیم کار ایور ریڈی پکچرز پاکستان تھے۔
"قسم اس وقت کی" کی ایک یادگار تصویر
اس فلم کے ایک منظر کی شوٹنگ سے پہلے طارق عزیز اپنے کپڑوں پر سرخ رنگ 'خون' کا چھڑکاؤ کرواتے ہوۓ۔
24/09/2024
ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں رہائش کے لئے ایک بڑا افسر آیا ، جو تازہ تازہ ریٹائر ہوا تھا۔
یہ بوڑھا بڑا ریٹائرڈ افسر حیران اور پریشان ، ہر شام سوسائٹی پارک میں گھومتا ، دوسروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا اور کسی سے بات نہیں کرتا تھا -
ایک دن وہ شام کے وقت ایک بزرگ کے پاس باتیں کرنے کے لئے بیٹھ گیا اور پھر اس کے ساتھ تقریبا" روزانہ بیٹھنے لگا۔ اس کی گفتگو کا ہمیشہ ایک ہی موضوع رہتا تھا۔ "میں اتنا بڑا افسر تھا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا اور نہ پوچھ سکتا ہے ، یہاں میں مجبوری وغیرہ میں آیا ہوں۔" اور وہ بزرگ اس کی باتیں سکون سے سنتے تھے۔
ایک دن جب "ریٹائرڈ" افسر نے دوسرے ساتھی کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش کی تو اس بزرگ نے بڑی انکساری کے ساتھ اسے جواب دے کر دانشمندی کی بات بتائی -
اس نے وضاحت کی:-
"ریٹائرمنٹ کے بعد ہم سب فیوز بلب کی طرح ہو جاتے ہیں اس کی اب کوئی اہمیت نہیں رہتی کہ یہ بلب کتنی وولٹیج کا تھا ، کتنی روشنی اور چمک دیتا تھا ، فیوز ہونے کے بعد اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
انہوں نے جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "میں گذشتہ 5 سالوں سے سوسائٹی میں رہ رہا ہوں اور کسی کو یہ نہیں بتایا کہ میں دو بار پارلیمنٹ کا ممبر رہا ہوں۔ یہاں ایک اور صاحب ہیں وہ ریلوے کے جنرل منیجر تھے ، یہاں گلزار صاحب ہیں فوج میں بریگیڈیئر تھے ، پھر ندیم صاحب ہیں جو ایک کمپنی کے کنٹری ہیڈ تھے ، انہوں نے یہ باتیں کسی کو نہیں بتائی ، حتی کہ مجھے بھی نہیں ، لیکن ہم سب جانتے ہیں۔
"فیوز کے تمام بلب اب ایک جیسے ہیں - چاہے وہ صفر واٹ ، 40 ، 60 ، 100 واٹ ، ہلوجن ہو یا فلڈ لائٹ کے ہوں ، اب کوئی روشنی نہیں دیتا اور بے فائدہ ہیں۔ اور ہاں اس بات کی آپ کو جس دن سمجھ آجائے گی ، آپ معاشرے میں سکون زندگی گزار سکیں گے۔
ہمارے ہاں طلوع اور غروب آفتاب کو یکساں احترام دیا جاتا ہے ، لیکن اصل زندگی میں ہم طلوع آفتاب کی قدر زیادہ کرتے ہیں جتنی جلدی ہم اس کو سمجھیں گے اتنا جلد ہی ہماری زندگی آسان ہوجائے گی۔
24/09/2024
ایک آدمی نے ایک طوطا پال رکھا تھا۔ وہ طوطا باتیں بھی کرتا تھا، ایک دن اس آدمی نے طوطے سے کہا کہ :
" میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں، وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا ... "
طوطے نے کہا کہ :
" وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے, وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں، ہمارے ساتھی رہتے ہیں، وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک "غلام طوطا" پنجرے میں رہنے والا ، غلامی میں، پابند ِ قفس آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے ... "
سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی، ایک طوطا گِرا، دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑاحیران کہ یہ پیغام کیا تھا، قیامت ہی تھی اور اداس ہوکے چلا آیا۔
واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ :
" کیا میرا سلام دیا تھا ...؟ "
اس نے کہا کہ :
" بڑی اداس بات ہے، سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے ... "
اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔
اس نے پوچھا :
" یہ_کیا ...؟ "
طوطے نے کہا کہ :
" بات یہ ہے کہ، میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔ اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا ... ''
" موتوا قبل ان تموتوا "
یعنی :
" مرنے سے پہلے مر جاؤ "
اپنے نفس یعنی شریر خیالات کو مار دو اور ھمیشہ کی زندگی پاؤ -----------------------------------------------------وہ ایک سجدہ جیسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے ادمی کو نجات....*
Sharing it is free of cost.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Chishtian Mandi