02/06/2023
CSC
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from CSC, Tutor/Teacher, Johar town. Chishtian, Chishtian Mandi.
02/06/2023
18/01/2017
✴لیکن وہ ایک ماں تھی..!! "
بچپن میں ایک بار باد و باراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ھو گیا.. ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رھا تھا.. میری ماں نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا تو محسوس ھوا جیسے میں امان میں آ گیا ھوں..
میں نے کہا.. " اماں ! اتنی بارش کیوں ھو رھی ھے..؟ "
اس نے کہا.. " بیٹا ! پودے پیاسے ھیں اللہ نے انہیں پانی پلانا ھے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ھو رھی ھے.. "
میں نے کہا.. " ٹھیک ھے پانی تو پلانا ھے مگر یہ بجلی بار بار کیوں چمکتی ھے..؟ "
وہ کہنے لگیں.. " روشنی کرکے پودوں کو پانی پلایا جائے گا.. اندھیرے میں تو کسی کی منہ میں ' کسی کی ناک میں پانی چلا جائے گا.. اس لیے بجلی کی کڑک چمک ضروری ھے.. "
میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا.. پھر مجھے پتہ نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رھی یا نہیں..
یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ھے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ھے.. یہ ماں کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لیے جو خوفزدہ ھو گیا ھے ' اسے خوف سے بچانے کے لیے پودوں کو پانی پلانے کی مثال دیتی ھے.. یہ اس کی ایک اپروچ تھی.. گو وہ کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھی.. دولت مند ' بہت عالم فاضل ' کچھ بھی ایسا نہیں تھا لیکن وہ ایک ماں تھی..!!
اشفاق احمد.. زاویہ 2.. " خوشی کا راز "
16/01/2017
✴کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ جس کی بادشاہت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا۔ اپنے استاد کے ساتھ سفر کرنے کے لیے نکلا، راستے میں ایک ندی آگئی استاد نے آگے بڑھ کر ندی کو پار کرنا چاہا لیکن بادشاہ نے استاد محترم سے کہا کہ استاد محترم! ندی کو پہلے میں پار کروں گا۔ استاد کو بہت برا محسوس ہوا کہ شاگرد اگر بادشاہ ہے توکیا ہوا میں ان کا استاد ہوں۔ تکریم اور فضیلت میں مجھے مرتبہ حاصل ہے۔ اس لیے ندی کو پہلے پارکرنا میرا حق ہے۔
بادشاہ نے ان کی بات سنی اورکہا۔ استاد محترم! آپ کی بات سر آنکھوں پر بے شک آپ کا مرتبہ اور عزت مجھ سے زیادہ ہے کیونکہ آپ ہی میرے استاد ہیں اور پہلے ندی پار کرنے میں میرا مقصد صرف یہ تھا کہ اگر آپ نے ندی پہلے پار کی اور اس کے نتیجے میں آپ کی جان چلی گئی تو پورے عالم کا نقصان ہوگا اس لیے میں نے سوچا کہ پہلے ندی میں پارکروں تاکہ پانی کی تندی کا اندازہ ہوسکے کیونکہ میرے ندی عبور کرنے کے نتیجے میں اگر میری جان چلی گئی تو صرف ایک شہنشاہ کی جان جائے گی آپ زندہ رہے تو مجھ جیسے کتنے بادشاہ بنا سکتے ہیں۔ یہ بادشاہ سکندر اور استاد ارسطو تھے۔
یہ واقعہ صدیوں سے استاد کی عزت و احترام کا گواہ ہے مگر اسلامی معاشرے نے تو استاد کو روحانی باپ قرار دیا ہے اور استاد کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے کیونکہ یہ پیشہ پیغمبری پیشہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معلم انسانیت تھے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے جس نے مجھے ایک سبق بھی پڑھایا وہ میرا استاد ہے۔ یعنی حضرت علیؓ جیسا عالی مرتبہ انسان جو خلیفہ وقت ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بھی تھے آپؓ نے استاد کی اہمیت کے متعلق فرما کر استاد کی اہمیت کو امر کردیا۔ شاعر مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کی خدمت میں برطانوی حکومت نے ’’سر‘‘ کا خطاب پیش کیا مگر علامہ اقبال نے یہ کہہ کر خطاب لینے سے انکار کردیاکہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اس میں میرے استاد کا بہت اہم کردار ہے اس لیے پہلے میرے استاد کو یہ خطاب دیا جائے، پھر مجھے دیا جائے۔
اس واقعے سے پتا چلتا ہے کہ علامہ اقبال کا اساتذہ کے بارے میں کیا نظریہ اور سوچ تھی کہ استاد ہی کسی انسان کو بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب ہم اپنے معاشرے پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ ماضی کے جو شاندار واقعات، روایات اور تہذیب کے خوبصورت انداز تھے وہ قصۂ پارینہ بن چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب سے ہم نے استاد کی معاشرے میں عزت مجروح کی ہے اس وقت سے تعلیمی سلسلہ زوال پذیر ہوچکا ہے جب کہ ترقی یافتہ دنیا میں آج بھی استاد کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اشفاق احمد لکھتے ہیں جاپان میں ان کی گاڑی کا چالان ہوگیا جس کی وجہ سے انھیں ایک دن چھٹی کر کے عدالت میں پیش ہونا پڑا، جب جج کو یہ معلوم ہوا کہ وہ ایک استاد ہیں تو انھوں نے ان کی عزت وتوقیر کی حد کردی، مگر ہمارے ہاں اب یہ احترام کچھ ختم ہوتا جا رہا ہے حالانکہ استاد کی عزت بھی ہم پر اسی طرح فرض ہے جیسے والدین کی کیونکہ اساتذہ روحانی ماں باپ ہوتے ہیں مگر ہم زندگی کے ہر شعبے میں انحطاط کا شکار ہیں۔ اب مال و دولت رکھنے والے کو معاشرے کا معزز فرد سمجھا جاتا ہے ایک ناجائز طریقے سے کمانے والا ہماری نظر میں صاحب ثروت ہے، مگر استاد کی عزت کرنے میں شان گھٹتی نظر آتی ہے۔ استاد کو وہ مرتبہ جو اس کا حق ہے نہ دینے میں معاشرہ والدین اور طلبا غفلت کے مرتکب ہوچکے ہیں۔
ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ آج کے اساتذہ بھی اس کے ذمے دار ہیں۔ ماضی میں استاد کا کردار یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو طلبا کے افعال و کردار کا ذمے دار سمجھتا تھا مگر آج تعلیم کمرشل ہوچکی ہے اساتذہ بھی مادیت کی دوڑ میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ ان کی ترجیح بھی اب جماعت نہیں ان کے کوچنگ سینٹر بن چکے ہیں اسکول و کالج میں استاد نظر نہیں آتے مگر شام میں اپنے کوچنگ سینٹرز کو چار چاند لگانے ضرور پہنچ جاتے ہیں جن اداروں میں وہ ملازم ہیں وہاں کے طالب علم بھی ان کی اتنی ہی ذمے داری ہیں جتنا ان کا کوچنگ سینٹر۔ استاد کے کردار کے ساتھ ساتھ ریاست بھی اسی طرح ذمے دار ہے کیونکہ تعلیم کو کمرشل کرنے میں ریاست بھی اسی طرح ذمے دار ہے اگر ریاست اساتذہ کی فکری و نظری تربیت کریں ان کے معاشی مسائل کو سمجھیں ان کی تنخواہیں معقول کریں۔
ان کے کوچنگ سینٹر وغیرہ کا سلسلہ بھی ختم ہوجائے اور اساتذہ بھی بے فکر ہوکر اپنے فرائض منصبی خوش اسلوبی سے انجام دیں طلبا کی شخصیت کو نکھارنے اور بنانے میں والدین کے ساتھ ساتھ استاد کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہے اسی لیے تو اس کو پیشہ پیغمبری قرار دیا گیا ہے اگر تعلیمی معیار کو بلند کرنا ہے تو کتابوں اور نصاب کو بدلنے کی جگہ معاشرے میں استاد کو بدلو۔ اگر استاد کو سربلند نہیں کیا جائے گا تو یہ شعبہ اسی طرح زوال پذیر رہے گا۔ اساتذہ کے اندر صبر، استقامت، مشن و اخلاص کو بحال کرکے ہی بہتری لائی جاسکتی ہے۔
13/01/2017
🌍... *کیا ایسا زمانہ لوٹے گا....؟؟* ...🌍
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اُس دور میں ماسٹر اگر بچے کو مارتا تھا تو بچہ گھر آکر اپنے باپ کو نہیں بتاتا تھا، اور اگر بتاتا تھا تو باپ اُسے ایک اور تھپڑ رسید کردیتا تھا ....!!
یہ وہ دور تھا جب ”اکیڈمی“کا کوئی تصور نہ تھا، ٹیوشن پڑھنے والے بچے نکمے شمار ہوتے تھے .....!!
بڑے بھائیوں کے کپڑے چھوٹے بھائیوں کے استعمال میں آتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی تھی.......!!۔
لڑائی کے موقع پر کوئی ہتھیار نہیں نکالتا تھا، صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ ” *میں تمہارے ابا جی سے شکایت کروں گا* ،،۔ یہ سنتے ہی اکثر مخالف فریق کا خون خشک ہوجاتا تھا۔......!!
اُس وقت کے اباجی بھی کمال کے تھے، صبح سویرے فجر کے وقت کڑکدار آواز میں سب کو نماز کے لیے اٹھا دیا کرتے تھے۔بے طلب عبادتیں ہر گھرکا معمول تھیں۔......!!
کسی گھر میں مہمان آجاتا تو اِردگرد کے ہمسائے حسرت بھری نظروں سے اُس گھر کودیکھنے لگتے اور فرمائشیں کی جاتیں کہ ” مہمانوں “ کو ہمارے گھر بھی لے کرآئیں۔جس گھر میں مہمان آتا تھا وہاں پیٹی میں رکھے، فینائل کی خوشبو میںلبے بستر نکالے جاتے ، خوش آمدید اور شعروں کی کڑھائی والے تکئے رکھے جاتے ، مہمان کے لیے دھلا ہوا تولیہ لٹکایا جاتااورغسل خانے میں نئے صابن کی ٹکیا رکھی جاتی تھی.....!!
جس دن مہمان نے رخصت ہونا ہوتا تھا، سارے گھر والوں کی آنکھوں میں اداسی کے آنسو ہوتے تھے، مہمان جاتے ہوئے کسی چھوٹے بچے کو دس روپے کا نوٹ پکڑانے کی کوشش کرتا تو پورا گھر اس پر احتجاج کرتے ہوئے نوٹ واپس کرنے میں لگ جاتا ، تاہم مہمان بہرصورت یہ نوٹ دے کر ہی جاتا۔۔.......!!
شادی بیاہوں میں سارا محلہ شریک ہوتا تھا، شادی غمی میں آنے جانے کے لیے ایک جوڑا کپڑوں کا علیحدہ سے رکھا جاتا تھا جو اِسی موقع پر استعمال میں لایا جاتا تھا، جس گھر میں شادی ہوتی تھی اُن کے مہمان اکثر محلے کے دیگر گھروں میں ٹھہرائے جاتے تھے، محلے کی جس لڑکی کی شادی ہوتی تھی بعد میں پورا محلہ باری باری میاں بیوی کی دعوت کرتا تھا۔.......!!
کبھی کسی نے اپنا عقیدہ کسی پر تھوپنے کی کوشش نہیں کی، کبھی کافر کافر کے نعرے نہیں لگے، سب کا رونا ہنسنا سانجھا تھا، سب کے دُکھ ایک جیسے تھے ......!!
سب غریب تھے، سب خوشحال تھے، کسی کسی گھر میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی ہوتا تھا اور سارے محلے کے بچے وہیں جاکر ڈرامے دیکھتے تھے۔دوکاندار کو کھوٹا سکا چلا دینا ہی سب سے بڑا فراڈ ہوتا تھا ۔
...کاش پھر وہ دن لوٹ آئیں.....؟؟
07/01/2017
لفظ"ظن" کی لغوی بحث:
اس لغوی بحث میں ہم اپنی طرف سے کچھ نہیں لکھنا چاہتے بلکہ مفردات امام راغب سے اس کی تفصیل نقل کیے دیتے ہیں، جسے"طلو اسلام" نے بھی لغات القرآن کے مقدمہ مین ایک مستند لغت کی حیثیت سے تسلیم کیا ہے اور اس سے کافی حد تک استفادہ بھی کیا ہے۔
"کسی چیز کی علامت سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے اسے"ظن" کہتے ہیں۔ جب یہ علامات قوی ہوں تو ان سے علم کا درجہ حاصل ہوتا ہے مگر جب بہت کمزور ہوں تو وہ نتیجہ وہم کی حد سے آگے تجاوز نہیں کرتا۔"
"یہی وجہ ہے کہ جب نتیجہ قوی ہو اور علم کا درجہ حاصل کرے تو اس کے بعد".اَنَّ." یا"اَن." کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً آیات:
1-.الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ .[البقرہ:46]
"(اللہ تعالیٰ کا ڈر رکھنے والے وہ لوگ ہیں) جو یقین کیئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں۔"
2-.قَالَ الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ.[القبرہ:249]
"کہا ان لوگوں نے جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ انھیں اللہ کے روپرو حاضر ہونا ہے۔ بسا اوقات چھوٹی سی جماعتیں بڑی جماعتوں پر اللہ کے حکم سے غلبہ پالیتی ہیں۔"
3-.وَّ ظَنَّ اَنَّهُ الْفِرَاقُۙ[القیامۃ:28]
"اور اس (جاں بلب شخص) نے یقین کر لیا کہ اب سب سے جدائی ہے ۔"
مندرجہ بالا آیات میں "ظن " کا لفظ علم ویقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس کے بعد امام راغب رحمہ اللہ نے مزید آٹھ(8) قرآنی آیات سے استشہاد(استدلال) کیا ہے جہاں ظن کا لفظ علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جنہیں ہم طلوالت سے بچنے کی خاطر نظر انداز کر رہے ہیں۔
پھر امام راغب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
" مگر جب وہ ظن کمزور ہو اور وہم کے درجہ سے آگے نہ بڑھے تو پھر اس کے ساتھ اِن یا انَّ استعمال ہوتا ہے۔ جو کسی قول یا فعل کے عدم کے ساتھ مختص ہے"( اور اس کی دوسری علامت یہ ہوتی ہے ۔ ظن کے مقابلہ میں یقین، علم ، حق یا اس جیسے دوسرے الفاظ موجود ہوتے ہیں۔ جو ظن کے معنی کو وہم کے ساتھ مختص کردیتے ہیں۔ بالفاظ دیگر" ظن" کا معنی" وہم" صرف اس صورت میں ہوگا جب اس کے لیے قرینہ موجود ہوگا۔ اب ایسی مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
1-.يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ.[آل عمران:154]
"اور وہ(منافقین) اللہ تعالیٰ کے بارے میں ناحق زمانہ جاہلیت کے سے گمان رکھتے ہیں۔"
2-. اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ١ۚ وَ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَيْـًٔاۚ.[النجم:28]
"بے شک(ظن) یقین کے مقابلے میں کچھ کام نہیں آتا ۔"
3-.وَّ يُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِيْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِيْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ الظَّآنِّيْنَ بِاللّٰهِ ظَنَّ السَّوْءِ.[الفتح:6]
"اور تاکہ (اللہ تعالیٰ) ان منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب سے دو چار کرے جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں برے خیال رکھتے ہیں۔"
4-.وَ اِذَا قِيْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَيْبَ فِيْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِيْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِيْنَ.[الجائیۃ:32]
"اور جب کبھی کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو(کافرو!) تم جواب دیتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا چیز ہے؟ ہم تو اسے محض وہم ہی خیال کرتے ہیں اور اس پر یقین نہیں رکھتے "
[ مفردات القرآن(اردو ترجمہ) صفحہ نمبر :657، طابع و ناشر شیخ شمس الحق۔ اقبال ٹاؤن لاھور۔[
"طلوع اسلام" کی دیانت:
اوپر کی بحث یہ واضح ہے کہ قرآن نے ظن کو دونوں معنی میں استعمال کیا ہے اور "طلو ع اسلام" کی دیانت یہ ہے کہ لفظ "ظن" کی بحث میں قرآن سے صرف ایسی آیات پیش کرتے ہیں جہاں لفظ" ظن" کا معنی وہم و قیاس ہو اور ایسی آیات کو یکسر نظر انداز کر دے گا جن میں "ظن" یقین یا علم کے معنی دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں ایسی آیات جن میں "ظن" علم و یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے، آیات سے بہت زیادہ ہیں ، جن میں "ظن" بمعنی وہم و گمان استعمال ہوا ہے۔
چنانچہ کہتے ہیں دین قطعی اور یقینی ہونا چاہیے، دین کی بنیاد ظن وتخمین پررکھنا، دین کوکمزور کرنے کے مترادف ہے،پھردلیل کے طورپر چند ایک آیات کووہ پیش کرتے
(۱)اٰلٓمo ذَلِكَ الْكِتَابُ لَارَيْبَ فِيهِ (البقرۃ:۲،۱) یہ کتاب وہ ہے جس میں کوئی بھی شک کسی درجہ میں نہیں ہے
وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَالْحَقُّ (فاطر:۳۱) ترجمہ:یعنی جوکتاب ہم نے آپ کووحی کی ہے وہ سچی ہے۔
جب کہ حدیث کا معاملہ یہ ہے کہ یہ ظنی ہےاور اللہ عزوجل نے ظن کی اتباع کی مذمت فرمائی ہے وَمَايَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّاظَنًّا إِنَّ الظَّنَّ لَايُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا(یونس:۳۶) اسی طرح فرمایا: وَلَاتَقْفُ مَالَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ (الاسراء:۳۶) گویا قرآن امریقینی اور قطعی کی اتباع کا حکم دیتا ہے اور ظن کی اتباع سے منع کرتا ہے
اسی طرح کہتے ہیں
"قرآنِ كريم از اوّل تا آخر سورة البقرة سے لے كر سورة الناس كے آخر تك يقينى ہے، اس كى جملہ آيات يقينى و حتمى ہيں جبكہ شانِ نزول اور روايات بالكل ظنى اور غير يقينى ہيں - اس صورت ميں آيات كى تفسیر كا مدار و انحصار روايات اور شانِ نزول پرركھنا بالكل غير مناسب اور عقل كے خلاف ہے اور آيات كے مفہوم كو بهى غير يقينى اور ظنى بنانا ہے۔( طلوع اسلام، مئی 2005ء، ص27)
مغالطے کی حقیقت:
حدیث میں ظنی کیا ہے اسکی تفصیل ہم گزشتہ تحریر میں پیش کرچکے ہیں ۔يہاں اصل اور بنيادى چيز یں جو دريافت طلب ہیں وہ دو ہیں :
1۔ کیا صرف الفاظِ قرآن ہى يقينى اور حتمى ہيں ؟ يا اسکے الفاظ كا معنى ومفہوم بھى؟
2۔ اگر قرآنی تعبیر ات ظنی ہیں تو اسکی کونسی تعبیر اس ظن کے قریب ہے جسے قرآن نے علم ویقین کے معنی میں لیا ہے ۔محدثین کی یا منکرین حدیث کی ؟
اگر آپ الفاظِ قرآن كے حتمى اور يقينى ہونے كے قائل ہيں تو يہ امر تمام مسلمانوں ميں (بلكہ غير مسلموں ميں بھى) متفق علیہ ہے، اس ميں كسى كو بھى اختلاف نہيں ہے ليكن اگر آپ الفاظِ قرآن كے معنى و مفہوم كو بھى حتمى اور يقينى سمجھتے ہيں تو آپ كا يہ نظريہ وہم و گمان سے زيادہ كوئى حيثيت نہيں ركھتا- كوئى بڑے سے بڑامنكر ِحديث حتىٰ كہ خود پرويز صاحب بھى اس كے مدعى نہيں ہوئے- اگر متن قرآن كا مفہوم و مدلول بھى حتمى اور يقينى ہوتا تو تفسير قرآن كا قطعاً اختلاف نہ ہوتا- منكرين حديث كے جملہ گروہوں ميں خو اہ وہ ماضى كے احزاب ہوں يا دورِ حاضر كے ٹولے ہوں ، يہ اختلاف موجود رہے ہيں (باوجوديكہ ہر ٹولہ تمسك بالقرآن ہى كو رافع اختلاف قرار ديتا رہا ہے) حتىٰ كہ عبادات و عقائد تك ميں اور فروعى نہيں بلكہ اُصولى امور تك ميں يہ افتراقات و تنازعات اب تك برقرار ہيں اور اِنہى كى بنياد پر خود پرويز صاحب منكرين حديث كے دوسرے گروہوں كو گمراہ،دشمن دين اور مُخْزيالقرآن قرار ديتے رہے ہيں - پھر يہ تفسيرى اختلافات مسلك ِانكارِ حديث كے علمبردار مختلف دهڑوں ہى ميں نہيں پائے جاتے، بلكہ ان كے كسى ايك ہى گروہ ميں بھى وقتاً فوقتاً موجود رہے ہيں اور پرويز صاحب كا تو خير سے پورا لٹريچر ہى ماشاء الله ان ہى اختلافات كى بنياد پر تضادات و تناقضات سے اٹا پڑا ہے جو اس بات كا واضح ثبوت ہے كہ قرآن كريم كے الفاظ ہى حتمى و يقينى ہيں ، مگر ان كا معنى و مفہوم ہرگز ہرگز حتمى اور يقينى نہيں ہے، پرويز صاحب خود ايك مقام پر يہ لکھتے ہيں كہ
"قرآن تو وحى الٰہى ہے جس ميں غلطى كا كوئى امكان نہيں ، ليكن ميں اپنى قرآنى بصيرت كو كبهى وحى الٰہى قرار نہيں ديتا، اس لئے اس ميں سہواور خطا دونوں كا امكان ہوتا ہے- بنابريں ميں اس پر اصرار نہيں كرتا كہ جو كچھ ميں نے سمجھا ہے وہ اس باب ميں حرفِ آخر ہے اور وحى الٰہى كى طرح منزہ عن الخطاء" ( نظام ربوبیت، ص 23)
جب پرويز صاحب كے نزديك بھى انسانى تعبير قرآن سہو و خطا كا امكان ركھتى ہے اور وہ تعبير و تفسير وحى الٰہى كى طرح منزہ عن الخطا نہيں ہے تو پھر اس كے ظنى اور غير يقينى ہونے ميں كيا شك رہ جاتا ہے؟
الغرض، قرآن كے الفاظ تو بلا شبہ قطعى،حتمى اور يقينى ہيں ليكن ان كا مفہوم و مراد ہرگز ايسا نہيں ہے بلكہ وہ ظنى اور غير يقينى ہے اور عملى حيثيت سے اگر ديكھا جائے تو اتباعِ قرآن اور پيروى كتاب اللہ كے لئے ہم الفاظِ قرآن سے كہيں زيادہ مفہومِ قرآن كے محتاج ہيں جو بحرحال ظنى ہى ہے- لہٰذا يہاں عملاً دين ميں حجت اور سند وہ چيز (مفہوم آياتِ قرآن) بن رہى ہے جو غير يقينى اور ظنى ہى ہے- جب عملاً صورتِ حال يہ ہے تو پھر حديث و سنت نے كيا قصور كيا ہے كہ وہ تو ہر طرح جانچ پڑتال کے بھی ظنى حجت سے محروم ہوجائے؟
یہ کیسا انصاف ہے کہ رواياتِ رسول اور احاديث ِنبى مکمل حفاظت کے انتظام اور پھر لاکھوں محدثین کی تحقیق و اعتماد کے بعد بھی ظنى ہونے كى بنا پر مرد و د و مسترد ہوں ليكن انگریز کے محکمہ انفارمیشن کے ایک ملازم مسٹر پرويز صاحب كى اپنی مرضی کی تعبيرات ظنى ہونے كے باوجود مقبول ومحمود ٹھہریں ؟
اتباعِ ظن کا الزام اس شخص پر لگانا جواحادیث نبویہ پرعمل کرتا ہو اور حجت مانتا ہو کھلی ہوئی دھاندلی ہے، اس کی دووجہیں ہیں:
پہلی بات تویہ ہے کہ حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ قطعی اور یقینی ہے ۔ اگر اخبار آحاد ظنی (مفید) ہیں توکیا قرآنِ کریم کی بہت سی آیات مفید ظن نہیں؟ کیونکہ بہت سی آیات کی دلالت اپنی مراد پرقطعی ویقینی نہیں ہوتی ان میں ایک سے زائد معانی کا احتمال ہوتا ہے بلکہ مفسرین اور مجتہدین میں قرائن کی بنیاد پران آیات کی مراد متعین کرنے میں اختلاف بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا قرآن اگر قطعی الثبوت ہے تو ضروری نہیں کہ اس کی ہرآیت قطعی الدلالۃ ہو بلکہ بہت سی آیات ظنی الدلالۃ ہیں۔ پس اگرمحض مفیدِ ظن ہونے کی بنیاد پر حدیث کا چھوڑنا ضروری ہوتوعین اسی علت کی بنیاد پرقرآن کا چھوڑنا بھی لازم آئےگا، جس کا قائل فریقین میں سے کوئی نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس ظن کی اتباع کی مذمت فرمائی ہے، وہ ظن ہے جو محض وہم اور گمان ہو اور کسی دلیل قطعی سے معارض ہو ۔ حدیث کا معاملہ اس قبیل سے نہیں ہے جیسا کہ گزشتہ تحریر میں پیش کی گئی حدیث میں ظن کی بحث سے واضح ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Culinary Team
Attire
Website
Address
Johar Town. Chishtian
Chishtian Mandi
62350