30/10/2025
محمد علی مرزا (پیدائش 4 اکتوبر 1977) ایک پاکستانی اسلامی عالم ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے مکینیکل انجینئر ہیں اور مذہبی موضوعات پر اپنے لیکچرز کے لیے جانے جاتے ہیں جن کی وجہ سے انہیں کئی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں 2023 میں گستاخی کے الزامات بھی شامل ہیں۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
محمد علی مرزا 4 اکتوبر 1977 کو جہلم، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، مرزا ارشد محمود، مبینہ طور پر الائیڈ بینک میں ملازمت کرتے تھے۔ علی مرزا نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، ٹیکسلا سے مکینیکل انجینئرنگ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ حکومتِ پنجاب میں 19ویں گریڈ پر بطور مکینیکل انجینئر کام کرتے رہے، لیکن جب ان کے عوامی شہرت پانے کے بعد محکمہ نے انہیں مستعفی ہونے کو کہا تو انہوں نے نوکری چھوڑ دی۔
پیشہ ورانہ کیریئر
مرزا یوٹیوب کے ذریعے مذہبی موضوعات پر لیکچر دیتے ہیں اور اپنی تحقیقاتی اکیڈمی بھی چلاتے ہیں جو ان کی قرآن و سنت کی فہم پر مبنی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ بعض اوقات مسلم بزرگوں کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں مرزا نے کہا کہ موجودہ دور کے احمدی، یہودیوں اور عیسائیوں (اہلِ کتاب) سے بہتر ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ احمدی مسلمان نہیں ہیں اور ان کی ویڈیوز کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا ہے۔
2020 میں گرفتاری
4 مئی 2020 کو انہیں مذہبی علما کے خلاف نفرت انگیز تقریر کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اداکار حمزہ علی عباسی اور اینکر شفاعت علی نے ان کی گرفتاری کی مذمت کی۔ انہیں دو دن بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ علی مرزا کا کہنا تھا کہ ان کے لیکچر کو مکمل طور پر غلط انداز میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر آراء کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کیا جائے تو قرآن کی آیات کو بھی غلط معنی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔
2025 میں گرفتاری
25 اگست 2025 کو جہلم پولیس نے انہیں "پبلک آرڈر کے تحفظ" کے تحت پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار کیا۔ اس کے تحت پولیس کسی ایسے شخص کو گرفتار کر سکتی ہے جو عوامی تحفظ یا امنِ عامہ کے لیے خطرہ بنے۔ حکام نے ان کی اکیڈمی (جو مشین محلہ میں واقع ہے) کو بند کر دیا اور وہاں کسی قسم کی سرگرمی یا اجتماع پر پابندی لگا دی۔
انہیں پاکستان کے توہینِ مذہب کے قانون کے تحت صحابہ کرام یا اہلِ بیت کے خلاف گستاخانہ کلمات، مذہبی جذبات مجروح کرنے اور عوامی نفرت پھیلانے کے الزامات میں مقدمے کا سامنا ہے۔ بعد ازاں انہیں احتیاطی طور پر ضلع جیل جہلم سے ضلع جیل حافظ آباد منتقل کر دیا گیا۔
قاتلانہ حملے
14 مارچ 2021 کو مرزا پر دوسرا قاتلانہ حملہ ہوا، پہلا حملہ اکتوبر 2017 میں ہوا تھا۔ حملہ آور جہلم میں ان کی اکیڈمی آیا اور تصویر بنواتے وقت چاقو سے حملہ کر دیا، تاہم علی معمولی زخمی ہوئے۔ پولیس نے دو افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا۔
اگست 2023 میں گجرات کے رہائشی علی حسن نے بھی جہلم اکیڈمی میں چاقو لے کر گھسنے کی کوشش کی مگر محافظوں نے اسے قابو کر لیا۔
تنازعات
معاویہ بن ابی سفیان (پہلے اموی خلیفہ) پر ان کے خیالات نے انہیں پاکستان کے روایتی سنی علما، خصوصاً دیوبندی عالم طارق مسعود کے ساتھ تنازع میں ڈال دیا۔ 2021 میں مرزا نے طارق مسعود کو جہلم آ کر مباحثے کا چیلنج دیا۔ مباحثہ مئی 2021 کے لیے طے ہوا مگر بعد میں ملتوی کر دیا گیا اور بالآخر کبھی منعقد نہ ہو سکا۔ طارق مسعود نے دعویٰ کیا کہ وہ جہلم گئے تھے مگر مرزا سے رابطہ نہ ہو سکا اور انہوں نے خود کو "فاتح" قرار دیا۔
اسی طرح نومبر 2023 میں حنیف قریشی نے بھی جہلم آ کر مباحثے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں اکیڈمی میں داخل ہونے سے روک دیا۔
2022 میں نبیِ کریم ﷺ سے متعلق تبصرہ تنازع
جون 2022 میں علی مرزا نے تسلیم رحمانی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے بھارتی ترجمان نپور شرما کے سامنے ہندو دیوتاؤں کے بارے میں توہین آمیز گفتگو کی، جس کے ردِ عمل میں نپور شرما نے نبی محمد ﷺ کے بارے میں گستاخی کی۔ بھارتی صحافی روبیکا لیاقت نے مرزا کی بات کی حمایت کی جس پر کئی بھارتی و پاکستانی علما ان سے ناراض ہو گئے۔
2023 کے توہینِ مذہب کے الزامات
اپریل 2023 میں علی مرزا پر پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 295-C کے تحت توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی توہین کی اور احمدیوں کے غیر مسلم قرار دینے کے پاکستانی قانون کو کم اہم ظاہر کیا۔ ناقدین کے مطابق وہ مسلم اولیاء کے بارے میں نامناسب الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
بریلوی عالم پیر افضل قادری (جو اب وفات پا چکے ہیں) نے 2023 میں ان کے قتل پر 5 لاکھ روپے انعام رکھنے کا اعلان کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ مرزا "قتل کے مستحق" ہیں۔
29/10/2025
مساجد کے اماموں کے وظیفوں سے متعلق خبر
بڑی خبر: پنجاب میں 65 ہزار مساجد کے اماموں کا وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس میں کیا گیا۔
وزیرِ اعلیٰ کا مؤقف: مریم نواز نے کہا کہ امامِ مسجد معاشرے کا قابلِ احترام فرد ہے اور حکومت ان کی معاشی معاونت کرے گ
29/10/2025
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےکہا ہے کہ نبی پاک ﷺ کے ساتھ عشق کا دعویٰ کرنے والے کچھ لوگ بندوق اٹھا کر تشدد کا راستہ اپناتے ہیں، سیاست یا مذہب کی آڑ میں انتہاپسندی ، راستے بند کرنا، لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا، عمارتوں کو نقصان پہنچانا قبول نہیں۔
لاہور میں اتحاد بین المسلمین کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ علمائےکرام لوگوں کے ذہنوں کو بیدار کرتے ہیں، ریاست اور عوام علمائےکرام کو اپنا رہنما مانتے ہیں، میں علمائے کرام کو اپنا رہنما مانتی ہوں، معاشرے کی بہتری کے لیے علمائے کرام کا کردار اہم ہے، آج یہاں تمام مکاتب فکر کے علما موجود ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں کو بھی سیاست کرنے کا حق ہے، ہم سب کوشش کرتے ہیں کہ عوام کی جان و مال محفوظ رہے، پوری کوشش کرتی ہوں کہ عوام کی روز مرہ زندگی میں خلل نہ آئے، چاہتے ہیں کوئی گھر سے باہر کسی کام کے لیے نکلے تو مشکل پیش نہ آئے، لیکن ایک گروہ نکلے اور کفر اسلام کی جنگ بنائے، ہتھیار اٹھائے، کوئی اس عظیم ہستی کا نام لے اور شرانگیزی کرے، عاشقان رسول کے سامنے نبی ﷺ کا نام لیں تو آنسو نکل آتے ہیں، کوئی اپنے ساتھیوں کو پیغام دے رہا ہو کہ پولیس اہلکاروں کو مارو، میرے پاس تشدد کی جو تصاویر آئی ہیں آپ تصور نہیں کرسکتے ، پولیس اہلکار عوام کی جان اور املاک کی حفاظت کرتے ہیں۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ راستے سے پتھر ہٹانا ثواب کا کام ہے اور آپ کہتے ہیں راستہ بند کردو، علمائےکرام سے رہنمائی چاہتی ہوں، کوئی جتھا ہتھیاروں سے لیس سڑکوں پر آئے اور مطالبہ کرے ، وہ جتھا صرف اپنی من مانی نہیں کر رہا وہ آپ اور سب کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے، شہروں میں صفائی کے لیے مختص گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، راستے بند کیے گئے جس سے لوگوں کو مشکل پیش آئی، پاکستان میں کوئی آکر رہتا ہے تو اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے، پوری دنیا میں سفارت خانے کا احترام کیا جاتا ہے، تحفظ دیا جاتا ہے، ہمارا پورا خاندان عید میلادالنبی ﷺ عید کی طرح مناتا ہے، دکھ ہوتا ہے کہ کوئی دین کے نام پر وہ کام کرے جو احکامات کے بالکل منافی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام مذہبی جماعتوں کو خود کو ایسے جتھوں سے علیحدہ کرنا ہے، جو ایس ایچ او شہید ہوا وہ ہمارا بہت بہادر بچہ تھا، جو جماعت ہتھیار اٹھالے وہ پرتشدد جماعت بن جاتی ہے، پی ٹی آئی جب تک سیاسی رہی کسی نے کچھ نہیں کہا، پی ٹی آئی نے 9 مئی کو ہتھیار اٹھائے تب سے زوال شروع ہوا ، پی ٹی آئی سیاسی جدوجہد کرتی رہتی تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا، ہم نے بھی جدوجہد کی کبھی ہتھیار نہیں اٹھائے تشدد نہیں کیا، جماعت اسلامی نے اتنے بڑے بڑے اجتماعات کیے، جے یو آئی نےکیے، پر امن اجتماعات پر ہم خوشی سے اجازت دیتے ہیں، سہولت دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلح جتھوں نے جن کی جانیں لیں میں ان کے خاندانوں کو کیا جواب دوں، ہم سب مسلمان ہیں ، ہمارا دل فلسطین کے لیے دھڑکتا ہے، اہل فلسطین غزہ امن معاہدے کے بعد خوشی منا رہے تھے، معاہدے کے بعد اسلام آباد پر چڑھائی کی کال دینا کیا فلسطین سے اظہار یکجہتی تھا؟ کہا گیا کہ اسلام آباد جا کر ایک سفارتخانے پر چڑھائی کرنی ہے، مذہبی جماعتوں کو اپنےکارکنوں کو بھیڑ چال کے بجائے سیدھے راستے پر لانا ہے، چھاپوں کے دوران روپوں کے بنڈل اور اسلحہ نکلتا آپ نے دیکھا، یہ اسلحہ سکیورٹی اہلکاروں کے سینوں پر گولیاں داغنے میں استعمال ہوتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ میری ہدایت ہے کہ بے گناہ کو اٹھالیا تو احترام کے ساتھ واپس گھر چھوڑ کر آئیں، چھان بین کے بغیر کسی کو گرفتار نہ کیا جائے ، کوئی بےگناہ گرفتار ہو تو چاہے میرا مخالف کیوں نہ ہو مجھے تکلیف ہوگی، حتی الامکان کوشش کی کہ لڑائی نہ ہو، آپ بتائیں میں اور کیا کرتی، جب کوئی تہیہ کرلے کہ کسی کو نہیں چھوڑنا تو ریاست کیا کرے ؟ اڈیالہ میں بیٹھا شخص وہاں سے ہلاکتوں کی تعداد کے غلط بیانات دے رہا تھا، یہ وہ شخص تھا جس نے اپنے دور میں مساجد میں گولیاں چلوائیں، وہ جانتا ہےکہ اس کی سیاست ختم ہوگئی اب مذہب کو استعمال کر رہا ہے، وہ آپ کا نام استعمال کرتے ہیں بدنامی مذہبی سیاسی جماعتوں کی ہوتی ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ مسجد کو دین کی تبلیغ کے استعمال ہونا ہے، جو مدارس اور مساجد سیل کیے وہ مفتی منیب الرحمان کے حوالےکیے، سب سے محترم شخص محلے میں مسجد کا امام ہوتا ہے، امام اور مؤذن کو تنخواہ دینے کے لیے چندہ جمع کیا جاتا ہے، مجھے برا لگتا تھا کہ ان کے لیے چندہ جمع کرکے تنخواہ دی جائے، کیا کسی نے مساجد کے امام اور مؤذن سے متعلق سوچا، 10 ہزار وظیفہ کم ہے ہم اس میں اضافہ کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کہا گیا کہ چھ سو ، پانچ سو افراد ہلاک ہوئے ،لاشیں اچانک کہاں گئیں؟ دفاتر سیل کرنے کی ویڈیوز آرہی ہے لیکن چھ سو افراد کی ہلاکت کا ثبوت کہاں ہے؟ میں تو ثبوت مانگتی ہوں لائیں دیں ثبوت تاکہ میں پولیس کو پکڑوں، مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ فہرست جاری کریں کہ ان کے کتنے لوگ زخمی ہوئے، میں یہ فہرست جاری کرنے کے لیے تیار ہوں