Science Teacher

Science Teacher

Share

Science Teacher that tells about Quran and Science. Make animations about Phyasics and Math. Honest, Hard working, Punctal, non-smoker, non-drinker.

11/10/2025
29/06/2023

تمام اہل اسلام کو عید الضحی کی ڈھیروں خوشیاں اور برکتیں مبارک

24/02/2023

صَبْرٌ کے معنی ہیں کسی شخص کا کسی مطلوبہ شے کے حصول کے لیے برابر مصروف کار ہنا*(تاج) ۔ لہٰذا اس کے بنیادی معنوں میں استقامت ، ثابت قدمی، اور مسلسل کوشش داخل ہیں۔ اسی بنا پر وہ بادل جو چوبیس گھنٹے ایک ہی جگہ کھڑا رہے اور اِدھر اُدھر نہ ہو اَلصَّبِیْرُ کہلاتا ہے۔ اور پہاڑ کو بھی اَلصَّبِیْرُ کہتے ہیں*(تاج) ۔ اَلْاَصْبِرَۃُ ۔ ان اونٹوں یا بکریوں کو کہتے ہیں جو صبح شام باقاعدہ اپنے مالکوں کے پاس واپس آجائیں اور ان سے دور نہ رہیں***(لین و تاج ) ۔ اَلِصَّبَارَۃُ ۔ (ص کی تینوں حرکات کے ساتھ) اَ لصَّابُــــوْرَۃُ ۔ اس مٹی وغیرہ کو کہتے ہیں جو اس لیے کشتی میں رکھ دی جاتی ہے کہ اس سے کشتی جھکولے نہ کھائے**(محيط) ۔ جس سے اس کا توازن قائم رہے۔ ان الفاظ سے صَبْرٌ کا صحیح مفہوم سامنے آجاتا ہے۔ چونکہ اس قسم کی سعی و کاوش کا نتیجہ بہت عمدہ نکلتا ہے اس لیے اَ لصُّبْرَۃُ ۔ غلہ کے ڈھیر کو کہتے ہیں*(تاج) ۔جس کی ناپ اور تول نہ کی گئی ہو* (تاج) ۔ غور کیجئے کہ یہ کس قدر مسلسل محنت اور استقامت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
جم کر ایک جگہ قائم رہنے کی جہت سے یہ لفظ کسی کو روکنے کے معنوں میں بھی استعمال ہونے لگا۔ اس لیے صَبْرٌ کے معنی قید کرنے کے بھی ہیں (ابن فارس)۔ یا کسی کو باندھ کر تیروں کا نشانہ بنایا۔ یَمِیَنُ الصَّبْرِ ۔اس قَسَمْ کو کہتے ہیں جو کسی کو زبردستی (مجبور کر کے) کھلائی جائے*(تاج) ۔
سورۃ بقرہ میں ہے ۚفَمَآ اَصْبَرَھُمْ عَلَي النَّارِ [2: 175]۔ اس کے ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ ان میں آگ کے مقابلہ کی تاب کس قدر ہے۔ اور یہ بھی کہ وہ کونسی چیز ہے جس نے انہیں آگ کے عذاب کو جم کر برداشت کرنے پر آمادہ کر دیا۔ ظاہر ہے کہ ان معانی میں جرات کا مفہوم آجاتا ہے۔
قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے متعلق ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰي طَعَامٍ وَّاحِدٍ [2: 61]۔ ہم ایک ہی کھانے پر ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتے۔ اسی سورۃ (بقرہ) میں ہے رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّثَبِّتْ اَقْدَامَنَا [2: 250]۔ یہاں"ثَــبِّتْ اَ قْدَامَنَا" نے صبر کے معنوں کی وضاحت کر دی ہے۔ یعنی ثابت قدم رہنا۔ سورۃ آل عمران میں صَابِرِیْنَ کی تعریف ا ن الفاظ سے کی گئی ہے فَمَا وَهَنُوْا لِمَآ اَصَابَھُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا [3: 146]۔انہیں خدا کی راہ میں جس قدر بھی مشکلات کا سامنا ہوا ان سے وہ نہ تو سُست گام ہوئے، نہ ان میں کمزوری آئی، اور نہ ہی وہ مغلوب ہوئے۔ اگلی آیت میں اسی کو پھر وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا سے تعبیر کیا گیا ہے [3: 147]۔ سورة الفرقان میں ہے کہ کفار کہتے تھے کہ یہ (رسول ؐ ) ہمیں ہمارے معبودوں سے بہکا دیتا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَا [25: 42]۔ اگر ایسا نہ ہوتا کہ ہم مستقل مزاجی سے ان کی پرستش پر قائم رہتے۔ یہی معنی سورۃ صَ میں وَاصْبِرُوْا عَلٰٓي اٰلِـهَتِكُمْ[38 : 6] کے ہیں۔ [14: 21] میں صَبَرْنَا بمقابلہ جَزِعْنَا آیا ہے۔ جَزْعٌ کے معنی ہیں رسی کو درمیان سے کاٹ دینا۔ لہٰذا صَبْرٌ کے معنی کسی کام کو مسلسل کئے جانا ہوں گے۔ سورۃ کہف و حجرات میں صبر کا لفظ ان معنوں میں بھی آیا ہے جس کے لیے ہم کہتے ہیں کہ بے صبرے کیوں ہوتے ہو؟ ( Impatient Don’t be)۔ذراٹھہرو۔ یونہی بے چین مت ہو۔ [18: 68، 49: 5 ]۔ سورۃ انفال میں ہے کہ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ[8: 65] اگر تم میں سے بیس مجاہد بھی ایسے ہوں جو جم کر مقابلہ کریں تو فریق مخالف کے دو سو پر غالب آجائیں گے۔ انہی کو وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ[2: 177]کہا گیا ہے۔ سورۃ مریم میں ہے وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ[19: 65]خدا کی عبادت نہایت استقامت اور ثابت قدمی سے اختیار کرو۔
یہ ہے وہ صَبْرٌ جس کے متعلق کہا گیا ہے کہ اسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ[2: 153]۔اپنی قوتوں کی پوری نشوونما اور اعتدال و تناسب کے لیے صبر اور صلوۃ کی راہ اختیار کرو۔ اور اس کے بعد ہے اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ ۔ الله کی نصرت ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اپنے نصب العین کے حصول کے لیے استقامت اور ثابت قدمی سے کام لیتے ہیں اور ہر مشکل کا مقابلہ جم کر کرتے ہیں ،اور مسلسل ایسا کرتے رہتے ہیں۔ یہی ہیں وہ صابر جن کے متعلق کہا کہ اُولٰۗىِٕكَ عَلَيْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ[2: 157]۔
یہ ہے صَبْرٌ کا قرآنی مفہوم۔ اس کے برعکس صبر کے جو معنی ہمارے ہاں مروج ہیں وہ بالکل اس کی ضد ہیں۔ ہمارے ہاں صبر کے معنی یہ ہیں کہ انسان بے کس اور بے بس، مجبور بن کر بیٹھا رہے اور زبردست اور ظالم کے ظلم و زیادتی کو آنسو بہا بہا کر خاموشی سے جھیلتا چلا جائے۔ چنانچہ ہم اپنی انتہائی بیچارگی میں کہتے ہیں کہ۔ "اچھا ۔ جو تمہارے جی آئے کر لو۔ میں صبر کے سوا کیا کر سکتا ہوں"۔ اور اسی صبر کی تلقین یہ کہہ کر کی جاتی ہے "میاں! صبر کرو۔ صبر کے سوا چارہ ہی کیا ہے"۔یعنی صبر انتہائی بیچارگی کا نام ہے۔ غور کیجئے کہ نگاہوں کا زاویہ بدل جانے سے الفاظ کا مفہوم کیا سے کیا ہو جاتا ہے؟ قرآنی صبر کا مفہوم تھا ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔ اور ہمارے صبر کا مفہوم ہے انتہائی بے چارگی میں سپر ڈال دینا۔
مختصراً یہ کہ صَبْرٌ کے معنی ہیں اپنے پروگرام پر استقامت اور استقلال سے کار بند رہا اور اس کے راستہ میں جو مشکلات آئیں ان کا ہمت اور استقلال سے اس طرح مقابلہ کرنا کہ پاؤں میں ذرا لغزش نہ آنے پائے۔ قرآن کریم میں مومنین سے کہا گیا ہے کہ اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا[3: 200] اِصْبِرُوْا کے معنی ہیں ہمت اور استقلال سے اپنے موقف پر قائم رہنا، اور صَابِرُوْا کے معنی ہیں اس استقلال اور استقامت میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنا۔ یا دوسروں کے مقابلہ میں استقامت دکھانا یا ایک دوسرے کی استقامت کا موجب بننا۔
دنیا میں کوئی قوم زندہ نہیں رہ سکتی، نہ آگے بڑھ سکتی ہے، جب تک وہ (قرآنی مفہوم میں) اَ لصَّابِرُ نہ ہو۔ اور جو قوم ہمارے مفہوم میں "صابر و شاکر"ہو اسے کبھی زندگی نصیب نہیں ہو سکتی۔

01/09/2022

قسط32

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرآن کریم میں ان آیات کا جائزہ پیش خدمت ہے، جن میں اللہ تعالیٰ نے براہ راست مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے۔ اس سلسلے کی بتیسویں
قسط حاضر خدمت ہے ۔
سورۃ النساء
آیت نمبر 144

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰهِ عَلَيۡكُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِيۡنًا ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناؤ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے پاس اپنے خلاف (یعنی اپنے مستحق عذاب ہونے کی) ایک کھلی کھلی وجہ پیدا کردو ؟

مفہوم
اے جماعت مومنین! تمہارے رفیق صرف وہی ہونے چاہئیں جو تمہاری جماعت کے افرا د ہوں۔ اِس لئے تم ایسا کبھی نہ کرو کہ کفار (مخالفین ) کو اپنا دوست اور کار ساز بنا لو۔ یہ ایک ایسا جرم ہو گا‘ جو قانونِ خداوندی کی رُو سے تمہیں سزا کا مستوجب قرار دینے کے لئے‘ کسی ثبوت اور دلیل کا محتاج نہیں ہوگا۔ تمہاری یہ رَوش ‘ تمہیں مجرم ثابت کرنے کے لئے اپنی دلیل آپ بن جائے گی۔
آگے فرمایا
سورۃ النساء آیت نمبر 145

یقین جانو کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے، اور ان کے لیے تم کوئی مددگار نہیں پاؤ گے۔

سورۃ النساء آیت نمبر 146

البتہ جو لوگ توبہ کرلیں گے، اپنی اصلاح کرلیں گے، اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لیں گے اور اپنے دین کو خالص اللہ کے لیے بنالیں گے تو ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے، اور اللہ مومنوں کو ضرور اجر عظیم عطا کرے گا۔

سورۃ النساء آیت نمبر 147

اگر تم شکر گزار بنو اور (صحیح معنی میں) ایمان لے آؤ تو اللہ تمہیں عذاب دے کر آخر کیا کرے گا ؟ اللہ بڑا قدردان ہے (اور) سب کے حالات کا پوری طرح علم رکھتا ہے۔

سورۃ النساء آیت نمبر 148

اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کسی کی برائی علانیہ زبان پر لائی جائے، الا یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو۔ اور اللہ سب کچھ سنتا، ہر بات جانتا ہے۔
سورۃ النساء آیت نمبر 149

اگر تم کوئی نیک کام علانیہ کرو یا خفیہ طور پر کرو، یا کسی برائی کو معا ف کرو تو (بہتر ہے کیونکہ) اللہ بہت معاف کرنے والا ہے (اگرچہ سزا دینے پر) پوری قدرت رکھتا ہے۔

سورۃ النساء آیت نمبر 150

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کرنا چاہتے اور کہتے ہیں کہ کچھ (رسولوں) پر تو ہم ایمان لاتے ہیں اور کچھ کا انکار کرتے ہیں، اور (اس طرح) وہ چاہتے ہیں کہ) کفر اور ایمان کے درمیان) ایک بیچ کی راہ نکال لیں۔
سورۃ النساء آیت نمبر 151

ایسے لوگ صحیح معنی میں کافر ہیں اور کافروں کے لیے ہم نے ذلت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔

سورۃ النساء آیت نمبر 152

اور جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائیں، اور ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہ کریں تو اللہ ایسے لوگوں کو ان کا اجر عطا کرے گا، اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔

31/08/2022

قسط31

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قرآن کریم میں ان آیات کا جائزہ پیش خدمت ہے، جن میں اللہ تعالیٰ نے براہ راست مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے۔ اس سلسلے کی اکتیسویں
قسط حاضر خدمت ہے ۔
سورۃ النساء
آیت نمبر 136

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡۤ اَنۡزَلَ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ۞

ترجمہ:
اے ایمان والو ! اللہ پر ایمان رکھو، اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر اتاری ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس نے پہلے اتاری تھی۔ اور جو شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اس کی کتابوں کا، اس کے رسولوں کا اور یوم آخرت کا انکار کرے وہ بھٹک کر گمراہی میں بہت دور جا پڑا ہے۔
آگے فرمایا۔

اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ كَفَرُوۡا ثُمَّ ازۡدَادُوۡا كُفۡرًا لَّمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَـغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَـهۡدِيَهُمۡ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:
جو لوگ ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر ایمان لائے، پھر کافر ہوگئے، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، اللہ ان کو بخشنے والا نہیں ہے، اور نہ انہیں راستے پر لانے والا ہے۔

بَشِّرِ الۡمُنٰفِقِيۡنَ بِاَنَّ لَهُمۡ عَذَابًا اَلِيۡمًا ۞

ترجمہ:
منافقوں کو یہ خبر سنا دو کہ ان کے لیے ایک دکھ دینے والا عذاب تیار ہے۔

الَّذِيۡنَ يَتَّخِذُوۡنَ الۡـكٰفِرِيۡنَ اَوۡلِيَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ؕ اَيَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَهُمُ الۡعِزَّةَ فَاِنَّ الۡعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِيۡعًا ۞

ترجمہ:
وہ منافق جو مسلمانوں کے بجائے کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کر رہے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کی ہے۔

وَقَدۡ نَزَّلَ عَلَيۡكُمۡ فِى الۡـكِتٰبِ اَنۡ اِذَا سَمِعۡتُمۡ اٰيٰتِ اللّٰهِ يُكۡفَرُ بِهَا وَيُسۡتَهۡزَاُبِهَا فَلَا تَقۡعُدُوۡا مَعَهُمۡ حَتّٰى يَخُوۡضُوۡا فِىۡ حَدِيۡثٍ غَيۡرِهٖۤ‌ ‌ ۖ اِنَّكُمۡ اِذًا مِّثۡلُهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَالۡكٰفِرِيۡنَ فِىۡ جَهَـنَّمَ جَمِيۡعَا ۞

ترجمہ:
اور اس نے کتاب میں تم پر یہ حکم نازل کیا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جارہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ایسے لوگوں کے ساتھ اس وقت تک مت بیٹھو جب تک وہ کسی اور بات میں مشغول نہ ہوجائیں، ورنہ تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ یقین رکھو کہ اللہ تمام منافقوں اور کافروں کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے۔

31/07/2022

صلوة
عمومی طور پر لفظ "صلوة" سے مراد صرف نماز ہی لیا جاتا ہے۔
درحقیقت یہ ایک وسیع المعانی اصطلاح ہے۔
آج ہم اس اصطلاح کو قرآن کریم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
نمبر1. ایک معانی تو وہی ہے۔ جو ہم ایک دن میں مختلف اوقات میں نماز کی ادائیگی کرتے ہیں۔ یہ دن میں پانچ دفعہ عمل کرنا ہے۔
نمبر2. قرآن کریم ہمارے لئے ایک ضابطہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہذا اس میں موجود تمام احکام کی تعمیل کرنا صلوة کہلاتا ہے۔
اس پر ہر وقت عمل کرنا ہے۔

نمبر3. اللہ رب العزت ہمیں جو رزق عطا فرماتا ہے۔ اس میں سے اپنی ضرورت کا نکال کر باقی ضرورت مندوں کے لیے وقف رکھنا صلوة کہلاتا ہے ۔اس پر بھی ہر وقت عمل کرنا ہے۔
نمبر4. یتیموں کی کفالت اور انھیں کھانا دینا صلوة کہلاتا ہے ۔ اس پر بوقت ضرورت عمل پیرا ہونا ہے۔
نمبر5. محتاجوں اور بےکسوں کی ضروریات پوری کرنا صلوة کہلاتا ہے ۔اس پر بھی بوقت ضرورت عمل پیرا ہونا ہے۔

اگر ہم اپنا جائزہ لیں تو ہم میں سے کتنے مسلمان ہیں جو صلوة پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ہماری اکثریت محض ریاکاری سے کام لیتی ہے۔ خالی باتیں ہی کی جاتی ہیں۔ عملی طور پر کچھ نہیں کیا جاتا ۔

Want your school to be the top-listed School/college in Chishtian Mandi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chishtian Mandi