23/05/2026
2 نوجوان لیڈرز، 2 مختلف کہانیاں۔۔!
کیا دولت سے عزت و و شہرت ممکن؟
1; ایک کا نام ثاقب خان دوسرے کا نام تیمور خان، 2;دونوں کے حلقے اپنے اپنے اضلاع کی تقریباً باؤنڈریز پر ہیں اور رہائش کے درمیان تقریباً 30 کلومیٹر کا فاصلہ ہے,
3: دونوں کا tilt تحریک انصاف کی طرف تھا 18 کا الیکشن لیکن ٹکٹ نا ملنے کی وجہ سے آزاد الیکشن لڑے۔۔
4: تیمور خان 18 کا الیکشن جیت گئے اور ثاقب خان 24 کا الیکشن جیتے، دونوں آزاد جیتے،
5؛ ٹکٹ نا ملنے پر تیمور خان نے کسی بھی جماعت کا کیمپین ٹچ نہیں دیا اور ثاقب خان نے عمران خان کے نام پر ووٹ مانگا اور جیت کر مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے..
6؛ یہ دونوں سیاست دان جڑواں اضلاع جھنگ چنیوٹ سے ہیں اور آپس میں سیاسی دوستی و سلام دعا بھی ہے اور تیمور خان سینئر تھے تو اسلیے ثاقب خان انکو فالو بھی کرتے آئے۔۔
7؛ تیمور خان پر کوئی سیاسی ہیرا پھیری کا لیبل نہیں لگا لیکن ثاقب خان پر سیاسی وفاداری بدلنے کا لیبل ہمیشہ سے ہے۔۔
8؛ تیمور خان کے پاس 3 وزارتیں رہی لیکن کوئی controversy نہیں ہوا لیکن ثاقب خان طرف ایک غریب عورت کسی اپیل کے لیے آتی ہے اور وہ بار بار پرفیوم چھڑک رہے ہوتے ہیں" یہ نیگیٹو خبر بنی۔۔
9؛ دونوں نوجوان سیاسی سوشل میڈیا پر مشہور اور فالوونگ تھی لیکن تیمور خان کا کسی female سے کوئی سکینڈل نہیں بنا، لیکن ثاقب خان کا اداکارہ مومنہ اقبال سے جنسی ہیراسگی کا آج سکینڈل بنا ہوا ہے۔۔
10؛ ایک نے منڈی شاہ جیونہ جھنگ کا نام پورے پاکستان میں بلند کیا، دوسرا بھوآنہ چنیوٹ کا نام نیگیٹوٹی میں بلند کر رہا۔۔
11؛ دونوں نے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کام کروائے۔۔
12: دنیا کہ رہی ہے کہ تیمور خان ایک میچوو سیاست دان ہے اور ثاقب خان ایمیچوور ثابت ہوئے,
13: دونوں کے پاس ذاتی پیسہ و دولت تھی لیکن تیمور خان ہمیشہ کنٹرولڈ رہے جبکہ ثاقب خان آؤٹ آف کنٹرولڈ ہو کر پیسہ مومنہ اقبال پر نچھاور کرتے رہے اور آخر سکینڈل بن گیا۔۔
مختصر یہ کہ پیسہ و دولت سے شہرے اور عزت و مقام حاصل نہیں ہوتا اسکے لیے دانشمندی سے چلنا پڑتا ہے اور سیاسی میچورٹی ضروری ہوتی ہے۔۔